کہانی – اثاثہ :- مینا یوسف

مینا یوسف

کہانی ۔ اثاثہ

مینا یوسف
سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر

ثریا ایک نیک دل اور نہایت ہی سمجھ دار لڑکی تھی ۔اُس کی شادی اپنے ہی ایک ہم جماعت سے ہوئی تھی جس کا نام محسن تھا۔محسن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔اپنے بیٹے کی خوشی کے لئے ماں باپ نے اس کی شادی ثریا سے کر دی تھی۔ثریا کے والد بجلی محکمے میں ملازم تھے۔اپنی بیٹی کی شادی میں اُس نے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی۔

محسن ثریا سے شادی کر کے بہت خوش تھا کیونکہ شادی اُس کی مرضی کے عین مطابق ہوئی تھی لیکن اُس کو کیا پتہ تھا کہ اپنی مراد پوری کرانا اُس کو اتنی مہنگی پڑے گئی کہ خوشی پا کے بھی وہ خوشی کے لئے ترسے گا!اُس کو کیا معلوم تھا کہ ثریا کو گھر میں بسا کر اُس نے اپنے گھر والوں کے ارمانوں کا خون کر دیا ہے۔ثریا کو محسن کا پیار تو مل گیالیکن ساس سسر سے کبھی بھی وہ پیاراور عزت نہیں ملی جس کی وہ ان دونوں سے توقع رکھتی تھی۔محسن اپنی بیوی پر کسے جا رہے تعنوں سے بخوبی واقف تھا لیکن وہ کسی بھی حال میں اپنے والدین کو ناراض نہیں کرنا چاہتاتھا۔وہ ان کی قدر و قیمت سے بخوبی واقف تھا۔ثریا چونکہ سمجھ دار تھی اور اللہ تعا لی نے اُس سے برداشت کی نعمت سے نوازا تھا۔اُس نے کبھی بھی اپنی ساس،سسر کو پلٹ کر جواب نہیں دیا۔اپنی فرمائشیں پوری کرانے کے لئے محسن کی ماں ہر روز اپنی بہو پر تعنوں کی برسات کرتی تھی۔اپنے گھر کی عزت کو بر قرار رکھنے کے لئے محسن اپنی آمدن میں سے کچھ پیسے خرچ کر کے اپنی ماں کی فرمائشیں پوری کرتا تھا۔لیکن دن بہ دن فرمائشیں بڑھتی ہی جا رہی تھی یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے محسن کب قرض میں ڈھوب گیا اُس کو خودبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ثریا محسن کے حالات سے بخوبی واقف تھی،اُس کے لاکھ سمجھانے پر بھی محسن نے قرض لینا نہ چھوڑا کیونکہ اپنے والدین کی فرمائشوں کو پورا کرنا وہ اپنا اولین فرض سمجھتا تھا اور اس کے لئے وہ لوگوں سے بار بار قرض لیتا رہا۔ساتھ ہی ساتھ اب وہ ثریا کو چھوڑنے کے لئے بھی آمادہ ہو گیا۔لیکن اللہ تعالی نے انہیں بیٹی کی ایک خوبصورت نعمت سے نوازا تھا جو کہ ایک سبب بنا محسن کو اپنا فیصلہ بدلنے میں۔ثریا اندر ہی اندر مری جا رہی تھی اُس کی سمجھ میں نہیںآرہا تھا کہ وہ خود کشی کرے یا اپنے ساس سسر کا گلا گھونٹ دے۔محسن اپنے والدین کی فرمائشوں کو پورا کرنے میں اتنا غرق ہو چکا تھا کہ جیسے وہ بھول گیا تھا کہ اُس کی اپنی ایک بیٹی بھی ہے اُس کا بھی ایک مستقبل ہے۔سالہا سال ایسے ہی گزر گئے لیکن قرض میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔محسن اب دماغی مرض کا شکا ر ہو چکا تھا وہ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر چکا تھا۔اُس کے والدین کو لگتا تھا کہ ہمارا بیٹا ایک امیر آدمی بن گیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو قبر کے دہانے تک لے آئے ہے۔ایک دن ثریا اپنی بیٹی کو نجی اسپتال پولیو کے قطرے پلانے لے جاتی ہے واپس آنے پر جب وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھولتی ہے تو محسن کی لاش کو پنکھے سے لٹکتے دیکھ کر اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جا تی ہے،اُس کے حوش و حواس ہی اُڑ جاتے ہیں۔بڑی مشکل سے وہ محسن کی لاش کو پنکھے سے اُتا ر کر نیچے لاتی ہے اور محسن کی لاش کو گلے لگا کرزار زار روتی ہے۔اتنے میں محسن کے ماں باپ ثریا کے رونے کی آورزسُن کر کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔محسن کو اچانک مردہ دیکھ کران دونوں کے حوش وحواس ہی اُڑ جاتے ہیں اور دونوںیتیموں کی طرح رونے لگتے ہیں۔ماں سینہ کوبی کر رہی تھی،باپ کا بھی رو رو کر برا حال تھا۔محسن کی معصوم بچی اپنے والد کے سرہانے رو رہی تھی۔ثریا بیچاری کا تو سب کچھ لُٹ گیا تھا۔ اچانک ثریا کی نظر محسن کی قمیض میں پڑی اک پرچی پر پڑتی ہے ۔جس میں کچھ اس طرح سے لکھا ہوتا ہے۔
’’ثریا میں تمہارا اور اپنی پھول سی نازک بیٹی کا گنہگار ہوں۔میں تم دونوں سے بہت پیار کرتاہوں لیکن تم دونوں کو ہر وقت نظر انداز کرتارہا۔اپنے والدپن کی فرمائشیں پوری کرتا رہا یہاں تک کہ قرض کے نیچے دب گیا۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ قرض چکا نے کے لئے میں نے اپنی بیوی کے زیورات اور سوغات میں آیا ہوا تمام تر اثاثہ میں نے قرض چکانے میں صرف کر دیا۔اب میں ثریا کو پورا اختیار دیتا ہوں کہ وہ اس پورے اثا ثے کو نیلام کر کر مجھ پر جو قرض ہے اُس کو ادا کرے اور اپنی زندگی ایک نئے سرے سے شروع کرے لیکن تمہیں اس بات کا بھی اختیار دیتا ہوں کہ تم میرے ماں باپ کے ساتھ جو سلوک چاہے وہ کرو تاکہ کوئی اور محسن مال و دولت کو جمع کرنے میں اپنی جان نہ گنوا بیٹھے۔‘‘