افسانہ : اژدہا :- مینا یوسف

مینا یوسف

افسانہ : اژدہا

مینا یوسف
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر

واہ!کیا کاریگری ہے،کیا حسن ہے،کیا دلکش نظارہ ہے۔باخدا!بہت ہی فرصت سے بنایا ہے بنانے والے نے۔
ارے او میرے بھائی کس کی بات کر رہے ہو ؟ ’ ’آفاق نے عامر کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا‘‘۔
ہا ہا۔ارے یار اس کائنات کی،اس کے حسن کی، اس کے بنانے والے کی بات کر رہا ہوں ’’عامر نے جواب دیا‘‘۔
ویسے مجھے تمہیں ایک خوشخبری سنانی ہے’’آفاق نے کہا‘‘

خوشخبری کس چیز کی’’ عامر نے کہا‘‘
یہی کہ مجھے نوکری مل گئی ہے اور میں ماں بابا کو بھی ساتھ لے جانے والا ہوں کیونکہ میں نے پہلے ہی ارادہ کر لیا تھاکہ اگر مجھے نوکری ملی تو میں اسی جگہ جا کے بس جاؤں گا۔اب میں کل نکل رہا ہوں مجھے بھولنا نہیں۔میں کہیں بھی رہوں تم ہمیشہ میر ے دل کے پاس رہو گے’’آفاق نے کہا‘‘۔
یار یہ تو بہت ہی زیادہ خوشی کی بات ہے اور بھولنے کی تو تم بالکل بات ہی مت کرو۔ویسے یار دوسری جگہ۔۔۔’’عامر نے آفاق سے کہا‘‘۔میں نے کل رات ہی ایک اژدہے کو خواب میں دیکھا ہے۔
اچھا تم خواب بھی دیکھتے ہو؟ ایسا کچھ نہیں ہوگا ‘ زیادہ مت سوچ۔ماں بابا کو ایک اچھی زندگی دینے کا خواب آج شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے ۔چل اب اُٹھ پھر دیر ہو جائے گئی مجھے تیاریاں بھی کرنی ہیں’’آفاق نے کہا‘‘اور گھر کی اور چل دیا۔
دوسرے دن عامر نے آفاق اور اس کے ماں بابا کو ایر پورٹ پر الوداع کیا اور واپس اپنے گھر چلا آیا۔
دونوں کی دوستی کو ایک عرصہ گزر چکا تھا دونوں ایک دوسرے کی جان تھے پورے شہر میں دونوں کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھی ایسی یاری کو پورا شہر سلام کرتا تھا۔
یار ‘ کل پھر ایک اژدہا میرے خواب میں آیا ۔عامر نے گھبراتے ہوے کہا۔
یہ عمرخواب میں اژدہے دیکھنے کی نہیں ہے؟ آفاق نے چھیڑا۔
دوست ایک دوسے سے بغل گیر ہوے اور جدا ہوگئے۔
دونوں کی اکثر فون پر بات چیت ہوا کرتی تھی ۔آفاق اسے چھیڑتا کہ کیا اب بھی خواب میں اژدہا آتا ہے یا کوئی حسینہ ؟
عامر نے گھبراتے ہوے کہا کہ مجھے تو دن رات بس یہی فکر لگی رہتی ہے کہ تم کیسے ہو،ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تم مجھ سے اتنا دور دوسرے ملک میں ہو جہاں اپنے مذہب کے علاوہ اور بھی کئی دھرموں کے لوگ رہتے ہیں۔کیا پتا وہاں رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر تجھے اور تمہارے ماں بابا کو ستایا نہ جائے’’عامر نے فکر مند ہو کر کہا‘‘۔
ارے میرے یار ،میرے بھائی ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔یہاں ہم جیسے اور بھی کئی لوگ رہتے ہیں اور کسی کو کسی کے مذہب ،ذات پات اور رنگ و نسل سے کوئی واسطہ نہیں ہے تم بے وجہ پریشان ہورہے ہو’’آفاق نے جواب دیا‘‘۔
اگر ایسی بات ہے تو میں بے فکر ہو کر رہتا ہوں’’آفا ق نے کہا‘‘ اور مطمئن ہو کر فون کاٹ دیا۔
اور ایسے ہی دو دو،چار چار دن کے بعد ان کی آپس میں بات ہوا کرتی تھی جو عامر کو مطمئن رکھنے کے لئے کافی تھی کہ میرا دوست ٹھیک ہے۔لیکن اژدہا اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا۔
ایک رات کو عامر نے خواب دیکھاکہ ایک بڑا سا اژدہا ۔ ۔ ۔ آگ اگلتا اژدہا ۔۔۔ ہر طرف آگ اگل رہا ہے اور لوگ اس آگ میں جھلس رہے ہیں اور آفاق اس آگ سے بچنے کی کوشش کررہا ہے مگر ۔ ۔ ۔ ی اچانک اُس کے منہ سے زور دار چیخ نکلی اور وہ آفاق آفاق چیختا رہا ۔ ۔ اس نے آفاق کو فون کرنے کی کوشش کی مگراس کا فون سوئچ آف تھا ۔اس دیس میں تو اب دن کے دو بج رہے ہوں گے ۔۔۔فون کیوں سوئچ آف ہے؟ اس کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔
عامر نے وقت گزاری کے لیے ٹی وی آن کیا اور نیوز دیکھنے لگا ۔۔۔اچانک وہ ٹھٹک سا گیاکیوں کہ نیوز ریڈر ایک حادثہ کی نیوز سنا رہا تھا کہ ابھی ابھی یہاں کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر کچھ لوگوں نے نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کردیں جس سے چالیس سے زائد نمازی شہید ہوگئے ۔ ۔ ۔میرا حلق سوکھنے لگا ۔ ۔ ۔ کیوں کہ یہ نیوز اسی دیس کی تھی جہاں ؍فاق رہ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اب ٹی وی پربرستی بندوق کی گولیاں کسی اژدہے کے منہ سے اگلتی آگ لگ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ پھر میں نے دیکھا ۔ ۔ ۔آفاق اپنے والد کو بچانے سامنے آگیا پھر۔۔۔ وہ گولیوں کا شکار ہوا پھر اس کے والد بھی ۔ ۔ ۔ مسجدنمازیوں کے خون سے لال ہو چکی تھی اور عامر چکرا کر گر پڑا۔