افسانہ : برداشت :- نظیر احمد گنائی

نظیر احمد گنائی

افسانہ : برداشت

نظیر احمد گنائی
ریسرچ اسکالر دہلی یونی ورسٹی

جب بھی میں اس گلی سے گزرتا تھا تو اس تین منزلہ عمارت میں ایک عورت کام کرتی رہتی تھی۔ اس کا نام شریفہ تھا۔ وہ دیدی کے نام سے جانی جاتی تھی اور اس گھر کے مکان مالک کا نام جمعہ تھا۔

جمعہ خان پولیس والا تھا اور اس کی اہلیہ بھی پولیس میں تھی۔ جمعہ خان کی زبان پر ہر وقت گالی گلوچ رہتی تھی۔ وہ دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کا باپ ہونے کے باوجود بھی گالیاں نکالتا تھا۔اس کی بدخصلت سے پوری بستی واقف تھی۔وہ اپنی نوکرانی دیدی کو روزانہ بلاتے وقت گالی دیتا تھا۔ اب دیدی بھی اس کی گالیوں کی عادی ہوچکی تھی۔ بیچاری کسی مجبوری کے مارے برداشت کر رہی تھی۔
شام کا وقت ہونے کو تھا ۔ دیدی گھر کو لوٹ رہی تھی تو راستے میں اس کو بچپن کی سہیلی سے ملاقات ہوئی۔ ’’آپ کیسی ہو؟‘‘ شریفہ نے دیکھتے ہی سوال کیا۔
’’آپ کون؟‘‘ ناظمہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’میں تمہاری بچپن کی سہیلی شریفہ ہوں‘‘
’’شریفہ !نہیں نہیں،میری شریفہ تو موٹی تھی‘‘
’’کیا کروں نصیب کی ماری ہوں،یہ دیکھو میرے کان کے پیچھے آج بھی وہی تل ہے جو تمہیں اچھا لگتا تھا۔ ‘‘
’’ہاں وہ تو ہے! ارے میری جان شریفہ تم؟ ……….تمہاری یہ حالت۔‘‘دونوں ایک دوسرے سے لپٹ جاتی ہیں۔
’’ تم اتنی دکھی کیوں ہو‘‘ ناظمہ نے سہمے ہوئے پوچھا۔
’’جی میری شادی اسی یاور سلطان سے ہوئی،جس کے گانوں کی تم شیدائی تھی۔‘‘
’’اچھا!…. پھر؟‘‘
’’اس وقت دیر ہوچکی ہے ۔میں چلتی ہوں تمہیں کل پھر ملوں گی۔ ‘‘
’’پہلے بتا کے جاؤ ،پھر کیا ہوا تھا۔‘‘
’’کل ضرور بتاؤں گی ،ٹھیک ہے نا۔‘‘
’’ مگر کہاں ملو گی؟‘‘
’’صبح نو بجے شہید پارک میں۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے‘‘
صبح کے جب نو بج گئے تو دیدی پارک میں پہنچی ۔چند منٹوں کے بعد اس کی سہیلی ناظمہ بھی پہنچ گئی۔ وہ ریوڑیاں ساتھ لائی تھی۔ ’’لو شریفہ ریوڑیاں کھاؤ‘‘ناظمہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں نہیں‘‘
’’ کھاؤ یہ تمہیں کالج لائف تک پسند تھیں۔ ‘‘
’’نہیں اب تو میں خود ریوڑی بن گئی ہوں‘‘
’’کیوں ایسا کیا ہوا،کیوں زمانے سے ناراض لگ رہی ہو۔‘‘
’’ نہیں زمانے سے نہیں قسمت سے بیزار ہوں۔‘‘
’’اچھا بتاؤ تمہارے ساتھ کیا ہوا‘‘
’’سنو جب ہما ری شادی ہوئی تو ہم میاں بیوی خوش تھے۔ شادی کے تین مہینے بعد ایک روز یاور نے مجھے کہا کہ مجھے کمپنی کی طرف سے کئی دنوں کے لئے کشمیر جانا ہوگا ۔ اس کو منگل کے دن جانا تھا۔ ایک روز پہلے شام کو اپنے کمرے میں اس نے مجھے کہا’’ شاید ہمارے نصیب میں بچہ نہیں ہے۔ ‘‘ میں نے کہا چھوڑو یہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ پھر منگل کی صبح وہ یہاں سے روانہ ہوئے۔ جب پانچ سات دن ہوئے تو میں بیتاب ہوئی کہ یاور گھر واپس کیوں نہیں آیا۔ میں نے یاور کے باپ سے کہا کہ کمپنی والوں کے ہاں صبح دیکھتے ہیں کہ وہ گھر کیوں نہیں لوٹا۔ صبح کو جب ابا ساتھ نہیں آئے تو میں اکیلی چلی گئی۔وہاں ایک ملازم نے کہا وہ جلد لوٹیں گے۔ انتظار کرتے کرتے ایک مہینہ گزر گیا۔پھر ابا نے تھانے میں رپٹ لکھوائی مگر کچھ پتہ نہیں چلا۔میں پھر دوسری مرتبہ کمپنی گئی تو وہاں تالا لگا ہوا تھا اورارد گرد کوئی نہیں ملا۔ شاید کمپنی والوں نے جگہ ہی بدل دی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ کشمیر کے حالات خراب ہیں وہاں روز گولیوں سے عام شہری مرتے ہیں ۔شاید یاور صاحب بھی………….۔
’’نہیں نہیں ایسا نہیں کہتے ،وہ واپس ضرور آئیں گے ۔‘‘ناظمہ نے دلاسادیتے ہوئے کہا۔
’’آگے سنو، مجھے میرے سسر نے گھر سے نکال دیا۔انھوں نے کہا کہ جب میرا بیٹا ہی نہیں رہا تو تم یہاں کیا کروگی ۔ جاؤ میرے گھر سے نکل جاؤ۔ خود کہیں اپنی زندگی بسر کرو۔ ‘‘
’’تو پھر آپ نے کیاکیا؟‘‘
’’میں کیا کرتی اپنے میکے چلی گئی۔ دو ہفتے تک وہاں رہی مگر میری بھابی نے مجھے شیشے کا گلاس ٹوٹنے پر بہت مارا اور ساتھ میں یہ بھی کہا’’ یہاں مفت کا کھانا کھا کھا کر تم موٹی ہوگئی ہو۔ اور کام کرنے کا کوئی سلیقہ نہیں ہے ۔اگر تم کام کرنے والی ہوتی تو تمہیں سسر گھر سے نہیں نکالتا۔ نکل جا و میرے گھر سے ابھی کے ابھی۔‘‘ یہ طعنے میں برداشت نہیں کر پائی اور گھر سے نکل گئی اور وہ رات ریلوے اسٹیشن پر گزار دی۔ صبح کو میں کام کے تلاش میں نکل پڑی اور راستے میں ایک عورت ملی جو مجھے پولیس چوکی تک لے گئی۔ وہاں اس نے حولدار جمعہ خان سے ملوایا۔ جس نے میری ساری کہانی سنی اور کہاکہ’’میرے گھر کام کرو گی،میں دو وقت کا کھانا اور سات سو روپیہ ماہانہ تنخواہ بھی دوں گا۔لیکن رہنے کے لئے کمرہ صرف ایک مہینے کے لئے ہی ملے گا۔‘‘ میں نے ہاں کردی۔پھر وہ دونوں میاں بیوی مجھے گھر لے گئے۔میں ان کے گھر میں کام کرتی رہی۔جمعہ خان کی بیوی میری اچھی قدر کرنے لگی اور یہ بھی سمجھایا کہ صاحب گالی گلوچ کا عادی ہے ۔پولیس والا ہے نا ،لیکن دل پہ مت لینا۔ میں سمجھ گئی اب نصیب میں گالیاں باقی رہ گئی تھیں۔ میں مجبور تھی کیا کرتی۔ چند روز گزر جانے کے بعد میں رسوئی میں کام کر رہی تھی کہ اچانک میرا پلو گر گیا۔ میرے ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے تھے اتنے میں جمعہ خان رسوئی میں داخل ہوا۔اس نے میرا پلو پکڑلیا۔اس کی گندی نگاہوں کو میں بھامپ گئی اور آہستہ آہستہ وہ میرے جسم کو مسلنے لگا۔ میں بولی صاحب یہ غلط ہے…….، اس نے کہا کچھ نہیں یہ آپ کی ضرورت ہے اس سے آپ کے دل کا درد کم ہوگا۔ میں زور زور سے رونے لگی پھر قہر ٹوٹ پڑا اور میں بھی بہک گئی۔مجھے چھوڑتے وقت اس نے کہا کہ میری بیوی سے نہ کہنا۔ ’’سالی آج سے تم یہی رہو گی نیچے تمہارے لئے کمرہ صاف کروا دوں گا اسی میں رہنا۔ ‘‘میری یہ حالت کیا کیا بتاؤ تمہیں۔
’’بتاؤ کوئی بات نہیں میں سہیلی ہی نہیں تمہاری بہن بھی ہوں۔‘‘
’’اس کے بعد میں ان کے گھر میں ہی رہنے لگی۔ وہ خان ہفتے میں دو بار میرے جسم کو مسل دیتا ہے اور …………..۔‘‘
’’اچھا چھوڑو جو ہوا سو ہوا۔ یہ بتاؤ دوسری شادی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔‘‘
’’اب تو میں شادی کے قابل نہیں رہی دوسری بات یہ ہے کہ اگر یاور صاحب واپس آگئے تو میں کون سا منہ انہیں دکھاؤں گی۔ میں اس کی نظر میں بے وفا نہیں بننا چاہتی ہوں۔ ‘‘
’’ میں تمہاری یہ حالت برداشت نہیں کروں گی۔ تمہیں اپنے گھر لے جاؤ ں گی‘‘
’’کیوں مجھے گھر لے کر اپنے گھر کے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہو۔‘‘
’’نہیں نہیں ! میں کل خدا کے سامنے کیا جواب دوں گی،چلو میرے ساتھ۔‘‘
شریفہ نے ایک نہ مانی وہ روتے روتے پارک سے نکل گئی۔
——
Nazeer Ahmed
– Research Scholar- Delhi University
 Mob: 9818738901