کہانی : رشتہ داری کا سکہ :- جمشید احمد میاں

جمشید احمد میاں

کہانی
رشتہ داری کا سکہ

جمشید احمد میاں
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر

آج میں فیصلہ کر چکا تھا بہت ہوا ہم غریبوں کو ستانااس کلرک کو سبق سکھا کر ہی رہوں گا،تحصیل میں میری فائل ایک مہینے سے پڑی رہی۔ کمبخت ہر بار نئے نئے بہانے سنا کر میری جوتیاں گھسا رہا ہیں۔میرا خون کھول رہا تھا،بیس چکر لگا چکا تھا ۔کئی بار کلرک سے میری تلخ گوئی بھی ہوئی،میرے بعد آنے والے اشخاص اس کلرک کے ہاتھوں اپنا کام نپٹا چکے تھے اور میں دیکھتا رہا۔

’’پرسوں ہی کی بات ہے کہ ایک آدمی جو بو میرے بعد آیا مگر تو مجھ سے پہلے اپنی فائل کیسے مکمل کر وائی‘‘
میرے پوچھنے پر اس نے جواب دیا کہ ’’ میں اس کلرک کا جیجا ہوں‘‘۔میں یہ سن کر حیران ہوا کہ سرکاری دفترکم ہے اور رشتہ داری زیادہ۔ اگلے دن میرا پڑوسی صبح گیارہ بجے فائل لے کر آیا میں نے سوچا کہ اب اس کی بھی جوتیاں گھس جائیں گی لیکن اس نے تین بجے ہی فائل مکمل کر وا کے لائی۔ یہ دیکھ کر تعجب میں پڑ گیااور سوچنے لگا یہ تو اس کا جیجا نہیں!پھر سوچا ہو سکتا ہے کہیں سے اس کے رشتے کی ٹہنی کلرک سے مل جائے۔
ادھر گھر والے ہر روز مجھ پر غصہ ہوتے تھے کہ مجھ سے ایک کام بھی نہیں ہوپاتا،ہر بار انہیں سناتا رہا ابھی ہماری فائل کا نمبر نہیں آیاکیونکہ وہاں صدیوں پرانی فائلیں کلرک مجھے دکھایا کرتا تھا اور میں مان لیتا تھا۔گھر والوں کا مجھ پر سے اعتبار ہی اٹھا جا رہا تھا شاید وہ مجھے جھوٹا سمجھ رہے تھے۔پچھلی دفعہ کلرک سے میری بحث ہوئی جس میں اس کے جوابات میرے سوالوں کے آگے کم پڑ چکے تھے مجھے اندر سے فخر ہو رہا تھا کہ شاید میرا علم کام کر گیالیکن مجھے اس سے بڑھ کر اس بات پر یقین آچکا تھا کہ سرکاری دفتروں میں علم نہیں رشتہ داریوں کے سکے چلتے ہیں ۔افسوس ہوا جا رہا تھاکہ کاش! میں بھی کسی کلرک کا جیجا ہوتا کیونکہ میں اس بات کا چشم دید گواہ تھا لیکن کلرک نے ایک نہ مانی اورکہا کہ سات دن بعد اپنی فائل لے کر جانا۔
سات دن کل مکمل ہو چکے تھے اور وہ غیر حاظر تھاجس کی وجہ سے مجھے اور بھی غصہ تھا اور دروازے تک پہنچتے پہنچتے طے کر چکا تھا کہ آج میرے ہاتھوں مار کھائے گا،فائل سے زیادہ اب مجھ پر بدلہ لینے کی دھن سوار ہو چکی تھی۔اس کا خیال سے ہی بے ساختہ اس کے حق میں نہ جانے کتنی گالیاں خود بہ خود زبان سے نکل رہی تھیں۔آج میں صبر کرنے والوں میں نہ تھا جوں ہی کلرک کے کمرے کا دروازہ کھولاتو معلوم ہوا کہ اس کمبخت کا تبادلہ کل ہی ہو چکا ہے۔میری تمام تدبیریں ناکام ہو گئیں ،میرے بدلے کی آگ مجھے اندر ہی اندر جلا رہی تھی۔اب اُس کی جگہ نیا کلرک پرانی فائلیں کھولے دیکھ رہا تھامیں سمجھ گیاکہ اب نہ جانے اس کے بھی کتنے رشتہ دار ہونگے، یہاں بھی ہم غریبوں کا کام نہیں ہونے والا مجھے تسلی ہو چکی تھی،اب یہاں اور چکر لگانا میرے بس کی بات نہیں۔اس نے مجھے دیکھ کر کہا ’’جی بیٹا کیا بات ہے‘‘؟ میں نے عرض کی ،میری یہاں فائل ہے مجھے وہ نا مکمل ہی واپس دیجئے، کلرک نے فائل نکال کر بولا ’’ بیٹا اس کا نمبر ابھی سات دن کے بعد آئے گا‘‘میں نے عرض کیا چھوڑ دیجئے اس کا نمبر آتے آتے میرے بڑھاپے کے سات دن ہی رہ جائیں گے لہذا مجھے یہ نا مکمل ہی واپس چاہئے۔یہ سن کر کلرک مسکرایا ۔پرانی فائل چھوڑ کر میری فائل ہاتھ میں لی اور کھولی۔میرے والد صاحب کا نام پڑھ کر خا موش کچھ سوچ رہا تھا اور اچانک کچھ یاد آنے پر اس نے مجھے دیکھا اور مجھے بیٹھنے کو کہا اور میری فائل کا کام شروع کیا۔اسی دوران نئی فائل لانے والے حضرات کلرک سے نچلے درجے ملازم کے ہاتھ میں فائلیں تھما کر الگ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے اور وہ ملازم بڑے ادب سے ان کے ساتھ پیش آ رہا تھا میں سمجھ رہا تھا اس کا بھی کوئی رشتہ دار ہے۔اتنے میں وہ مجھے فائل دے کر کہنے لگے ۔ والد صاحب کو میرا سلام کہنا۔ اب میں فائل لے کر گھر کی طرف خوشی خوشی چل رہا تھا،میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا سوچ رہا تھا اتنی جلدی کلرک صا حب نے فائل مکمل کر کے دے دی۔ ایک دم خیا ل آیاکہ شاید میری دعا قبول ہو گئی اور وہ ابو کے دوست نکلے۔اب کلمہ طیب کی طرح میرا یقین پختہ ہو گیا کہ سرکاری دفتروں میں رشتہ داری کا سکہ ہی چلتا ہے۔
اگلے دن اخبار میں ہوش اڑا دینے والی خبر پڑھی جو کچھ اس طرح تھی۔
’’تحصیل دار صاحب! میرا قلم غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کا خون چوس رہا تھا۔ سرکار سے ۲۵۰۰۰ کی تنخواہ لینے کے با وجود خود سرکاری دفتر میں چھوٹے ملازموں کے کرم سے ایک دن کا پانچ ہزار وظیفہ کما چکا ہوں۔مجھے ڈر ہے کہ اتنی دولت میرے پاس جمع نہ ہو جائے کہ خوشی سے مر جاؤں ۔لہذا معذرت چاہتا ہوں ایسی ملازمت سے،مجھے اپنی جان عزیز ہے۔نیچے جو کلرک صاحب کا دسخط دیکھا تو میں ہکا بکا رہ گیا ۔ ۔ ۔ اور سمجھ گیا کہ سرکاری دفتروں میں رشتہ داری کا سکہ کیا چیز ہے۔