سرکاری مدارس کا گرتا معیار اور تعلیم کی بازارکاری :- ایڈوکیٹ علی رضا خان

ایڈوکیٹ علی رضا خان

سرکاری مدارس کا گرتا معیار اور تعلیم کی بازارکاری

ایڈوکیٹ علی رضا خان
آکولہ

هم سب جانتے ہیں کی تعلیم انسانی زندگی میں گمراہوں کو راہ دکھانے کا کردار ادا کرتی ہے اور بھولے بھٹکے بے سمت لوگوں کو ایک نئی راہ دکھا کر انسان کو انسانیت کی راہ پر چلنے کی حوصلہ افزائی فراہم کرتی ہے . تعلیم کی اہمیت وقت اور گزشتہ زمانے سے مربوط ہوتی ہے.

تعلیم ہر زمانے میں انسانی زندگی کی بنیاد ی ضرورت کے طور پر تسلیم کی جاتی رہی ہے. یہ سچ ہے کہ آزادی کے بعد سے، تعلیم کے شعبے میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے. تعلیم میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں بھی اضافہ ہوا ہے. بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، تعلیم کا شعبہ بھی پھیلتا جا رہا ہے اور عطیہ یعنی ڈونیشن تعلیم کے کاروبار کی بنیاد بن گیا ہے. سرکاری تعلیمی نظام کی گاڑی پٹری پر نہ آنے سے تعلیم کو بطور پیشہ فروغ مل رہا ہے اور تعلیم بازار میں نیلام ہونے لگی هے. جسكے پاس پیسہ نہیں ہے وہ اس تعلیمی کاروبار کا فائدہ چاہ کر بھی نہیں اٹھا پاتا. حکومتی تعلیمی نظام بھی بہت حد تک اب تک بدنام اور بے فیض ہو کر رہ گئی ہے، اس حد تک کہ عام لوگ اس سے دور ہو رہے ہیں. حکومت ضلع پرشد، نگر پریشد کی ابتدائی اور ثانوی اسکولوں کی بہتری کے لئے کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رہی ہے اس کے باوجود لوگ ان سرکاری اسکولوں میں اپنے بچے کا نام لكھانے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہیں جب کہ ہر سال نئے تعلیمی سیشن کے موقع پر بیداری مہم چلا کر ہر سطح پر کوششیں کی جاتی ہیں. یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ذمہ دار شخص ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو سکھانے کے لئے تیار نہیں ہے تو عام عوام کو کیسے تیار کیا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ آج غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے کرنے والا فرد بھی سرکاری پرائمری اور ثانوی اسکولوں میں اپنے بچے کو داخل کروانا بے عزتی سمجھتا ہے. حکومت ان اسکولوں کی حالت اور سمت تبدیل کرنے میں دہائیوں سے مصروف ہے اور گاؤں گاؤں اسکول کھول کر بچوں کو مفت تعلیم، مفت کتابیں، مفت لباس، جوتے موزے اور مینو کے مطابق دوپہر کا کھانا دے رہی ہے. بچوں کا داخلہ کرانے کے لئے ٹیچر گھر گھر جاتے ہیں. بیداری ریلیاں اور سیمینار کرتے ہیں . اس کے باوجود کہیں چالیس تو کہیں ڈیڑھ دو سو سے زائد بچوں کی تعداد کہیں نہیں رہتی. ان میں سے نصف سے زیادہ بچے صرف کھانے اور کپڑے کی لالچ میں آتے ہیں اور نصف کبھی کبھار ہی آتے هے. ضروری یہ ہے کہ حکومت تعلیمی نظام میں ترمیم کرے. ہر کلاس میں تدریس کے لئے کافی یعنی تشفی بخش تعداد میں اساتذہ کا بندوبست سب سے پہلے ضروری هے. تعلیم کی بہتری کے لئے اساتذہ کی تعیناتی بچوں کی تعداد نہیں بلکہ جماعتوں کے لحاظ سے ضروری ہے.
ایک استاد کو دیگر غیر تدریسی سرکاری کاموں میں ملوث کرنے کے بجائے اس کی صلاحیتوں کو طلبہ کے فروغ اور تعلیم کے ارتقاء کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے. اس کی صلاحیتوں کو اسکول ہی کے مختلف کاموں اور سرگرمیوں میں علیحدہ علیحدہ استعمال کیا جاسکتا ہے. اسے محکمہ کے تدریسی یا یا غیر انتظامی اجلاسوں میں ملوث ہونا چاہئے اور دیگر سرکاری تدریسی و تعلیمی منصوبوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے. اساتذہ کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے پرنسپل یعنی صدرمدرس کو بھی بچوں کی تعلیم کے معیار کے لئے ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے.
اسکول میں مطالعہ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے جماعتوں کی تعداد اور اساتذہ کی تعیناتی کے ساتھ ہی اسکول کھلنے کے پندرہ روز کے اندر بچوں کو بیاضیں، کتاب، جوتا سب کچھ فراہم کرنے کی ضرورت هےتاكہ دن بہ دن گرتے جارہے سرکاری اسکولوں کے تعلیم کی سطح بڑھے اور تعلیم کے شعبےکو کاروبار بنانے کے رجحان پر روک لگے.
تعلیم کی بازارکاری کو روکنے اور سرکاری اسکولوں کے تعلیم کی سطح میں اضافے کی ایک کوشش یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے اساتذہ جن کے اپنے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم پارہے ہیں، ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں داخل کروائیں جہاں وہ دوسروں کے بچوں کو پڑھارہے ہیں. تاکہ ملک کا مستقبل روشن هوجائے. ہم سب جانتے ہے کہ زمانہ ء قدیم میں عوامی سطح پر تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور نہ ہی لڑكيو ں کی تعلیم کا رجحان عام تھا. جسے جيوتی با پھلے، ساوتري بائی پھلے سمیت فاطمہ بی نے اس روایت کی مخالفت کی اور خواتین کی تعلیم کے لیے انتھک کوششیں کیں. اس راستے میں انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا. انہوں نے سماج کا مقابلہ كيا.
1 جنوری 1848 کو مہاتما جيوتی با پھلے نے پہلی بار لڑکیوں کے لئے تعلیم کا انتظام کرتے ہوئے لڑکیوں کی پہلی اسکول ( تعلیم کی جگہ) قائم کی اور سختی سے لڑکیوں کی تعلیم مخالف روایت کے خلاف احتجاج کیا.
آج، ہمارے سماج میں تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کی بازارکاری کو ختم کیا جائے تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ ہو-

جواب دیجئے