مطالعۂ شبلی پر ایک نظر :- ڈاکٹر خالد ندیم

ڈاکٹر خالد ندیم

مطالعۂ شبلی پر ایک نظر

ڈاکٹر خالد ندیم
شعبہ اردو اور مشرقی زبانیں
سرگودھا یونیورسٹی سرگودھا

ڈاکٹر ابوسفیان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عربی کے استاد اور اردو زبان کے نامور ادبا میں شامل ہیں۔ شبلی صدی کے موقع پر قرطاس کراچی سے مطبوعہ (جنوری 2017ء) ان کی تصنیف مطالعہ شبلی اپنے مندرجات اور اندازِ تحقیق کی بِنا پر انفرادیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب پانچ حصوں اور بارہ مقالات و مضامین پر مشتمل ہے۔

’قرآنیات‘ کی ذیل میں دو مقالات شامل ہیں، ’عربی ادبیات‘ میں چار، ’اردو ادبیات‘ میں ایک، ’مکاتیبِ شبلی‘ میں تین اور ’متفرق‘ میں دو مقالات۔
’قرآنیات‘ میں شامل پہلے مقالے ’سیرۃ النبیؐمیں قرآنیات‘ میں بتایا گیا ہے کہ سیرت کے بیان میں شبلی کے یہاں قرآنی مندرجات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ شبلی کا خیال تھا کہ ’بہت سے واقعات کے متعلق خود قرآنِ مجید میں ایسی تصریحات یا اشارے موجود ہیں، جن سے اختلافی مباحث کا فیصلہ ممکن ہے‘(سیرۃ النبی، جلد اوّل، ص 65)، چنانچہ مصنف نے عرب مشرکین کے عقائد، واقعۂ افک، ذبیح اللہ کون ہیں، تاریخِ کعبہ، آغازِ وحی، اوامر و نواحی سے متعلق احکامات، دعوتِ دین کی مشکلات، مواخاۃ اور غزوۂ بدر کے حوالے سے شبلی کے قرآنی استدلال کو مثالوں سےواضح کیا ہے۔ مصنف نے شبلی کی طرف سے تدوینِ سیرت میں روایت کی قبولیت کی بابت تین اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآنِ کریم کو مقدم ماخذ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ابوسفیان نے فکرِ فراہی کے ترجمان خالد مسعود کی تصنیف حیاتِ رسولِ اُمّیؐ کو شبلی کے مذکورہ بیان کی عملی صورت قرار دیا ہے۔
دوسرے مقالے میں مقالاتِ شبلی کے ایک مضمون ’تاریخِ ترتیبِ قرآنی‘پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔ علامہ شبلی نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ قرآن کی سورتیں تو عہدِ رسالت میں مدوّن ہو چکی تھیں، البتہ باہم سورتوں میں ترتیب کا کام عہدِ ابوبکرؓ میں انجام پایا۔ ڈاکٹر ابوسفیان نے شبلی کے اس بیان پر نقد کرتے ہوئے صحیح بخاری (کتاب الجہاد) اور مجمع الزوائد سے دو احادیث نقل کر کے مولانا محمد تقی عثمانی کا اخذ کردہ نتیجہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’صحابہ کرامؓ کے پاس عہدِ رسالت ہی میں قرآنِ کریم کے لکھے ہوئے صحیفے موجود تھے‘، (ص 28) یعنی قرآن میں سورتوں کی ترتیب توفیقی ہے اور آیات اور سورتوں کی ترتیب من جانب اللّٰہ ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مفتی عبداللطیف رحمانی کی تاریخ القرآن، مولانا حمید الدین فراہی کی نظام القرآن اور خالد مسعود کی حیاتِ رسولِ اُمّیؐ سے استناد پیش کر کے اپنا نقطہ نظر واضح کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ’ ترتیبِ قرآن کے سلسلے میں جس استیعاب و استقصا کی ضرورت تھی، اسے علامہ نے پورا نہیں کیا‘۔ (ص31) مصنف کا یہ خیال درست ہے کہ ’جس طرح قرآنِ کریم کا حرف حرف منزل من اللّٰہ ہے، اسی طرح اس کے حرف حرف کی ترتیب من جانب اللّٰہ ہے۔ جمعِ قرآن یا تدوینِ قرآن کا تمام عمل عہدِ رسالت میں انجام پا چکا تھا، خلفاے راشدین کی [طرف سے] اللّٰہ کی اس کتاب کے تئیں تمام خدمات اشاعتِ قرآن اور تعلیمِ قرآن کے زمرے میں جائیں گی‘ ۔ (ص 33-34)
’عربی ادبیات‘ میں چار مقالات شامل ہیں۔ اسے کتاب کا سب سے اہم حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا پہلا مقالہ ’علامہ شبلی نعمانی اور عربی زبان و ادب‘ میں مصنف نے عربی زبان و ادب کی تعلیم کے حوالے سے مولوی فیض اللّٰہ، مولانا عباس علی چریا کوٹی، مولانا فاروق چریا کوٹی، مولانا ارشاد حسین رامپوری، فیض الحسن سہانپوری اور مولانا احمد علی سہارنپوری سے شبلی کے فیض یاب ہونے کا ذکر کیا ہے۔ مصنف نے جدید عربی زبان کی تدریس کے بارے میں شبلی کے خیالات اور کوششوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے، بالخصوص علی گڑھ میں قیام کے دَوران میں بدء الاسلام کی تصنیف اور ’لجنتۃ الادب‘ اور ’اخوان الصفا‘ جیسی تنظیموں کے ذریعے عربی زبان کے فروغ اور بعد میں ندوۃ العلما، مدرسۃ الاصلاح اور دارالمصنّفین کے توسط سے جدید عربی زبان کی تدریس کے لیے کی جانے والی کاوِشوں اور ان کے ثمرات پر جامع بحث کی ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے علامہ شبلی کے عربی مباحث، تقاریر و خطبات اور مطالعات کا ذکر کیا ہے۔ روم و مصر و شام کے سفر میں نجی و سرکاری کتب خانوں میں عربی زبان کے جن اخبارات و کتب سے شبلی شناسا ہوئے یا جن کے نام انھوں نے اپنے سفر نامے میں تحریر کیے، مصنف نے ان سے بالتفصیل آگاہ کیا ہے۔ عربوں سے ذاتی تعلقات اور عرب دنیا سے موصولہ کتب و رسائل کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں اور جدید عربی زبان میں ہونے والی تبدیلیوں اور جدید لغات کی ترتیب و تدوین کے سلسلے میں ان کی ترغیبات پر بھی گفتگو کی ہے۔ جامع تعارفی حصے کے بعد مصنف نے علامہ کی تصنیفات (علمِ کلام، سیرۃ النعمان، المامون، الفاروق، الغزالی اور سیرۃ النبی) کے عربی مصادر و منابع پر اپنی تحقیقات سے مطلع کیا ہے؛ نیز عربی ادب سے متعلق شبلی کے مضامین و مقالات، عربی کتب پر شبلی کے تجزیاتی مطالعات اور عربی زبان و ادب کی چند اہم شخصیات پر اظہارِ خیال کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ مقالے کے آخر میں مصنف کی عربی تصانیف (الانتقاد علی التمدن الاسلامی، الجزیہ، تاریخ بدء الاسلام،ظل الغمام فی مسئلہ القراۃ خلف المام، اسکات المعتدی علی انصات المقتدی اور شبلی کے عربی خطوط) کا تجزیہ کر کے عربی زبان و ادب پر شبلی کی دسترس اور تصنیفی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر مصنف کے نتائجِ فکر کو قارئین کی نذر کیا جائے:
علی گڑھ میں رہے تو یہاں انھوں نے طلبہ کے اندر عربی تحریر و تقریر کا ذوق پیدا کیا، ندوۃ العلما کو عربی زبان و ادب کا ایک مرکز بنانے میں غیر معمولی خدمت انجام دی اور آخر میں دارالمصنّفین کے نام سے عربی مصادر و ماخذ کا مشہور ادارہ قائم کیا۔ بہرکیف ان کی یہ ادارتی اور تصنیفی خدمات پوری طرح غماز ہیں کہ انھوں نے ہندوستان میں عربی زبان و ادب کے فروغ کے لیے بڑے جتن کیے اور پہلی بار ہندوستان کو جدید عربی سے رُوشناس کرایا اور علماے عرب سے روابط قائم کیے۔ (ص66-67)
’عربی ادبیات‘ کا دوسرا مقالہ ’مقالاتِ شبلی میں عربی زبان و ادب‘ ہے، جس میں مقالات کی جلد دوم کے پانچ مقالات (عربی زبان، فنِ بلاغت، نظم القرآن و جمہرۃ البلاغۃ، شعر العرب، عربی اور فارسی شاعری کا موازنہ) کا تجزیاتی و تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ابوسفیان کا یہ مقالہ نہ صرف عربی زبان و ادب پر ان کی دسترس کا غماز ہے، بلکہ اس اعتبار سے علامہ شبلی کی خدمات اور ان خدمات کی قدر و قیمت سے بھی ان کی مکمل آگاہی کی خبر دیتا ہے۔ مصنف نے شبلی کے ان مقالات کے تجزیات میں اپنے مطالعات اور تحقیقی و تنقیدی آرا کو شامل کر کے نئے نتائجِ فکر پیدا کیے ہیں۔ مصنف نے عربی شعر و ادب سے متعلق علامہ شبلی کی صلاحیتوں کا درج ذیل الفاظ میں اعتراف کیا ہے:
علامہ کی قدیم عربی ادب کے ساتھ جدید عربی ادب پر بھی گہری نظر تھی، وہ ہر نئے لٹریچر کے حصول کے لیے مضطرب رہتے۔ جس وقت علامہ مذکورہ بالا قدیم و جدید موضوعات پر اظہارِ خیال کر رہے تھے، وہ ہندوستان کے لیے بالکل نئے تھے۔ اُس وقت تک یہاں فرید وجدی، مصطفیٰ کمال اور قاسم امین کے جاننے والے معدودے تھے۔ مولانا کے مضامین میں جس انداز سے شعر و ادب کو موضوعِ بحث بنایا گیا اور جس طرز پر عربی اور فارسی کا موازنہ پیش کیا گیا، وہ علمی دنیا کے قابلِ قدر سرمایہ ہے۔ اس طرح کے موازنے پر وہی قادر ہو سکتا ہے، جو عربی ادب پر مہارتِ تامہ کے ساتھ شعر العجم کا مصنّف بھی رہا ہو۔ (ص 98-99)
لیکن اس اعتراف کے باوجود مصنف شبلی کی بعض کمزوریوں سے بے خبر نہیں، چنانچہ انھوں نے متنبّی اور فرید وجدی پر شبلی کی تحریروں کو کمزور قرار دیا ہے اور فرید وجدی کی خدمات پر تبصرے کو غیر مدلل۔
’عربی ادبیات‘ کا تیسرا مقالہ ’سیرۃ النبیؐ میں اشعارِ عرب‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں مصنف نے شعر سے عربوں کی مناسبت، ان کے شاعرانہ اوصاف و کمالات اور عربوں کی معاشرتی و عسکری زندگی میں شاعری کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ چونکہ عربی زبان کے اصول و ضوابط عرب کی جاہلی شاعری کی روشنی میں استوار ہوئے ہیں، چنانچہ مصنف نے عربی شاعری کی اسی اہمیت کو بدلائل ثابت کر نے کے لیے بعض اُمہات الکتب کے ساتھ ساتھ، ذخیرۂ اشعار پر مشتمل بعض کتابوں (معجم البلدان، العقد الفرید، کتاب البخلاء، کتاب الحیوان، نقد الشعر)کا نام لیا ہے۔ مصنف نے موضوع کی مناسبت اور حساسیت کے سبب یہاں جائز طور پر مستشرقین کے اس الزام کہ اسلام فنونِ لطیفہ کا مخالف ہے، کی تردید کے لیے اسلامی تاریخ سے روشن مثالیں پیش کی ہیں، اس سلسلے میں شعراے رسول، شمائل النبیؐ سے متعلق عربی شاعری اور کتاب المغازی، تہذیب التہذیب، سیرت ابنِ ہشام، طبقاتِ ابنِ سعد اور تاریخِ کبیر میں ایسے اشعار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ شبلی کی سیرۃ النبیؐ میں عربی اشعار پر مفصل بحث کی ہے۔ تدوینِ سیرت میں اشعارِ عرب کی شمولیت کو مصنف نے اس نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ’ایک معیاری سیرت، کلامِ عرب کے بغیر لکھنے کا تصور بے معنی ہے‘۔ مصنف کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ ’اردو میں محققانہ سیرت نگاری کی طرح ڈالنے والے سرسید پہلے شخص ہیں‘، لیکن ان کا یہ بیان مزید غور و فکر کا متقاضی ہے کہ ’خطباتِ احمدیہ کے اثرات سیرۃ النبیؐ میں پوری طرح محسوس کیے جا سکتے ہیں‘۔ سرسید کے پیش نظر تحقیقی نتائج ان کے اپنے یا مستعار زاویہ نظر کےتحت برآمد ہوتے رہے، جب کہ شبلی نے خالص علمی و تحقیقی نقطہ نظر اختیار کیا؛ چنانچہ اوّل الذکر تصنیف آج محض تاریخی حیثیت رکھتی ہے، جب کہ مؤخر الذکر آج بھی سیرت نگاروں کی میرِ کارواں ہے۔
’عربی ادبیات‘ کا چوتھا اور آخری مضمون ’جدید عربی زبان و ادب کا معمار، علامہ شبلی نعمانی‘ کے نام سے شامل ہے۔ مصنف نے بجا طور پر جدید عربی زبان و ادب سے شبلی کے تعلق کو روم و مصر و شام کے سفر سے جوڑا ہے اور شبلی کے اضطراب کی درست نشاندہی کی ہے کہ ’اگر ہم نے جدید عربی زبان و ادب کی کروٹوں کو محسوس نہ کیا تو عربوں سے ہمارا رشتہ کٹ جائے گا‘۔ (ص 129) اس سفر کے بعد علی گڑھ اور ندوۃ العلما میں عربی زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں شبلی کی کاوِشوں کو بڑی تفصیل سے تحریر کیا ہے اور ساتھ ساتھ ان کوششوں کے اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ مصنّف کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ ’ہندوستانی مفسرین میں صرف دو نام ایسے ہیں، جن کے یہاں تفکرِ قرآن پایا جاتا ہے؛ نظام القرآن اور ترجمان القرآن میں کچھ نئی چیزیں ملتی ہیں، ورنہ بقیہ اردو تفاسیر میں دیگر عربی تفاسیر کی چیزوں کو جمع کر دیا گیا ہے‘۔ (ص 131) اس سلسلے میں محض تفہیم القرآن، ضیاء القرآن اور عرفان القرآن کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ یہاں مصنف نے عربی زبان کے فروغ کے لیے شبلی کی تدریسی، تجزیاتی، تحقیقی اور تصنیفی خدمات کی روشنی میں ان کے کردار کو پیش کیا ہے اور مثال کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ندوۃ العلما، دارالمصنّفین اور مدرسۃ الاصلاح کی طرف سے عربی زبان و ادب سے متعلق تصنیفی و تالیفی و طباعتی خدمات کا ذکر کیا ہے۔
کتاب کے تیسرا حصہ ’اردو ادبیات‘ صرف ایک مضمون ’علامہ شبلی نعمانی کی شاعری میں انسانی و ملی اقدار‘ پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں مصنف کے متعدد بیانات قابلِ توجہ ہیں، یعنی ’[شبلی کے] ایک ایک شعر سے یہ آواز آتی ہے کہ علامہ ملتِ اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل تھے‘(ص 153)، ’علامہ کی شاعری کا ایک امتیازی پہلو شعائرِ اسلام کی نمائندگی ہے‘ (ص154)اور ’بالعموم یہ بات کہی جاتی ہے کہ اگر شاعری کسی خاص مقصد اور پیغام کے پیش نظر کی جائے تو شاعر، شاعر نہیں، معلم بن جاتا ہے؛ لیکن مولانا کی یہ نظمیں اس خیال کی تردید کے لیے کافی ہیں‘؛ البتہ یہ مضمون تنقیدی سے زیادہ تاثراتی ہے، جو اپنے مندرجات کے اعتبار سے مصنف کے دیگر مضامین سے مناسبت نہیں رکھتا اور نہ ہی علامہ کی شاعری پر سابقہ تنقیدی آرا پر کوئی اضافہ کرتا ہے۔
کتاب کے چوتھے حصے ’مکاتیبِ شبلی‘ میں تین مضامین (مکاتیبِ شبلی میں عربی زبان و ادب، مکاتیبِ شبلی بنام حبیب الرحمٰن خاں شیروانی، مکاتیبِ شبلی میں مولانا فراہی) شامل ہیں۔ ’مکاتیبِ شبلی میں عربی زبان و ادب‘ اپنے مندرجات کے لحاظ سے ’عربی ادبیات‘ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، البتہ مکاتیب سے تعلق کی بِنا پر چوتھے حصے میں شامل کیا گیا۔ مصنف کا یہ کہنا درست ہے کہ ’علامہ شبلی نعمانی کے خطوط میں مصادر و مراجع اور نوادرات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے‘۔ (ص 179) پہلے مضمون ’مکاتیبِ شبلی میں عربی زبان و ادب‘ میں مصنف نے ’عربی تصانیف‘، ’عربی ادب‘ اور ’مستشرقین‘ کے ذیلی عنوانات کے تحت بحث کی ہے۔ دوسرے مضمون ’مکاتیبِ شبلی بنام حبیب الرحمٰن خاں شیروانی، ایک جائزہ میں‘ کو ’عربی زبان و ادب‘، ’مستشرقین‘، ’اشاعتِ اسلام‘، ’ندوۃ العلما‘ کے علاوہ ’علامہ اور شروانی کے مراسم‘ جیسے ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے؛ جب کہ تیسرے مضمون ’مکاتیبِ شبلی میں مولانا فراہی‘ میں ’انگریزی زبان و ادب‘، ’قرآنِ کریم کا انگریزی ترجمہ‘، ’فارسی زبان و ادب‘، ’دارالعلوم ندوۃ العلما‘، ’مدرسۃ الاصلاح‘، ’دارالمصنّفین اعظم گڑھ‘، ’افاداتِ فراہی سیرۃ النبیؐ میں‘، ’ذبیح کون ہے؟‘، ’قربان گاہ‘، ’حضرت اسماعیلؑ کی رہائش گاہ‘، ’حقیقتِ مکہ مکرمہ‘، ’صلح حدیبیہ‘، ’نئی مطبوعات اور نایاب کتابیں‘ اور ’شہرت سے بیزاری‘ جیسے ذیلی عنوانات کے تحت بحث کی گئی ہے۔ تینوں مضامین میں مکاتیبِ شبلی کے مندرجات پر گفتگو کی گئی ہے، چنانچہ انھیں باہم ملا کر ایک مضمون کیا جا سکتا ہے اور ان کے مجموعے لوازمے کی بنیاد پر دیگر مختلف موضوعات پر مضمون تیار کیے جا سکتے ہیں؛ البتہ یہ مضامین اسی طرز کے کئی ایک مضامین کا محرک ثابت ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کوئی محقق و نقاد انھیں مضامین کو توسیع دیتے ہوئے ایک پوری تصنیف پیش کر دے۔
’متفرق میں ’مطالباتِ شبلی صدی‘ اور ’شبلی کی دانش وری‘ شامل ہیں۔ ’مطالباتِ شبلی صدی‘ میں تمہیدی گفتگو کے بعد دارالمصنّفین کی تاریخ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مولانا حمید الدین فراہی، سید سلیمان ندوی، عبدالسلام ندوی، شاہ معین الدین ندوی، صباح الدین عبدالرحمٰن، مولانا ضیاء الدین اصلاحی اور ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی کی سربراہی میں ہونے والی ترقی کا ذکر کیا ہے، البتہ صباح الدین عبدالرحمٰن کی طرف سے دارالمصنّفین کے علمی و فکری مزاج سے انحراف اور ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی کی طرف سے ہمہ جہت خوشگوار تبدیلیوں کو بطورِ خاص بیان کیا ہے۔ انھوں نے اس دعا کے بعد کہ دارالمصنّفین شب و روز اپنی تحقیق و جستجو سے علمی دنیا کو حیرت و استعجاب میں ڈالتا رہے، یہ درخواست کرنا ناگزیر سمجھا ہے کہ علامہ کی بہت سی تحریریں اور تصانیف تحقیق و تدوین کی متقاضی ہیں۔ (ص 239) مصنف نے شبلی میوزم کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس میں باقیاتِ شبلی، تصاویرِ شبلی، ان کے مخطوطات، اصلی خطوط، آبا و اجداد کے آثار و علامات و تصاویر، تصانیفِ شبلی کی تمام اشاعتیں، ذمہ دارانِ شبلی اکیڈمی اور اس کے علمی رفقا کی تصانیف و تالیفات اور مسودات وغیرہ جمع کیے جائیں۔ مجلہ معارف کے حوالے سے انھوں سرورق کو بدلنے، اردو کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور انگریزی مقالات کو شامل کرنے، معارف کے قدیم مجلات کی اشاعتِ نو، معارف کے شماروں میں مطبوعہ منتخب مضامین پر مشتمل موضوعاتی اعتبار سے جلدیں مرتب کرنے اور مدیران و اراکینِ مجلس مشاورت اور اہم مقالہ نگاروں پر کتابیں مرتب کرنے کی تجویزیں پیش کی ہیں۔ مصنف نے شبلی کے آثار و اقدار پر شبلی شناسوں کے خطبات کا بھی آئیڈیا دیا ہے۔ انھوں نے شبلی اکیڈمی کےکتب خانے میں قیمتی مصادر و ماخذ کا اعتراف کرنے کے بعد قدیم ماخذ کی جدید اشاعتوں کے حصول پر توجہ دِلائی ہے اور اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کتب خانے کو جدید خطوط اور طریقِ کار کے مطابق ترتیب دیا جائے، تاکہ استفادے کی سہولیات میں اضافہ ہو سکے۔ مصنف نے نومبر دسمبر 2014ء میں منعقدہ شبلی صدی بین الاقوامی سیمینار کا ذکر کیا ہے اور بالخصوص پاکستانی مندول محمد غزالی کی مصروفیات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی سے مطبوعہ صدی تقریبات کے حوالے سے مطبوعات پر تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ علامہ شبلی سے نسبت کے باعث علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ندوۃ العلما، شبلی کالج، مدرسۃ الاصلاح جیسے اداروں کی زوال پذیری پر بھی انھیں تشویش ہے اور ان اداروں کی ترقی کو بھی شبلی صدی کے مطالبات سے منسلک کرتے ہیں۔ اس مضمون میں مصنف کی علامہ شبلی سے وابستہ اداروں اور رسائل و جرائدکی بابت دردمندی قابلِ ستائش ہے۔
’متفرقات‘ میں دوسرا مضمون ’شبلی کی دانش وری‘ ہے، جسے بجا طور پر اس کتاب کا محاکمہ کہا جا سکتا ہے، چنانچہ زیرِ نظر تصنیف کے تمام مندرجات کو مختصر، لیکن جامع انداز میں دیکھنے کے لیے اس مضمون کا مطالعہ کافی ہے۔
مصنف کی طرف سے شبلی کے حوالے سے تعارفی جملوں اور بعض تنقیدی و تاثراتی بیانات کی تکرار ہے، جس کی بنیادی وجہ ایک جیسے موضوعات پر مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کو نظر ثانی کے بغیر ایک کتاب میں یکجا کر دینا ہے۔ اگر ان مضامین کےتعارفی و تمہیدی حصوں کو حذف کر دیا جاتا یا ان میں موجود تکرار کو دُور کر دیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا۔ مصنف ایک طرف ’اصلاحی‘ اور شبلی کے مداح ہیں تو دوسری جانب وہ علی گڑھ میں مقیم، چنانچہ ان کی ایک نظر اعظم گڑھ کی طرف اُٹھتی ہے تو دوسری علی گڑھ کی جانب۔ اس تصنیف کی ہر تحریر میں وہ شبلی کی عظمت بیان کرتے کرتے ان پر سرسید اور علی گڑھ کے اثرات کا ذکر اور دونوں اکابر کے مابین مبینہ اختلافات کی توجیح پیش کرنے لگتے ہیں۔ شبلی کی زُود رنجی کو دہراتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ’یہی زُود رنجی علامہ کو اِدھر اُدھر لیے لیے پھرتی رہی اور درر و دیوار سے سر ٹکراتی رہی‘۔(ص 237) مصنف کے اس بیان سے بعض بدگمانیاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ سید سلیمان ندوی نے حیاتِ شبلی کو دیوبند کے نقطہ نظر سے پیش کیا تھا تو ڈاکٹر ابوسفیان اصلاح نے افکارِ شبلی کو علی گڑھ کے نقطہ نظر سے؛لیکن کتاب کے آخری مضمون ’شبلی کی دانش وری‘ کے تمہیدی حصے میں انھوں نے شبلی کی علمی و ادبی خدمات کو نہایت متوازن انداز میں خراجِ عقیدت پیش کر کے تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا ہے:
شبلی کی شخصیت میں اتنا تنوع اور تحقیق و تنقید میں اس قدر بوقلمونی ہے کہ ان کی دانش وری کے سلاسل غیر محدود ہیں۔ انھیں مبدأ فیاض نے ایک اعلیٰ دماغ اور افکارِ عالیہ سے نوازا تھا۔ دانش وری کی تزئین و تعمیر میں اعظم گڑھ، علی گڑھ اور دنیاے عرب کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ اساتذۂ اعظم گڑھ نے اس مشعلِ مثالی کو رَوشن کیا، علی گڑھ نے اس جِلا بخشی اور اس کی ضیا پاشیوں کے دائروں کو وسعت عطا کی، دنیاے عرب نے اس کی تابناکیوں میں اضافہ کیا۔ (ص260)
یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ تصنیفِ زیرِ نظر اپنے مندرجات، علمی وقار اور اسلوب کی تازگی کے باعث شبلی کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک ارمغان سے کم نہیں۔ یہ اعتراف ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کےمندرجات نے راقم کو متعدد نئے موضوعات پر تنقیدی و تحقیقی نگاہ ڈالنے کی تحریک دی ہے۔