تعلیم نسواں کی علمبردار : ڈاکٹر کشور جہاں زیدی :- گلشن جہاں

ڈاکٹر کشور جہاں زیدی

اردو کی بے لوث خدمت گزار اور تعلیم نسواں کی علمبردار
: ڈاکٹر کشور جہاں زیدی

گلشن جہاں
ریسرچ اسکالر
اے ۔ایم ایو ، علی گڑھ

ماہ مارچ کے آغاز سے ہی عالمی یوم خواتین کو لے کر ہنگامہ برپا ہے ہر شخص اپنی رائے دینے میں مصروف ہے ۔گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی مختلف سیاسی ،سماجی اور تعلیمی ادارے متعدد خواتین کو انعام و اکرام سے نواز رہے ہیں ۔تمام اخبارات میں خواتین کی دلیری اور مسائل پر مضامین چھاپے جارہے ہیں۔

اسی مناسبت سے ہمارے ہاسٹل میں بھی یوم خواتین کے حوالے سے اظہار خیال کرنا تھا اوراپنے علاقے کی ایک ایسی خاتون سے متعارف کرانا تھا جس نے تعلیم نسواں میں اہم کردار ادا کیا ہے ،آپ کو متاثر کیا ہے اور جس کے اقدامات سے دیگرافراد کو ہمت و حوصلہ ملا ہو۔میں نے اپنے اکناف و اطراف کی نامور خواتین پر نظر دوڑائی لیکن وہ نمود و نمائش سے لبریز نظر آئیں۔میں نے آنکھ بند کرکے اپنے حافظہ کو زحمت دی تبھی میرے ذہن میں ایک خوبصورت سا پرنورچہرہ،لبوں پر تبسم ،آنکھوں میں اعتماد سے لبریز تصویر نمایاں ہونے لگی ۔ایک منفرد آواز سنائی دی اور میں آزاد گرلس انٹر کالج سنبھل پہنچ گئی ۔اس آواز سے میں دسویں جماعت سے آشنا ہوں ۔وہ منفرد آواز پرعزم خاتون ،شفیق استانی ،مقبول انشاء پرداز ،کامیاب مترجم ، معتبر اردو ادیبہ اور فعال سماجی کارکن ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کی ہے۔
عالم میں انتخاب علم و فضل میں لاجواب سرزمین سنبھل علم و ہنر مندی اور دانشوری میں ممتاز حیثیت کی مالک رہی ہے۔اس علم و ادب کے گہوارے نے کئی نایاب ادیب و شعرا ہر دور میں اردوادب کو عطا کیے ہیں۔ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کا تعلق بھی اسی زرخیز علاقے سے ہے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ خواتین کے تعلق سے جب ہم تحقیق کرتے ہیں تومرد حضرات کے مقابل اس علاقے کی خواتین کا احوال دیکھ کر ذرا مایو سی ہوتی ہے ،شاید اس کی وجہ ہمارا ہندوستانی معاشر ے کی مرد پرستی رہی ہے۔ جہاں کئی خواتین کو اپنی نیک خواہشات کا گلا گھوٹنا پڑتا ہے تو کئی بار پر عزم خواتین اپنے پرعزم ارادوں اور محنت و لگن کو بروئے کار لا کر سماج میں اپنی حصے داری کا لوہا منواتی ہیں۔ایک ایسی ہی شخصیت سے میری برسوں پرانی پہچان ہے جس نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے پرخار راہوں سے مسکراتے ہوئے گزر کی ہے ۔یہ قابل احترام ،با عث ٖفخرخاتون ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کے نام سے معروف ہیں۔ ناچیز کوان کی شاگردہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
اگر ہم بیسویں صدی کی بات کریں توکافی حد تک خواتین کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ہمارے سماج میں وسیع نظری پیدا ہو رہی ہے جس کامثبت نتیجہ ہے کہ خواتین بھی ہر میدان میں شرکت کر رہی ہیں علم و فن ،شعر و ادب ،سائنس ،میڈیکل لائن ہو یا کھیل ہر میدان میں ہماری فتح کاجھنڈا لہرا رہاہے۔اس کے برعکس تقریباًپچاس سال قبل ڈاکٹر کشور جہاں زیدی دور مخالفت اور قدامت پرست معاشرے میں علم و ادب کی کانٹوں بھری راہ پرچل پڑی تھیں۔چاند سی صورت کی غیر معمولی ذہانت کی حامل یہ لڑکی تعمیری فکر لے کر دنیا میں آئی تھی۔علمی و مذہبی گھرانے میں پرورش پائی۔مرد پرست معاشرے میں اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کوجاری رکھا۔طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کی دلچسپی تحقیق و تخلیق میں رہی ہے ۔کبھی دن کے اجالوں میں توکبھی چاند کی روشنی میں مطالعہ کاسفر طے کیا۔گھر میں کئی طرح کی پابندیاں ہونے کے باوجود اپنے علمی ذوق کی تسکین کرنے کے ساتھ دیگر ذمہ داریوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کی حوصلہ مندی پر حیرت ہوتی ہے کہ گھریلو رکاوٹیں حائل ہونے پر بھی انہوں نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل کیا ۔وہ سماجی علوم کے ساتھ مذہبی فہم و ادراک بھی رکھتی ہیں۔کم عمری سے ہی متعدد مضامین مختلف اردو رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ان کے مضامین میں سلاست وروانی موجود رہتی ہے، انداز بیان سے کوفت نہیں ہوتی بلکہ ان کی تحریر میں وہ جادو ہے جو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔خوبصورت ،حسن سیرت اور انکساری کا امتزاج ان میں موجود ہے ۔ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کی سادگی و شائستگی،خوش اخلاقی اور انکساری ان کے کردار میں چارچاند لگادیتی ہے۔زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے پر انہوں نے زندہ دلی سے مشکل ترین وقت میں بھی صبرو شکر سے کام لیا۔ آپ اپنے داخلی کر ب کو اپنی ذات تک مہدود رکھتی ہیں ان کی ذات میں بلا کا ضبط ہے۔اسی ضبظ کی بدولت لاکھ دشواریوں کا سامنا کرتے ہوئے اردو زبان و ادب کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈاکٹر کشور جہاں زیدی نے اردو ادب کو اپنی تصانیف کی شکل میں کئی تحائف دیے ہیں تو دوسری طرف بحیثیت معلمہ زبان اردو سے طالبات کو روشناس کرایا ہے۔ درس و تدریس صرف ان کا پیشہ نہیں ذوق ہے۔اردو زبان ان کی پہلی محبت ہے اور اس کی آبیاری انہوں نے دل و جان سے کی ہے۔یہ انہیں کی مرہون منت ہے جوعلاقہ سنبھل کی بیشتر خواتین اردو پڑھنا لکھنا جانتی ہیں ۔باغبان کی مانند انہوں نے نوخیز نسل کو ضرورت کے مطابق شعور کی مٹی ،علم کی روشنی اور نئی امنگوں کا پانی دے کر ہمارے ذہنوں کی تربیت کی ہے۔ کئی ہزار لڑکیا ں ان سے تعلیم حاصل کر چکی ہیں اور آج مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں ۔اردو زبان کی استانی کی حیثیت سے انہوں نے ایک پوری نسل کی رہنمائی و تربیت کی ہے ۔
ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کا پہلا ادبی کارنامہ سلیم ضیاء رامپوری کے نفسیاتی ناول ’ٹکراؤ‘کا ہندی ترجمہ ہے۔ترجمہ میں اصل تخلیق کی روح کو برقرار کھنے کے ساتھ سہل الفا ظ کا استعمال کیا گیاہے۔ناول کے مصنف نے ان کی ذہانت و قابلیت کا اعتراف یوں کیا ہے کہ ’’کشور صاحبہ کی ذہانت کے بہت سے لوگ قائل ہیں اور میں شاید پہلے ہی لمحے سے۔۔۔۔لیکن ان کی شخصیت کے جس پہلو نے مجھے اچانک حیرت کے بھنور میں پھینک دیا ہے وہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ٹھیک دو ماہ چاردن بعد انہوں نے ’ٹکراؤ‘ کا یہ ہندی ترجمہ مختصر پیغام کے ساتھ مجھے بھجوایا ہے۔آپ کی پرسوچ کاوش نے مجھے مجبور کر دیا تھا کہ ’ہم‘بہت سے لوگ ٹکراؤ کی روح اور جسم سے ٹکرا سکیں۔‘‘
تحقیق و تدوین کا کام ایک سنجیدہ بصیرت اور علمی جستجو کامتقاضی ہے ۔صبر و شکر اور طبیعت میں اعتدال پسندی کشور صاحبہ کا ہی شیوہ ہے ۔انتخاب قصائد سید سرسوی ان کا پہلا تدوینی کارنامہ ہے ۔اس تدوین کے متعلق پدم شری پروفیسر علی جواد زیدی نے تبصرہ لکھا اور مصنفہ کو اس صبر آزما کام کے لئے مبارکباد پیش کی تھی۔سید سرسوی :حیات اور شاعری کشور زیدی صاحبہ کا تحقیقی مقالہ ہے۔جس کو سید سرسوی کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔اس مقالے کا طرز بیان اتنادلکش ہے کہ پروفیسر منظر عباس نقوی بھی اس کی داد دیے بنا نہ رہ سکے۔آئینہ جوہر مشہور و معروف شاعر جوہر سرسوی کی غزلیات کا مجموعہ ہے۔افکار جوہر زیر ترتیب ہے جو جوہر سرسوی کے قصائد و قطعات کا انتخاب ہے۔سلام جوہر میں سلام و منقبت کی شمولیت اس انداز سے کی ہے کہ یہ ترتیب و تدوین کی عمدہ مثال بن گئی ہے ۔
عہد حاضر میں کئی خواتین و حضرات مشہورو معروف شخصیات پر کام اپنے مفاد کے لئے کرنے لگے ہیں لیکن انہوں نے
اردو ادب کے گمشدہ خدمت گزاروں کو روشنی میں لاکر سچے دل سے اردو ادب کی خدمت کی ہے ۔تذکرہ حسینی کے عنوان سے میر حسین دوست سنبھلی کی فارسی تالیف کا اردو ترجمہ ان کا قابل قدر کارنامہ ہے ۔تذکرہ حسینی کا کوئی مطبوعہ یا قلمی نسخہ خود سنبھل تک میں موجود نہیں ہے۔مترجمہ نے کئی کتب خانوں میں چھان بین کے بعد مولانا آزاد لائبریری علی گڑھ سے عکس حاصل کیا اور اس کا اردو ترجمہ شائع کرکے اس سرمایہ ادب کو محفوظ کر دیا ہے ۔ان کی اس کاوش پر پدم شری سید امیر حسن عابدی سابق صدر شعبہ فارسی دہلی یونیورسٹی بھی ان کی ذہانت و صلاحیت سے متاثر ہوئے او رمزیدادبی خدمات کے لئے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔یہ ترجمہ فن ترجمہ نگاری کے تمام تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین ترجمہ ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ مصنفہ کو اردو ہندی اور فارسی زبانوں پر خاصی مہارت حاصل ہے۔ ’میری زمین کی چاند ستارے ‘ ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کی جستجو و تلاش کا ثمرہ ہے۔اس تذکرے میں شعرائے سنبھل کے معروف اور غیر معروف معتبر شعرا کو شامل کیا گیا ہے ۔ گنگا جمنا کے ساحلوں پر ڈاکٹرطارق قمر‘‘زیدی صاحبہ کی مرتبہ کتاب ہے۔جو ۲۰۱۸ میں منظر عام پر آئی ہے اور قارئین میں مقبولیت اورپذیرائی حاصل کررہی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے کے وقت کشور جہاں زیدی کا طرز نگارش قاری پر اپنی گرفت مضبوط کرتا جاتا ہے ۔
ڈاکٹرکشور جہاں زیدی نے خود کی شناخت قائم کرنے کے ساتھ دوسری خواتین کو بھی علم و ہنر کی طرف راغب کیا ،مختلف میدانوں میں ان کی ترقی کی راہیں ہموار کیں۔۔شہر سنبھل کی یہ بیٹی اپنے ہم وطنوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے اوران کی فلاح و بہبود کی فکر میں مبتلا رہتی ہے ۔دوسروں کو علم سے آراستہ کرنے کا عنصر ان کی شخصیت میں پنہاں ہیں اسی لئے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا ۔جذبہ خدمت کا عالم ہے کہ کالج سے سبکدوشی اختیار کرنے کے باوجود اپنے گھر پر ہی لڑکیوں کی رہنامئی کرتی رہتی ہیں ۔کنزی فروغ اردو سوسائٹی کا قیام ان کی اردو سے محبت اور جذبہ خدمت کا ثبوت ہے۔ان کی تعلیمی اور ادبی خدمات پر ملے انعامات و اعزازات کی لمبی فہرست ہے ۔دور حاضر میں ہم دیکھیں تو خواتین کے تعلق سے علاقہ روہیلکھنڈ میں ان کا ہم پلہ کوئی نظر نہیں آتا۔ اردو شعر و ادب کی دنیا میں وہ محتاج تعارف نہیں ہیں۔ قصیدہ ،مرثیہ ،غزل ،تحقیق و تدوین ،تذکرہ نگاری ،ترجمہ نگاری جیسے تمام اصناف کے حوالے سے ان کی تلاش و جستجو کا سفر جاری ہے ۔ڈاکٹر خالد حسین خاں مصنفہ کے علمی ذوق و شوق ،محنت و لگن اور صلاحیت کو دیکھ کر کہہ اٹھے کہ ،’غالب دوراں نے اپنے شاگرد ہرگوپال تفتہ کے لئے جو بات کہی تھی وہی بات آج میں اپنی شاگردہ کشور جہاں زیدی کے لئے کہتا ہوں کہ ان کی شہرت میں میری بھی ناموری پوشیدہ ہے اور مجھے یقین راسخ ہے کہ اردو دنیا ان کے کارہائے نمایاں کا اعتراف کرے گی۔‘‘
——

گلشن جہاں

جواب دیجئے