ترنم ریاض کی غزل گوئی :- ڈاکٹر جاوید شاہ

ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ

ترنم ریاض کی غزل گوئی

ڈاکٹر جاوید شاہ
Email:

ترنم ریاض کی غزلوں کا مطالعہ کیجئے تو عشق و محبت کی ساری وارداتیں اپنی تمام دلکشی کے ساتھ اس میں سمٹ آئی ہیں ۔وہ عشق کو ہر زاویے سے پیش کرتی ہیں اور اس کے سارے امکانات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ترنم ریاض کے شعری مجموعہ ’’پرانی کتابوں کی خوشبو ‘‘میں شامل پچیس غزلوں کا مطالعہ کرنے کے بعد راقم موصوفہ کی شاعرانہ صلاحیت و وجہِ شاعری کے بھید کو سمجھنے میں اور تخیل کا خاکہ کھینچنے میں جس قدر کامیاب ہوا ہے اس کا اندازہ مندرجہ ذیل الفاظ سے لگ بھگ ہو سکتا ہے۔

جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو اس کے لئے کچھ بنیادی صفات کا ہونا لازمی ہے ۔مثلاً زبان اور اس کے قواعد پر دسترس یعنی مکمل گرفت، اس کے بعد باریک بینی ، تخیل کی رفعت ، خوبصورت الفاظ کا انتخاب اور ان کا جائزاستعمال ۔ترنم ریاض کی شاعری چند فنی خامیوں کے باوجود ان صفات کی حامل ہے ۔ ’’پرانی کتابوں کی خوشبو ‘‘کے شعری مجموعہ کی پہلی غزل میں ترنم ریاض نے دنیا کی بے ثباتی پر خار راہوں ،سرسبز وادی کے نیچے چھپے زلزلوں اور مسائل کے گتھیوں کا ذکر کیا ہے ۔
بڑی گتھّیاں ہیں بڑے مۂلے ہیں
کہیں کس نے ہم کس قدر مرحلے ہیں
کوئی دن کی باتیں ہیں،کچھ اور سانسیں
بہت مختصر روح کے سلسلے ہیں
یہ سر سبز کوہ،وادیاں یہ سکوں کی
کہیں ان کے نیچے چھپے زلزلے ہیں
گلستان ہی زد میں ہے بجلیوں کی
لئے چار تنکے کدھر ہم چلے ہیں
کڑی دھوپ گم گشتہ راہیں بے منزل
شکستہ پری ہے،بلند حوصلے ہیں
ترنم ریاض کی غزلوں کا محبوب یا عاشق کوئی خیالی محبوب نہیں ہے بلکہ اسی روئے زمین پر چلنے پھرنے والا انسان ہے جس کے پیار کی خوشبو شاعرہ اپنے حواسِ خمسہ پر محسو س کرتی ہیں اور محبوب کی خاموشی کو وہ اپنے لئے ویران قبرستان کی طرح سمجھتی ہیں۔
کہیں خلوص پہ آئے نہ عشق کی تہمت
میرے حواس پہ چھاؤ نہ خوشبوؤں کی طرح
تمہاری چپ سے نہ ہم پر سکوت چھا جائے
اندھیری رات کے ویران مقبروں کی طرح
محبوب کی بے رُخی،خود غرضی اور بے وفائی کا ذکر تر نم ریاض نے اپنی غزلوں میں جگہ جگہ بیان کیا ہے شاعرہ اپنے محبوب کو دُعاؤں میں مانگتی ہیں وہ شعر کے مصرعوں کی طرح اُس کے ساتھ زندگی بتانا چاہتی ہیں وہ اُس کی تفریحی محبت کا بھی خلوص کے ساتھ ذکر کرتی ہیں مندرجہ ذیل غزل سے شاعرہ کی چاہت کا اندازہ ہو تا ہے۔
گم نہ ہو جانا سرابوں کی طرح
تم کو مانگا ہے دعاؤں کی طرح
خود میں وہ اور ہیں اندیشوں میں گم
ساتھ ہیں شعر کے مصرعوں کی طرح
درد تھا اس کی ہنسی میں پنہاں
ہم بھی مُسکائے تھے زخموں کی طرح
ڈوبتی تھی میں کوئی نیّاسی
دیکھتا تھا وہ کناروں کی طرح
بے مروّت تیری چاہت کا کبھی
ذکر کرتے تھے مثالوں کی طرح
ترنم ریاض کے کئی اشعار پروین شاکر کے اشعار سے ملتے جلتے ہیں۔مثال کے طور پر محبوب کی بے وفائی اور بے رُخی کا ذکر کرتے ہی پروین شاکر اور ترنم ریاض کس طرح ہم خیال ہیں۔ملاحظہ ہو
وہ ایک لفظ کا معنی نہ جان پایا کبھی
میں جس کی سوچ کو سمجھی تھی معجزوں کی طرح
ترنم ریاض

دُنیا کو دیکھتی رہی جس کی نظر سے میں
اُس آنکھ میں میرے لئے پہچان بھی نہ تھی
پروین شاکر

نظر پھیری اگر تم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھیں گے
بھری دُنیا ہے تحفہ سانس کا اک بار ملتا ہے
ترنم ریاض

اُس نے جب کوئی ہمارا زخم نہ دیکھا
ہم نے بھی مڑ کے اُسے دربارہ نہیں دیکھا
پروین شاکر

شاعرہ اپنے نصیب کو کوستی ہیں اُس کو اپنی دُعائیں بے اثر محسوس ہوتی ہیں۔وہ درختوں کی بیانی دیتی ہے تو درخت آگ اُگلتے ہیں۔وہ پھولوں کا بیچ بوتی ہیں تو زمین سے کانٹے نگل آتے ہیں۔وہ اس بے وفائی کی آلودگی میں سانس کی دشواری محسوس کرتی ہیں ملاحظہ ہو چند اشعار
مری دعا میں نہیں معجزوں کی تاثیریں
نصیب کھوجنے والی میں کون ہوتی ہوں
شجر کو دیتی ہوں پانی وہ آگ اگلتا ہے
میں فصل خار کی چننے کو پھول بوتی ہوں
فضا میں چھوڑ دئے ہیں زباں کے ناگ اس نے
میں سانس لینے کی دشواریوں پہ روتی ہوں
کہیں کہیں ان کی غزلوں میں متضاد خیالات کے اشعار بھی ملتے ہیں ۔کبھی وہ آج کا کام کل پر نہ چھوڑ نے کا ذکر کرتی ہیں۔اور کبھی آج کا کام کل پر چھوڑ دیتی ہیں کبھی وہ محبوب سے ملنے کے لئے ایک ایک لمحہ تڑپتی ہیں اور کبھی ان لمحوں کو چوبیس گھنٹوں کے لئے ٹال دیتی ہیں۔مندرجہ ذیل اشعارسے اُن کے دل کی کشمکش کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
ہمارے دل کے سکوں کا سبب ہے کام
یہی چھوڑ سکتے ہیں کل پردہ آج کرتے ہیں
جب اک اک پل گننے تھے آنے کو
اب اگر آج ہو ملناتو ہم کل جاتے ہیں
یہ لمحہ جو مانگے اس پل ہی دے دنیا
کل پر چھوڑے کام تو اکثر ٹل جاتے ہیں
ترنم ریاض کی غزلوں کا مجوب ایک سخت دل ہے جو دور کسی کھڑکی سے اپنے عاشق کی زندگی کی آخری سانسوں کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔شاعرہ اپنی بے بسی اور بیکسی کا کھُلے دل سے اعتراف کرتی ہیں محبوب کی بے پرواہی سے اُس پر جان کنی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔اُسے پرندوں کی چہچاہٹ بھی نوحہ خوانی سی لگتی ہے۔وہ اپنے اندر ایک تھکاوٹ محسوس کرتی ہیں۔جو آنکھیں محبوب کی راہوں کو ترستی تھیں اب اُنہیں موت کا انتظار ہے اس لئے بے بسی اور بیکسی کا ذکر شاعرہ نے ان اشعار میں کیا ہے۔
بیکسی کا عالم ہے،عاجزی کا موسم ہے
تم بدل گئے ہم پر جاں کنی کا موسم ہے
ہاتھ اٹھائے شاخوں نے ،سرنگوں ہیں گل غنچے
سرمئی یہ نوری صبح،بندگی کا موسم ہے
بادلوں کی چادر سی اوڑھ لی درختوں نے
کچھ گھڑی کو آجاؤ شاعری کا موسم ہے
مالکونس سنتی میں رنگ پرچ میں گھولوں
اوڑھ لوں کتابوں کی آگہی کا موسم ہے
گنگناتے طائر بھی نوحہ خواں سے لگتے ہیں
غم رسید غم خوردہ آج جی کا موسم ہے
چھوڑ دی ہے اب تھک کر ناؤ رخ پہ پانی کے
رہ اجل کی تکتے ہیں بے بسی کا موسم ہے
ترنم ریاض صرف انفرادی رشتوں کو بنائے رکھنے کی بات نہیں کرتی ہیں بلکہ وہ دونوں ملکوں میں خوشگوار فضا اور محبت کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔وہ د شمنوں کی طرف بھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہیں۔
نہ دشمنوں پہ بھی آئے فراق کا موسم
کوئی نہ دورُ کسی سے ہو سرحدوں کی طرح
ترنم ریاض بالخصوص ہندوستان اور پاکستان کے رشتے کو استوار رکھنا چاہتی ہیں۔دونوں ملک 1947ء کے بعد کئی جنگیں لڑ چکے ہیں۔اٹوٹ انگ اور شہ رگ کے نام پر لاکھوں انسانوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔شاعرہ کو امن اور محبت کی ایک کرن نظر آتی ہے اور وہ اس تعلق کو ہمیشہ کے لئے برقرار رہنے کی درخواست کرتی ہیں ۔وہ دوستی اور سرحدوں کا احترام کرنے پرزور دیتی ہیں ۔وہ وادأ کشمیرکی چٹانوں سے مزید آگ کے شعلے بھڑکتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی ہے وہ دونوں ملکوں کو امن اور پیار کا سبق بھی دیتی ہیں۔ملاحظہ ہو محبت اور امن کی غزل۔
یونہی رشتوں کو استوار کریں
اس تعلق کو خوشگوار کریں
بہتر ہو رہا ہے موسم اب
ان فضاؤں کو باوقار کریں
سرحدوں کا بھی احترام رکھیں
دوستی کو بھی شاندار کریں
اس نے ہم کو دیا ہے گلدستہ
اس کی راہوں کو ہم بہار کریں
ریگزاروں میں گلفشانی کریں
سارے سحر کو سبزہ زار کریں
ترنم ریاض کے کئی اشعارمیں مشینی کلچر سے مناظرِ فطرت کی تباہ کاری،روئے زمین پر انسانی دراندازی،نباتات وحیوانات کونیست و نابود کرکے اپنے آرام و آسائیش کا ساماں پیدا کرنااور پرندوں کے آشیانوں جلا کر راکھ کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
وحشتوں نے دیکھ ڈالا عظمتوں کا آکے گھر
کچھ سر مقتل میں کچھ سہمے ہوئے ہیں آجکل
اس جگہ پیڑوں کے جھُرمٹ آشیاں چڑیوں کے تھے
کچھ دوکانیں،گاڑیاں ،کچھ گھر گھڑے ہیں آجکل
مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ ترنم ریاض نے اپنی نظموں اور غزلوں میں دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کو شعری سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔کچھ نظموں اور غزلوں کو چھوڑکے اُن کے اشعار میں ایک موسیقی اور نغمگی پائی جاتی ہے۔کہیں کہیں روز مرہ زبان بھی استعمال کی ہے۔خیال عام اور سادہ میں شعر پڑھتے ہی شعر کا مفہوم قاری کے ذہن میں آجاتا ہے ۔اُن کی ہر بات عشق و محبت کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے وہ انفرادی اور اجتماعی رشتوں میں پیار محبت اور امن کی خواہاں ہے،اگرچی ان کی نظموں اور غزلوں میں بہت ساری فنّی خامیاں موجود ہیں لیکن زبان کی صفائی اورخیال کی روا نی سے قاری کو یہ خامیاں محسوس نہیں ہوتی ہیں۔ترنم ریاض کی یہ شعری تخلیق اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے جو مستقبل میں اپنے وقت کے حالات و واقعات کی ایک صاف اور واضح تصویر پیش کرے گی ۔
——
Dr. Jaweed Shah
Email…
mob.No 9697197436
7889713196