ترنم ریاض کا دوسرا ناول برف آشنا پرندے :- ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ

ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ

ترنم ریاض کا دوسرا ناول
برف آشنا پرندے

ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ

MOB.NO.9697197436

’برف آشنا پرندے‘‘ ترنم ریاض کا دوسرا ناول ہے پانچ سو چالیس صفحات پر مشتمل اس ناول کو ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی نے 2009 ؁ء میں منظر عام پر لانے کا حق ادا کیاہے یہ ناول پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ملاحظہ ہو کہانی کا خلاصہ

نجم خان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہوتا ہے جو محنت کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں لیکن نجم خان کے والد چودھری خُدا بخش خان خود اس روایت کو توڑ کر اعلیٰ تعلیم حاصِل کر کے قانون دان بنے ہوتے ہیں۔
چودھری خُدا بخش خان کو زمین خریدنے کا بہت شوق ہوتا ہے وہ بنیادی طور پر لاہور پاکستان کا رہنے والا ہوتا ہے جب مُلک تقسیم ہوتا ہے وہ وادی میں وارد ہوتا ہے وادی کے باہر کی پیدائش رکھنے کے سبب قانوناً وہ زمین نہیں خرید پاتا ہے مردان علی شاہ نام کا ایک لاولد شخص جو زمین فروخت کرنا چاہتا تھا وہ خُدا بخش کی بیوی کو بہن بنا کے عدالت میں ان کے نام بیع نامہ پیش کرتا ہے اور اس طرح اُنھیں یہاں کا سٹیٹ سبجکٹ ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔
چودھری خُدا بخش خان کے یہاں چار بیٹے ہوتے ہیں چودھری کی وفات کے بعد اِن کا بڑا بیٹا چودھر بشیر خان لاہور کی جائیداد سنبھالنے وہیں رہ جاتا ہے مُلک کا بٹوارہ ہونے کی وجہ سے حالات کے پیش نظر وہ واپس نہیں لوٹتا ہے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بشیر خان کی اولاد مغربی مُلکوں میں ہی رہتی ہے اور جب اِن کی وفات ہوتی ہے تو پڑوسی ہی اِن کو دفنانے کا انتظام کرتے ہیں۔
چودھری خُدا بخش خان کے تین بیٹے کشمیر میں ہی رہتے ہیں جن میں نجم خان اور اَس سے چھوٹیدوشامِل ہوتے ہیں۔آپسی سمجھوتے کے مطابق نجم خان کا شہر پائیں باغ میں تعمیر دو بنگلے آتے ہیں اور دو چھوٹے بھائی اپنی بقیہ زمینوں کی دیکھ بھال پر مامور رہتے یہ سمجھوتہ محض دیکھ بھال کے لئے کیا ہوتا ہے لیکن بعد میں نجم خان کے دونوں بھائی چالاکی سے گاؤں کی سینکڑوں کنال پرمشتمل زمینوں پرمستقل قبضہ جما لیا ہوتا ہے اور مالقانا حقوق کی خاطر پہلی شرط قبضہ تھا۔اس طرح اُنہوں نے کاغذات میں خود کاشت دکھا کر زمینوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہوتا ہے نجم خان کو اِن سب چیزوں کا پتہ بعد میں چلتا ہے یہاں پر افسانہ نگار نے ایسے بھائیوں کی خود غرضی پر طنز کیا ہے جو اپنے مفاد کے لئے اپنے ہی خون کو دھوکا دیتے ہیں۔
نجم خان ایک ذہین انسان ہوتا ہے وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے لیکن اس کے والد اُسے قانون پڑھانا چاہتے ہیں اور آخر کار وہ آئر فورس میں پائلٹ بن جاتا ہے والد کے انتقال کے بعد وہ شادی کر لیتا ہے دمے کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے۔نجم خان کے یہاں صرف بیٹیاں جنم لیتی ہیں جن کو وہ گھر میں خود ہی پڑھنے لکھنے کی تربیت دیتا ہے۔
شیبا جو اس ناول کی مرکزی کردار ہے اس کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے نجم خان فہیمہ شیبا اور فرخندہ کو گھر میں پڑھاتا رہتا ہے اور ساتھ میں اُن کا تلفظ بھی درست کرتا رہتا ہے شیبا کافی Practical قسم کی لڑکی ہوتی ہے اِسے بچپن سے ہی اپنی تہذیب کو سمجھنے کی تڑپ ہوتی ہے ایک دِن بچپن میں جب وہ صرف تیسری جماعت کی طالبہ ہوتی ہے تو اپنی بہن اور چچازاد بھائیوں کے ساتھ گھومنے جاتی ہے اچانک بارش کی وجہ سے اُنہیں ایک پہاڑی کا شتکار ابراہیم وار کے کچے مکان میں رُکنا پڑتا ہے جہاں وہ لکڑی سے بنی کانگڑی اور ٹوکرے کو بڑے غور سے دیکھتی ہے اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’شیبا زمین کی طرف دیکھتی کنپٹی کے قریب دیکھ رہیتپش کو محسوس کرتی،نیچے کی طرف خم ہورہے نچلے لب کو نتھنے پھلا پھلا کر روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘’’دیکھنے کے لئے کہ ٹوکرا اور کانگڑی ایک جیسی تیلون سے بُنے گئے ہیں یا الگ الگ سے۔‘‘؂۱
شیبا کو بچپن میں ہی اُن سب چیزوں کا دھیان رہتا ہے جس کو بڑے بھی نظر انداز کرتے ہیں۔اُسے اپنے چاچوں کی خود غرضی بھی یاد آتی ہے جس کے بارے میں اس نے اپنے بڑوں سے سُنا ہوتا ہے اِس کے بعد مُصنفہ نے شیبا کے بچپن کو سامنے لایا ہے جب وہ اپنی بہنوں اور چچا ذاد بھائی کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ ایک دِن جب فرخندہ اپنی ماں سے سوال کرتی ہے کہ نجم خان اور وہ (فرخندہ کی ماں) ثریا۔ جب الگ الگ طبقوں سے تھے تو وہ ایک دوسرے سے بات کیسے کرتے تھے تو وہ جواب دیتی ہے پیش ہے اقتباس:
’’اُردو تو آتی تھی نامجھے کچھ کچھ اور آپ کے ابو کو تو خوب آتی ہے۔میرے والد صاحب آپ کے نانا شیخ غلام محمد بھی آپ کے ابو کی طرح اُردو ،فارسی،اور انگریزی بہت اچھی طرح جانتے تھے۔پھر پنجابی بولنا سسرال میں سیکھ ہی لیا‘‘؂۲
چونکہ نجم خان پنجابی تھے اور ثریا بیگم کشمیری۔لہذا مُصنفہ نے اِن دونوں کے خاندان کی تعلیمی سرگرمیوں کو بھی سامنے لایا ہے جس کا اثر نجم خان کے بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے اُنھیں اُردو
؂۱ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۳۱
؂۲ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۴۸
کے علاوہ دیگر زبانوں پر بھی دسترس حاصل ہوتی ہے۔
اس کے بعد ثریا بیگم اپنی بیٹیوں فہیمہ،فرخندہ اور شیبا کو اپنے خاندان کا تعارف کرواتی ہے اور بتاتی ہے کہ کسِی طرح نجم احمد خان اور اُس کا رشتہ طے ہوا تھا۔مُصنفہ نے کشمیر کی تہذیب اور ثقافت کے علاوہ اِس وادی کی مشہور و معروف ہستیوں کا ذکر اپنے منفر انداز میں شیبا کی سوچ کے تعین یوں پیش کیا ہے اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’کچھ دِنوں کی چھٹی پر گھر آئی،سوچوں میں ڈوبی شیبا کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔وہ گاڑی کے شیشوں سے راستوں کو دیکھتی رہی۔
میرا عظیم وطن۔میرا کشمیر۔
نرم خو،حلیم اور حسین کشمیریوں کی ز مین۔ دانشوروں، فن کاروں اور دستکاروں کا خطہ،ریشم و پشم،زعفران زاروں اور مرغزاروں کی سر زمین۔ پہاڑیوں ، پانیوں اور وادیوں کا مسکن یہ کشمیر۔جنتِ بے نظیر۔جس کی پانچ ہزار سال پُرانی تاریخ موجود ہے جس کی مثال شاید ہی دُنیا میں کہیں ملے۔
قدیم ترین زبان و تہذیب کا مرکز کشمیر۔۔رشیوں منیوں کا کشمیر،شیخ العالم اور لل دید کا کشمیر،شاکھیہ منی کی پیشن گوئی کا بودھ گہوارہ کشمیر،کشیپ رشی اورپروسین کاکشمیر،للتا دتیہ کا اور سوئیہ کا کشمیر، اشوک، کنشک،کلہن اور بڈشاہ کا کشمیر۔حبہ خاتون کا کشمیر، ارمانی مال کا کشمیر۔
اور شاید موسیؑ اور عیسیٰؑ کی منتخب آرام گاہ بھی یہی کشمیر ہے۔‘‘؂۱
فہیمہ کا جب گریجویشن مُکمل ہوجاتا ہے تو اُس کی شادی ڈاکٹر کے بجائے ایک انجینیر سے گھر والوں کی مرضی سے ہوجاتی ہے اور فرخندہ ابھی گیارہویں جماعت کی طالبہ ہوتی ہے تو اُس کا رشتہ بھی طے ہوجاتا ہے یہاں پر مُصنفہ نے تہذیبی نکتے کو پیش کیا ہے کہ ایسے جاگیردارانہ گھرانوں میں پردے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو گھروالوں کی مرضی سے ہی شادی کرنا پڑتی تھی اوریہ چیز آج بھی بہت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
فہیمہ کے شوہر کا نام مختیار احمد ہوتا ہے جو بجلی کے محکمے میں انجینیر ہوتا ہے ادھر سے شیبا خودہی عنوان کا انتخاب کر کے بین الاقوامی سطح کے مقابلے میں حصّہ لیتی ہے اور اس طرح اُسے باہر کی کسِی یونیورسٹی سے تو سیعی تعلیم کے لئے وظیفہ ملتا ہے اور اُس کے والد نجم خان اُسے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن یہ بات شیبا کی بڑی بہن فہیمہ کو پسند نہیں آتی ہے اور وہ مائیکے میں آکے ماں باپ کو اُلٹی سیدھی پٹی پڑھانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ گھر کی عزت برقرار رہ سکے۔لیکن نجم خان خود ایک روشن خیال انسان ہوتا ہے وہ فہیمہ کو سمجھاتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا کوئی بُری بات نہیں ہے۔یہاں پر مُصنفہ نے نجم احمد خان اور اُن کے خاندان کے تعلیم یافتہ اور علِم کے قدردان ہونے پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔(ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۶۲)
جب تک شیبا اپنی تعلیم مکمل کرتی رہتی ہے تب تک فہیمہ کی بیٹی سمیں اور فرخندہ کا بیٹا یاسر بھی زرا بڑا ہوگیا ہوتا ہے فہیمہ کی بیٹی سمیں بالکل اپنی خالہ شیبا پر گئی ہوتی ہے۔چھوٹیوں میں گھر آنے کے بعد شیبا کو جلدی واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ اس کا گائیڈپروفیسر دانش فالج کا شکار ہو گیا ہوتاہے اُسے فالج ہوا ہوتا ہے جب شیبا اور اُس کے دوستوں کو دوسری گائیڈ بیگم ممتاز عالم ملتی ہے تو شیبا اُس کے ساتھ اچھی طرح گل مل جاتی ہے بیگم ممتاز شیبا سے رائے پوچھتی ہے کہ وہ اپنی Phd ختم کرنے کے بعد کیا کرے گی تو وہ جواب دیتی ہے اقتباس ملاحظہ ہو:
’’پتا نہیں میم۔۔شاید گھر والے میری شادی کرنے کی سوچ رہے ہیں۔۔مگر کرئیر بھی فالو کروں گا۔۔آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔۔ڈی لِٹ کروں گی۔۔نئے نئے چیلینجز کا سامنا ہے سماج کو۔۔ہماری جنریشن کو۔ ۔ عجیب سے کنفیوشن میں گھری ہے جیسے ساری دنیا۔۔یہ گلوبلا یزیشن۔۔یہ بے شمار کلچرس کو ایک ہی تہذیب میں بدلنے کی شعوری کوششیں۔۔یہ سُو پرپاورس کی انسان دشمنی۔۔یہ نیو کلیائی طاقتوں کا بڑھتا ہوا ز ور اور بڑی طاقتون سے بھی بڑے سرمایہ کارون کا دباؤ کہاں جارہی ہے یہ اشرف المخلوق۔ کہاں۔۔میں یہ سب سوچتی ہوں تو پاگل ہونے لگتی ہوں میم۔۔ہمیں ہی۔۔ہماری ہی نسل کو کچھ کرنا ہوگا۔۔‘‘؂۱
۱ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۱۲۷
شیبا تھوڑا بہت Modern ہونے کے ساتھ ساتھ ایک Genius قِسم کی لڑکی ہوتی ہے جِسے دُنیاء کی ہر بدلتی ہوئی شے،اور خاص کر اِنسانی اقتدار کی پامالی جیسے موضوعات بہت متاثر کرتے ہیں وہ ہر وقت سوچ میں رہتی ہے۔
شیبا ہوسٹل واپس جاتی ہے تو گھر سے فون آتا ہے اور وہ سمیں سے بات کرتی ہے جو اپنی نانی کے گھر آئی ہوتی ہے دوسرے دِن پھر گھر سے فون آتا ہے اور شیبا کو بتایا جاتا ہے کہ اُس کے ابو نجم خان کے ساتھ گھر کے باقی افراد بھی گاؤں جارہے ہیں اس طرح اُسے اپنے ابو کی فکر ہونے لگتی ہے کہ دمے کی وجہ سے وہ وہاں کیسے جائیں گے وہ فوراً گھر چلی آتی ہے اور وہاں سے گھر کے باقی افراد خانہ کے ساتھ گاؤن جاتی ہے جہاں راستے میں اُسے اپنے بچپن کی یاد آتی ہے اور وہ پریشان ہو جاتی ہے پھر خود کو دلاسا دیتی ہے کہ اب وہ جوان ہوگئی ہے لہذا ماضی کے بارے میں سوچ کر اپنے حال اور مستقبل کو تباہ کرنا دانشمندی نہیں ہے نجم خان کافی بیمار ہوتا ہے سارے لوگ اُس کے آس پاس جمع ہوتے ہیں لیکن وہ کوئی بات نہیں کرتا ہے آخر کار تین چار دن میں ایک دو باتیں کرتا ہے اور پھر خاموش ہوجاتا ہے شیبا اُس سے باتیں کرتی رہتی ہے لیکن وہ بالکل خاموشی سے اپنی بیوی ثریا بیگم اور بیٹی شیبا کو دیکھتا رہتا ہے پھر ثریا بیگم اپنی تینوں بیٹیوں کو واپس شہر جانے کے لئے کہتی ہے۔
شیبا واپس اپنے ہوسٹل چلی جاتی ہے اُسے وہ دِن یاد آجاتا ہے جب وہ فرخندہ کے بیٹے یاسر اور فرخندہ کے دیور کے بیٹے عاصم کے ساتھ ماں سے اجازت لیکر عاصم کے گھر گئی ہوتی ہے جہاں اُس نے عاصم کی ماں نُزہت کو اپنے شوہر کی بالادستی برداشت کرتے دیکھا ہوتا ہے حالانکہ عاصم کی ماں نزہت ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوتی ہے لیکن اِس کے باوجود بھی وہ اپنے شوہر کے ظُلم و ستم برداشت کرتی رہتی ہے یہی کچھ سوچتے ہوئے شیبا کے ذہن میں مردوں کے حوالے سے طرح طرح کے خیالات آتیہیں اقتباس ملاحطہ ہو:
’’اور۔۔۔مرد ذات،مرد صرف انسان نظر آتا ہے انسان ہے نہیں۔کسِی اور مٹی سے بنا ہے۔۔۔ہر جاندار سے الگ۔۔۔جس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ۔۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔مرد سرتاپاانا ہے۔۔۔اس کا ہر معاملہ انا سے جڑا ہوتا ہے۔انا کی خاطر یہ کوئی بھی جھوٹ بول سکتا ہے اور اپنی انا کی تسکین کے لئے کسِی بھی سطح تک گر سکتا ہے مردکے لئے صرف جسم ہے۔‘‘؂۱
شیبا ہوسٹل میں ہوتی ہے تو شام کو گھرسے فون آتا ہے اور اُسے کہا جاتا ہے کہ اُس کے ابو زیادہ بیمار ہیں جب وہ اپنے شہر پہنچتی تو سارے لوگ گاؤں چلے گئے ہوتے ہیں۔وہ بھی وہاں سے نکل جاتی ہے گاڑی میں لوگوں کی باتیں سُن کر اُسے پتہ چلتا ہے کہ اُس کے والد نجم احمد خان کا انتقال ہوگیا ہے وہ بہت رنجیدہ ہوجاتی ہے جب گاؤن پہنچ جاتی ہے تو اُسے پتہ چل جاتا ہے کہ اُس کے ابوّ کو دودِن پہلے دفن کیا جاچکا ہے ۔
ثریا بیگم اپنی بیٹیوں کے ساتھ واپس شہر چلی آتی ہے فرخندہ اور فہیمہ اپنے گھر جاتی ہیں اور شیبا واپس اپنی پڑھائی کے سلسِلے میں ہوسٹل آجاتی ہے جہاں اُس کے اُستاد ڈاکٹر دانش پہلے کے مقابلے میں تھوڑا ٹھیک ہوئے ہوتے ہیں لیکن اُنہوں نے کھانہ پینا کم کر دیا ہوتا ہے شیبا اور اُس کی دوست میوری اُس کی دیکھ بھال خوب اچھی طرح سے کرتی رہتی ہیں۔ (ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۱۵۸)
چھوٹیاں پڑھ جاتی ہیں تو شیبا ماں سے ملنے گھر آجاتی ہے ماں اُس سے فہیمہ کے دیور راحت علی کے ساتھ شادی کرنے کی بات کرتی ہے جو پولیس میں اچھے عہدے پر فائز ہوتا ہے وہ خاموش رہتی ہے۔سمیں کے جنم دِن پر جب وہ سارے لوگ جن میں شیبا کی دونوں بہنیں فرخندہ اور فہیمہ اور اُن کے بچوں کے علاوہ راحت علی بھی آجاتا ہے وہ سب لوگ ساتھ میں مِل کر کھانا کھاتے ہیں لیکن شیبا اور اُس کی ماں کو وہ اچھا نہیں لگتا ہے۔
شیبا واپس اپنی پڑھائی مکمل کرنے جاتی ہے گھر سے واپس آنے کے بعد امتحانات کی تیاری ہورہی ہوتی ہے کہ ایک شام کو فرخندہ شیبا کو فون پر نزہت کے مرنے کی خبر دیتی ہے نزہت کو اُس کی ساسوماں پیار سے پیاری بلاتی جس کی وجہ سے باقی لوگوں کے علاوہ اُس کا اپنا بیٹا عاصم بھی اُسے اِسی نام سے بُلاتا عاصم کا باپ ابتداء سے ہی شرابی قِسم کا انسان رہا ہوتا ہے اور وہ نُزہت یعنی عاصم کی ماں کو ستاتا رہتا ہے جس کی خبر عاصم کو بھی ہوتی ہے اور آخر کار نزہت کا شوہر ذہین الدین اُس کی موت کی وجہ بن جاتا ہے اور ایک دِن صبح وہ اپنے بستر پر مری ہوئی مِل جاتی ہے اُسی دِن سے عاصم اپنی ماں کو سپردخاک کرنے کے بعد غائب ہوجاتا ہے یہ ساری باتیں سُن کر شیبا بہت پریشان ہوجاتی ہے وہ سوچوں میں گم ہوجاتی ہے اُدھر سے کئی مہینے گُزر جاتے ہیں مگر عاصم کا کوئی پتہ نہیں چلتا ہے وادی میں اِن ہی دِنوں عسکریت پسندی زور پکڑنے لگتی ہے مُصنفہ اس ماحول کی منظر کشی یوں کرتی ہیں پیش ہے اقتباس:
’’ناگہانی آفت کی طرح چھائی ملیٹینسی سے وادی میں افغانون،سکھوں اور ڈوگرہ راج کی کچوکتی یادیں تازہ کردی تھیں۔جب مسلمانون کو جزیہ ادا کرنا ہوتاتھا اور داڑھی رکھنے پر ٹیکس تھا۔ڈوگروں کے اقتدار میں باغی شہیدوں کے تیرہ جولائی کے سن اُنیس سواکتیس کے قتلِ عام سے بھرے مزارِ شہدا کو اب بیسوی صدی کی آخری دو دہائیوں سے اکیسویں صدی میں داخل ہوتے اس قدر وسعت مل گئی تھی کہ رفتہ رفتہ سرکاری پارک گورستانوں میں تبدیل ہوگئے تھے اور مزید اراضی اسی کام آرہی تھی۔‘‘
شیبا کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں سوچتی رہتی ہے کہ کیا وادی کو پھر سے ایک بار سُلطان ذین العابدین بڈشاہ جیسے ہمدد بادشاہ اس دور میں نصیب نہیں ہوسکتے ہیں وہ اس دفعہ سردیوں کی چھٹیاں گھر میں گُزارنے کے لئے آجاتی ہے یہ بیسویں صدی کی نویں دہائی کے اولین سال ہوتے ہیں وادی میں سب کچھ بدل گیا ہوتا ہے ہر طرٖف خوف و حراس کا ایک موحول بنا ہوتا ہے ۔مُصنفہ نے اس موحول کی تصویر اِن الفاظ میں پیش کی ہے اقتباس ملاحظہ ہو:

’’صبح کے وقت گھروں سے اکثر لوگ کچھ ایسے اجازت لے کر کام پر جاتے گویا اب کبھی ملاقات نہ ہوگی۔زخمی دلوں نے حالات کے ساتھ یہ ستم کیش سمجھوتہ کر لیا تھا۔مگر اس کی قیمیتں نیم جان لیوا تھیں ۔کئی لوگ،خصوصی طور پر عورتیں دل کی مریضائیں ہوگئی تھیں
۱ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۲۳۸

بہت سے نیم دیوانگی سے دو چار تھے۔جنہوں نے اپنے کسی عزیز کو کھویا تھا،وہ پتھر ہوگئے تھے۔اور جو گھر سے نکل کر بے خطاہی حفاظتی افواج کی گولیوں کا نشانہ ہوکر بے نام و نشاں ہوجاتے یا کسی گمراہ اور نام نہاد قائد کے ہاتھوں عقل سے کام لینا چھوڑ کر بندوق اٹھانے کے لئے گم ہوجاتے ،ان کے وارث موت اور زندگی کے درمیان اس وقت تک معلق رہتے جب تک کوئی اطلاع مل سکے کہ زندہ ہوں تو لوٹ آئیں اور زندہ نہ ہوں تو آخری رسوم ہی ادا کر پائیں۔ اور اطلاع تھی کہ اب عنقا ہو گئی تھی۔بہت کم،خوش نصیب ہی ایسے تھے جن کی لاوارث لاش کسی راستے میں پڑی نظر آجاتی۔بے شمار ایسے تھے جنہیں شکوک کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا اور وہ پھر لوٹ کر ہی آئے نہ ان کے بارے میں کوئی خبر ملی۔ان کے والدین کرفیو میں گھروں کے اندردروازوں سے لگے سردی سے کانپتے منتظر کھڑے رہتے ۔اور کرفیونہ ہوتو دیوانوں کی سی حالت میں سرکوں پر آنسو بہاتے نظر آتے ۔کبھی کسی حاکم کے وعدے پر اعتبار کرتے تو کچھ پل جھوٹیتسلی سے بہل جاتے۔پھر رفتہ رفتہ اپنی پہلی پریشان حالت پر لوٹ آتے۔‘‘؂۱
شیبا گھر میں ہی ہوتی ہے کہ فرخندہ کا بیٹا یاسر آجاتا ہے وہ ایک دوسرے سے خوب باتیں کرتے ہیں پھر شیبا کو یاسر کی کتابوں کے بستے میں سے ایک کتاب مِلتی ہے جس میں جہاد کے حوالے سے بڑی باتیں لکھی ہوتی ہیں شیبا یہ سب دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہے وہ یاسر کو سمجھاتی ہے کہ یہ غلط راستہ ہے لہذا اس سے دور رہنا اس کے لئے بہتر ہوگا لیکن وہ اُسے بتاتا ہے کہ وہ عاصم کو لانے جارہا ہے شیبا اُسے جانے سے روک دیتی ہے عاصم ماں کی موت کے بعد ٹرنیگ لینے گیا ہوتا ہے اب وہ ایک سر گرم عسکریت پسند بنا ہوتا ہے
شیبا واپس ہوسٹل آجاتی ہے اِسے اپنے ابو کی بتائی ہوئی باتیں یاد آتی ہیں جو اُنھوں نے بچپن میں اُسے کشمیری قوم پر ہوئے ظُلم و ستم کے بارے میں بتائی ہوئی ہیں جن میں انگریزوں،سِکھوں اور ڈوگرہ مہاراجاؤں کے مظالم شامِل ہوتے ہیں اور خصوصاً ڈوگرہ مہاراجاؤں کی طرف سے کشمیر کی مظلوم عوام پر کئے گئے ظُلم و ستم اور صوبہ جموں کے قریباً ایک لاکھ مُسلمانوں کو قتل کرنا اور دو لاکھ سے زیادہ مُسلمانوں کو لائن آف کنٹرول کے اُس پار دھکیل دینا وغیرہ شامِل ہوتا ہے یہ باتیں شیبا کو بہت زیادہ تکلیف دیتی ہیں اور اس کے بعد اُسے اپنے ابو کی وہ باتیں یاد آتی ہیں جو اُنھوں نے اُسے پنڈت جواہر لعل نہرو،باپو گاندھی وغیرہ کے حوالے سے بتائی ہوئی ہیں پیش ہے اقتباس:
’’پنڈت جواہر لعل نہرو ۔
کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔

۱ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۲۴۳۔۲۴۲
سن رسیدہ کشمیریوں کو یاد ہے پنڈت جی نے آدھ صدی قبل اس بات کو لال چوک میں دہرایا تھا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
ایک اور شیبہ دکھائی دی۔لاٹھی ٹیکے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے۔باپو گاندھی۔
جس راجہ کی پرجادکھی ہو،گاندھی اس کے ہاتھ سے دودھ نہیں پیتا۔
سرینگر میں گاندھی جی کے قیام کے دوران مہارانی ان کی خدمت میں دودھ کا کٹورہ لے کر حاضر ہوئی تھیں۔باپو نے دودھ لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ جس راجہ کی پرجادُکھی ہو،گاندھی اس کے ہاتھ سے دودھ نہیں پیتا۔شیبا دل ہی دل میں مسکرائی۔پیارے باپو اور ان کے پُر خلوص ساتھی۔تصور شال میں لپٹا ایک اور ہیو لے کو دیکھنے لگا۔مظبوط قوتِ ارادی والی لمبی کھڑی ناک۔چھدرے بال کھچڑی داڑھی۔ چوڑی چھاتی۔خان عبدل غفار خان۔بادشاہ خان۔ پوٹلی بھررختِ سفر والے سادہ طبیعت پٹھان۔پنڈت نہرو کے ساتھ بیٹھ کر چرخا کاتنے والے سرحدی گاندھیجو باپو کی ہی طرح تقسیم ملک کے خلاف تھے اوران ہی کی طرح آزادی کے امن پسند سپاہی۔
پھر یاد آئے دبلے پتلے جسم پر کالی شیروانی اور سفید چوڑی دار پائجامہ زیبِ تن کئے،آنکھوں پر موٹا سا چشمہ چڑھائے مولانا ابوالکلام آزاد۔بے مثال دور اندیش اور سیکیولر ذہن کے عالی رتبہ عالم اور دانشور جنہوں نے تقسیم ملک کے حامیوں کو سمجھانے کی بڑی کوششیں کی تھیں۔بلند قامت شخصیات۔ہندوستان کے عمائد۔شیبا کے سماعت میں آوازیں ابھرنے لگیں۔
سرداری عوام کا حق ہے۔‘‘ (۱ ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۲۷۰)
شیبا کی یادوں کا تانہ کچھ وقت کے لئے ٹوٹ جاتا ہے اور وہ کشمیر میں موجودہ قتل و غارت گری کے بارے میں سوچ کر یہ شعر پڑھتی ہے۔
اُڑے ہیں راغ ہنسوں کے نگر میں
ہوا ہے داغ رو گلزار اپنا
سڑک سوفی ہر اک گوشے میں فوجیں
پڑا ہے بند کاروبار اپنا
اس کے بعد پھر وہ اپنی حسین وادی کے خوابوں میں کھو کر اپنے بچپن کو یاد کرتی ہے۔ایک دن شیبا اپنی
دوست دلجیت کور کی منگنی کی شاپنگ کے لئے سائنس بلاک کے سامنے انتظار کر رہی ہوتی ہے تو اس کے دوست آنے میں دیر کر دیتے ہیں وہ کچھ وقت کے لئے سیمنار حال میں چلی جاتی ہے جہاں اُسے شہاب الدین شیروانی نام کا ایک پروفیسر پسند آجاتا ہے لیکن میوری جب پتہ کرتی ہے تو وہ اُن کے ہی گروپ آفتاب عالم کا رشتہ دار ہوتا ہے اور اس طرح شیبا کو بڑا صدمہ پہنچتا ہے ۔اُسے شہاب کے ساتھ پیار ہوگیا ہوتا ہے لیکن کوئی راستہ نہ نکلنے پر وہ صبرو تحمل سے کام لیتی ہے مگر اندر ہی اندر سے وہ پریشان رہتی ہے پروفیسر دانش فالج میں کافی عرصے سے مُبتلا ہوتے ہیں اِن پانچ دوستون کا گروپ ہمیشہ اپنے اُستاد کی خدمت کے لئے تیار رہتا ہے اور شیبا اِن سب میں سے پروفیسر دانش کو کھانا کِھلانے میں کامیاب رہتی۔
شیبا اور میوری علی گڑھ مُسلم یونیورسٹی ایک سیمنار میں حصّہ لینے جاتی ہیں۔مقالہ پڑھنے کے بعد شیبا دوسرے لوگوں کے پڑھے ہوئے مقالے بھی سُنتی ہے اور بعد میں جب وہ باہر جاتے ہیں تو شیبا کو شہاب کا کوئی ہم شکل نظر آتا ہے وہ فوراً میوری کو کہہ دیتی ہے لیکن وہ اُسے بتاتی ہے کہ اُسے غلط فہمی ہے وہ کوئی دوسرا انسان ہے سیمنار کے آخری دِن جب شیبا ور میوری بور ہے ہوتے ہیں تو وہ لابئریری چلی جاتی ہیں جہان شہاب پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے۔اس سے پہلے وہ اپنی بیوی کے ساتھ ان کو ڈائنگ ٹیبل پہ دِکھا ہوتا ہے۔وہ اُن سے بات کرتا ہے اور پھر وہ تینوں کینٹین میں چائے پینے جاتے ہیں جہاں وہ بہت ساری باتین کرتے ہیں اُس کے بعد وہ سارے وہاں سے اپنے اپنے مقام پر لوٹ آتے ہیں۔
شیبا اور میوری ہوسٹل واپس آکر کچھ دیر پروفیسر دانش کی خبر گیری کے لئے جاتی ہیں پھر واپس ہوسٹل آکر خوب باتین کرتی ہین۔شیبا اور میوری ایک اور سیمنار میں شہاب سے مِلتی ہیں وہ اب پہلے کی نسبت زیادہ بھاری ہوگیا ہوتا ہے وہ کافی باتیں کرتے ہیں اور اِتنے میں پروفیسر دانش کے کھانسنیکی آواز سُن کر شیبا اندر کمرے میں دیکھنے چلی جاتی ہے باہر آنے کے بعد وہ بیٹھی ہوتی ہے اُس کی ماں اُسے فون کر کے گھر آنے کے بارے میں پوچھتی ہے اُسے ماں کی آوازمیں تبدیلی محسوس ہوتی ہے اور وہ دوسرے دن گھر چلی آتی ہے۔گھر میں اُس کی بہنیں فہیمہ اور فرخندہ پہلے ہی آئی ہوتی ہیں وہ ایک ساتھ چائے پیتی ہیں اور پھر فہیمہ اُس سے سوال کرتی ہے کہ وہاں وہ فلیٹ میں اکیلی کسِی کے ساتھ رہ رہی ہے لیکن شیبا اُنہیں اچھی طرح جواب دیتی ہے کہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے اُسے ہر چیز کا خیال ہے وہ چار پانچ دِن ماں کے پاس گُزارنے کے بعد واپس اپنے ہوسٹل چلی آتی ہے پروفیسر دانش کی حالت کافی خراب ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ ڈاکٹر گھئ سے فون پر خود بات کرتی ہے تو وہ بھی اُسے بتا دیتا ہے کہ اب دانش کا ٹھیک ہونا مشکل لگتا ہے ڈاکٹر دانش کی بیوی شہلا دانش جو کہ دوسرے مُلک میں کام کررہی ہوتی ہے اطلاع مِلنے پر پہنچ جاتی ہے وہ ایک خود غرض قسِم کی عورت ہوتی ہے اسے اپنے شوہر سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے وہ صرف وقتی طور وہاں آتی ہے تاکہ اُس کی دولت کسِی اور کو نہ مِلے۔
شیبا اپنے شعبے میں بحیثیت اُستاد کام کر رہی ہوتی ہے اُس کی قریبی دوست میوری شادی کرکے بعد دوسرے مُلک اپنے شوہر کے ساتھ گئی ہوتی ہے شیبا کو ڈاکٹر دانش والا فلیٹ مِل گیا ہوتا ہے ایک دِن اچانک شعبے میں بیٹھے بیٹھے میوری شیبا کو فون کر کے بتاتی ہے کہ وہ واپس انڈیا آرہی ہے اس طرح اُس کے بے قرار دِل کو تھوڑا سا سکون مِل جاتا ہے ۔
میوری کی شادی پرشانت نامی ایک آدمی سے ہوگئی ہوتی ہے جو دوسرے مُلک میں کام کررہا ہوتا ہے۔میوری جب انڈیا واپس آتی ہے تو وہ شیبا کو اپنی پوری واردات سُناتی ہے کہ کسِی طرح وہ وہاں اکیلی پڑگئی تھی جب اُس نے مزید تعلیم جاری کی ہوتی ہے تو اُسے نیل نامی ایک لڑکے سے پیارہوگیا ہوتا ہے جو بعد میں دھوکے باز نکلتا ہے اور پرشانت کو سب کچھ پتہ چلنے کے باوجود جب میوری بیمار ہوتی ہے تو وہ پھر بھی اُس کے ساتھ رہتا ہے اور اُس کا علاج کروانے میں کوئی کسِر نہیں رکھتا ہے لیکن میوری ہمیشہ اُس سے طلاق مانگتی رہتی ہے جس کا بعد میں اُس کو احساس ہوتا ہے کہ اُس نے غلط کیا ہے۔
شیبا کو میوری کی ساری باتیں سُن کر پہلے تو یقین ہی نہیں آتا ہے لیکن بعد میں وہ مطمئن ہوجاتی ہے شیبا کو گھر گئے ایک سال ہوگیا ہوتا ہے میوری اُسے کہتی ہے کہ وہ دانش سر کی دیکھ بھال کرے گی۔لہذا وہ گھر چکر لگا کے آسکتی ہے شیبا گھر چلی جاتی ہے میوری دانش سر کی دیکھ بھال کرتی رہتی ہے ایک دِن اچانک اُسے اُلٹیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں اور بعد میں اسے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے وہ خوش ہو کر یہ ساری باتیں شیبا کو بتا دیتی ہے شیبا بھی خوش ہوجاتی ہے میوری ایک دِن ایسے ہی دوپہر کو سورہی ہوتی ہے کہ اچانک لندن سے پرشانت کا فون آجاتا ہے وہ کچھ پل کے لئے سوچتی رہتی ہے کہ اُس کا انڈیا والا نمبر اُس کو کسِ نے دیا۔
اُدھر شیبا اپنے گھر میں ماں کے ساتھ ہوتی ہے وہ کافی عرصہ گھر میں کاٹتی ہے اُسے اپنے ابو نجم خان کی بہت یاد آتی ہے خاص کر اُن دِنوں کی یاد اُسے بہت ستاتی ہے جب وہ اپنے والد کے ساتھ پرانی فلموں اور پرانے گلو کاروں کے گانے سُنا کرتی تھی۔اُس کے والد کو موسیقی سے بہت دلچسپی تھی۔جس کی وجہ سے شیبا میں بھی موستقی کا شوق پیدا ہوگیا ہوتا ہے۔وہ خیالوں کی دُنیاء میں گم ہوجاتی ہے اُسے سمیں اور یاسر کی بہت یاد آتی ہے جو اب پڑھائی کرنے باہر گئے ہوتے ہیں۔ماں اُس سے شادی کی بات کرتی ہے لیکن شیبا اُسے کہتی ہے کہ وہ اپنی کتاب چھپنے کے بعد ہی اِس کے بارے میں سوچے گی۔
شیبا جس یونیورسٹی میں بحیثیت اُستاد کام کر رہی ہوتی ہے وہ وہاں سے اپنے گھر کشمیر کییونیورسٹی میں ایک سیمنار میں شرکت کرنے کی غرض سے آئی ہوتی ہے جب وہ گھر سے نکل کر یونیورسٹی پہنچ جاتی ہے تو وہ سوشیالوجی ڈیپارنمنٹ جاتی ہے جہاں سیمنار ہونا ہوتا ہے لیکن کوئی شخص اُسے بتا دیتا ہے کہ وینو بدل گیا ہے اس لئے وہ ویجوکیشن ڈیپارنمنٹ کی طرف جاہی رہی ہوتی ہے کہ وہ پروفیسر شہاب الدین شیروانی سے ٹکراتے ٹکراتے بچ جاتی ہے ۔ شیبا اور وہ سیمنار میں کچھ دیر بیٹھنے کے بعد باہر آجاتے ہین اور اس طرح وہ اُسے اپنے گھر لے جاتی ہے شیبا کی ماں ثریا بیگم بھی شہاب سے مِلتی ہے چائے پینے کے بعد وہ واپس یونیورسٹی چلا آتا ہے سیمنار کے آخری دِن شیبا اور شہاب پھر ملتے ہیں۔جب شہاب شیبا کے گھر گیا ہوتا ہے تو اُس نے وہاں پر اُسے یہ بتایا ہوتا ہے کہ اُس کی بہن اور اُس کی خود کی شادی گھر والوں کی مرضہ سے ہوگئی ہوتی ہے جواب ٹواٹنے والی ہوتی ہے اس طرح شیبا کو اب اپنا پیار حاصل کرنے کے کچھ امکانات نظر آتے ہیں۔وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور شہاب اُس سے پوچھتا ہے کہ اگر وہ رشتے کے لئے کہہ دے گا تو کیا شیبا مان جائے گی۔لیکن شیبا اُس کے سوال کا کوئی بھی جواب نہیں دیتی ہے اور اُس کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوجاتے ہیں۔
شیبا واپس اپنے دانش سر کی خدمات میں حاضر ہوجاتی ہے کچھ دِن اُس کی خدمت کرنے کے بعد جب اُس کی وفات ہوجاتی ہے تو شیبا واپس سرینگر جانے کی تیاریاں کر تی ہے ایک شام کو ایسے بیٹھے بیٹھے جب کوئی بھی پروفیسر دانش کی ماتم پُرسی کے لئے نہیں آتا ہے تو شیبا اُس کے خدمت گار ملازم سلیم میاں کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہے اور ناول اس اقتباس کے ساتھ اختام پزیر ہوتا ہے۔
’’خواب گاہ کے دروازے کے قریب دیوار سے لگی میز پر ڈاک تھی۔۔۔ایک چھوٹا سا دعوی کارڈ تھا۔ بھوپال سے آیا تھا۔اور تقریب لکھنو میں ہونے والیتھی،شہاب الدین شیر وانی کے نہایت سادگی سے ہونے والے نکاحِ ثانی کی۔‘‘ (ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۳۹۶)
پندرہ ابواب پر مشتمل ترنم ریاض کا ناول ’’برف آشنا پرندے‘‘جہاں ایک طرف نجم احمد خان کے گھر کے زمیندارانہ ماحول کو پیش کرتا ہے جس کے نقوش اُن کی آئیندہ آنے والی نسل میں بھی نظر آتے ہیں وہیں دوسری طرف اِس ناول میں وادئ کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ ملتی ہے۔ جس میں مغلوں کے دور سے لیکر ڈوگرہ راج تک کشمیری عوام پر کئے گئی مظالم کا نقشہ کھینچا گیا ہے اوراس کے بعد مُصنفہ نے عصر حاضر کے کشمیر کے حالات و واقعات کی بھی بھر پور عکاسی کی اِس ناول میں ترنم ریاض نے کچھ ایسی باتوں کو سامنے لایا ہے جس سے عام انسان اور خاص کر نئی نسل بالکل ناواقف ہے ڈوگرہ حکمرانوں کی طرف سے مظلوم عوام پر کئے گئے ظُلم و ستم کی حقیقت سامنے آکر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتی ہیں مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔
’’برف آشنا پرندے‘‘ایک اہم تاریخی دستاویز ہے یہ ناول اپنی تمام ترخوبیوں ،کہانی پلاٹ کردار،منظر نگاری اور تہذیبی و تاریخی پس منظر کے اعتبار سے اُردو ادب میں ایک قابِل قِدا ضافہ ہے تاریخی اور تہذیبی جھلیکیاں ناول کے تقریباً ہر باب میں پوری طرح جلوہ گِر ہیں۔جہاں ایک طرف مُغلوں،سکھوں ،انگریزوں اور ڈوگرہ مہاراجاؤں کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات وواقعات کو پیش کیا گیا ہے وہیں تہذیبی اعتبار سے کشمیری زندگی وہاں کے لوگوں کے رہن سہن ،رسم رواج،ماحول،خوبصورت باغات،جھیلوں،ندیوں،پہاڑیوں ،فصلوں،پھلوں،پھولوں کھانے کی مختلف اقسام،نمکین چائے اور تمباکو وغیرہ کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
’’برف آشنا پرندے‘‘کی کہانی بنے میں ترنم ریاض نے فن کارانہ انداز اپنایا ہے لیکن اس میں سب سے بڑا ہاتھ اِن کی والدہ کی یاداشت کا ہے جس کا اعتراف مُصنفہ نے’’ سپاس نامہ‘‘ میں یوں کیا ہے:
’’میں بے حد ممنون ہوں اپنی والدہ محترمہ کی جن کی قابلِ تعریف یاداشت کے سبب غیر منقسم کشمیر کے تاریخی واقعات کو تخلیقی شکل دینے میں میری رہنمائی ہوئی‘‘(ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۵)
’’برف آشنا پرندے‘‘کی ساری کہانی شیبا اِس کے خاندان ،دوستوں اور ایک اُستاد کے علاوہ گھر کے ملازمین کے گرد گھومتی ہے لیکن سب سے زیادہ جاندار اور متحرک کردار مُصنفہ نے شیبا کو ہی بنایا ہے جسے وقتاً فوقتاً اپنے والد کی باتیں یاد آتی رہتی ہیں جو تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ کہانی میں چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔مُصنفہ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اِن تمام واقعات کو بڑی خوبصورتی سے ایک ہی لڑی میں پروایا ہے کہانی شروع سے لیکر آخر تک قاری کے ذہن پر ایک زبردست تاثر چھوڑتی ہے مُصنفہ نے نجم خان کے بھائیوں کی دھوکہ بازی اور مکاری کو بھی سامنے لایا ہے جو وقت اور شرافت کا ناجائز فائیدہ اُٹھا کر اپنے ہی بھائی کے ساتھ دھوکہ کر کے اُس کی زمین اپنے نام کر دیتے ہیں۔اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً جن جن لوگوں نے ریاست جموں و کشمیر میں حکومت کی چاہے پھر وہ انگریزوں یا ڈوگرہ مہاراجے اُنہوں نے بے گناہ عوام پر جو ظُلم و ستم کئیے اِس کی بھی ناول میں عکاسی کی گئی ہے۔
جہاں تک ’’برف آشنا پرندے‘‘میں پلاٹ کا تعلق ہے تو مُصنفہ نے اِسے بڑی خوبصورتی سے ایک ٹائیم فریم کے ساتھ مرتب کیا ہے اس ناول میں ترنم ریاض نے پلاٹ کا تانا بانا نہایت خوبصورتی سے بننے کی سعی کی ہے۔
کردار نگاری کے اعتبار سے بھی ’’برف آشنا پرندے‘‘ایک اچھا ناول ہے۔تقریباً بیس کردار ناول کو آگے بڑھاتے ہیں لیکن ناول پر چند کردار ہی اثر انداز ہوتے ہیں بقیہ ضمنی کردار ہیں جو ناول میں وقتاً فوقتاً ابھر کر کہانی کو انجام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اِس ناول کی مرکزی کردار شیبا ہے جس کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے۔شیبا کا کردار ایک Intellectual کردار ہے جو سوچتی رہتی ہے اس کردار کے ذریعے مصنفہ نے کشمیر کی تاریخ کو پیش کیا ہے ۔شیبا کے کردار میں ترنم ریاض کی تصویر صاف طور پر جھلکتی ہے جو نہ صرف عورت ہے بلکہ وہ سوچتی رہتی ہے اور اسے کشمیری عوام پر کئے گئے ظلم و ستم کا اسے احساس بھی ہے ۔ایک نوجوان عورت کے جو جذبات ہوتے ہیں وہ شیبا کے کردار میں پائے جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے کردار سے ممتا بھی جھلکتی ہے اس لئے وہ پروفیسر دانش کی خدمت آخری وقت تک کرتی رہتی ہے ۔نجم احمد خان اور ثریا بیگم شیبا کے والدین،فہیمہ اور فرخندہ شیبا کی بہنیں،یاسر اور سمیں بہنوں نے بچے ،آفتاب عالم، ساگر، دلجیت کور،میوری دوست،پروفیسر دانش اُستاد،گلا بھائی شیبا کے گھر کا ملازم،سلیم میاں پروفیسر دانش کا ملازم،پرشانت میوری کا شوہر،نیل میوری کا عاشق،اور پروفیسر شہاب الدین شیروانی وہ شخص ہے جس سے شیبا کو پیار ہوجاتا ہے۔
یہ تمام کردار قتاً فوقتاً کہانی میں نمودار ہوتے ہیں اور اس طرح اپنا اپنا رول ادا کرتے ہیں۔ثریا بیگم ،فرخندہ،سمیں،یاسر،اور گلابھائی خاص کردار ہیں جو اکثر کہانی میں موجود رہتے ہیں میوری شیبا کی دوست ہے جو کالج سے لے کر پروفیسر دانش کے انتقال تک شیبا کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔
فضاء آفرینی پر ترنم ریاض کو پورا عبور حاصل ہے مُصنفہ کے زیرتبصرہ ناول میں مناظر کا احساس شدت کے ساتھ ظاہر ہوا ہے ترنم ریاض کے یہاں اپنے طبقے کی زندگی کا گہرا شعور ہے چنانچہ اس طبقے کی زندگی کی ترجمانی اِنھوں نے بڑی کامیابی سے کی ہے منظر نگاری ’’برف آشنا پرندے‘‘کے پورے قصّے کو ایسا دلفریب رنگ دیتی ہے کہ اس میں قدرت کی بنائی ہوئی زندگی کا نور بھردیتی ہے اقتباس ملاحظہ ہو:
’’اس وقت صبح ہو رہی تھی۔فضا میں دل آویزسی نمی تھی۔شیخ چک داروں کے دربوں کے مرغوں کے علاوہ مرغانِ چمن نے بھی گویا ماحول کو صوتی اعتبار سے مصروف کر رکھا تھا۔
کوئی سریلا ساپرندہ مسلسل کچھ گا رہا تھا۔دور کوئی دوسر پرندہ رہ رہ کر چہکتا تھا۔فضا میں دریا کنارے کی سوندھی مٹی اور پھولوں کی مہک مل کر جادو جگارہی تھی۔‘‘ (ترنم ریاض ، برف آشنا پرندے، ص۔۶۰)
اس طرح کی منظر نگاری ناول کے پہلے صفحے سے شروع ہو کر آخری صفحے تک موجود ہے ترنم ریاض کائنات کے خارجی مظاہراور فطرت کے عناصِر کو اچھی طرح لفظوں کی گرفت میں لینے کے فن سے بخوبی واقف ہیں وادی کے لوگوں پر ہوئے ظُلم وجبر کی تصویروں نے اس ناول کو یوں پیش کیاہے:
’’انسان اپنے اندر چھپے جذبۂ ایذاکو نفسیاتی طور پر سینچنا شروع کردے تو شیطان ہوکر رہ جائے گا۔مگر حاکم کی سب سے پہلی کامیابی مصنف مزاجی ہے جس سے ایسے حاکم بے بہرہ تھے۔یقیناً اس میں ایذاسہنے والے کا بھی حصہ ہوتا ہے کہ مظلوم سہتا چلا جائے تو ظلم کرنے والا اور ظالم ہوتا جاتا ہے۔نسل درنسل کی غلامی،بیماریاں وبائیں ، قحط اور موسم کی ستم طریفیوں کے آگے سہولیات کا فقدان تھا کہ اس قوم کا عام آدامی حالات کے قہر سے صدیوں دو چار رہا۔
ضرورت کسے ایسے منصف مزاج حاکم کی تھی جو ماضی کی غیر منصفانہ حکومتوں کی زیادتیوں کا ازالہ کرتا۔پے درپے کے بیرونی حملے اور طرح طرح کے مظالم اور زیادتیاں ،عام کشمیری کی نفسیات پر منفی اکثرات کا باعث بنتی گئیں۔‘‘؂۱
ترنم ریاض کا زیر تبصرہ ناول زبان و بیان کے اعتبار سے بھی ایک اچھا ناول ہے۔زبان اُردو ناول میں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے ناول نگار اُس زمانے کے طور طریقے معاشرتی جھلکیاں اور تہذیبی عناصر کو اُبھارتا ہے جس زمانے میں وہ لکھا گیا ہو۔اسلوب کا تنوع اور لِسانی اظہار’’برف آشنا پرندے‘‘ کی خصوصیت ہے انداز بیان میں اس قدربانکپن ہے کہ خوبصورتی،شوخی اور ندرت کے علاوہ شگفتگی جیسے عناصِر اس ناول میں ہر جگہ جلوہ گر ہیں۔
’’برف آشنا پرندے‘‘کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے ایسا نہیں ہے کہ آج تک کشمیر کی تاریخ کسی نے قلمبند نہیں کی بلکہ کلہن پنڈت ،پریم ناتھ بزاز ، نرسنگھ داس نرگس ، محمد دین فوق وغیرہ پہلے ہی کشمیر کی تاریخ لکھ چکے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک عورت اپنے کشمیر کی تاریخ کو یاد کرتی ہے اس کے تصور میں جیتی ہے ،روح میں جگاتی ہے اور پھر اپنے دانشوارانہ انداز میں اس پر تبصرہ بھی کرتی ہے ۔اس لحاظ سے اس ناول کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔

جواب دیجئے