تدریس سائنس کے بنیادی مقاصد :- فاروق طاہر


تدریس سائنس کے بنیادی مقاصد

فاروق طاہر

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے درس و تدریس اور اکتساب پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں۔خاص طور پر انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) نے درس و تدریس اور اکتساب کی دنیا کا رخ ہی بدل دیا ہے۔انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کی وجہ سے روایتی فرسودہ طریقے ہائے تدریس کی جگہ درس و تدریس کو نئے اسلوب و زاوییملے ہیں۔خاص طور پر سائنس کی تدریس میں کمپیوٹرٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف درس و تدریس کے طریقوں میں تبدیلی رونما ہوئی ہے بلکہ نت نئے طریقے ہائے تدریس نے سائنس علوم کی پیچیدگیوں کو آسانی سے سمجھانے میں اہم ونمایا ں کردار نبھایا ہے۔

آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں اگر اسے سائنس کاعہد یا دور کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ آج زندگی کے تمام شعبے سائنس کے زیر تسلط آچکے ہیں۔ آج انسانی زندگی میں سائنس کے اثرات کو ثابت کرنے کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہر شخص کی زندگی میں کسی نہ کسی طریقے سے سائنس کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔دریافت و ایجادسے انسانی رغبت و لگاؤ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا سائنس کے بغیر زندگی بسرکرنا ناممکن نہیں تو آج مشکل ضرور ہوگیا ہے۔ انسانی زندگی پر سائنسی علوم کا رنگ غالب نظرآتا ہے۔فی زمانہ سائنس انسانی زندگی کی ایک لازمی اور اہم ضرورت ہے۔ سائنسی علوم کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر انسان اور سائنسی علوم کے مابین ایک اٹوٹ وابستگی قائم ہوچکی ہے ۔سائنس اپنی اہمیت افادیت اور ضرورت کی وجہ سے نصاب تعلیم کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔سائنس تعلیمی نصاب کا ایک ایسا مضمون ہے جو نہ صرف مختلف حقائق اسرار و رموز ،کلیات،نظریات ،رجحانات اور و قوانین کے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ مقررہ تعلیمی مقاصد کے حصول میں مدد فراہم کرتا ہے۔عموماً تین مقاصد کے حصول کی خاطر اسکولوں میں سائنس کو شامل نصاب کیا جاتا ہے۔
(1)اسکول میں سائنس کی تدریس کا واضح مقصد سائنسی رجحانات اور نظریات کے فروغ کے علاوہ طلبہ کو اعلی درجوں میں سائنس کے مضمون کو اختیار کرنے کے لئے تیار کرنا ۔
(2)دوسرا اہم مقصد طلبہ میں قابلیت پیدا کرتے ہوئے افرادی قوت میں اضافے کے علاوہ ،طلبہ کو ملک و معاشرے کے لئے درکار اہم پیشوں سے وابستہ کرنا اور انھیں بہتر کیرئیر و مستقبل کی فراہم کو یقینی بنانا۔
(3)تیسرا اہم مقصد طلبہ میں سائنسی مزاج و شعورکو بیدار کرنا اور اسے پروان چڑھانا ۔ْ طلبہ کو غور و فکر اور تدبر اور تجزیہ سے آراستہ کرنا۔
مذکورہ بالا مقاصد میں مقامی ضروریات اور ثقافتی تفاوت کی وجہ سے فرق پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ سائنس کی معیاری تعلیم ہمیشہ دانش اور بینش پر مبنی ہوتی ہے۔سائنس معلومات کے حصول پر زیادہ زور نہیں دیتی ہے بلکہ معلومات اور حقائق کو تجزیہ اور استدالال کی کسوٹی پر پرکھنے کا تقاضہ کرتی ہے ۔ تجزیہ ، تنقید اور تجربہ علم سائنس کو دیگر علوم سے ممتاز بناتے ہیں۔
سائنس کی تدریس کیوں ضروری ہے؛۔
اکثر طلبہ سائنس کو ایک خشک اور غیر دلچسپ مضمون سمجھ کر اس سے روگردانی کرنے لگتے ہیں۔ بچوں کی سائنسسے عدم دلچسپی ، سائنس کو ایک خشک اور غیر دلچسپ مضمون سمجھنے میں اساتذہ کی معلمانہ جہالت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔طلبہ اساتذہ کے خشک و ترش مزاج اور غیر موثر طریقہ تدریس کی وجہ سے سائنس جیسے دلچسپ مضمون سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔جب استاد طلبہ میں کسی مضمون سے رغبت و دلچسپی پیدا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تب وہ مضمون طلبہ کے لئے ایک سزا سے کم نہیں ہوتا ۔طلبہ کی سائنسی علوم سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی کی وجہ سے سماج کی معاشی ،اقتصادی، مادی اور دیگر ترقی انجماد کا شکار ہوجاتی ہے۔بچوں کے لئے ابتدائی عمر میں تدریس سائنس کا اگر باقاعدہ اور معیار ی نظم کیا جائے تو نہ صرف معاشرے میں سائنسی انداز فکر کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے بلکہ ملک و قوم کی تیز رفتار ترقی بھی ممکن ہے۔ معصوم ذہنوں کو اوہام پرستی اور غیر سائنسی نظریات سے محفوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ بچپن میں ہی اگر اوہام پرستی اور غلط معلومات کی ترسیل پر پابندی لگائی جائے تب ایک صحت مند اور نظریہ ساز قوم و معاشرے کی تعمیرکوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ابتدائی درجات میں سائنس کی تدریس کوضابطے کی تکمیل کے بجائے تعمیر قوم کے لئے شامل نصاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ابتدائی جماعتوں میں تدریس سائنس کے درج ذیل مقاصد بیان کیئے جاتے ہیں۔

(1)چھوٹے بچوں میں تجسس کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہ مسلسل اپنے اطراف کے ماحول اور دنیا کے حقائق کو سمجھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔چھوٹے بچوں کھوجی مزاج کے ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن تجسس سے بھرا ہوتا ہے۔اساتذہ کی یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس تجسس کے لئے جلاء کے سامان فراہم کریں۔اگر بچوں کا یہ تجسس فوت ہوجاتا ہے تو پھر اکتساب ،اکتشاف اور دریافت کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔
(2) ابتدائی درجات میں سائنس کو شامل نصاب کرنے سے بچوں میں مظاہر فطرت پر غور و خوض کرنے ،فطری مناظر و اشیاء کی تعریف ،تفہیم اور تشریح کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ کمرۂ جماعت میں وقوع پذیر تعلیمی و اکتسابی تجربات کے چشمے سیبچے دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(3)ابتدائی درجات میں سائنس کی شمولیت سے کمرۂ جماعت میں بچوں کو براہ راست اشیاء ،واقعات ،نظریات ،خیالات اور موادکی تفہیم ،تشریح ،تجزیہ و تحلیل ،تجربہ، نقد و نظر کا موقع حاصل ہوتا ہیجن کی بنیادوں پربچوں کے مستقبل کی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور مستقبل کو ایک راہ و سمتمل جاتی ہے۔
(4) ابتدائی درجات میں سائنس کی شمولیت سے اشیاء کا علم ،واقعات کی دریافت ،حقائق کی کھوج ،سوالات کرنا، تفتیش و تنقید،اپنے کام کو قلم بنداورپیش کرنا،اپنے کام کی غرض و غایت اور طریقے کار پر روشنی ڈالنا جیسی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں ۔یہ صلاحیت بچوں میں نئے نظریات اور رجحانات کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ اپنے شخصی علم،تجزیے اور تجربے کی روشنی میں بچے سائنسی نظریات اور رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(5)ابتدائی عمر میں فراہم کردہ مہارتیں،رویے اورانداز فکر کے زیر اثربچے تمام عمر اخذ و اکتساب اور تجربے کی روش پر گامزن رہتے ہیں۔
(6)اسکول میں سائنس کا مضمون بچوں کو ان کی ابتدائی عمر میں زندگی اورمظاہر قدرت کے براہ راست نظارے اور تجربات کا موقع فراہم کرتا ہے۔
(7)اسکول ابتدائی عمر میں بچوں میں سائنسی نظریہ سازی اور رجحان سازی کا اہم کام انجام دیتا ہے۔
(8) ابتدائی درجات سے سائنس کی تدریس بچوں میں اساسی سائنسی نظریات کے استحکام کا باعث ہوتی ہے۔
(9)تدریس سائنس کی وجہ سے بچے کی قوت مشاہد ے کو بال و پر حاصل ہوتے ہیں۔
(10)تدریس سائنس کی بناء طلبہ آلات ( Equipment) ،اوزار(Tools) اور دیگر ساز و سامان کے استعمال کے طریقوں سے روشناس ہوتے ہیں۔
(11)تدریس سائنس کی وجہ سے بچے مسائل کو حل کرنے کا فن سیکھتے ہیں۔
(12)تدریس سائنس کی وجہ سے نہ صرف بچوں کے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان میں حقائق کی دریافت اور تنقید و تجزیہ کی صلاحیت بھی فروغ پاتی ہے۔
(13)سائنس کی تدریس کی وجہ سے حسی (Sensory)،جسمانی(Physical)،جذباتی (Emotional)،دانش مندی (Intellectual)،روحانی(spiritual) اور سماجی (Social) خصوصیات فروغ پذیر رہتی ہیں۔
(14)تدریس سائنس کی وجہ سے بچے نئے الفاظ و معنی سیکھنے کے قابل ہوتے ہیں، ان کی زبان دانی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔تدریس سائنس کی وجہ سے بچے سوالات کرنے اور سوالات کا جواب دینے کے قابل بنتے ہیں۔
تدریس سائنس کے اقداری پہلو؛۔ایک قدیم مشہور کہاوت ہے ’’ کسی کو ایک مچھلی د ے کر صرف ایک دن کی غذا فراہم کی جاسکتی ہے اور اگر مچھلی پکڑنا سیکھادیا جائے تو آدمی خود مکتفی ہوجاتا ہے اور زندگی بھر غذا کے لئے دوسروں پر انحصار کرنے سے بچ جاتا ہے۔ اساتذہ مذکورہ مثال کی روشنی میں سائنس کی تدریس انجام دیں۔ بچوں کو مچھلی دینے کے بجائے، مچھلی کا شکار سکھادیں تاکہ وہ ایک آسودہ زندگی گزار سکیں۔ہمارے اسکولوں میں سائنس کے مضمون کو نہایت خشک اور غیر دلچسپ بنادیا گیا ہے۔سائنس کی تدریس کا مطلب ہمارے پاس فارمولوں کو رٹہ مارکر یاد کرنا ،چند خاکوں (ڈائیگرامس ) کو اتارنا ہی رہ گیاہے۔ یہ عمل سائنس کی روح تدریس کے یکسر منافی ہے۔ہماری ان نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے سائنس ایک بے وقعت اور غیر نافع مضمون سمجھاجانے لگا ہے۔اس فکر کی طلبہ میں در آنے کی اصل وجہ ہمارا دقیانوسی اور غیر معیاری تعلیمی نظام ہے۔آج ہم ہمہ جہت تعلیم (Broad Based Education) کی بات تو کر رہے ہیں لیکن اس کی فراہمی میں یکسر ناکام ہوگئے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ہمہ جہت تعلیمی نصاب سے مراد بہت سارے مضامین کو شامل نصاب کرنا ہوگیا ہے۔لیکن اس کی فراہمی میں درکار اقدامات سے ہم دانستہ یا غیر دانستہ سرموئے انحراف کررہے ہیں۔ہمہ جہت تعلیمی نصاب کے ضمن میں ایک قصہ ہمارے تعلیمی نظام کے جھول کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہوگا۔جنگل کے چند جانوروں نے ایک اسکول قائم کیا ۔اس اسکول میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں ایک پرندہ،ایک گلہری،ایک مچھلی،ایک کتا،ایک خرگوش اور ایک ذہنی معذور بھیڑیا بھی شامل تھا۔نصاب کی تیاری کے لئے ایک بورڈ بنایا گیا۔بورڈ ہمہ جہت تعلیم کی فراہمی کا موئید تھا۔ اسی نظریے کے تحت نصاب میں طلبہ کے لئے اڑنا،درخت چڑھنا،تیرنا،اور زمین کی کھدائی لازمی قرار دی گئی۔پرندے نے فطری طور پر اڑنے میں اعلی کارگردی کا مظاہرہ کیا ا ور اسے Aگریڈ حاصل ہوا۔لیکن زمین کی کھدائی میں ناکام رہا۔ زمین کی کھدائی کی جستجو میں چند دنوں کے بعد وہ اڑنے میں بھی Aکے بجائے Cگریڈ حاصل کرنے لگا۔درختوں پر چڑھنے اور تیرنے میں تو اس کو Fگریڈ ملنے لگا۔مچھلی تیرنے میں ماہر تھی چونکہ پانی سے باہر نہیں آسکتی تھی اسی لئے باقی تمام مضامین میں اسے Fگریڈ ملنے لگا۔کتے نے احتجاجاً اسکول میں داخلہ نہیں لیا کیونکہ بھونکنے کو شامل نصاب نہیں کیا گیا تھا۔خرگوش زمین کی کھدائی میں اول تھا لیکن درخت چڑھنے کا مضمون اس کے لئے درد سر بن گیا اور وہ بھی اپنی فطری صلاحیت سے محروم ہوگیا۔ذہنی طور پر معذور بھیڑیا جو کہ ہر مضمون میں آدھی مہارت کا حامل تھا وہ جماعت کا سب سے کامیاب طالب علم قرار پایا۔نصاب تیار کرنے والا بورڈ خوش تھا کہ ہر طالب علم ہمہ جہت تعلیم حاصل کر رہاہے۔ہمارے تعلیمی منصوبہ سازوں کا بھی یہ ہی حال ہے وہ ہمہ جہت اور وسیع البنیاد تعلیم کے نام پر بچوں کو ان کی فطری صلاحیتوں سے محروم کر رہے ہیں۔وسیع البنیاد تعلیم بچوں کو ان کی فطری صلاحیتوں سے محروم کرنے کے بجائے اسے پروان چڑھا کر زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔تدریس سائنس کے معاملے میں بھی ہمارا تعلیم نظام مقاصد اور اقدار کے تعین اور اس کے حصول میں ناکام نظرآتا ہے۔سطور بالا میں سائنس کی تدریس کے مقاصد کو اجاگر کیا گیا ہے جب کہ درجہ ذیل سطور میں تدریس سائنس کے اقدار کو بیان کیا گیاہے اور ان اقدار کا حصول و فروغ ہی تدریس سائنس کی اصل غرض و غایت ہے۔
دانشورانہ ا قدارکا فروغ (Intellectual Value)؛۔
سائنس کی تعلیم جہاں ذہانت کو صیقل کرنے اور جلا بخشنے کا کام انجام دیتی ہے وہیں ذہنی طور پر ایک ایماندار ،زیرک مشاہدہ بین،مدلل تجزیہ نگار اور حقائق و استدالا ل کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے والا انسان تیار کرتی ہے۔سائنس کی تعلیمہمارے فکر و عمل میں احتیاط ، اورتنظیم و ترتیب پیدا کرنے کا داعیہ پیداکر تی ہے۔

افادی پہلو(Utilitarian Value)؛۔
سائنس کی وجہ سے ہماریطرز ر زندگی اور معیارزندگی میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔سائنس ہماری روزمرہ کی زندگی میں مددگار ہے ۔امراض و حادثات میں زندگی بچاؤ اقدامات ،ایجادات و اختراعی طریقوں کی وجہ سے زندگی آرام دہ و آسود بن گئی ہے۔ انسانی زندگی کی معیاد میں اضافہ واقع ہوا ہے۔آج ہم اپنی زندگی کی ضروریات کے لئے سائنس پر انحصار کیئے ہوئے ہیں۔آج کا زمانہ ہمارے آباء و اجداد کے زمانے سے یکسر مختلف اور بہتر ہے۔انسان کے خراب اعضاء کی پیوند کاری اور تبدیلی،خشکی ،تری اور خلاؤں کی طویل مسافتوں کا سمٹجانا،آفات سماوی کی پیشگی اطلاعات و پیش قیاسیاںیہ سب سائنس کے افادی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہیں۔سائنس افادیت سے بھر پور علم ہے اور تدریس سائنس میں اس پہلو پر خاطر خواہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ زندگی اور سائنس کی اٹوٹ وابستگی کو سمجھ سکیں۔

فنی اقدار(Vocational Value)؛۔
سائنس کی تعلیم طلبہ کو طب (Medicine)،زراعت (Agriculture) ،انجینئرنگ(Engineering) جیسے پیشوں کے انتخاب کے لائق بناتی ہے۔سائنس کی تعلیم ملک و قوم کے لئے ماہر کاریگر وں کی تیاری میں مددگار ہوتی ہے۔ملک و قوم کی تعمیر میں ماہر افراد کی فراہمی بھی سائنس کا ایک اہم کارنامہ ہے۔

ثقافتی اقدار (Cultural Value)؛۔
سائنس ہماری سماجی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار انجام دیتی ہے۔سائنس کی تعلیم ثقافتی ورثوں کو نسل در نسل منتقل کرنے کا سب سے کارگر وسیلہ ہے۔انسانی تمدن کی تاریخ کا مطالعہ سائنس کی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔سائنس ثقافت کی میراث کو آنے والی نسلوں میں صحت و حفاظت کے ساتھ منتقل کرتی ہے۔

اخلاقی اقدار(Moral Value)؛۔عظیم ذہن انسان دوست لوگ ہمیشہ سے صحیح و غلط میں تمیز اور حتمی سچائی کے متلاشی و متمنی رہے ہیں۔سائنس اخلاقیات کو بلندی فراہم کرنے والا علم ہے۔ سائنس ، سائنسی تجزیہ و استدلال منطقی انداز بیان اور غیر جانبدار فکر کا حامل علم ہے ۔سائنس کی تعلیم سے انسان میں غیر جانبداری اور قوت استدلال ،مشاہدہ و تجزیہ پروان چڑھتا ہے۔

تفریحی اقدار(Recreation Value)؛۔
کام کے بعد ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے تفریحی سرگرمیاں نہایت اہم ہوتی ہیں۔سائنس ہماری تفریح کے تمام سامان فراہم کرتی ہے۔ کام کاج کے بعد اپنی ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کو رفع کرنے کے لئے سائنس کئی ایک سرگرمیاں ہمیں فراہم کرتی ہیں جیسے فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، مصوری، موسیقی،باغبانی وغیرہ۔سائنس کی بدولت کئی تفریح گاہیں وجود میں آگئی ہیں جہاں انسانوں کی تفریح کے تمام سامان موجود ہیں۔

جمالیاتی اقدار(Aesthetic Value)؛۔انسان اور فطرت میں پائے جانے والی ہم آہنگی اورانسانوں کو فطرت سے ہم آہنگ کرنا سائنسدانوں کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔سائنس کا طالب علم سائنس کو ایک فن اور خود کو ایک فن کار کی حیثیت سے دیکھتا ہے ۔
سائنس کی تعلیم بچوں میں کئی اقدار کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔سائنس ہمیشہ حقیقت اور سچائی کے تلاش میں رہتی ہے۔اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سچائی(حقیقت) سائنس ہے اور سائنس ہی سچائی(حقیقت ) ہے۔جس طرح سچائی اپنے اقدار اور اصول رکھتی ہے جس کے باعث وہ قابل قبول مانی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح سائنس علوم کے استعمال میں اخلاقی اقدار کی پاسداری کو روا رکھنا ضروری ہے تاکہ اسے قابل قبول اور درست و جائز قرار دیا جاسکے۔
سائنس کے بارے میں ایک عام رویہ دیکھنے میں آتا ہے اور یہ مشہور ہے کہ سائنس کا تعلق حقائق سے ہوتا ہے اور اس کا اقدار سے کوئی سروکار نہیں ہے۔جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ سائنسی نصاب کھلے ذہن،وسیع الذہنی،نقد و نظر کا خوش دلی سے سامنا کرنے اور ،نتائج پر پہنچنے سے پہلے ٹھوس دلائل و ثبوت کا مطالبہ کرنے والے انسانوں کو تیار کرتی ہے۔سائنس کسی بھی کام کی انجام دہی میں مہارت اور اخلاقی اصول و عادات اپنانے پر زور دیتی ہے۔سائنس رویوں کی تربیت میں اہم کردار انجام دیتی ہے۔منفی رویوں کو مثبت سے بدلنے کا رجحان سائنس کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔سائنس حصول علم میں مصروف افراد کو ہمیشہ پرجوش اور پردم رکھتے ہوئے ان کے دلچسپی کے حامل زمروں کی نشاندہی کرتی ہے۔سائنس کام اور پیشہ کا احترام کرنے کادرس دیتی ہے۔شعور،تخلیقیت،اختراع،جذبات،عزم و اخلاقیات سائنس کے لازمی اجزائے ترکیبی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا سائنسی ایجادات کے باعث مختلف مسائل کے نرغے میں میں آچکی ہے۔لیکن یہ خرابیاں سائنس کی نہیں ہے بلکہ سائنسی علوم کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔سائنس کا کمال اس کے لاتعداد ایجادات و سہولیتں نہیں ہیں بلکہ سائنس کا کمال اور اعجاز یہ ہے کہ اس نے انسانی شعور کی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ انسان کو فطرت کے مشاہدے پر مائل کیا ہے۔ قدرت کے مظاہر پر غور و فکر اور تدبر کی دعوت دی ہے۔سائنسی انداز فکر کی وجہ سے جہاں انسانی اوہام کی بت ٹوٹے وہیں انسان نے خود کو مافوق لفطرت طاقتوں اور دیومالائی کہانیوں کی ظلمتوں سے خود کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
——-

فاروق طاہر

Farooq Taher
عیدی بازار،حیدرآباد۔
,
09700122826