اردو کی اہم کتب کا مطالعہ : چند تاثرات :- عبدالعزیز ملک

ڈاکٹر عزیز ملک

اردو کی چند اہم کتب کا مطالعہ : چند تاثرات

عبدالعزیز ملک
شعبہ اردو جی سی یونیورسٹی ، فیصل آباد

انگریزی ڈراما نگاری،ناول نگاری اور افسانہ نگاری سے شہرت حاصل کرنے والے ولیم سومرسٹ(William Somerset Maugham) کا خیال ہے کہ دنیا کی بد صورتیوں اور تلخیوں سے فرار حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کتب کا مطالعہ ہے۔لیکن میرے نزدیک دنیا کی تلخیوں اورمحرومیوں سے محض فرار حاصل کرناہی نہیں بلکہ علمی ، ادبی،سائنسی اور سماجی روایات سے مستفید ہونے،زندگی کا شعور حاصل کرنے اور جدید دور سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی معیاری کتب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔

کتب بینی کی عادت انسان کی شخصیت میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے اورذہنی صلاحیتوں کو نکھار کر، اس قابل بناتی ہے کہ انسان کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کے ساتھ ساتھ ادق معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنے کے قابل ہو تا ہے۔معیاری کتب علم و آگہی کا پہلا زینہ ،تنہائی کی جاں گسل طوالت کی رفیق اورقلب و ذہن کو تازگی بخشنے کا بہترین ذریعہ ہیں لیکن افسوس کہ کتب بینی کی عادت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتی جارہی ہے۔جگر مراد آبادی نے دل کے بارے میں کہا تھا :
کامل رہبر،قاتل رہزن
دل سا دوست،نہ دل سا دشمن
اس شعر میں دل کی جگہ کتاب کو رکھ کردیکھا جائے تو شعر کتب بینی پر صادق آتا ہے ۔جس طرح دل اچھادوست اور بد ترین دشمن ہو سکتا ہے اسی طرح اچھی اور معیاری کتب جہاں انسان کی ذہنی اور روحانی بالیدگی کا باعث بنتی ہیں وہیں گھٹیا اور غیر معیاری کتب انسان کو قعرِ گمراہی میں دھکیل کر ،تباہی و بربادی کا باعث بنتی ہیں ۔انسان کو جتنا دوستوں کے انتخاب میں محتاط ہونا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ زیرِمطالعہ کتب کے بارے میں محتاط ہونے کی ضرورت ہے، اسی لیے تو فرانسس بیکن نے اپنے مضمون ’’Of Studies ‘‘میں کتابوں سے متعلق کہا تھاکہ کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ہوتی ہیں کچھ حلق سے نیچے اتارنے کے لیے ہوتی ہیں اورکچھ چبا چبا کر ہضم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔یعنی ہر کتاب یکساں اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔
کتابوں کی اہمیت،افادیت اور ضرورت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے ۔ایسے لوگ ہر زمانے میں پیدا ہوتے رہے ہیں جنھوں نے کتابوں کے مطالعے کو اوڑھنا بچھونا بنایا اورعلم و ادب کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ۔دنیا میں جتنی تبدیلیاں اور انقلابات ظہور پذیر ہوئے ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا سماجی ان کے عقب میں کتب موجود ہیں۔اقتصادیات کے میدان میں ایڈم سمتھ کی ’’ ویلتھ آف نیشن ‘‘ ہو یا کارل مارکس کی ’’داس کیپیٹل ‘‘ یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔اسی طرح سیاسیات کے میدان میں کوٹلیہ چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ ماؤزے تنگ کی’’سرخ کتاب ‘‘ اور میکاولی کی ’’دی پرنس ‘‘ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ڈارون کی ’’آن دی اوریجن آف سپیشیز‘‘فرائیڈ کی ’’خوابوں کی تعبیر ‘‘ اور فرڈی ناں دی سوسئیر کی ’’دی کورس ان جنرل لنگوسٹک‘‘نے بھی دورِ حاضر میں گہرے اثرات مرتسم کیے ہیں ۔اس کے علاوہ ژاک دریڈا ، مشل فوکو ، جولیا کرسٹیوا ،لیوتار ،ایڈورڈ سعید ،نوم چومسکی اور ٹیری ایگلٹن جیسے مصنفین کی کتب نے بھی مابعد جدید دور کے فکری رویوں کو مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں یوں تو درجنوں کتب زیرِ مطالعہ رہیں لیکن جو کتب زیادہ پسند آئیں ان میں سے چند ایک پر تاثرات قلم بند کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ان کتب میں سب سے اہم ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب ’’تنقید اور جدید اردو تنقید ‘‘ تھی جو دراصل ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کا انجمنَ ترقی اردو کراچی میں ’’بابائے اردو یادگاری خطبہ ‘‘ کے تحت دیا گیا لیکچر ہے جسے انجمن نے پہلی بار ۱۹۸۹ء میں شائع کیا تھا اور اب دوبارہ ۲۰۱۴ء میں اشاعت پذیرہوا ہے۔اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا حصہ مغربی تنقید کی روایت کا احاطہ کرتا ہے جس میں ڈاکٹر وزیر آغا نے تنقید کا پس منظراورمغرب میں تنقید کے اتار چڑھاؤ کو تفصیلاً بیان کیا ہے اور حاصلِ مطالعہ کے تحت تنقید کے گزشتہ اڑھائی ہزار سالہ دور کو چند اہم تنقیدی سلسلوں میں بیان کیا ہے جو حقیقتاً ایم ایچ ابرامز کے پیش کردہ ہیں ۔ان میں پہلا سلسلہ Mimetic Theoriesکاہے جو فن کو نقل قرار دیتا ہے۔دوسرا سلسلہ Pragmatic Theories کا ہے جس میں ادب کو ذریعہ خیال کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی مقصد پر منتج ہوتا ہے۔تیسرے سلسلے کو Expressive Theories کا نام دیا جاتاہے ،اس کے تحت ادب کی تخلیق نقل کے رجحان کے تابع نہیں اور نہ ہی قارئین کو متاثر کرنے کی ضرورت کی زائیدہ ہے بلکہ تخلیقی عمل کے دباؤ کے تحت ابھرنے والے مشاہدات ،تصورات اور محسوسات کے فن کارانہ اظہار کا نام ادب ہے ۔چوتھاسلسلہ Objective Theories سے موسوم ہے جو تخلیق کو خود مختار،خود مکتفی اورقائم بالذات اکائی خیال کرتا ہے جو اپنے اجزا کے ربطِ باہم سے خود کو متشکل کرتی ہے۔تنقید کا یہ سلسلہ بیسویں صدی میں نئی تنقید کے نام سے معروف ہوا جو آگے چل کر پس ساختیاتی تنقید کی بنیاد بنا ۔ کتاب کے دوسرے حصے میں اردو تنقید کا پس منظر،جدید اردو تنقید کا آغاز اور اردو تنقید کے افقی اور عمودی تناظر کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔کتاب کے آخر میں تنقید کے امتزاجی اسلوب کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
دوسری کتاب جس نے متاثر کیا وہ ڈاکٹر نعیم احمد کی کتاب ’’معاصر فکری تحریکیں‘‘ہے جو دورِ حاضر کی لسانی اور فلسفیانہ تحریکوں کا احاطہ کرتی ہے۔ڈاکٹر نعیم احمد نے اس کے علاوہ بھی چند عمدہ کتب قارئین کو عطا کی ہیں جن میں ’’تاریخِ فلسفہ یونان‘‘،’’تاریخِ فلسفہ جدید‘‘،’’فلسفے کی ماہیت‘‘ اور برگساں کا فلسفہ‘‘ خاص طور پر نمایاں ہیں۔مذکورہ کتاب ۲۰۱۶ء میں مجلسِ ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئی ہے جو پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلا باب ’’ارادیت ‘‘کے نام سے کتاب میں شامل ہے جس میں ارادیت کے مختلف مکاتب کا تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ارادیت کے ضمن میں شوپنہار ،نٹشے ،ولیم جیمز ،برگساں اور علامہ اقبال کے افکار کو بیان کیا گیا ہے۔دوسرا باب ’’جدلیاتی مادیت‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں کارل مارکس کے حالاتِ زندگی ،اس کی کتب کا مختصر تعارف ، مادیت پسندی، جدلیاتی مادیت پسندی اوراس کے نظریہ علم کو بیان کیا گیا ہے۔مزید تاریخی مادیت ، مارکس کا نظریہ مغائرت اور قدرِ زائد پر بھی بحث کی گئی ہے جو مارکسیت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی اہم ہے ۔دوسرے باب کے آخر میں تبصرہ کے عنوان کے تحت مصنف نے مارکسزم پر اپنی رائے بھی قلم بند کی ہے۔ کتاب کا تیسرا باب ’’ منطقی اثباتیت‘‘ پر مبنی ہے جسے منطقی تجربیت اور سائنسی تجربیت کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔مصنف نے منطقی اثباتیت کے آغاز اور تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اس کی مبادیات کو سمجھانے کی کوشش میں اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی ہے۔بقول مصنف اس تحریک سے منسلک ناقدین فلسفے کی حدود سے مابعد الطبیعیات کے مباحث کو خارج کر دیتے ہیں ۔اس سے قبل ہیوم اور کانٹ بھی مابعد الطبیعیاتی مسائل سے گریز کرنے کے اشارے اپنے اپنے فلسفوں میں دے چکے ہیں لیکن منطقی اثباتیوں نے اسے لسانی بنیادوں پر رد کرنے کی کوشش کی ہے۔اس ضمن میں انھوں نے اُصول تصدیق پذیری(Verifiability) متعارف کرایا جس کی پہلی تشکیل اے ۔جے ۔ ایئر نے ’’زبان ،صداقت اور منطق‘‘ میں پیش کی تھی،اس کے تحت جملے کی معنویت کا تعین اس کے تصدیق بالتجربہ کے انداز سے ہوتا ہے۔کتاب کے چوتھے باب میں وجودیت کو زیرِ بحث لایا گیا ہے ۔مصنف نے وجودیت کو نظامِ فکر کے بجائے فکری تحریک قرار دیا ہے۔وجودیت کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :الٰہیاتی وجودیت اور غیر الٰہیاتی وجودیت۔الٰہیاتی وجودیت کا بانی کرکیگارڈ ہے جس نے اپنے نظریات کی وضاحت کے لیے خوف ،دہشت اور تشویش کے تصورات پیش کیے۔اس نے اپنی کتاب Either/Orمیں وجودیاتی سفر کے تین مراحل پیش کیے ہیں جو معروض کی نفی اور موضوع کا اثبات کرتے ہیں ۔بعد اازاں جبرائیل مارسل اور مارٹن ہائیڈیگر نے اپنے خیالات کی بنیاد انھی افکار پر استوار کی ۔ غیر الٰہیاتی وجودیت کا سب سے بڑا نمایندہ ژاں پال سارتر ہے ،اس نے انسانی آزادی اورشعور کے تصورات سے اپنے نظریے کو واضح کیا ہے۔سارتر کی وجودیت اس لیے غیر الٰہیاتی ہے کہ یہ خدا کے انکار پر استوار ہے کیوں کہ تصورِ خدا میں خود تردیدیت پائی جاتی ہے ۔پانچواں باب ’’ مابعد جدیدیت‘‘ کے تعارف اور تفہیم پر مبنی ہے ۔مابعد جدیدیت کو سمجھانے سے پہلے جدیدیت کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے ،جس میں فرانسس بیکن ،رینے ڈیکارٹ ،جان لاک اور کانٹ کے افکار کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جنگِ عظیم اوّل سے قبل کیتھولک مذہب میں جدیدیت کی تحریک کو متعارف کرایاگیا ہے۔انھوں نے مابعدجدیدیت کو مختصر لیکن جامع انداز میں بیان کرنے کے لیے ڈاکٹر اقبال آفاقی کی کتاب ’’ مابعد جدیدیت : فلسفہ و تاریخ ‘‘میں بیان کیے گئے نکات کو پیش کر دیا ہے ۔مذکورہ کتاب میں معاصر فکری رجحانات کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے جو فلسفے اور جدید فکری رجحانات کو سہل انداز میں سمجھانے کی تعمیری کاوش ہے ۔
مجنوں گورکھ پوری کی کتاب ’’ تاریخِ جمالیات ‘‘ بھی زیرِ مطالعہ رہی جو پہلی بار ۱۹۵۳ء میں بھارت سے شائع ہوئی تھی لیکن اسے ۲۰۱۷ء میں فکشن ہاؤس لاہور نے پاکستان سے شائع کیا ہے ۔کتابی شکل میں شائع ہونے سے پہلے یہ ایک طویل مقالہ تھا جسے ۱۹۳۱ء میں رسالہ’’ایوان‘‘ میں دو اقساط میں شائع کیا گیا تھا۔پبلشر نے اس کی اشاعت ۱۹۵۳ء رقم کی ہے جبکہ دیباچے میں اس کی پہلی اشاعت ۱۹۳۵ء دیوانِ اشاعت ،گورکھ پور تحریر ہے ،یہ دیباچہ اس کی دوسری اشاعت پر رقم کیاگیا ہے ۔درست کیا ہے ؟یہ تحقیقی و تدوینی مسئلہ ہے جس سے فی الحال گریز کیا جاتا ہے۔ مذکورہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے جس کا پہلا باب ’’یونان اور روم میں جمالیات کا تدریجی ارتقا‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔جمالیات کی بحث سے متعلق اشارات ویسے تو سقراط کے ہاں موجود ہیں لیکن منظم انداز میں افلاطون کے افکار میں جمالیات کے مباحث کو تلاش کیا جا سکتاہے ۔بعد ازاں ارسطو نے افلاطون کے ہی خیالات پر اپنے جمالیاتی فلسفے کی بنیادیں استوار کی ہیں ،وہ فنونِ لطیفہ کو تواریخ سے زیادہ قابلِ قدر خیال کرتا ہے اسی لیے وہ ہومر کو ہیروڈوٹس سے زیادہ معتبر ہستی مانتا ہے۔ارسطو کے بعد ایپی قیورس اور کے پیروکاروں کا گروہ ہے جو ذوقِ عالیہ اور لطیف لذتوں پر زور دیتے ہیں ۔رواقیوں نے جمالیات کو اخلاقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی،اسی لیے رواقیت فنونِ لطیفہ کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوئی ۔رواقیوں کے بعد جن رومی حکما کا دور آیا انھوں نے پیش رووں سے اختلاف کیا اور فنونِ لطیفہ کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا جن میں سسرو،پلوٹارک اور کرائی سا سم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ بعدازاں اشراقیت کے فلسفے نے جب زور پکڑا تو فلاطینوس نے حسن کو روحانی رنگ سے معمور کر دیا ۔اسکے ساتھ ہی یونان اور روم کے فلسفے کا سنہرا دور اختتام پذیر ہوجاتا ہے اور اس کے بعد نشاۃِ ثانیہ تک جمالیاتی مباحث نہ ہونے کے برابر ہیں ۔دوسرا باب’’ ازمنہ وسطیٰ اور نشاۃِ ثانیہ ‘‘کی صورتِ حال کو واضح کرتا ہے ۔اس دور میں مذہب کی طرف رجحان بڑھ گیا تھا جس کے باعث اس دور کے جمالیاتی تصورات پر مذہبی رنگ چھایا ہوا ہے ۔ سینٹ آگسٹن ، اسکوٹس ایریجنا اورٹامس ایکویناس اس دور کے نمایندہ مفکرین میں شامل ہیں۔تیسراباب ’’دورِ جدید کروچے سے پہلے‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں کروچے کے نظریہ اظہاریت کے منصہ شہود پرآنے سے پہلے کی صورتِ حال کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ کروچے سے قبل فرانسس بیکن جو تجربیت کا علم بردار ہے اس نے فنونِ لطیفہ کو حسیات سے مملو کر کے علم و حکمت اور دانش کی قبیل سے باہر نکال دیا ۔ اس کے خیال میں انسانی ذہن کے تین حصے ہیں جو تین الگ وظائف سر انجام دیتے ہیں ،تخیل شاعری پیدا کرتا ہے ،حافظہ تاریخ کو جنم دیتا ہے اور عقل سے فلسفہ متفرع ہوا ہے ۔اسی دور میں رینے ڈیکارٹ بھی موجود تھا اس کے خیالات میں بھی بیکن کے تصورات کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ اس نے تخیل اور اس کے کرشموں کو ’’نفسِ حیوانی‘‘کے اشتعال کا نتیجہ قرار دیا ہے۔اس کے پیروو ں میں ایک بھی ایسا نہیں جوفنون لطیفہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہو البتہ اسی دور میں شیفٹز بیری اور ہیچسن ایسے مفکرین بھی موجود ہیں جو حسن کی حقیقت کے معترف ہیں اور ذوق و وجدان کو عقل اور قیاس سے الگ قوت خیال کرتے ہیں ۔لیبنز نے بھی فنون کی قدرو قیمت کو قبول کیا جبکہ ہیوم نے اسے افادیت سے مملو کردیا ،ہیوم کے ہم عصر بام گارٹن نے نہ صرف جمالیات کی اصطلاح وضح کی بلکہ حسن اور حقیقت کو ایک ہی جوہرِ اولیٰ کے دو نام قرار دیا ۔برک وہ پہلا شخص ہے جس نے ذوق اور قیاس کے سلسلے میں جمالیاتی قیاس اور منطقی قیاس کے مابین فرق کیا۔اس باب میں وائیکو ،ونکل مان ،لیسنگ،کانٹ ،شلر،ہیگل،شوپنہاراور دی سینکس کے نظریات کو بھی اجمالاً بیان کیا گیا ہے۔’’ کروچے کا نظریۂ جمالیات‘‘ کتاب کا چوتھا باب ہے جس میں کروچے کے نظریے کو زیرِ بحث لانے سے قبل بریڈلے ،آئیکن اور برگساں کے تصورات کو بطور پس منظر کے پیش کیا گیا ہے۔کروچے علم کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ،وجدانی اور عقلی ۔وجدانی علم تخیل کی وساطت سے حاصل ہو تا ہے اور جزئیات سے متعلق ہوتا ہے ۔عقلی علم عقل کی پیداوار ہے جو کلیات سے حاصل ہوتا ہے۔وہ وجدان کو اظہار کے مترادف خیال کرتا ہے اور فن میں افادیت اور اخلاقیت کو غیر ضروری سمجھتا ہے ۔فن میں غایت تلاش کرنا مضحکہ خیز کام ہے۔پانچویں باب میں ’’ جدلیاتی مادیت اور جمالیات‘‘ پر بحث کی گئی ہے۔جدلیاتی مادیت کی رو سے حقیقت کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ ایک نامیاتی حرکت ہے جو فطرتاً جدلیاتی ہوتی ہے۔حقیقت مائل بہ ارتقا ہے اور اس کی لازمی اور مسلسل منزلیں تناقص،تردید اور تخلیق جدید ہیں ۔مارکسی جمالیات کی تحت عام زندگی کی طرح فن کاری کے ضمیر میں بھی دوئی اور تضاد ہے ،فن کاری ایک ماحول سے پیدا ہوتی ہے اور دوسراماحول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ جبر اور اختیار دونوں کی حامل ہے،اس میں اجتماعی اور انفرادی شعور یکساں طور پر کار فرما ہوتے ہیں ۔ چھٹا باب’’تبصرہ و تصفیہ‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے ۔اس باب میں گزشتہ ابواب کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور مصنف نے جمالیات سے متعلق اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کو شش کی ہے۔مجنوں گورکھ پوری کا خیال ہے کہ فنکاری خلقی طور پر دو عنصری ہے جو داخلی اور خارجی عناصر سے ترتیب پاتی ہے یعنی یہ واقعہ اور تخیل کا حسین امتزاج ہے۔حسن زندگی کی قوت ہے اور اس کے بقا اور فروغ کی ضامن ہے ،انسان کی اعلیٰ اور اہم قدر زندگی ہے اسی لیے تو وہ موت سے خوف زدہ ہے،لہٰذا انسان کے لیے ہر وہ چیز خوب صورت ہے جس میں زندگی کی جھلک موجود ہو ۔
پیٹر بیری (Peter Barry)کی کتاب "Beginning Theory:An Introduction to Literary and Cultural Theory”کا ترجمہ ’’بنیادی تنقیدی تصورات‘‘ کے عنوان سے الیاس بابر اعوان نے عکس پبلی کیشنز،لاہور سے ۲۰۱۸ء میں شائع کیا ہے۔الیاس بابر اعوان انگریزی ادب کے استاد ہیں اور ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ،اسلام آباد میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ ان کی یہ کاوش اردو ادب کے قارئین کے لیے قابلِ قدر تحفہ ہے ۔بیٹر بیری ایبرسٹ وِتھ یونیورسٹی ویلز میں انگریزی ادب کے استاد ہیں جو تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں ،انھوں نے مذکورہ کتاب پہلی بار ۱۹۹۵ء میں شائع کی جس کے اب تک چار ایڈیشن منظرِ عام پرآ چکے ہیں۔کتاب کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ تھئیری کو معرض تفہیم میں لانے کے لیے یہ ابتدائی سطح کی تعارفی کتاب ہے جو طالبِ علموں کے ساتھ ساتھ تنقید سے دلچسپی رکھنے والوں کی علمی ضروریات پوری کرتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس کے اردو کے علاوہ چینی ، جاپانی ،عبرانی،یونانی اور کوریائی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں ابتدائی سطح کے طالبِ علموں میں خاصی مقبول ہے۔مذکورہ کتاب تیرہ ابواب پر مشتمل ہے ۔پہلا باب ’’قبل از معاصر تنقیدی تصورات لبرل ہیو منزم‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں انگریزی ادب کے نصاب پر نکتہ چینی کے بعد لبرل ہیومنزم کے دس راہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ادبی تھئیری کو واضح کرنے کی غرض سے ارسطو سے کلاڈ لیوی سٹراس تک چیدہ چیدہ خیالات کو بیان کر کے لبرل ہیومنزم کو عملی سطح پر قاری کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔اسی باب کے آخر میں تنقیدی تھیوری میں بار بار ظہور پذیر ہونے والے تصورات کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا ہے جن میں سیاست،زبان بطور اختراعی اظہاریہ ،سچ عبوری اظہاریہ، معنی کا غیر یقینی ہونا اور انسانی فطرت کو خام خیالی سے تعبیر کرنا نمایاں ہیں۔دوسرا باب’’ ساختیات‘‘ کے مباحث لیے ہوئے ہے جس میں ساختیات کے پس منظر اور اس کے کلیدی پہلوؤں کو سہل انداز میں بیان کر کے باب کے آخر میں ساختیاتی تنقید کی مثالیں پیش کی گئی ہیں ۔ان میں بالزاک کی کہانی سارازین پر رولاں بارتھ کی تنقید ی آراکو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ جہاں رولاں بارتھ نے متن کے مطالعے میں پانچ کوڈز متعارف کرائے تھے ۔تیسرا باب’’پس ساختیات اور ردِتشکیلیت‘‘ کے نام سے کتاب میں شامل ہے۔باب کے آغاز میں ساختیات اور پس ساختیات میں چار نکات کی بنیاد پرفرق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پہلا فرق ماخذ کا ہے ،ساختیات لسانیات سے تعلق رکھتی ہے جب کہ پس ساختیات کا تعلق فلسفے سے ہے۔دوسرا فرق لہجے اور اسلوب کا ہے،ساختیاتی تحاریرابہام اور عمومیت کی حامل ہوتی ہیں جب کہ پس ساختیاتی تحاریرزیادہ جذباتی ،فوری اور مسحور کن ہوتی ہیں اور ان کا انداز خود نمااور شوخ ہو تا ہے ۔تیسرا فرق رویے اور زبان کا ہے اور چوتھا فرق حرکت کے بنیادی مقاصد کا ہے۔مذکورہ باب میں پس ساختیات کے پس منظر ،اس کے کے خصائص اور نمایندہ مصنفین کے خیالات کے ساتھ ساتھ پس ساختیاتی ناقدین کے دائرہ کار کوبھی متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کا چوتھا باب ’’مابعد جدیدیت ‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔اس باب میں بھی جس طرح ساختیات اور پس ساختیات کے مابین فرق کیا گیا تھا اسی طرح جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مابین فرق کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جس طرح جدیدیت بیسویں صدی کی ثقافت کو سمجھنے میں ہماری معاون رہی ہے اسی طرح مابعد جدیدت دورِ حاضر کی صورتِ حال کو معرضِ تفہیم میں لانے کے لیے ہماری مدد گار ہے ۔جدیدیت کے فکری رویوں کو پروان چڑھانے میں ٹی ایس ایلیٹ ،جیمز جوائس ،ایذرا پونڈ،لیوس ،ورجینیا وولف،مرسل پروسٹ ، میلارمے ،آندرے ژید،فرانز کافکا اور رینر ماریا ریلکے کے نام قابلِ ذکر ہیں۔جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مابین فرق کو نمایاں کرنے میں جرمی ہاتھورن نے معاسر ادبی تھئیری ایک جامع فہرست‘‘ میں عمدہ کاوش کی ہے ۔ ان کے نزدیک جدیدیت اور مابعد جدیدیت دونوں لخت پن یا بے ترتیبی پرزور دیتی ہیں لیکن دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جدیدیت اپنے لخت پن میں گزشتگان کو عمیق انداز میں پیش کرتی ہے جب اتھارٹی موجود تھی اس کے بر عکس مابعد جدیدیت کے نزدیک لخت پن ایک نشاط انگیز آزادی کا رویہ ہے۔باب پنجم ’’تنقیدِ تحلیلِ نفسی ‘‘ کے عنوان کے تحت کتاب میں موجود ہے جس میں تحلیلِ نفسی کی ان تکنیک کو موضوع بنایا گیا ہے جو ادب کی تشریح و توضیح میں استعمال ہوتی ہیں۔اس ضمن میں سگمنڈ فرائیڈ اور ژاک لاکاں کے تصورات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔لاکاں نے فرائیڈ کے لاشعوری محرکات اور احساسات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مضمون کا کھوج لگایا ،انھوں نے مصنف اور کرداروں کی نفسیاتی صورتِ حال کو پیش کرنے پر توجہ نہیں دی ۔ ’’تانیثیت‘‘ کتاب کا چھٹا باب ہے جس میں نسائی تحریک کے تاریخی پس منظر ، اس کی خصوصیات اور مصنفین کے خیالات کو اجمالاً بیان کیا گیا ہے ۔اس تحریک سے وابستہ مصنفین میں میری وول سٹن کرافٹ،آٹو شرائز،سیمون دی بووا اورجان سٹورٹ مل کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔مزید براں ریبکا ویسٹ ، ورجینیا وولف ،ایلن شوالٹر،ساندرا گلبرٹ اور سوسن گیوبز نے بھی دورِ حاضر میں اس کے رجحانات کو متعین کرنے میں اپنا کردار اداکیا ہے ۔’’تنقیدی دبستان برائے ہر دو جنس پرستی ‘‘(Lesbian/Gay Criticism)اس کتاب کا ساتواں باب ہے ۔مذکورہ تنقیدی دبستان کا آغاز نوّے کی دہائی میں ہوا یہی وجہ ہے کہ ٹیری ایگلٹن کی کتاب Literary Theory:An Introductionجو ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی اس میں اس کا ذکر نہیں ملتا ۔یہ تنقیدی دبستان تجزیہ اور تفہیم کے لیے صنف کے بجائے جنس اورجنسیات کو مرکزی خیال کرتا ہے ۔اسی دبستان سے جنسی عدم میلانیت کی تھئیری (Queer Theory)سامنے آئی جس کے بنیاد گزاروں میں پولیانا پامر(Pauliana Palmer)کا نام نمایاں ہے ۔اس تھئیری کے پسِ پشت بھی پس ساختیاتی تصورات موجود ہیں جس نے صنفی ثنویت کی ردِ تشکیل کی ہے۔’’ مارکسیت‘‘ مذکورہ کتاب کا ساتواں باب ہے جس میں تنقید کے مارکسی دبستان پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس ضمن میں مارکسی ادبی تنقید ، لیننی مارکسی تنقید ،اینگلیائی مارکسی تنقیداور آلتھیوسے کے تصورات کو بطورِ خاص پیش کیا گیا ہے۔’’نوتاریخیت اور ثقافتی مادیت‘‘کتاب کا نواں باب ہے جس میں نوتاریخیت کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔نوتاریخیت کا رجحان اسی کی دہائی میں اس وقت سامنے آیا جب امریکی نقاد سٹیفن گرین بلاٹ نے شیکسپئیر کے حوالے سے کتاب شائع کی ۔ نوتاریخیت ادبی اور غیر ادبی متون کے متوازی مطالعے کا نام ہے،عام طور پر ان دونوں کا تعلق ایک ہی تاریخی عہد سے ہوتا ہے۔کتاب میں قدیم اور نو تاریخیت میں فرق واضح کرنے کے ساتھ ساتھ فوکو کی نو تاریخیت کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس کے فوائد اور نقصانات کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے۔’’مابعد نو آبادیاتی تنقید ‘‘کے باب میں اس کے پس منظر اور مابعد نو آبادیاتی تنقید نگاروں کے دائرہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے،’’اسلوبیات ‘‘ اور ’’ علم بیانیات ‘‘ پر بھی ابواب قائم کیے گئے ہیں ،کتاب کا آخری باب ’’ماحولیاتی تنقیدی تناظر ‘‘کے عنوان کے تحت قلم بند کیا گیا ہے ۔مذکورہ کتب کے علاوہ ڈاکٹر ریاض ہمدانی کی کتاب’’اردو ناول کا نو آبادیاتی مطالعہ ‘‘ علی عباس جلال پوری کی ’’روایاتِ فلسفہ‘‘،ڈاکٹر نذر عابد کی ’’ ساتواں رنگ‘‘ ،نسیم عباس احمر کی مرتبہ کتاب ’’ نو تاریخیت‘‘مرزا خلیل احمد بیگ کی ’’اردو کی لسانی تشکیل ‘‘،ڈاکٹر سکندر حیات میکن کی ’’تحریکات و تنقیدات‘‘ ،ارشد محمود کی ’’تصورِ خدا ‘‘ اور ڈاکٹر مبارک علی کی مرتبہ کتاب’’ نیشنل ازم کیا ہے؟‘‘ بھی زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔
تنقیدی کتب کے ساتھ ساتھ تخلیقی کتابیں بھی زیرِمطالعہ رہیں جن میں ارون دھتی رائے کاناول The Ministry of Utmost Happiness قابلِ ذکر ہے جو ۲۰۱۷ء میں شائع ہوا تھا۔یہ The God of small Thingsکے بعد ان کا دوسرا ناول ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر بھارتی حالات اور کشمیر کی صورتِ حال کو بیان کیا گیا ہے۔ناول اس بات کا عکاس ہے کہ بھارت کثیر قومی ملک ہے جس میں کئی ثقافتیں عمل پیرا ہیں ،مقتدر طبقہ ثقافتی تنوع کو ختم کر کے اسے ایک خاص ثقافت کے تابع لانا چاہتا ہے جو دیگر قومیتوں اور محکوم طبقات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ارون دھتی رائے نے یہ ساری صورتِ حال ان ہمہ جہت کرداروں کے توسط سے واضح کی ہے جو معاشرے کے حاشیے پر موجود ہیں مثلاً ناول کا نمایاں کردار انجم کا ہے جو نہ صرف مسلمان ہے بلکہ ماورائے صنف بھی ہے ،یوں انجم مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ ہیجڑوں کے طبقے کا نمایندہ بھی ہے جو ہندوستانی معاشرے میں سماجی پستی کا شکار ہیں۔ احمد آباد میں ہونے والے قتل عام اور انجم پر ہونے والے اس کے اثرات نے جو صورتِ حال پیدا کی ہے قاری اس سے اثر قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔واحد غائب کے صیغے میں بیان کی جانے والی انجم کی کہانی کے متوازی تلوتما کی کہانی بھی ناول کا حصہ ہے ۔تلوما کے ہم جماعت گارسن ہوبارٹ اور ناگا کے کرداروں سے کشمیر کے عوام کی کسمپرسی کو اجاگر کیا گیا ہے، جہاں میجر امریک سنگھ جیسے کردار انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں ۔تلوتما زندگی کے تلخ حقائق کا مقابلہ کرتے ہوئے انجم کے قبرستان میں قائم شدہ’جنت گیسٹ ہاؤس‘‘ میں قیام پذیر ہوتی ہے ۔جنت گیسٹ ہاؤس میں انجم نے ایسی مملکت تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے جہا ں انسانی معاشرے کے محکوم، مقہور ،مجبوراور مردود بے پناہ شادمانی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ جنت گیسٹ ہاؤس کے ذریعے انسانی سماج پر گہرا طنز ہے جو انسانی تفریق اور معاشرتی طبقات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ انجم کی تخلیق کردہ مملکت(ministry) حقیقی معنوں میں ماں کا کردار ادا کررہی ہے۔ غور کریں تو واضح ہوگا کہ اس مملکت میں قیام پذیر تمام کردار مامتا کے بے لوث جذبے سے معمور ہیں اور ایسے ہی دوسروں کا خیال رکھتے ہیں جیسے جہاں آرا ، مریم ایپ اور کامریڈ رویتی نے اپنی اپنی بیٹیوں کا رکھاہے ۔انجم زینب کو جہاں بہت سے حقائق سے آگاہ کرتی ہے وہاں اس سے ان باتوں کو پوشیدہ بھی رکھتی ہے جو اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتسم کر سکتے ہیں مثلاً فلائی اور کی کہانی میں حقائق کچھ اور ہیں لیکن بیانیے میں حالات کی ضرورت کے تحت تبدیلی کر لی جاتی ہے یوں انجم کا بیانیہ علامتی شکل اختیار کر جاتا ہے اورتلخ ماضی نئی نسل کے سامنے یا تو پیش ہی نہیں کیا جاتا اور اگر کیا بھی جاتا ہے تو اس کی شکل مسخ کر دی جاتی ہے اور اس طرح نئی نسل حقیقی ماضی سے بے خبر رہ جاتی ہے ۔’’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘‘ ارون دھتی رائے کا تہہ دار ناول ہے جو سماجی ، سیاسی ،تاریخی اور نفسیاتی پہلوؤں کو علامتی انداز میں سامنے لاتا ہے۔
اس ناول کے علاوہ شمس الرحمان فاروقی کا ناول ’ قبضِ زماں ‘‘جو اصحابِ کہف کے قصے سے متاثر ہو کر تحریر کیا گیا ہے ۔ اس ناول میں ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اور خاص طور پر دلی کی اٹھارہویں صدی کی تہذیبی صورتِ حال کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جوسٹن گارڈر کا ’’ سوفی کی دنیا ‘‘فلسفے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے علمی تحفہ ہے جسے اردو سائنس بورڈ نے شائع کیا ہے ۔،مستنصر حسین تارڑ کا ’’ منطق الطیر جدید‘‘خواب اور حقیقت کے ماحول میں پرندوں کی علامتوں سے تخلیق ہونے والا ناول ہے جس میں جادوئی حقیقت نگاری، ماورائے حقیقت اور علامتیت جیسی تکنیکوں سے استفادہ کیا گیا ہے ۔اس ناول سے مشترکہ ہنداسلامی تہذیب نمایاں ہوئی ہے جس میں ٹلہ جوگیاں کا پہاڑ رجب علی بیگ سرور کی ’’فسانہ عجائب‘‘ کے کوہ مطلب برار کے مماثل نظر آتا ہے۔ خالد فتح محمد کا ’’زینہ ‘‘ سماجی اور سیاسی صورتِِ حال کا عکاس ہے ۔ ڈاکٹر شیراز دستی کا ناول ’’ سا سا‘‘ بھی زیرِ مطالعہ رہا جس میں مشرقی اور مغربی تہذیبوں کی کشمکش محبت کی تلاش کی کہانی میں بیان کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ ابنِ مسافر کی کتاب ’’ہاتھ ملاتا دریا اور مقدس بیٹی ‘‘آغا گل کا ناول ’’ بیلہ‘‘ اور ’’دشتِ وفا‘‘ مرزا حامد بیگ کا ’’انار کلی ‘‘البرٹ کامیو کے ناول کا اردو ترجمہ ’’موت کی خوشی ‘‘ اور مرزا اطہر بیگ کا افسانوی مجموعہ ’’ بے افسانہ ‘‘ بھی زیرِ مطالعہ رہے جنھوں نے تنقیدی ،تحقیقی اور فلسفیانہ کتب کے خشک اور ذہنی آزمائش پر مبنی مطالعہ کے دوران میں ذہن کو تازگی ،فرحت اور سکون بخشا اور تنہائی کے لمحوں کو پر کیف بنایا ۔

جواب دیجئے