احمد فراز ؔ کی شاعری :- سجاد احمد صوفی

سجاد احمد صوفی

احمد فراز ؔ کی شاعری

سجاد احمد صوفی
ریسرچ اسکالر ۔ حیدرآباد سینٹرل یونی ور سٹی

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فرازاب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
احمد فرازؔ کی شخصیت اور ان کی غزل گوئی اپنے آپ ایک مثال ہے ۔ جن ملکوں میں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں احمد فراز ؔ محتاجِ تعریف نہیں ہیں ۔ ان کی غزل گوئی نے ساری دنیا میں دھم مچادی ۔

موجودہ دور کی غزل گوئی کا تصور احمد فرازؔ کے بغیر نا ممکن ہے چاہے وہ مشاعرہ ہو ، موسیقی ہو یا کوئی اور محفل ہو ، احمد فراز ؔ کا شعر ان محفلوں میں نہ سنا جائے یہ نا ممکن ہے ۔ احمد فراز ؔ کی غزلیں گل کار مہدی حسن ، اقبال بانو ، بیگم اختر ، غلام علی اور ملکہ پکھراج جیسے ہستیوں نے اپنی سرالی اور نرالی آوازوں میں گائیں ہیں ۔احمد فراز ؔ صرف اردو والوں میں ہی نہیں بلکہ شعری ذوق رکھنے والے ہر حلقوں میں پسند کیے جاتے ہیں اور اسی لیے ان کے مجموعے کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں ۔ہندی میں تو ان پر کئی کتابیں چھپے اور ہندی کے رسالوں میں بھی ان کی شاعری شائع ہوتی رہی اور ہوتی رہیں گیں ۔یہاں ہم لہجہ بدل کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں :۔
؂ رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
؂ سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
؂ اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
فراز ؔ کی شاعری درد عشق کی ایک سچی شاعری ہے ۔جس میں وصال سے زیادہ ہجر کا کرب نمایاں ہوتا ہے ۔ فراز ؔ کی درد عشق کی شاعری میں انتظار کی کیفیت اور محبوب کی جستجو نظر آتی ہے جس میں فراز ؔ اپنے محبوب کو پانے سے پہلے کھونے کا ڈر کا احساس دلاتا ہے ۔ اس درد میں یہ بھی یاد آتا ہے کہ ملنے کے بعد بچھڑنا ضروری ہے ۔فراز ؔ ان اشعاروں سے ہمیں محبت کی قیمت اور محبت میں حواصلہ افزائی کا احساس کرتے ہیں۔ فراز ؔ کا عقیدہ شاید یہ ہے کہ اگر محبوب کو بچھڑ نا ہے تو ہنسی خوشی سے بچھڑ جائے کوئی بہنا بنا کر اپنے محبوب سے بچھڑ نا محبوب کے لیے رسوائی کا سبب بنا سکتا ہے ۔ یہ شعر دیکھئے : ۔
؂ ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فراز ؔ کے جذبات و احساسات میں اتنی سچائی ہوتی ہے کہ انسانی زندگی کے حقیقت کی ترجمانی معلوم ہوتی ہے جو کہ اس طرح سے قاری کے جذبا ت و احساسات میں گھل جاتے ہیں کہ انھیں اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ فراز ؔ کے اشعار لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں اور ذہن میں نقش ہوجاتے ہیں جس کو فراز ؔ بڑی سادگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ مدھم لب ولہجے میں اپنے احساس و جذبات کو بڑی ہنرمندی کے ساتھ شعری پیکر میں اپنی بات بیان کردیتے ہیں ۔اور یہی اندازِ بیان ان کی پہچان بن جاتی ہے ۔ یہ غزل دیکھئے :۔
؂ سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
؂ سنا ہے اس کو بھی ہے شعر وشاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
؂ سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
؂ سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
؂ سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
؂ سنا ہے اس کے بدن کی تراش ا یسی ہیں
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
اس غزل میں کس طرح فراز ؔ نے اپنی محبوب کی تعریف کی ہے اور کس طرح کے لفظوں کا استعمال کیا ہے ۔جیسے آنکھ بھر، معجزے ، پھول جھڑتے ، چاند تکتا ، گلاب جلنے ، بدن کی تراش وغیرہ اس طرح کے لفظ جو عام ہے لیکن انھوں نے بڑی دلکش انداز میں پیش کئے ہیں۔ جس سے محبوب کا پورا سراپا آنکھوں کے سامنے آتا ہے ۔اس طرح کی تعریف اوردوسرے چیزوں سے مما ثلت دی ہے کہ قاری کو اپنے محبوب کے ادائے یاد آتیں ہیں ۔یہی خصوصیت فراز ؔ کو ایک بالا تر شاعر ثابت کرتا ہے ۔ ان کے پاس لفظوں کی جنبش ہے اور وہ ایک عام لفظ کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کچھ نیا ہی معلوم ہوجاتا ہے۔ لفظوں کا استعمال ان سے بہتر کون جا نتاہے ۔
احمدفراز ؔ نے ایک طرف اپنی شاعری میں عشق ومحبت کے جذبے کو فروغ دیا وہیں دوسری طرف پاکستان میں فیض ؔ کے بعد جبرواستحصال اور اعلیٰ اقدار حیات کی بے حرمتی کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اس کے خلاف احتجاج کیا ۔کیوں کہ فراز ؔ جمہوری نظام کے قائل تھے وہ انسانیت کی حکومت چاہتے تھے مساوات کا نظریہ رکھتے تھے ۔ ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف غمِ جاناں کا ذکر ملتا ہے وہیں دوسری طرف غمِ دوران کا غم بھی شامل ہے ۔ جس میں دھوپ اور چھاؤں کی کیفیت موجود ہے فراز ؔ اپنی شاعری میں ایک ایسے مقام پر پہنچے ہیں جہا ں شاعری وطن اور وطن شاعری کی یک جان و دو قلب ہو چکے ہیں :۔
؂ کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو
ہم لوگ نواگر ہیں ہمیں اذن نوا دو
احمد فراز ؔ کے بارے میں یہاں ہم ایک اقتباس نقل کرتے ہیں :
’’ احمد فراز ؔ اچھی شاعری میں موثر احتجاج کرسکتے ہیں ۔ سیاسی نعرہ بازی کے بغیر وہ فیض کی طرح رسیلی شعریت میں گھناؤنی زیادتیوں کے خلاف آوازاٹھاسکتے ہیں پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کا ہنر جانتے ہیں اور حواصلہ رکھتے ہیں جبرواستحصال کو للکار سکتے ہیں اور ریاکاری کو آئینہ دکھا سکتے ہیں ۔ احتجاج کی یہی خواہش ان کو اس دعا پر مجبور کرتی ہے ۔
؂ یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا میرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے ‘‘
(مسعود مفتی )
یہاں فراز ؔ اور فیض ؔ کی شاعری میں مماثلت اور اس میں احتجاج اور وطن پرستی کا اندازہ اس عبارت سے لگا سکتے ہیں۔ احمد فراز ؔ تو کسی نظریے سے وابستہ نہیں تھے مگر ان کے احتجاج کی آواز نے انسانیت کے دردکو ان کی شاعری میں ترقی پسند کی جھلک موجود کردی ہے ویسے بھی فراز ؔ سب سے زیادہ جس شاعر یا شخصیت سے متا ثر تھے تو وہ فیض احمد فیض ؔ ہیں ظاہر سی بات ہے کہ کچھ نہ کچھ خوبی فراز ؔ کے یہاں موجود تھی جس کی بنا پر ہمارے اردو ادب کے بہت سارے ناقدین فراز ؔ کو فیض ؔ کا جانشین سمجھتے ہیں۔ اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ فیض ؔ کی جانشینی ہم عصر شعرا میں سب سے زیادہ فراز ؔ کو نصیب ہوئی ہے اس سلسلے میں ہم فراز ؔ کا یہ کلام دیکھتے ہیں : ۔
؂ کتنی بانہوں کی ٹہنیاں ٹوٹیں
کتنے ہونٹوں کے پھول چاک ہوئے
؂ کتنی آنکھوں سے چھن گئے موتی
کتنے چہروں کے رنگ خاک ہوئے
اس بات کا انداز ہ فیض ؔ کو بھی ہو ا تھا ۔ وہ بھی احمد فراز ؔ کے کلام سے بہت متاثر ہوئے تھے وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ احمد فراز ؔ میں وطن کا غم کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ا ہے اور انھیں یہ بھی معلوم تھا اگر میرے بعد میری شعری روایت کے اہم قائل کوئی ہے تو وہ فراز ؔ ہی ہوسکتے ہیں ۔ اس تناظر میں ہم یہاں فیض احمد فیض ؔ کا خیال فراز ؔ کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ۔
’’احمد فراز ؔ کا پہلا مجموعہ کلام ’’ تنہا تنہا ‘‘ شاعری ہے شعر کی تلاش نہیں ہے ۔ ان کے کلام میں خیال اور جذبے کا قالب اور شعر اور لباس الگ الگ دکھائی نہیں دیتے ۔آپس میں پیوست ہیں ۔ شاعر کو یہ بات تب نصیب ہوتی ہے ،جب اس کا جذبہ اور اس کا فن دونوں یکساں ، پر خلوص اور سچے ہوں ۔ یہی خلوص ، گداز اور سچائی احمد فراز ؔ کے کلام کی امتیازی خصوصیات ہیں۔اسی خلوص کی وجہ سے یہ حدیث دل کے علاوہ زندگی کی وسیع تر حقائق کا بیان بھی ویسی ہی خوبی اور لگن سے کرتے ہیں ۔ بیک وقت غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی وسیع دنیاؤں سے آگہی اور اس کی موثر تفسیر مشکل کام ہے احمد فراز ؔ اس کا م میں بہت حد تک کامیاب ہیں ۔ ‘‘ (فیض احمد فیض ؔ )
اس اقتباس میں فیض ؔ نے صاف لفظوں میں فراز ؔ کے کلام کی سچائی ، خلوص ،گدازکو بیان کیا ہے کہ کس طرح فراز ؔ نے زندگی کی حقیقت کو شاعر ی کے پیرائے میں بندہ ہے اور کس طرح قاری کے ذہن میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیض ؔ جیسا شاعر، جب کسی ہمعصر کے بارے میں رائے دے تو وہ کوئی معمولی شاعرنہیں ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ احمد فراز ؔ کی ذہانت اپنے دور کے نئے تقاضوں سے پوری طرح باخبر تھیں ۔ انھوں نے ظلم وجبر اور استحصال کی بے رحم طاقتوں کے مقابلے میں اپنے وطن کے اور دنیا کے کمزور اور دبے کچلے انسانوں کی طرف داری کا عہد کیا تھا اور اس جدوجہد میں اپنے آپ کو کسی بھی طرح کمزور نہیں ہونے دیا اور قربانیاں دے کر آگے بڑھتے رہے ۔ یہ اشعار ملاحظ ہوں : ۔
؂ اے خدا تری مخلوق ، جبر کے اندھیروں میں
دفن ہوچکی کب کی ، تیرے آسمانوں سے
؂ نامزد فرشتوں کی ، اب سفارتیں کیسی
گرچہ احمد فراز ؔ نے اپنی شاعری میں کسی فلسفہ کی بات پیش نہ کی ہولیکن غزلوں میں معنی آفرینی موجود ہے اور معنی آفرینی کا ہنر بڑے فنکاروں کو ہی نصیب ہوتا ہے جو زندگی کے ہر تجربے کواس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان میں معنی کی کئی پردے اپنے آپ ہی نکل جاتے ہیں جو فراز ؔ کے ان اشعاروں میں ملتا ہے :۔
؂ میں نے دیکھا بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
؂ مجھ سے کیا ڈوبنے والوں کا پتہ پوچھتے ہیں
میں سمندر کا حوالہ نہ کنارے کی مثال
فراز ؔ نے پیار ، خلوص ، چاہت یعنی زندگی کے ہر شعبۂ کو اپنی شاعری میں سمولیا ہے اس کے بر خلاف انھوں نے دشمنوں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناکر ان سے ہمیشہ گلے لگانے کی بات کی ہے اور ان کے دلوں میں بھی محبت کا شمع جلانے کی کوشش کی ہے۔جیسے :۔
؂ ستم گری کا ہر انداز محرمانہ لگا
میں کیا کروں مرا دشمن مجھے برا نہ لگا
؂ میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے
؂ آج دشمن کی موت کا سن کر
یوں لگا میں بھی مر گیا کچھ کچھ
؂ آگلے تجھ کو لگالوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری
دشمنوں سے لے کر فراز ؔ نے رشتوں میں پڑے دراڑ کو بھی چھوا ہیں ۔رشتے ترک تعلق ہوجاتے ہیں تو فراز ؔ نے اسے کسی عذاب سے کم نہیں سمجھاہے وہ فرماتے ہیں :۔
؂ اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت
ترک محبت کرنے والوں ! تم تنہا رہ جاؤ گے
؂ آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو
کل کے پچھتاؤے کو بھی امکان میں رکھنا
احمد فراز ؔ کی شاعری میں ہمیں صرف عشق و عاشقی ، غم و درد ، وطن پرستی ، ظلم کے خلاف احتجاج، سیاست سے بے زاری کے موضوع ہی نہیں ملتے بلکہ انھوں نے تو خدا کی عظمت کو بھی خوب سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مزاج میں قناعت پسندی جھلکتی ہے وہ ہر حال میں خدا اور رسول خدا کا شکراور تعریفیں ادا کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ یہاں اس تناظر میں کچھ اشعار پیش کرتے ہیں :۔
؂ ذرے ذرے میں آباد جہاں
خود کو ہر شے میں سمو کر دیکھو
؂ میرے رسولﷺ کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے
؂ نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں میں
؂ یہ افتخار ہے تیرا کہ میرے عرش مقام
تو ، ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے
احمد فراز ؔ نے اپنے کلام میں تشبیہات ‘ استعارات ‘ علامتیں،محاکات ‘ پیکر تراشی اپنی شعری پیکر میں ڈھالا ہے ۔فراز ؔ نے تخلیقی فضا تشبیہات اور علامت نگاری میں قائم رکھا ہے فراز ؔ اپنی شعری پیکر کو روایت کے ساتھ نئے تقاضوں میں ڈھالا ہے غزل ہو یا نظم شعری پیکروں کی نرمی اور سبک روی ان کے یہاں تازگی اور تاثر کی ایک نئی فضا پیداکرتی ہے ۔ ان کے تشبیہات کے کچھ اشعار جس میں فراز ؔ کی نئی آواز سنائی دیتی ہے ۔ کچھ تشبیہات تو ایسی ہیں کہ فراز ؔ کے علاوہ اردو شاعری میں ابھی تک کسی نے نہیں پیش کیے ہیں ۔ مثال کے طور پر کچھ اشعار پیش کیے جاتے ہیں : ۔
؂ ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں
جس طرح بچے کسی تہوار میں خوشی سے گم ہو جاتے ہیں اسی طر ح فراز بھی اپنے محبوب کے پیار میں گم سا ہوگیا ہے ۔
؂ اس قدر دنیا کے دکھ اے خوبصورت زندگی
جس طرح تتلی کوئی مکڑی کے جالوں میں ہے
اس شعر میں تتلی اور مکڑی کو تشبیہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں خوشی موجود ہے اسی طرح غم بھی موجود ہے جس طرح تتلی خوب صورت نظر آتی ہے مگر جب وہ مکڑی کے جال میں پھنس جا تی ہے تو نکانا مشکل ہوتا ہے اس شعر میں فراز ؔ نے تتلی کو خوبصورتی اور مکڑی کو دکھ سے تشبیہ دے کر ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔
؂ سناہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
اس شعر میں پھول کا خیال آتے ہی نزاکت ، خوبصورتی ،مہک ، لچک پن وغیرہ کا تصورذہن میں ابھر آتا ہے فراز ؔ اپنی محبوب کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے محبوب کو دیکھ کر پھول بھی اپنے کپڑے چاک کرتا ہے یعنی اپنے محبوب کے بدن کو پھول سے تشبیہ دیتا ہے۔
فراز ؔ کے کلام میں ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں مل جائیں گی۔
اسی طرح فراز ؔ نے استعارہ کو بھی بخوبی استعمال کیا ہے :
؂ تیز سورج میں چلے آتے ہیں مری جانب
دوستوں نے مجھے صحرا شجر جانا ہے
؂ وداع یار کا منظر فراز یاد نہیں
بس ایک ڈوبتا سورج مری نظر میں رہا
پہلے شعر میں فراز ؔ کا کہنا ہے کہ جب میرے دوست کسی مصیبت میں ہوتے ہیں تو وہ مجھے شجر جیسے استعمال کرتے ہیں یعنی درخت کے مانند مجھے سمجھتے ہیں ۔ دوسرے شعر میں جب میر ا یار مجھ سے جدا ہوا تو میری آنکھوں میں بس اندھرا سا چھایا اور مجھے کچھ یاد نہیں لیکن وہ منظر اس طرح لگا جس طرح ڈوبتا سورج نظر آتا ہے یعنی ڈوبتا سورج کا وہ سرخ پن جو حسین سا منظرلگاتا ہے اسی طرح ان کو اپنا محبوب جاتے جاتے لگا ۔
اب فراز ؔ کی علامت نگاری پر نظر ڈالتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے اپنے اشعار میں علامتوں کا استعمال حسین انداز میں کیا ہے ۔ مثال کے طور پر یہ اشعار ملاحظ فرمائے :
؂ چراغ بجھتے ہی رہتے ہیں پر جواب کے ہوا
اسے ہواؤں کا دیوانہ پن کہا جائے
اس شعر میں چراغ کی علامت پیش کی گئی ہے جس میں فراز ؔ نے معنی کی تہداری جذب کر دی ہے اس شعر کو اگر کشمیر کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس بات کی پوری عکاسی ملتی ہے کہ اس دنیا کے نظام میں جہاں لوگ مرتے رہتے ہیں زندگی کے چراغ بجھتے رہتے ہیں ،ہوا چلتی رہتی ، کسی کوکو ئی فرق نہیں پڑھتا ۔ لیکن جو اب کے ہوا چلی ہے( 8جولائی 2016سے 2018تک) اس نے پوری وادی (تمام چراغوں کو ) روند کررکھ دی ہے اور انسانی زندگی کے چراغوں کو بجھا کر رکھ دیئے ہیں ۔
؂ چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آجاتے ہیں آرے لے کر
دوسرے شعر میں فراز ؔ پیڑ کو علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں پیڑ کے سایہ میں رہنے والے ہی اس پیڑ کو کاٹتے ہیں ۔جس طرح کوئی بڑابزرگ کسی بچے کو پالتا پوستا ہے پھر اس بزرگ کے مرنے پر اس کے وراثت پر لڑتے ہیں یا کوئی کسی کو رہ بری کرتا ہے پھر وہ اسی کے ساتھ دوکا بازی کرتا ہے ۔
فراز ؔ نے سورج ، آگ ، چراغ ، شمعیں اور سمندر وغیرہ جیسے علامتیں استعمال کیے ہیں سب سے زیادہ ان ہی علامتوں کو فراز ؔ نے استعمال میں لائیں ہیں
اسی طرح فراز ؔ نے محاکات اور پیکر تراشی سے بھی اپنی شاعری سجائی ہے ۔
؂ پکارتے رہے محفوظ کشتیوں والے
میں ڈوبتا ہوا دریا کے پار اتر بھی گیا
؂ سناہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
ان اشعاروں میں محاکات ملتے کہ پہلے شعر میں محفوظ کشتیوں والے ڈوبنے والے کو آواز دیتے ہیں مگر وہ ڈوب کے تیرتا ہو ساحل پارکرتا ہے ۔
؂ سناٹے کی جھیل میں تو نے
پھر کیوں پتھر پھنک دیا ہے
؂ ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا
فراز ؔ کی شاعری میں ہمیں اس طرح کی بہت ساری غزلیں ملتیں ہیں جو تشبیہات ، استعارات ،محاکات علامتیں اور پیکر تراشیوں سے لیس ہیں اس کے ساتھ ساتھ فراز ؔ نے اپنے کلام میں بہت سی صنعتیں بھی استعمال کی ہیں مثلاً تضاد ، مراعاۃالنظیرء، سوال وجواب ، تلمیح ، حسن تعلیل وغیرہ کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا ہے ۔
مختصراً یہ کہ احمد فراز ؔ تو غزل اور نظم کے شاعر تھے لیکن میرے خیال میں وہ زیادہ غزل کے ہی شاعر نظر آتے ہیں ۔ غزل میں انھیں اولیت حاصل ہے نظم کے مقابلے غزل بڑی ہنر مندی کا کام ہے اور یہ ڈھنگ ان میں موجود ہیں ۔ غزل لکھنا نظم سے بہت مشکل چیز ہے کیوں کہ غزل میں ہمیں صرف دو مصرعوں میں پوری بات کہنی ہوتی ہے اس کے برعکس پوری نظم میں ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں پھر بھی فراز ؔ نے یہ مشکل راستہ اختیار کیا اور بڑی سادگی اور موثر انداز میں ،اتنا موثر کہ بات دل میں گھر کر جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فراز ؔ کے غزل کے اشعار لوگوں کے ذہن میں نقش رہتے ہیں ان کے جزبے اور فکر میں وہ باسی پن ابھی تک پیدا نہیں ہوا جو اکثر لوگوں کے یہاں دوچار مجموعوں کے بعد پیداہونا شروع ہوجاتاہے ہمارے ادب میں ان کے عہد کے شعرا میں سے ایک فراز ؔ ہیں جس نے عشق کے درس کو عام کیا ۔ تو اعلیٰ اقدار حیات کی بے حر متی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ، عصری حالات پر گہری نظر رکھی انسانی رشتوں کا احترام کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا اوراس کے ساتھ ساتھ خداکی عظمت اور وحدت کو خوب سمجھا اور سمجھایا ۔ فراز ؔ کی شاعر ی کو مدنظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے فیضؔ کے بعد وہ بیسویں صدی کے چند بڑے شعرا کی فہرست میں ان کا نام ضرور شامل ہوگا ۔ اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے اتنی بڑی کہکشاں میں احمد فراز ؔ اپنے لیے ایک قابلِ فخر مقام بنائے ہوئے ہیں ۔آخر میں یہ اشعار ملاحظ فرمائیں:
؂ غمِ حیات کا جھکڑ مٹا رہا ہے کوئی
چلے آؤکہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی
؂ ازل سے کہہ دو کہ رک جا ئے دو گھڑی
سناہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی
؂ وہ اس ناز سے بیٹھے ہیں لاش کے پاس
جیسے روٹھے ہوئے کو منا رہا ہے کوئی
؂ پلٹ کرنہ آجائے پھر سانس نبضوں میں
اتنے حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کوئی
——-
Sajjad Ahmed Sufi