کہانی : اماں ملے تو کہاں ملے ؟ :- مینا یوسف

مینا یوسف

کہانی
اماں ملے تو کہاں ملے ؟

مینا یوسف
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر۔

’’آج بیس سال ہو گئے ہمیں اس شہر میں رہتے ہوئے اپنے علاقے اور گھر والوں سے دور ۔ ۔ ۔ کیوں کہ یہ شہر مجھے بہت پسند تھا ۔ماں باپ نے میری شادی بھی کردی مگر میں بیگم کو لیے اسی شہر کو آ پہنچا اور یہیں میرے دو بچے بھی ہوے ۔یہاں کے لوگ بھی بہت محبت کرنے والے تھے لیکن آج ہوائیں کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہیں‘‘

محمد زماں کھڑکی پر بیٹھا سوچ رہا تھا۔کچھ دیر گزر جانے کے بعد محمد زماں تیار ہوا اور اسکول کے لئے چل دیا جہاں وہ ایک محنتی ٹیچر تھا لیکن آج مزاج میں کچھ کھٹاس تھی،کچھ پریشان سادکھ رہا تھا۔
محمد زماں آج کچھ کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہو’’دوسرے اُستاد نے پوچھا‘‘
کچھ نہیں ’’محمد زماں نے جواب دیا‘‘۔
لیکن پورا دن محمد زماں نے الجھن میں گزارا۔شام کو جب گھر لوٹا تو بیوی نے سوال کیا’’آپ کچھ پریشان نظر آ رہے ،ہے کیا بات ہے؟لیکن محمد زماں اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھامگر چہرے پر وہ چمک نہیں تھی جو روز ہوتی تھی۔بیوی نے پھر سے سوال کیا ،محمد زماں نے سرد آہ بھری اور جواب دیا’’کچھ عجیب سامحسوس ہو رہا ہے،ہوائیں بدلی بدلی سی لگ رہی ہیں،آسماں نے بھی اپنا رنگ بدل لیا ہے،ایک عجیب بے چینی اندر محسوس ہو رہی ہے‘‘۔
ایسا تو کچھ لگ نہیں رہا ہے’’بیوی نے جواب دیا‘‘۔
ساری رات محمد زماں نے اسی پریشانی میں گزار ی اور رات بھر صرف کروٹیں بدلتا رہا۔
اگلے دن جب محمد زماں اپنے اسکول گیا تو وہاں کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا سارے اُستاد خاموش سر جھکائے کھڑے تھے جوں ہی محمد زماں نے وجہ پوچھی تو ایک اُستاد نے ایک پرچی تھما دی جس سے پڑھ کر وہ ایک دم سے چونک سا گیااور الٹے پاؤں گھر واپس لوٹ آیا۔
آپ واپس کیوں آگئے؟’’بیوی نے سوال کیا‘‘۔
محمد زماں خاموش رہا اور جا کر بر آمدے میں بیٹھ گیااور پرچی ہاتھ میں لئے ہوئے بس سوچ رہا تھااور خود سے ہی بڑبڑا رہا تھاکہ آخر کس بناء پر وہ مجھے اسکول سے نکال سکتے ہیں؟
کیا کہہ رہیں آپ ۔ ۔ ۔ نکال دیا!’’بیوی نے کہا‘‘ اور اپنے شوہر کے ہاتھ سے پرچی لے کر پڑھنے لگی لیکن ایسا کیوں؟وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیںآپ کے ساتھ؟آپ نے اتنے سال ایمانداری سے جو کام کیاہے۔
اچانک باہر سے کسی نے شیشے کی بوتل ما ردی جو سیدھے آکر محمد زماں کی بیوی کے سر پر آلگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا فرش لال چادر میں تبدیل ہو گیا ۔محمد زماں نے ہمت کر کے اس کو اٹھا یا اور ہسپتال پہنچایا۔ جہاں اس کی مرہم پٹی کی گئی۔محمد زماں اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں؟
شام کو جب دونوں ہسپتال سے واپس آئے تو اچانک لوگوں کی بھیڑ گھر کے سامنے دیکھ کر دونوں چونک سے گئے۔دونوں اندر جب پہنچے تو گھر پر تالا لگا ہوا تھااور کچھ آدمی موٹے بانس کے ڈنڈے ہاتھوں میں لئے ہوئے کھڑے تھے۔دونوں کو آتے دیکھ کرایک آدمی نے محمد زماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی ہے وہ،تو دوسرے آدمی نے سر ہلا کرحامی بھر دی۔
اب تم یہاں نہیں رہ سکتے’’اُس آدمی نے کہا‘‘
لیکن کیوں؟اتنے سالوں سے تو ہم یہی رہتے آئے ہیں’’محمد زماں نے جواب دیا‘‘۔
اے ماسٹر زیادہ بکواس مت کر۔اپنی برابری ہم سے مت کر، تمہیں اتنے سالوں سے یہاں رہنے دیا،کام کرنے دیالیکن وہ سال ہم نے چین سے نہیں گزارے ہیں اب تم لوگ یہاں نہیں رہ سکتے ۔تم لوگوں کی وجہ سے ہمارے کئی جوان ہلاک ہوگئے ہیں؟’’اُس آدمی نے غصے سے کہا‘‘۔
لیکن اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔میں کہاں جاؤں اور میری بیوی بھی زخمی ہے اُسے بہت گہری چوٹ آئی ہے کچھ تو رحم کرو’’محمد زماں نے عاجز ہو کر کہا‘‘۔
ٹھیک ہے لیکن کل صبح تم دونوں یہاں سے نو دو گیارہ ہونے چاہئے نہیں تو پھر جو ہوگا وہ تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہوگا ‘ یہ کہتے ہوئے وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔
محمد زماں نے گھر کا دروازہ کھولااور بیوی بچوں کو اندر لے کر گیااور چارپائی پر بیٹھ کر خود سے سوچنے لگا کہ کیا اسی لئے مجھے نوکری سے نکال دیا گیا۔اف خدایا ۔۔۔ اس سانحہ سے میرا کیا تعلق ہے؟۔۔۔ میں تو برسوں سے یہیں پر ہوں۔یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوں کی دھارا بہنے لگی۔
رات کے قریب ڈھائی بجے باہر سے آوازیں آنے لگی محمد زماں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو کچھ لوگ ہاتھوں میں مشعلیں لئے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔’’نکل جاؤ،نکل جاؤ،قاتلو نکل جاو ‘‘ اور اتنے میں ان کے گھر پر پتھروں کی برسات ہوئی۔محمد زماں ڈر گیا اور اپنی زخمی بیوی کو جگا کر بچوں کو گود میں اٹھا کر مکان کے پچھلے دروازے سے باہر نکل گئے اور راتوں رات شہر چھوڑ کر کہں دور جانے کا ارادہ کیا۔
ابھی نئے شہر کے ر یلوے اسٹیشن پر ہم ناشتہ کررہے تھے کہ کچھ لوگوں نے ہمیں گھیر لیا اور گالی گلوچ کرنے لگے اور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ تم یہاں سے چلے جاو ۔۔ تم لوگ قاتل ہو ورنہ ۔ ۔ ۔ ؟ بیگم گھبرا اٹھیں اور بچوں کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر بے بسی سے میری طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔
میں نے بیوی بچوں کا ہاتھ تھاما اور جلدی سے دوسرے پلیٹ فارم پر کھڑی ریل میں سوار ہونے لگا تاکہ کسی اور شہر کو جاسکیں ۔ ۔ ۔۔ !