افسانہ – بے نور زندگی :- مینا یوسف

مینا یوسف

افسانہ
بے نور زندگی

مینا یوسف
سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر

’’ساری زندگی ایسے ہی گذار دی’ کیا کروں میں خود اس کے لئے زمہ دار جو ٹھہرا۔ وقت جب تھا تب میں نے پرواہ نہیں کی ۔ اس کی ہر ایک بات کو ٹالتا رہا ۔اس کی ہر خوشی اور ہر بات کو نظرانداز کرتا رہا۔ پر آج میری زندگی میں صرف آہٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ اہ! سلمہ میری سلمہ،کاش کہ آج اس کی ایک آواز سننے کو مل جائے۔

خدا نے مجھے اتنا بے بس اور لاچار بنا دیا ہے کہ میں اپنی سلمہ کو نہ تو دیکھ سکتا ہوں اور نہ سن سکتا ہوں۔ نہ جانے کہاں ہوگی ؟کس حال میں ہوگی ؟زندہ بھی ہے یا مر گئی؟‘‘ سلطان خود کلامی کے بعد تیس پہلے کے ایک درد ناک حادثے میں کھو جاتا ہے۔
کڑکتی دھوپ میں وہ ایک کھٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اچانک اس کی بیوی سلمہ آہستہ سے اس کے پاس آتی ہے ۔ ’’سلطان آج ماں کی بہت یاد آرہی ہے ۔آپ اگر اجازت دیں تو میں جاکر آجاوں ؟‘‘ سلمہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔’’ارے جاؤ کس نے روکا ہے؟ کمبخت جا اور کبھی لوٹ کر نہ آنا تاکہ بچی ہوئی زندگی تو آرام سے جی لوں‘‘سلطان نے غصے میں جواب دیا۔
’’میں نے تو صرف ایک دن کی اجازت مانگی ہے ‘‘ سلطان غصے سے گھورتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ ’’یا خدا کیا عزت ہے عورت کی! ماں باپ کے گھر سے نکلتے ہی عورت کی اہمیت ختم ۔ طعنے اور ذلالت کے سوا اس کی زندگی میں خاک ہے؟‘‘سلمہ اپنے آپ سے۔
آدھی رات کو سلطان گھر واپس لوٹتا ہے ’’ تم گئی نہیں اپنی ماں کے ہاں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے۔ دفعہ کیوں نہیں ہوتی!‘‘
’’ آخر میں نے کیا کیا ہے ؟ آپ ہر وقت اس طرح طعنے کیوں مارتے رہتے ہو؟میں ہمیشہ آپ کو نیکی کی راہ دکھاتی رہتی ہوں اور آپ مجھ سے نفرت کرتے ہو۔ جس دن میں آپ کو چھوڑ کر چلی گئی نا تب بہت پچھتاؤ گے‘‘
’’ ہاں ہاں نفرت کرتا ہوں،تم دفعہ ہو جاو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘یہ کہتے ہی سلطان غصے سے اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔
رات کے ڈھائی بجے باہر سے کچھ آوازیں آتی ہیں’’ آخر ہم کہاں جا ئیں گے ….ہماراکوئی اور گھر تو نہیں… ماں…ماں… بابا…. نکلو نکلو جلدی بھاگو‘‘سلمہ یہ سنتے ہی بھاگتی ہوئی سلطان کے پاس جاتی ہے’’سلطان اٹھو اٹھو باہر پتہ نہیں کیا ہو رہا …. سلطان خدا کے واسطے اٹھو‘‘
’’کیا ہوا تم پاگل تو نہیں ہو گئی‘‘اتنے میں ددروازے سے کھٹ کھٹ کی آوازیں آتیں ہیں۔ سلطان جلدی سے دروازہ کھولتا ہے باہر گاوں کے سارے لوگ چلاتے ہوئے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ایک آدمی نے دوڑتے ہو ئے سلطان سے کہا ’’سلطان بھاگو اب یہ ملک ہمارا نہیں رہا۔ جلدی سے جان بچا کر بھاگو‘‘ یہ سنتے ہی سلمہ نے فوراً سلطان کا ہاتھ پکڑلیا۔ ’’سلطان خدا کا واسطہ میرا ہاتھ نہ چھوڑنا تم جہاں بھی جاوگے مجھے ساتھ لے جانا‘‘ سلطان ’’ ہاں نہیں چھوڑوں گا ،تم بس میرے ساتھ رہنا‘‘
سلطان بھیڑ میں بڑی تیزی سے دوڑنے لگا۔اس کے ہاتھ سے کبھی سلمہ کاہاتھ چھوٹ جاتا تو کبھی پکڑ لیتا۔ صبح نور کے وقت سلطان ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گیا۔ سلطان نے راحت محسوس کی اور سلمہ کی اور دیکھا۔لیکن اس کے ساتھ سلمہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا۔’’کون ہو تم ،تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں کیسے آیا ، میری سلمہ کہاں ہے؟‘‘مگر اس آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا۔سلطان اس کا ہاتھ چھوڑ کر جلدی سے سلمہ کی تلاش میں نکل گیا۔ صبح سے شام تک مسلسل تلاش کرتا رہا مگر وہ ناکام رہا ۔
سلطان تھک ہار کر ایک پیڑ کے نیچے جا بیٹھتا ہے۔آج سلمہ کی کہی ہوئی ساریں باتیں اس کو یادآرہی تھیں۔ آج اسے احساس ہوا کہ سلمہ اس سے کتنی محبت کرتی تھی۔ اچانک اسے سلمہ کا کہا ہوا آخری جملہ یاد آیا’’سلطان خدا کا وسطہ میرا ہاتھ نہ چھوڑنا تم جہاں بھی جاؤ گے مجھے ساتھ لے جانا‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسوں کے دریا بہنے لگے ۔ وہ خوب رویا۔ ’’اے خدا تو نے میری سلمہ کو مجھ سے کیوں دور کر دیا۔ہائے میں اس کو کیوں نہیں سمجھ پایا۔ اب وہ مجھے کیسے ملے گی۔میں کہاں تلاش کروں۔یا خدا رحم بس ایک بار وہ مجھے مل جائے میں اس کو پلکوں پر بیٹھا کر رکھوں گا‘‘سلطان آہیں بھرتا ہی رہ جاتا ہے۔
’’ارے او چچا اٹھو مجھے کمرے کو صاف کرنا ہے‘‘سلطان ہوش میں آتا ہے تو سامنے گھر کے مالک کو پاتا ہے۔سلطان اپنے آپ سے ’’میں کیا تھا اور اب میرا کیا حال ہے۔ کاش کہ میں نے سلمہ کو سمجھا ہوتااور اس کو عزت دی ہوتی تو آج میرا یہ حال ہرگز نہ ہوتا۔ ہائے میری سلمہ!‘‘‘ وہ آہیں بھرتا ہوا گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔

مینا یوسف
سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر

One thought on “افسانہ – بے نور زندگی :- مینا یوسف”

Comments are closed.