عرف و عادات کی شرعی حیثیت :- مفتی امانت علی قاسمی

مفتی امانت علی قاسمی

عرف و عادات کی شرعی حیثیت
اور احکام پر اس کے اثرات

مفتی امانت علی قاسمی
استا ذالحدیث والفقہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآ باد
E-mail:
07207326738 Mob:

بہت سے مسائل عرف و عادت اور لو گوں کے آپسی تعامل کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں،اوربہت سے مسائل عرف کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ،

شریعت کے ثانوی دلائل میں ایک دلیل عرف وعادت بھی ہے، جس کا سمجھنا مزاج شریعت کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے، اسی لیے فقہا کا قول ہے: من لم یعرف بعرف اھل زمانہ وھو جاھل جو زمانہ کے عرف و رواج سے واقف نہ ہو تو وہ جاہل ہے، پیش نظر مضمو ن میں ’’عرف و عادت کی شرعی حیثیت اور احکام پر اس کے اثرات‘‘ سے بحث کی گئی ہے ۔
عرف و عادت کا ماخذ
اس دنیا میں انسان اپنے اختیار سے جو بھی عمل کرتا ہے اسکا کوئی نہ کوئی سبب اور محرک ہوتا ہے،دنیا میں انسان کے اختیاری اعمال کا ظہور کسی سبب ہی کی بنیاد پر ہوتاہے ،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی کسی چیزکا نفع انسان کو عمل کر نے پر آمادہ کرتا ہے،کبھی کسی محترم اور واجب الاطاعت شخصیت کا حکم اس کے عمل کا محرک بنتا ہے، اور کبھی دل میں پیدا ہونے والا انتقامی جذبہ انسان کو بدلہ لینے پر آمادہ کرتا ہے،بہرحال سبب خواہ خارجی ہو یا داخلی انسان کے دل میں اوّلاوہ کسی کام کے کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے پھر جب انسان اس جذبہ کو عملی جامہ پہنا دیتا ہے اور اس کو بار بار کرتاہے، تویہی عمل اسکی عادت بن جا تی ہے،گویا اند رونی جذبہ سے بار بار کیے جانے والا عمل عادت کہلا تا ہے ۔
پھر جب کوئی شخص تقلیداً اس کی نقل شروع کرتا ہے حتی کہ یہ نقل ایک سے زائد افراد تک منتقل ہوتی ہے اور بہت سے افراد اس کو تسلسل کے ساتھ کرنے لگتے ہیں یہی عمل لوگوں کا عرف بن جاتا ہے گویا کسی عمل کا عرف چار چیزوں پر موقوف ہے (۱) اندرونی جذبہ (۲) عمل (۳) تقلید (۴) تکرار،(شریعت میں عرف کا اعتبار اور اس کے حدود و قیود ،ص : ۵۲)

عرف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
عرف کے لغوی معنٰی بخشش ، بھلائی اورجانی پہچانی چیز کے ہیں، اور اصطلاح میں جمہور قوم کا کسی قول یا عمل کواختیار کرنے کا عادی بن جانا عرف کہلاتا ہے ۔ صاحب لغۃ الفقہا ء نے عرف کی حقیقت کو ان الفاظ میں نقل فرمایا:
العرف عادۃ جمہور قوم فی قول او عمل (لغۃ الفقہا ء،ص: ۲۰۹ )
عرف کی دوسری تعریف یہ کی گئی ہے کہ کوئی امر لوگوں کے ذہنوں میں راسخ اور رائج ہوجائے اور فطرت سلیمہ اور اچھے لوگ اسکو قبول کرلیں:
العرف ما استقرت النفو س علیہ بشہا دۃ العقول و تلفتہ الطبا ئع السلیمۃبالقبو ل (قو اعد الفقہ ، ص : ۳۷۷ )

عادت کی تعریف :
عادت کی حقیقت لغت میں کسی امر کے خوگر اور عادی بن جانے کے ہیں، اور اصطلاح میں عادت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی امر بار بار کرنے کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہو اور اچھے اور نیک لوگ اس امر کو بلاتکلف اختیار کرنے لگے ہوں اور پوری قوم اس کو اختیار کرنے کی عادی بن چکی ہو ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں :
ان العا د ۃ ما خو ذۃ من المعا ودۃوھی بتکرر ھا و معا ودتہا مر ۃ بعد اخر ی حتی صا رت معر و فۃ منفردۃ فی النفو س والعقو ل متلقا ۃ با لقبو ل من غیر علا قۃ ولا قر ینۃ حتی صا رت حقیقۃ عر فےۃ (رسا ئل ابن عا بد ین ۲ /۱۱۴)

عرف و عادت کے درمیان فرق :
عرف و عادت کے درمیان فرق کے سلسلے میں تین اقوال ہیں ،پہلا قول یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، شیخ عبد اللہ بن احمد نسفی اور علامہ شامی کی یہی رائے ہے ، دوسرا قول یہ ہے کہ عرف و عادت دونوں الگ الگ ہیں ،عادت سے مراد عرف عملی ہے، اور عرف سے مراد عرف قولی ہے ، تیسر ا قول یہ ہے کہ دونوں کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے عادت عام ہے اور عرف خاص ہے پس ہر عرف عادت ہے لیکن ہر عادت عرف نہیں ہے شیخ مصطفی زرقاء کی یہی رائے ہے (العرف و تطبیقا تہ المعا صر ۃ ، ص : ۱۰ )

عرف کی معتبر ہونے کی دلیلیں :
بعض حضرات نے قرآن کریمہ کی آیت خذالعفو و امربالعرف واعرض عن الجاھلین(اعراف ۱۹۹) سے عرف کی حجیت پر استدلال کیا ہے کہ یہاں عرف سے مراد لوگوں کا اختلاف ہے؛ جبکہ بعض حضرات کی رائے ہے کہ یہاں عرف سے امر بالمعروف مراد ہے ،دوسری دلیل و علی المولود لہن رزقہن وکسوتھن بالمعروف (بقرہ ۲۲۳)ہے ، اس سے معروف عند النا س مراد ہے۔ یہ عرف کی بہت واضح دلیل ہے ابن العر بی لکھتے ہیں :
قدبینا انہ :ای الا نفاق لیس لہ تقدیر شرعا وانما احالہ اللہ سبحا نہ علی العا دۃوھی دلیل اصو لی بنی علیہ الاحکام(اثر العرف فی التشر یع الا سلامی ،ص:۶۷۰)،
عام طور پر حدیث ما راہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن(مسند احمد حدیث نمبر ۳۶۰۰) سے عرف کی حجیت پر استدلال کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ حدیث موقوف ہے، اور یہ عبد اللہ بن مسعودؓ کا قول ہے اس لیے اس سے استدلال کرنا در ست نہیں ہے؛ بلکہ عرف کے معتبر ہونے کی بہتر ین دلیل وہ حدیث ہے: جس میں آ پ نے حضرت ہندہ زو ؤہ ابو سفیان سے نفقہ کے بارے میں فرمایا: خذی انت و بنو ک مایکفیک بالمعروف ( بخا ری ۲؍۸۰۸) اس روایت میں نفقہ کی عام اور مروج مقدار مراد ہے، اس کے علاوہ رسول ﷺنے زما نہ بعثت سے پہلے عربوں میں بعض معاملات سے متعلق جو طریقہ رائج تھا اس کو باقی رکھا جیسے قانون دیت ،یہ بھی عرف کے معتبر ہونے کی طرف اشارہ ہے.قرآن وحد یث کے علاوہ اجماع سے بھی عرف کی حجیت ثابت ہے۔

عرف صحیح اور عرف فاسد :
البتہ کوئی بھی عرف شریعت میں مقبول نہیں ہے بلکہ فقہاء نے عرف کی مختلف تقسیم کی ہے اور بعض قسموں کو معتبر اور بعض کو غیر معتبر قرار دیا ہے اس لیے ضروری ہے ان تقسم کی طرف نظر کرنا ضروری ہے ۔بنیادی طور پر عرف کی دو قسمیں کی جاتی ہیں عرف صحیح اور عرف فاسد ۔ ایسا قولی یا فعلی رواج جس کو قبول کرلینے کی وجہ سے کو ئی نص معطل اور بالکلیہ عمل سے محروم نہ ہو جا تی ہو اور وہ رواج شر یعت کے مسلمہ عمو می قوا عد و مقاصد کے خلاف نہ ہو یہ عرف صحیح ہے۔ عرف صحیح کی مثال : عقد استضاع ہے اسی طرح مہر کو مؤجل اور معجل میں تقسیم کرنا یا نکاح کے پیغام کے وقت جو زیور اور کپڑا لڑکی کو دیا جاتا ہے وہ ہدیہ ہے مہر نہیں۔یہ سب عرف صحیح ہے جس کی رعایت کی جائے گی۔ اور ایسا رواج کہ اگر اس کو قبول کرلیا جائے تو کسی نص پر عمل فوت ہوجائے یا وہ مزاج شریعت کے تسلیم شدہ اصول و قواعد سے متصادم ہو جیسے سودی معاملات ، زنا کا عموم ، اور عورتو ں کو میراث سے محروم کرنا،عورت ومرد کی مخلوط تعلیم یا اجلاس کر نایہ عرف فاسد ہے۔اس عرف کی رعایت نہیں کی جائے گی اس لیے کہ اس کی رعایت کر نے میں نص کا ابطال لازم آئے گا۔

عرف عام اور عرف خاص :
عرف کی دوسری تقسیم عام اور خاص کی ہے ۔عرف عام :یہ وہ عرف ہے کسی معا ملہ میں تمام علاقوں یا اکثر کے تمام لوگوں میں مروج ہو ،عرف عام ،قولی اور فعلی دونوں ہوتا ہے ،عرف عام قو لی کی مثال جیسے ولدسے مذکر مراد لینا اور دابۃ سے حیوان مراد لینا ،عرف عام فعلی جیسے بیع تعاطی اور عقد استضاع یہ تمام شہروں کا عرف ہے۔

عرف خاص:
یہ ہے کہ کسی خاص جگہ یا خاص شہر اور خاص علاقے کے ساتھ مخصوص ہو دوسر ے علاقے میں وہ عرف نہ ہو جیسے مسجد میں قرآن شریف وقف کرنے کا عرف عام ہے اور مسجد میں ہانڈی وقف کرنا عرف خاص ہے۔ .اسی طرح بعض شہر وں میں اجارہ کے سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے؛ جبکہ بعض شہر وں میں جنوری سے ہوتا ہے ،اسی طرح بعض جگہ پر جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے جب کہ بعض جگہ اتوار کو تعطیل ہوتی ہے یہ سب عرف خاص کی مثال ہے ۔

عرف عام اور عرف خاص کا حکم :
عرف عام کے معتبر ہونے پر تمام فقہا ء کا اتفاق ہے اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کلام الناس جیسے وقف ،وصیت وغیر ہ میں عرف خاص بھی معتبر ہے؛ البتہ جب عرف کا تعارض کسی دلیل شرعی سے ہوجائے تو اس صورت میں عرف عام تو بعض شرائط کے سا تھ معتبر ہے ؛لیکن عرف خاص کے با رے میں اختلاف ہے علامہ شامی نے لکھا ہے:راجح یہ ہے کہ ایسی صورت میں عرف خاص کا اعتبار نہیں ہوگا ۔

عرف لفظی اور فعلی کا اعتبار :
عرف لفظی کے مؤثر ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر عرف اور لغت میں تعارض ہوجائے تو عرف کو ترجیح دی جائے گی،علامہ ابن نجیم کا بیان ہے :الا یمان مبنےۃ علی العرف لا علی الحقائق اللغو ےۃ اسی طرح اگر عرف اور شر یعت کی تعبیر میں تعارض ہوتو کلام النا س میں عرفی معنی کو ترجیح ہو گی مثلاً اگر کسی شخص نے گو شت نہ کھا نیکی قسم کھائی اورقر آ ن نے مچھلی کوبھی گو شت (لحم )سے تعبیر کیا ہے؛ لیکن چو نکہ عرف میں مچھلی کو گو شت نہیں کہا جاتا ہے اسلئے مچھلی کھا نے سے حانث نہیں ہو گا ، عرف فعلی کی تبد یلی سے بھی احکا م کی تبد یلی فقہا ء کے یہا ں متفق علیہ ہے ،مثلاً کھلے سر رہنا مشرقی علاقوں میں قبیح سمجھا جاتاہے اور مغربی علاقوں میں قبیح نہیں سمجھا جا تا ہے؛ لہذا مشرقی علا قو ں میں کھلے سر رہنا مروت کے خلاف سمجھا جا ئے گا اور ایسے شخص کی گو ا ہی ردکی جا سکتی ہے جبکہ یہی عمل مغر بی علاقوں میں خلاف مروت نہیں سمجھا جائے گا،عر ف لفظی کی مثالیں:در ھم ،ولد ،لا یضع قدمہ فی دار فلان و غیر ہ ہیں ،عرف عملی کی مثا ل : جیسے بیع تعاطی اورکسی عمل کے بارے میں لو گو ں کی عادت کو عرف عملی کہتے ہیں۔(قا مو س الفقہ )

عرف کے معتبر ہونے کی شرطیں :
عرف کے معتبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ : (۱) وہ عرف یا تو کلی طور پر جاری ہو یا کم از کم غالب ہو،کلی طور پر جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز اس جگہ جب بھی پائی جائے تو لوگوں کا عرف بھی اس میں جاری ہو مثلاً نکاح میں مہر کو مؤجل یا معجل میں تقسیم کرنے کے عرف کو کسی علاقے میں اسی وقت کلی کہا جائے گا جبکہ سب لوگ ہر نکاح میں ایسا ہی کریں . (۲) معا ملہ کے وقت عرف موجود رہا ہو یعنی عرف ان تصرفات میں معتبر ہو گا جو عرف کے بعد پیدا ہوں گے باقی میں جو تصر فا ت پہلے ہو چکے ہیں بعد میں بننے والے عرف کا اس میں کوئی اعتبار نہیں ہوگا ۔(۳) عرف کے خلاف متکلم کی صر احت مو جو د نہ ہواور اگر عرف کے مقابلے میں صر احت آگئی تو اب عمل ہو گا عرف کا اعتبار نہیں لا ن الصر احۃ اقوی من الد لا لۃ.( ۴) عرف کو قبو ل کر نے کی و جہ سے کتا ب و سنت کی کو ئی نص عمل کر نے سے با لکلیہ معطل اور محر وم نہ رہ جا ئے۔

عرف کی تبدیلی کی وجہ سے احکام میں تبدیلی
عرف احکا م شرعیہ میں ایک اہم ما خذ ہے اور جو احکام اپنے زما نہ کے عرف پر مبنی ہو ان میں عرف کی تبد یلی کے سا تھ حکم میں تبد یلی واجب ہو گی اور سا بقہ حکم پر فتو ی دینا جا ئز نہ ہو گا ۔علا مہ قرا فی اختلا ف عرف کی بنا ء پر بعض احکا م میں تبد یلی کا ذ کر کر تے ہو ئے لکھتے ہیں :
اور اس کے علا وہ جو احکام عرف پر مبنی ہیں وہ بے شما ر ہیں جن میں با لا جما ع تغیر عا دت کی وجہ سے حکم بد ل جا تا ہے اور پہلی رائے پر فتو ی دینا حرام قر ار پا تا ہے ۔

عرف کی شرعی حیثیت
احنا ف اور مالکیہ کی رائے ہے کہ عرف ان اصولوں میں سے ایک اصل ہے جس سے احکام میں استنباط کیا جاتاہے یعنی جن پر احکام کی بنیاد رکھی جاتی ہے؛ جب کہ وہاں سے کوئی نص نہ ہو ، علامہ ابن نجیم ؒ فرماتے ہیں :
اعلم ان اعتبار العا دۃ والعرف یر جع الیہ فی الفقہ فی مسائل کثیر ۃ حتی جعلو ا ذا لک اصلا (الا شبا ہ والنظا ئر ۱؍۲۹۵،)
علا مہ قر افی کہتے ہیں :
واما العرف فمشترک بین المذ اھب ومن استقراھا وجد ھم یصرحون بذ الک فیہا(شر ح تنقیح الا صول ،ص:۸۸)
فقہا ء کے در میان الثابت بالعرف کالثابت بالنص بہت مشہو ر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم جو عرف سے ثابت ہو وہ اسی طرح قا بل اعتماد ہے جس طرح نص سے ثابت حکم قا بل اعتماد ہے ۔عرف کی رعا یت شر عی نصو ص کی تغیر اورمطلق کی تقیید اور عام کی تخصیص کے لیے کی جا تی ہے اور عرف کی بنا پر کبھی قیا س کو بھی ترک کر دیا جا تا ہے ۔علم اصول الفقہ میں ہے :
وھو فی تفسیر النصوص فیخصص بہ العام یقید یہ المطلق وقد یتر ک القیا س بالعرف و لھذا صح عقدالا ستضاع بجریان العرف وان کان قیا سا لا یصح لا نہ عقدفی معد وم ( علم اصول الفقہ ،: ۹۱)

شرعی حیثیت کے اعتبار سے عرف کی قسمیں
شرعی حیثیت کے اعتبار سے عرف کی سات قسمیں ہیں :
(۱)عرف متروک: جس کو شر یعت نے قبول ہی نہیں کیا بلکہ خاص نص کے ذریعہ اس کو مسترد کردیا جیسے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے مابین رائج بہت سی چیزوں کو شر یعت نے ممنوع قرار دیا جیسے شراب ،زنا ، چوری ۔اس کا حکم: ظاہر ہے کہ جب شریعت نے اس کو ممنو ع قرار دیا تو یہ ہمیشہ کے لیے ممنو ع ہوگا ، جیسے متبنی کو حقیقی بیٹا شمار کرنا اور نکاح شغار وغیرہ ۔
(۲) عرف مشروع : وہ عرف جس کو شر یعت نے قبول کر کے اپنا حکم شرعی بنالیا یعنی شریعت کے نازل ہو نے کے وقت بہت سی ایسی چیزیں لوگوں کے مابین رائج تھی جن کی شریعت نے اپنے حکم کے ذریعہ تائید و تحسین کی جس کی وجہ سے وہ عرف ’ شرعی احکام میں تبدیل ہوگئے ،مثلاً بیت اللہ کا طواف ، قسامت ، دیت اس طرح کے عرف کا حکم بھی ظا ہر ہے کہ جب شر یعت نے خا ص نصوص کے ذریعہ ان کو اپنا حکم بنالیا تو اب ان میں کو ئی تبدیلی نہیں آ سکتی خوا ہ بعد کے لو گ ان کو اچھا سمجھیں یا برا ، بہر صو رت اپنی اصل پر با قی رہیں گے ۔
(۳)عرف شر عی : ایساعرف جس کا شر یعت کے نا زل ہو نے سے پہلے کو ئی و جو د ہی نہیں تھا شر یعت نے اپنے حکم کے ذ ر یعہ لو گو ں کے ما بین اس کو عا م کیا ۔جیسے وضو ، نماز ،روزہ ،زکا ت طہا رت کی مخصوص شکلیں و غیر ہ . اس کا حکم بھی وا ضح ہے کہ اس طر ح کے عرف میں بھی کو ئی تبد یلی نہیں آ سکتی اس لیے کہ اس سلسلے میں خا ص نصو ص وا رد ہو چکی ہیں ۔
(۴) ایسا عرف جس کے سا تھ نص معلول ہے یعنی . ایسا عرف جس کو شر یعت نے نہ اپنا حکم بنا یا اور نہ ہی اپنے حکم کے ذر یعہ اس کو لوگوں کے ما بین رائج کیا: البتہ اپنے احکا م میں اس کا لحا ظ کیااس معنی کر کے کہ اس کو حکم شر عی کے لیے علت بنا دیا اور حکم کو اسی کے سا تھ معلو ل کیا اس کا حکم یہ ہے کہ عرف کے بد لنے سے اس پر مبنی منصوص حکم بھی بد ل جا ئے گا ،جیسے مالک کی اجا ز ت کے بغیر بکر یو ں کا دو دھ پینا اور با غ میں گرے ہو ئے پھل کو کھا نا،بعض احا دیث میں اسکی اجا زت دی گئی جب کہ بعض احادیث میں اس کی مخا لفت ہے ۔دو نوں قسم کی احا دیث میں تطبیق یہ ہے کہ اصل حکم تو یہ ہے کہ دوسر ے کے ما ل میں اس کی اجا ز ت کے بغیر تصرف کر نا جا ئز نہیں ،اورجن احا دیث میں آ پ نے اجا ز ت دی ہے وہ خا ص زما نے کے عرف پر مبنی ہے۔ شر وع میں اس طرح کے معا ملے میں چشم پو شی کا معا ملہ تھا اس لیے آ پ ﷺ نے اپنے زما نے کے عرف کے مطا بق اجاز ت دی تھی گو یا کہ آ پ نے اپنے حکم میں عرف کو علت بنا یا تھا بعد میں جب لو گوں کا عرف بدل گیا تو آ پ نے خو د حکم بدل دیا ۔
(۵) ایسا عرف جس کی وجہ سے نص کی علت زائل ہو جائے: بعض عرف اس طر ح کے ہو تے ہیں کہ جن کو شر یعت نے اگر چہ اپنے حکم کے لیے علت نہیں بنا تی ؛لیکن جس چیز کو علت بنا تی ہے اس عرف کی و جہ سے حکم کی علت ختم ہو جا تی ہے ۔اس طرح کے عرف کے ذ ر یعہ بھی حکم شرعی میں تبد یلی آ جا تی ہے؛ لیکن اس کو عر ف کی وجہ سے تعبیر کر نا صحیح نہیں ہے ؛بلکہ یہ علت کی وجہ سے حکم کی تبد یلی ہے اس لیے کہ جو حکم علت کے سا تھ معلو ل ہو علت کے ز ائل ہو نے سے حکم بھی ز ائل ہو جا تا ہے ۔جیسے شر و ط فا سد ہ اور عرف، یعنی فقہا ء نے نہی عن بیع و شر ط سے دو شر ط کو مستثنی کیا ہے (۱)خیا ر کی شر ط(۲) جو شر ط لو گو ں کا عرف بن جائے ،اس لیے کہ بیع کے سا تھ شر ط کی ممانعت کی جو علت تھی وہ ان دو نوں شرطو ں میں نہیں پا ئی جا تی ہے ۔
(۶) عرف مبا ح : عرف مبا ح سے مر اد ایسا عرف ہے جو نہ تو بعینہ حکم شر عی ہو اور نہ ہی شر یعت اپنے حکم میں اس کا لحا ظ کر ے ، نہ اس کی وجہ سے منصوص حکم کی علت زائل ہو ، گو یا کہ اس کا شر یعت کے نصوص سے کو ئی تعلق ہی نہیں ،اس طرح کے عرف کا حکم یہ ہے کہ اس کو اختیا ر کر نا جا ئز ہے ۔ اور ایسے مسا ئل عرف کے بد لنے سے بد ل جا تے ہیں ،فقہی کتا بوں میں بکثرت ایسی مثا لیں مو جو د ہیں کہ فقہا ء متقد مین نے جو حکم بیان کیا
تھامتا خر ین نے اس پر عرف کی بنا ء پردوسرا حکم لگا یا اور یہ فرمایا کہ اگر ان کے زما نے میں متقد مین موجو د ہو تے تو وہ بھی وہی حکم لگا تے جو متاخرین نے لگایا ہے جیسا کہ تعلیم قر آ ن پر اجرت کا مسئلہ ہے ، لفظ سر حتک لغت میں طلا ق کے معنی میں صر یح نہیں ہے بلکہ کنا ئی ہے اور الفا ظ کنا ئی سے بغیر نیت سے طلا ق واقع نہیں ہو تی؛ لیکن بہت سے ملکو ں میں لوگوں کا عرف یہ ہے کہ وہ اس لفظ کو طلا ق میں ہی استعمال کر تے ہیں حضرات فقہا ء کرام نے ایسے علا قے میں اس لفظ کو طلاق کے معنی میں صریح قر ار دیا ہے اور نیت کے بغیر طلاق کے وقو ع کا حکم لگا یاہے ۔

(۷) عرف معارض : ایسا عرف جونہ تو حکم شر عی ہو تو نہ ہی حکم شرعی کے لیے علت ہو؛ بلکہ وہ شریعت کے کسی یا نصِ عا م کا معارض ہوتو اس کا حکم یہ ہے کہ نص کے وارد ہو نے کے وقت موجودرہنے والا عرف اگر عام ہو تو نص عام کو عرفی معنی پر محمو ل کیا جائے گا ، خوا ہ عرف لفظی ہو یا عملی اوراگر عرف حادث ہو تو اس عرف کا مطلقاً کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
خلاصہ یہ کہ شریعت میں عرف و عادت کا اعتبار کیا گیا ہے لیکن مطلقا نہیں بلکہ اس کی کچھ شرطیں ہیں اگر یہ شرطیں پائی جائیں تو حکم میں تبدیلی ہوگی یا اس عرف کی بنا ء حکم کا ثبوت ہوگا ۔ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور عرف و عادت کی ان بحثوں کو وقت نظر سے دیکھاجائے اس لیے کہ آج دنیا میں پائی جانے والی نت نئی صورتوں کا حکم عرف و عادت میں عبور اور مہارت کی بناپر آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے