قسط: 13 – تدبّرِ قرآن کی اہمیت : – مفتی کلیم رحمانی

Share
مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی
پوسد ۔ مہاراشٹرا
موبائیل : 09850331536

دین میں قرآن فہمی کی اہمیت
قسط: 13
تدبّرِ قرآن کی اہمیت

دین میں قرآن فہمی کی اہمیت ۔ بارھویں قسط کے لیے کلک کریں

اللہ تعالیٰ نے قرآن سے متعلق جن چیزوں کا حکم دیا ہے اُن میں سے ایک چیز تدبّر قرآن ہے ۔ اور ایک مسلمان کے لئے اللہ کے تمام احکام کو پورا کرنا ضروری ہے ۔ اس لیے مسلمان کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ قرآن میں غورو فکر کرے ۔

تدبّر قرآن کے معنیٰ ہیں قرآن کے معانی ومضامین میں غوروفکر کرنا اور یہ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی قرآن کے معانی ومضامین میں جتنا زیادہ غورو فکر کرے گا اُس کے ایمان و اعمال میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوگا اور تدبّر قرآن سے آدمی جتنی زیادہ غفلت برتے گا وہ اُتنا ہی زیادہ ایمان و اعمال سے غافل ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں غور و فکر نہ کرنے کو منافقین کا روّیہ قرار دیا ، چنانچہ ارشاد ربّانی ہے ۔اَفَلَاْ یَتَدَ بَّرُوْنَ الْقُرآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اِخْتِلَا فاً کَثِیْراً(سورۂ نساء آیت ۸۲) ترجمہ : (کیا یہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے پاس سے آیا ہوتا تو اس میں یہ بہت اختلاف پاتے۔ ) اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب فاضل دیوبند نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں جو کلمات تحریر فرمائے و ہ من و عن ملاحظہ ہوں : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَُ اس آیت سے اللہ قرآن میں غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں ، اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَفَلَا یَقْرَاؤْنَ نہیں فرمایا ۔ اس سے بظاہر ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ وہ اگر گہر ی نظر سے قرآن کو دیکھیں تو ان کو اس کے معانی و مضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا اور یہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی ادا ہو سکتا ہے ۔ صرف تلاوت اور قرأ ت جس میں تدبر اور غوروفکر نہ ہو اس سے بہت سے اختلافات نظر آنے لگتے ہیں جو حقیقت کے خلاف ہے ۔

دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے ، لہٰذا یہ سمجھنا کہ قرآن میں تدبر کرنا صرف اماموں اور مجتہدوں ہی کے لئے ہے صحیح نہیں ہے ۔ البتہ تدبّر کے درجات علم و فہم کے درجات کی طرح مختلف ہوں گے ۔
ائمہ مجتہدین کا تفکر ایک ایک آیت سے ہزاروں مسائل نکالے گا ۔ عام علماء کا تفکران مسائل کے سمجھنے تک پہنچے گا ۔ عوام اگر قرآن کا ترجمہ اور تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر تدبّر کریں تو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہو گی ۔ جو کلیدِ کامیابی ہے ، البتہ عوام کے لئے غلط فہمی اور مغالطوں سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن کو سبقاً سبقاً پڑھیں ۔ یہ نہ ہو سکے تو کوئی مستند و معتبر تفسیر کا مطالعہ کریں اور جہاں کوئی شبہ پیش آئے اپنی رائے سے فیصلہ نہ کریں بلکہ ماہر علماء سے رجوع کریں۔ (معارف القرآن جلد دوم صفحہ ۴۸۸ ؂)
مفتی شفیع صاحب ؒ کے مذکورہ تفسیری کلمات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ معانی قرآن جانے بغیر قرآن کی تلاوت و قرأ ت تدبّر کے درجہ میں نہیں آتی اس لیے محض تلاوت و قرأت سے تدبر کا حکم پورا نہیں ہو سکتا ۔ سورۂ محمد کی آیت ۲۴ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں غورو فکر نہ کرنے کو منافقین کی روش قرار دیا ۔ چنانچہ ان کے اس رویہ پر تنبیہ کرتے ہوئے ارشا د فرمایا :اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا۔(یعنی یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یاان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں ) اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ معانی قرآن میں غوروفکرنہ کرنا منافقین کا طر ز عمل ہے ۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا مؤ منین کا طرز عمل ہے ۔ اور یہ کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے تدبّر قرآن کو قرآن کے نزول کا ایک اہم مقصد قرار دیا چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے : کِتٰبً اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّ بَّرُ وْا اٰیٰتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ اُوْلُوالاَلْبَابْ (سورہ صٓ آیت ۲۹)ترجمہ :۔ (یہ بابرکت کتاب ہم نے آپ ؐ کی طرف نازل کی ہے۔ تاکہ (لوگ ) اس کی آیات میں غوروفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ ) آنحضور ﷺ کی ایک حدیث سے بھی تدبر قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے جو بیہقی اور مشکوٰۃ میں ہے عَنْ عُبَیْدَۃَ الْمُلْیکیؓ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَا اَھْلَ الْقُرْ آنِ لَا تَتَوَسَّدُ وْا القُرْآنَ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ مِنْ اٰنَآءِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَاَفْشُوہُ وَتَغَنُّوْہُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَلَا تَعَجّلُوْا ثَوابَہ‘ فَاِنَّ لَہ‘ ثَوَاباً (بیہقی مشکوٰۃ)
ترجمہ :۔ (حضرت عبیدہ ملیکیؓ صحابی رسول ؐ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : ائے قرآن والوں قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور اس کی تلاوت کرو جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے رات اور دن کے اوقات میں ، اور اس کو خوش آواز سے پڑھو اور اس میں غور فکر کرو تا کہ تم کامیابی کو پہنچو ۔ اور اس کے ثواب میں جلدی مت کرو کیوں کہ اس کے لیے آخرت میں بڑا ثواب ہے )
مذکورہ حدیث سے بھی یہ بات واضح ہو ئی کہ قرآن میں غورو فکر کرنا تلاوتِ قرآن ، اشاعتِ قرآن ، خوش آواز سے قرأتِ قرآن کے علاوہ مستقل ایک عمل ہے کیوں کہ مذکورہ حدیث میں ان تین چیزوں کے ساتھ تدبّر قرآن کا الگ سے حکم ہے ۔ جبکہ حقِّ تلاوت میں معانی قرآن کا مفہوم بھی شامل ہے لیکن اس کے باوجود آپ ؐ نے تدبر قرآن کا حکم دیا اس سے اس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

Share
Share
Share