کتاب: تجاویز – مصنف: ڈاکٹر حامد اشرف – پیش گفتار: پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر

Share


کتاب : تجاویز
مصنف : ڈاکٹر حامد اشرف

پیش گفتار : پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر
شعبۂ اُردو و فارسی
گلبرگہ یونی ورسٹی، گلبرگہ

’’تجا ویز‘‘ دراصل ڈاکٹر حامد اشرف ، (صدر شعبۂ اُردو، مہاراشٹرا اُودَے گری کالج ٗ اُودگیر ضلع لاتور ) کے تنقیدی و تحقیقی اور کچھ سوانحی تبصراتی و تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر حامد اشرف گلبرگہ شریف کے ایک علمی ، دینی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد بزرگوار مولانا محمد عبد الرحیم چلبل اور تا یا محمد عبد النبی چلبل معروف بہ جانی میاں ، ان دونوں نے مسلمانانِ کر نا ٹک کی دینی ، علمی اور تہذیبی سطح کی اصلاحات کی خاطر اپنی ساری زندگی کو گویا وقف کر رکھا تھا، جب کہ ان کے چچا محمد عثمان علی ناظمؔ چلبل نہایت ذکی و فہیم تھے شعرو ادب سے گہری وابستگی تھی ۔ شاعری میں ناظمؔ تخلص باندھتے تھے۔ ڈاکٹر حامد اشرف نے جب فہم و ادراک کی آنکھ واکی تو اپنے اطراف یہی کچھ علمی، مذہبی اور ادبی سر گر میاں دیکھیں اور اس گھرانے کے اخلاقی اور تہذیبی رویوں کو اپنے رگ و پے میں سمو ئے رکھا۔دورانِ طالبِ علمی ہی اپنے والد اور تایا کے سایے سے محروم ہو گئے اور چچا ناظمؔ صاحب کے زیر نگرانی پر ورش پاتے رہے۔ ڈاکٹر حامد اشرف اسم با مسمیٰ صفاتِ حمیدہ شریفہ کے حامل ہیں ابتداء ہی سے اساتذہ اور بزرگو ں کا احترام اپنے ساتھیوں سے محبت ، اطراف و اکناف میں بسنے والے احباب کے ساتھ الفت و یگا نگت وغیرہ جیسے اوصاف ان کے مزاج و منہاج کا حصہ بنتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایم ۔اے اُردو گلبرگہ یونی و رسٹی میں شریک ہونے کے بعد وہاں موجود اساتذہ ڈاکٹر راہی قریشی ڈاکٹرلئیق صلاح ، ڈاکٹر عبد الرزاق فاروقی اور ڈاکٹر عبد القیوم صادق سے انہیں دلی لگاؤ حاصل تھا۔
ایم۔ اے اُردو ٗ درجہ اول (Gold Medalist) میں کامیابی کے معاً بعد اسی شعبے میں جز وقتی استادکی حیثیت سے سے اپنی خدمات انجام دیں ۔ کچھ عرصہ بعد مہاراشٹراکے علاقے اودگیر میں مستقل طور پر درس و تدریس کے فرائض کی انجام دہی میں جُٹ گئے ۔ اور غالباً 1995-96 ء میں ڈاکٹر راہیؔ قریشی کی شخصیت اور فن پر ڈاکٹر محمد اعظم صاحب(احمد نگر) کی زیرِ نگرانی تحقیقی مقالہ تحریر کر کے پونہ یونی ورسٹی پونے سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اُردو شعر و ادب اور اس کے بدلتے دھاروں پر ڈاکٹر حامد اشرف کی نظر گہری ہے۔ مطالعے کی گہرائی اور مشاہدے کی گیرائی کے دوران جن تجربات سے وہ دو چار ہوتے رہے ہیں ان سب کا ثبوت ان کی تحریروں میں مضمر ہے۔
زیرِ نظر کتاب ’’تجاویز ‘‘ میں شامل سارے مضامین اپنے مو ضوع پر مکمل ہیں اور مد لل بھی ۔ شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے مختلف مضامین متنوع حیثیت کے حامل ہیں اور دلچسپ پیرائے میں تحریر کیے گئے ہیں جن کے مطالعے سے ڈاکٹر حامد اشرف کے گہرے مشاہدے ، ادب کے تئیں ان کے صالح رویے اور ان کے عمیق مطالعے سے متعلق آگہی ملتی ہے۔ اپنے احساسات و ادراکات کی تفہیم و تر سیل کے لئے الفاظ کا انتخاب کچھ اس طور کرتے ہیں کہ قاری پر مصنف کا منشا واضح ہو جاتا ہے۔
مضامین کی تر تیب میں موضوع کی اہمیت اور اس کی افادیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ چنانچہ پہلا ہی مضمون علم و ادب کی ایک با وقار شخصیت مو لانا سید محمد کچھو چھوی ، محدثِ اعظم ہند کے قصیدۂ معراجیہ سے متعلق ہے۔ یہ مضمون ’’ قصیدۂ معراجیہ‘‘ کی فنی خو بیوں کے علاوہ اس میں شامل اس کے تقدیسی مو ضوعات کو بھی متعارف کر واتا ہے۔ قصیدے کے پہلے جُزو ’’ تشبیب ‘‘ کے تحت ، مناظر قدرت اور ان کا فطری حُسن ، عرب میں زمانۂ جاہلیت کا ماحول جہاں پیغمبر انقلاب حضرت رسولِ گرامی مر تبت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور کفار انِ قریش کے معاندانہ سلوک کے دوران معراج جسمانی اور عطیات الٰہی وغیرہ کا علم ہو تا ہے۔ جوبجائے خود ایک روحانی سعادت سے کم نہیں۔
دوسرا مضمون ’’ شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں اخترؔ کچھوچھوی کی نعتیہ شاعری کی پُرنور فضا میں سَیر کراتا ہے ۔ علامہ اخترؔ کچھو چھوی کے شعری مجموعے ’’تجلیاتِ سخن‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر حامد اشرف نے نعت گوئی کی روایت بیان کرتے ہوئے ان کی نعتیہ شاعری کا فکری و فنی مطالعہ پیش کیا ہے صنعتوں کے اظہار میں علامہ اخترؔ ؔ کچھو کچھوی کے نعتیہ اشعار ، بطورِ استشہاد پیش کر نے کی انہوں نے کامیاب سعی کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کو شش کی ہے کہ بلا شبہ علامہ اختر کچھوچھوی کا قلب ، معرفتِ الٰہی اور عشق رسول کا خزینہ ہے۔
’’ حکایاتِ سعدی کی ادبی اہمیت‘‘ حکائی ادب پر مشتمل معلومات افزا مضمون ہے ٗ جو فکر و آگہی کے دریچے وا کرتا ہے اور طمانیت فکر ونظر کا سبب بنتا ہے۔حضرت سعدی علیہ الرحمہ پر قلم اُٹھا نا خود اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ڈاکٹر حامد اشرف صحت بخش حکائی روایات کے پاسدار ہیں۔
تحقیق اور علم تحقیق سے متعلق متعدد مضامین اور کتابیں بآسانی دستیاب ہیں لیکن ڈاکٹر حامد اشرف نے ’’ تحقیق کیاہے‘‘ کے اس مختصر سے مضمون میں تحقیق اور اس کی اقسام پر نہایت ضروری معلوما ت فراہم کی ہیں ۔ اس خصوص میں مستشرقین کی خدمات کے علاوہ قاضی عبد الودود ، رشید حسن خان ، مسعود حسین خان وغیرہ کی خدمات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
لو ک گیت کے حوالے سے نسائی ادب کی صورت گری سے متعلق مضمون متاثر کر تا ہے ۔ جو ہمارے روز مرہ معاشرتی ، سماجی اور مذہبی جیسی مختلف تقریبات کی یاد داشتیں مر تب کر تا ہے۔ ’’ اُردو شاعری پر پہلی جنگِ آزادی کے اثرات‘‘ والا مضمون اس دَور کا منظر نامہ پیش کرتاہے ۔شہر دہلی پر قیامتِ صغریٰ کا بر پا ہونے، ان ناگفتہ بہہ حالات میں اصلاحِ احوال کے تحت خطوطِ غالب ،سر سید اور ان کے رفقائے کار کا جہاد بالقلم کرنے اور بعد کے شعراء مثلاً اصغرؔ گونڈوی ، فانیؔ بدایونی ، جگرؔ مُرادآبادی اور یگانہؔ چنگیز ی وغیرھم کی کاوشوں کا تذکرہ نہایت خوبی سے اس مضمون میں ملتا ہے۔
’’اُردو افسانے میں عصری حسیت ‘‘ شاندار مضمون ہے۔ اس میں افسانے کی معروضی تعریف پیش کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ افسانہ، صنفِ نثر کی مقبول ترین صنف کہلانے کے باوجود قاری پر تشنگی کا احساس باقی رکھتا ہے ۔ افسانہ اپنے اقدار کے تعین میں سر گرداں ضرور ہے مگر ، ابھی تک ان اقدار کی قرارِ واقعی تعیین نہیں ہو سکی ۔ اس مضمون میں یہ بتانے کی سعی کی گئی ہے کہ ہر دَور میں افسانہ اپنے خدو خال اور سمت و رفتاربرقرار رکھتے ہوئے تحریکات و رجحانا ت ، نئی ایجادات اور دیگر نظر یات کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر اپنی رُسومیات و ضروریات پوری کرتا آرہا ہے ،اس طرح قاری کو افسانے کے اس پورے ارتقائی سفر کا اطمینان بخش عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی اس مضمون کی خو بی ہے۔
’’ اقبال کا مردِ مو من‘‘ مضمون مختصر مگر اہم ہے۔ پہلی نظر میں عنوان سے مغالطہ ہو تا ہے کہ اس مضمون میں غالباً مو من کی صفات ، علامہ اقبال کے شعری حوالوں کے ساتھ بیان کیے گئے ہوں گے۔ لیکن مضمون کے مطالعے کے بعد وا ضح ہو جاتا ہے کہ یہ مضمون حیدر آباد دکن کی مایۂ ناز شخصیت ’’بہادر یار جنگ بہادر‘‘ کے احوال و آثار سے متعلق بحث کر تاہے۔ ڈاکٹر غلام دستگیر رشید مر حوم نے درست ہی کہا تھا کہ ’’اقبال کا مردِ مو من متشکل ہو کر ’’ بہادر یار جنگ ‘‘ کی صورت میں جلوہ گر ہو اتھا۔
’’ہوئے اس قدر مہذب ۔۔میرا جی‘‘ میں اس کا ابتدائی حصہ میراجی کا شخصی خاکہ پیش کر تا ہے ۔ اسی طرح ’’ اک حرف انقلاب ہیں سر دار جعفری‘‘ والا مضمون سردار جعفری کی شعری ، ادبی اور صحافتی خدمات کا احاطہ کر تا ہے۔
’’ فن رباعی کا نباض : مقبول احمد مقبول‘‘ اس مضمون میں ڈاکٹر حامد اشرف نے صنفِ رباعی کی تاریخ ، روایت اور اس کی ضروریات کو اُجاگر کر تے ہوئے اپنے رفیق کا ر ڈاکٹر مقبول احمد مقبول کی رباعیات کا جہاں تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے وہیں ،ناظمِ رباعیات کی سرگرمیاں ، دل چسپیاں ان کی فکری شخصیت ، تحقیقی صلاحیت ، علم و ادب سے سچی لگن اور ان کے اخلاق و کردار کو بھی عیاں و نہاں کردیا ہے۔مختلف روز مرہ کے مو ضوعات مثلاً قومی یکجہتی، انسان دوستی ،عصری آگہی ، صدقِ دلی تحفظ اقدار کے تحت ان کی رباعیات کا حسین انتخاب ڈاکٹر حامد اشرف کے ذوقِ جمیل کو واشگاف کر تا ہے۔
مہذب اور متمدن ’’حدیثِ دل کی تفسیر‘‘ والا مضمون حیدرآبادی معاشرے کی ایک زندہ دل شخصیت ، ڈاکٹرمحمد عظیم الدین بخش کی سیر وسیاحت والی زندگی کا خوبصورت مر قع پیش کرتا ہے ۔’’ تعلیم و تدریس اور اس کے مسائل‘‘ سے متعلق مضامین اپنے اندر اثر پذیری رکھتے ہیں ۔
’’ اُ ردو کی ایک اہم ویب سائٹ : ریختہ ڈاٹ او آرجی‘‘ ایک معلوماتی مضمون ہے مضمون کا آخری حصہ بطورِ خاص متوجہ کرتا ہے کہ عصر حاضر کے بے شمار مسائل سے دو چار ہوکر افسانہ نگار ، ہمت اور پا مردی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر حامد اشرف نے اپنے چچا محترم محمد عثمان علی ناظمؔ کی خوشگوار زندگی اور اچانک غمناک زندگی میں تبدیلی اور ان کے وصال تک کا تذکرہ کیا ہے جو نہایت عبرت آموز ہے ،جس کا افسانوی طرز اظہارڈاکٹر حامد اشرف کے حِسّ جمال کا آئینہ دار ہے۔
’’الفت ہیں استقامت کی مثال :میر تراب علی‘‘ اس مضمون میں میر تراب علی کے شخصی احوال و کوائف اور سماجی زندگی سے ان کی وابستگی کے علاوہ ان کے بہترین اُستاد ہونے اور ان کی شعری و ادبی کا وشوں کا مو ثر اظہار ملتا ہے۔
الغرض، ڈاکٹر حامد اشرف کی خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت سنجیدہ فراخ دل ، وسیع المشرب صوفیانہ مزاج کے حامل انسان ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں شامل ہر مضمون پر خوب لکھا اور جم کر لکھاہے۔ نفسِ مضمون کو سمجھنے اور سمجھانے کی مخلصانہ کامیاب کو شش کی ہے۔ اپنی تعلیمی ، تدریسی اور تحقیقی مشاغل کے با وصف مطالعے کے لئے وقت نکالا ۔جو کچھ پڑھا جیسے کچھ سمجھا اپنے ان مضامین کے حوالے سے اس کا اظہار کر دیا۔
تا بہ ہنوز ان کی تین کتابیں : (۱) تزئین ادب (۲) دکنی لوک گیت : علاقۂ حیدر آباد
کرنا ٹک کے خصو صی حوالے سے ‘‘ (۳) نذیر فتح پوری کی شعری کائنات ٗ زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر اہل علم و ادب سے دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب ’’تجاویز‘‘ جو ان کے تحقیقی ٗ تنقیدی ، تاثراتی اور تبصراتی مضامین کا مجموعہ ہے جس کی اشاعت پر میں ان کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کر تاہوں۔
ڈاکٹر حامد اشرف کی یہ تحریرات ، متنوع مو ضوعات کی مناسب حال تعبیر و تشریح پیش کرتے ہیں ’’تجاویز‘‘ کا قابلِ قدر پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسے قلم کار کی کاوشوں کا ثمرہ ہے جو بیک وقت ادب اور مذہب دونو ں کا امین اور پاسدار ہے۔ جس کا اندازِ فکر خیر خواہانہ ہو تے ہوئے نہایت مخلصانہ ہے ۔ زبان و بیان ترسیل کے المیے سے پَرے ، صاف، سادہ اور سلیس ہے ۔زیرِ بحث مو ضوع سے متعلق ان کا نقطۂ نظر واضح اور شفاف ہے۔ اُمید ہے کہ یہ کتاب طلبہ ، اساتذہ اور محققینِ علم و ادب کے درمیان شرفِ اعتبار پا جائے گی۔
—–
Dr.Hamid Ashraf Udgir
Mob: 09423351351

Share
Share
Share