تلنگانہ میں اردو کا مستقبل – تابناک یا تاریک :- ڈاکٹر مسعود جعفری

Share
ڈاکٹر مسعود جعفری

تلنگانہ میں اردو کا مستقبل
تابناک یا تاریک

ڈاکٹر مسعود جعفری

عہد گزشتہ میں سارے بر صغیر ہند میں حیدرآ باد کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ یہاں کی سرکاری زبان اردو تھی۔نظم و نسق ،عدلیہ ،دانش گاہوں کی زبان اردو تھی۔جامعاتی سطح پر بھی اردو رائج تھی۔حیدرآباد اردو کا تابناک شہر تھا۔سارے جہاں میں اس کی دھوم تھی۔شاعر عشق و عاشقی داغ دہلوی نے یہ شعر تخلیق کیا۔

اردو ہے جس کا نا م ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
ہندوستان کے کچھ اونچے لوگوں کو یہ اردو اور اس کی آب و تاب اچھی نہیں لگتی تھی۔وہ ایک بہانہ تلاش کر رہے تھے ۔ انہیں اردو کو دربدر کرنا تھا۔وہ سنہری موقع انہیں لسانی ریاست کی تشکیل کے وقت ہاتھ لگا۔1956میں نئی ریاست آندھرا پردیش جنم لی۔بس کیا تھا۔فرقہ پرستی کا عفریت ناچنے لگا۔ترکی کی طرح ریاست حیدرآ باد کی بندر بانٹ شروع ہو گئی۔جس لمحہ کا سیاسی بازیگروں کو انتظار تھا وہ لمحہ وہ پل وہ ساعت آ چکی تھی۔حیدرآ باد کے بلا وجہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ ریاست کا بٹوارہ کر دیا گیا ۔جمہوریت کے نام پر فا شزم کا کھیل کھیلا گیا۔اردو کے گھر کا تین حصوں میں بٹوارہ کیا گیا۔آصفیہ سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ریاست کی غیر فطری تقسیم کی گئی۔اسے Unnatural Divide کیا گیا۔کرناٹک اور مہاراشٹر میں حیدرآ باد کے علاقوں میں ضم کئے بغیر بھی ایک لسانی ریاست بن سکتی تھی۔ دہلی کے وزیروں کو اردو تہذیب و تمدن کو زندہ در گور کرنا مقصود تھا۔وہی کیا گیا جو وہ چاہتے تھے۔اب اردو سمٹ سمٹا کے تلنگانے کی حد تک رہ گئی تھی۔آندھراوں کی زبان و کلچر کی یلغار شروع ہو گئی۔اردو اس یورش میں دب گئی۔کجلا کے رہ گئی۔اردو کلچر پر ایک کار ی ضرب لگی۔وہ راستے وہ گلیاں وہ رستوراں وہ دانش کدے جہاں اردو کا چلن تھا اب وہاں ا ڈ لی سامبر اور ساحلی تلگو کا بول بالا تھا۔اب اردو کہیں کہیں نظر آرہی تھی۔یہ المیہ یہTragedy 17سیپٹمبر 1948کے پولیس ایکشن سے زیادہ تباہ کن تھی۔اردو کلچر اردو تہذیب پل پل مرنے لگی۔زوال کا سورج سوا نیزے پر آگیا تھا۔
مرتا کیا نہ کرتا لوگ حالات سے سمجھوتا کر کے جینے لگے۔اپنے گھروں کے دیوان خانوں میں ادبی نشتیں کرنے لگے۔اردو شعر و شاعری سے لوگوں کی دیوانہ وار محبتوں کا اس وقت پتہ چلتا تھا جب ادبی ٹرسٹ اور شنکر شاد کے کل ہند مشاعرے نمائش گراونڈ پر منعقد ہونے لگے۔ مرد و زن ٹکٹ لے کر مشاعرہ گاہ میں جانے لگے۔یہ عجیب و غریب نظارہ تھا۔ہندوستان کے کسی شہر میں بھی ٹکٹ کے مشاعرے نہیں ہوتے تھے۔یہ امتیاز صرف حیدرآ باد کو حاصل تھا۔یہاں اردو فیسٹول ہمہ گیر و ہمہ نور تھا۔آندھراوں کی گھٹن آ لود رات کا خاتمہ آخر کار2 جون2014 کو ہوا۔فراق کے الفاظ میں۔
رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی
وہ پو پھٹی وہ نئی صبح سی نظر آئی
تلنگانہ پرجا سمیتی حکومت نے اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان کیا ہے۔یہ لفظ دوسری اردو کی راہ میں ایک روڑا بن گیا ہے۔دوسری تیسری کے بھنور سے نکل کر اردو کو ریاست کی ایک Working Language قرار دیا جائے تو بہت بہتر ہو گا۔اردو کو نظم و نسق ،عدلیہ ،تعلیم گاہوں سے جوڑا جائے تو اردو کا کلیان ہو گا۔کسی بھی قوم کی کلچرل شناخت کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے قتل عام کی ضرورت نہیں اس کی ماد ری زبان کو ختم کر دیا جائے تو وہ قوم ازخود بے چہرہ ہو جائے گی۔اسی لئے اس کرہ ارض کے فاتح سکندر اعظم نے مصر کو فتح کرنے کے بعد اس نے اسکندریہ یعنیAlexandria کے عظیم کتب خانے میں آگ لگادی۔وہ جب شعلہ پوش ہو رہی تھی تو سکندر کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔نو آبادیاتی غلامی کی یاد گاروں میں جہاں برطانوی کلچر ہے وہیں انگریزی زبان بھی ہے۔ہندوستان لسانی طور پر آج بھی غلام ہے۔یہ بات گھڑ لی گئی ہے کہ انگریزی سے ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔اردو سے بند ہو جاتے ہیں۔چین کے عظیم قائد ماو زے تنگ کو انگریزی مطلق نہیں آتی تھی۔اس کے باوجود بھی چین ترقی کے راستے پر آ گے بڑھتا رہا۔ایران کے روحانی یا رفسنجانی کو انگریزی نہیں آتی لیکن ایران ایک جوہری ملک بن گیا۔فارسی سے ترقی کیا۔شمالی کوریا ،جاپان ،فرانس ،جرمن ،اسپین ،روس نے انگریزی کے بغیر غیر معمولی ترقی کی ۔اسٹالن ،لینن ،پوتن ،ڈیگال ،کارل مارکس انگریزی سے نابلد تھے۔وہ عالمی سطح کے قائدین تسلیم کئے جاتے ہیں۔
ہندوستان میں ایم جی آر ،انا دوارائے ،کامراج ،کرپوری ٹھاکر ،خان عبدل غفار خان ، سر سید انگریزی سے واقف نہیں تھے۔اس کے باوجود انہوں نے سماج اور ملک کو آگے بڑھانے کا کام کیا۔
نئی تشکیل شدہ تلنگانہ کی حکومت کے پاس مقامی قومی زبانوں کی کوئی منضبط پالیسی نہیں ہے۔آزادی کے بعد سے Three Tyre System کے تحت قریہ ،گاوں ،تعلقہ اور ضلع کی سطح پر پرائمری ،اپر پرایمری ہائی اسکول قائم ہوئے۔اس کے لئے پنچایت راج سے فنڈس مہیا کئے گئے اور عمارتیں بنائی گئیں۔ہائی اسکولوں کو جونیر کالج میں تبدیل کیا گیا۔اسی عمارت میں کالج اور اسکول متوازی طور پر چلنے لگے ۔ضلع اور تعلقہ میں ڈگری کالج بھی ظہور میں آئے۔ورنگل آرٹس اینڈ سائنس کالج میں 1969 تک زریعہ تعلیم انگریزی تھا۔بعد میں تلگو ہو گیا۔اردو طلبا اردو کے ساتھ دو اور مضا مین اختیاری مضمون کے طور پر منتخب کرتے تھے۔پرائمری سے لے کر جونیر کالج تک تلگو اور اردو زریعہ تعلیم تھا۔چیف منسٹر وینگل راو نے اردو میڈیم جونیر کالج بھی متوازی قائم کئے ۔مو جودہ حکومت نے اقامتی اسکول ساری ریاست میں قائم کئے ہیں۔ان کا زریعہ تعلیم انگریزی رکھا ہے۔اردو ایک زبان کی حیثیت سے پڑھائی جارہی ہے۔مادری زبان اردو کو خیر باد کر دیا گیا ہے۔پتہ نہیں دنیا کے کس ماہر تعلیم نے ہمارے چیف منسٹر کو مادری زبان کے بجائے بچوں کو انگریزی پڑھانے کا مشورہ دیا۔وہ نجی اداروں کی طرح کرائے کی عمارتوں میں انگریزی کی تعلیم دے رہے ہیں۔انگریزی میں بنیادی ابتدائی تعلیم دینے کی کیا منطق ہے۔وہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔اس غلط لسانی پالیسی کی وجہہ سے اردو میڈیم کے سارے اسکول ،کالج بند ہوتے جا رہے ہیں۔ا ن میں بچیے داخلہ نہیں لے رہے ہیں۔ٹیچر کے پاس ورک لوڈ نہیں ہے۔Brain Drain کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ریاست کے سر کاری مدارس ویران ہوتے جا رہے ہیں۔اردو میڈیم ا سکول میں دھول اڑ رہی ہے۔ورنگل کی سو سالہ قدیم درس گاہیں اسلامیہ اور محبوبیہ پنجیتن بند ہو چکے ہیں۔کوئی بھی اس میں اڈمیشن نہیں لے رہا ہے۔اردو تحریک کے علمبرداروں کے پاس اردو پڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔وہ اولیائے طلبا کو اردو میڈیم میں داخلہ لینے کی جانب راغب کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ آنے والے دس پندرہ برسوں میں تلگانے میں اردو رسم خط کو پڑھنے والا مشکل سے کہیں ملے گا۔کے سی آر حکومت اور اس کے مشیر زمینی حقیقت کا احساس کریں۔دھرتی کھسکتی جا رہی ہے۔اردو کو بے جڑ Rootlessبنانے کے عمل کو روکیں۔ہزاروں لاکھوں روپیئے موجودہ مدارس کی حالت زار کو بہتر بنانے پر صرف کئے جا ئیں تو اردو کا تحفظ ہو سکے گا۔ہر بچہ کلکٹر یا ڈاکٹر نہیں بنتا ۔کوئی سیاست داں ،کوئی معلم ، کوئی تحصیلدار، کوئی فارسٹ آفیسر ،کوئی صحافی ، کوئی وکیل کوئی سوداگر بنے گا۔اس کے لئے اپنی مادری زبان کو داو پر لگا کر ا یک غیر ملکی زبان پڑھنا کہاں کی دانش مندی ہے؟کیا ٹیگور ،سر سید شبلی آزاد عقل و فہم میں آخری ویسرائے ماونٹ بیٹن سے کم تھے۔کے سی آر حکومت مشاعروں ،قوالیوں اور شام غزل پر لاکھوں روپیئے بے تحاشہ خرچ کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کے سی آر اردو کو ایک کلچرل زبان سمجھتے ہیں۔اسے تعلیمی و علمی زبان تصور نہیں کرتے۔اسے وہ شعر و شاعری نغمہ و سرود کی حد تک رکھنا چا ہتے ہیں۔یہی رویہ دہلی کی سابقہ چیف منسٹر شیلا ڈکشٹ کا اردو کے تعلق سے ہے۔وہ اردو کو تعلیمی سطح پر لانا نہیں چاہتیں۔اردو کو گانے بجانے کی حد تک محدود رکھنے کی خواہاں ہیں۔اردو دھیرے دھرے تلنگانے میں ایک بولی بنتی جا رہی ہے۔چراغ تلے اندھیرا کا وقت ہے۔نئی نسلیں اردو سے بے بہرہ ہوتی جا رہی ہیں۔گوداوری ندی کا تموج اردو کے سرمایہ کو گود لینے بے تاب دکھا ئی دے رہا ہے۔

Share
Share
Share