تعلیم سب کیلئے :- مہر عمر دراز جھاوری

Share
مہر عمر دراز جھاوری

تعلیم سب کیلئے

تحریر: مہر عمر دراز جھاوری
ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ
وفاقی وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت
حکومتِ پاکستان

وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی،ایک وفاقی ادارہ ہے جو کہ وزارت وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت حکومت پاکستان کے ماتحت ضلع سرگودھاسمیت پورے ملک میں ”تعلیم سب کے لئے“ کے حوالہ سے طے شدہ ترقیاتی اہداف ”(Sustainable Development Goals)” کے حصول کے لئے کام کرنے والا واحد حکومتی ادارہ ہے۔

این۔سی۔ایچ۔ڈی کا بنیادی مقصد پڑھے لکھے صحت مند اورپرامن معاشرے کا قیام اور اسکے تین بنیادی پروگرام ہیں۔ ”تعلیم سب کیلئے“
1۔ یونیورسل پرائمری ایجوکیشن
2۔ تعلیم بالغاں
-3 رضاکاریت برائے سماجی ترقی
یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام کے ذریعے ڈسڑکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور ضلعی حکومت کو بنیادی تعلیم کی فراہمی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ جس میں 0-10سال کے تمام بچوں کا گھر گھر سروے ڈسڑکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی معاونت سے ہر چار سال بعد کیا جاتا ہے۔ اس سروے میں این سی ایچ ڈی فیلڈ سٹاف تما م اساتذہ کو پرفارمہ پُر کرنے کے بارے میں اور ریکارڈ مرتب کرنے کے بارے میں باقاعدہ ٹریننگ دیتا ہے۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے مرکزلیول پر این سی ایچ ڈی میں فیلڈآفیسر تعینات ہوتا ہے۔4-09سال کے جتنے بچے کسی بھی گھرانے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔ اُن کے داخلہ نمبر اور تعلیمی ادارہ جہاں بچہ داخل ہے کی تصدیق کرکے اس کے علاوہ جتنے بھی بچے سکول نہیں جا رہے ہوتے یا کسی بھی وجہ سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں اُن کی لسٹ مرتب کی جاتی ہے۔ سروے کے دوران تمام گھرانوں کو باقاعدہ نمبر دیا جاتا ہے اور وہ نمبر 0-4سال کے تمام بچوں اور 4-09سال کے بچوں کو جب یونیورسل پرائمری ایجوکیشن (یو پی ای رجسٹر) میں اندراج کیا جا رہا ہوتا ہے تو گھرانہ نمبر کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ دوران سروے این سی ایچ ڈی اور محکمہ تعلیم کے آفیسران نے مانیٹرنگ کرنا ہوتی ہے اور جہاں کوئی غلطی محسوس ہو وہاں دوبارہ سروے کیا جاتا ہے تاکہ پورے ضلع میں %100نتائج حاصل کئے جا سکیں یو پی ای سروے کے بعد 4-0 سال کے تمام بچوں کی علیحدہ اور 4-9سال کے تمام سکول نہ جانیوالے بچوں کی یو پی ای رجسٹر سالانہ بنیادوں پر گھرانہ نمبر نام، ولدیت، ایڈریس،تاریخ پیدائش معلومات کا انداراج کرکے ایک گورنمنٹ پرائمری سکول مطلب گراس روٹ لیول سے ضلع کی سطح پر ریکارڈ مرتب ہوپاتاہے کہ ایک گورنمنٹ پرائمری سکول کے علاقہ میں کتنے بچے/بچیاں بنیادی تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔ ایک اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے ایریا میں کتنے بچے/بچیاں،پھر تحصیل لیول پر بچوں کی لسٹ مرتب ہوتی ہے اور پھر ٹوٹل ضلع کا ریکارڈ مرتب ہو پاتا ہے کہ اس سال کتنے بچے /بچیاں سکول جانے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ 4-09 سال کے سکول نہ جانے والے بچے جو بنیادی تعلیم کسی بھی وجہ سے حاصل نہیں کر پا رہے اور وہ تمام بچے/بچیاں ضلعی حکومت،ڈسڑکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور این سی ایچ ڈی کا ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ کہ یہ تمام بچے ہر صورت قریبی تعلیمی ادارہ میں داخل ہونے چاہئیے۔اُن کے والدین چاہے اُنھیں پرائیویٹ سکولز میں داخل کروائیں یامدارس میں داخل کروائیں۔ حکومتی تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں یا این سی ایچ ڈی کے کمیونٹی فیڈر سکولز میں داخل کروائیں۔یو پی ای رجسٹر میں موجود بچہ/بچی ہر صورت داخل ہونا چاہیے۔گورنمنٹ سکولز میں فیسیں نہیں لی جاتیں،کتابیں مفت مہیا کی جاتیں ہیں۔ جو والدین بچوں کے لئے یونیفارم نہیں لے سکتے اُن بچوں کو یونیفارم بھی تعلیمی ادارے دیں۔ تو پھر ہر بچے /بچی کو بنیادی تعلیم بھی ہر صورت حاصل کرنی چاہیے۔ این سی ایچ ڈی دوران سروے ضلع بھر کے اندرایسے علاقہ جات جہاں بچوں کی تعداد 30سے زائدہو او ر وہ 4-9سال کی عمر کے ہو چکے ہیں۔ اور ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر کوئی گورنمنٹ یا پرائیویٹ تعلیمی ادارہ کی سہولت میسر نہیں ہوتی اور بچے دوری کی وجہ سے بنیادی تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہوتے۔ تو این سی ایچ ڈی ضلعی حکومت اورڈسڑکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو بنیادی تعلیم کی فراہمی کے حصول کو %100ممکن بنانے کے لئے وہاں کمیونٹی فیڈر سکول قائم کرتا ہے۔ جو کہ کلاس سوئم تک ایک عارضی بنیادوں پر قائم سیٹ اپ ہوتا ہے۔ کمیونٹی فیڈر سکول کے قیام کے لئے جگہ وہاں کی لوکل کمیونٹی نے عارضی بنیادوں پر مفت میں فراہم کرنا ہوتی ہے۔ جہاں کمیونٹی فیڈر سکول قائم کیا جاتا ہے۔ لسٹ کے مطابق تمام سکول نہ جانیوالے بچوں کا %100 داخلہ ممکن بنایا جاتا ہے۔ رضا کار استاد کی خدمات لی جاتی ہیں۔ جسے این سی ایچ ڈی اعزازیہ کے طور پر 8000/-روپے ماہانہ ادا کرتی ہے۔ باقاعدہ انٹرویو کے بعد قابل فرد کو بطور رضا کار استاد تعینات کیا جاتا ہے۔ بطور رضا کار استاد تعیناتی کے بعد مکمل ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ رضا کار استاد کا بینک اکاؤنٹ کھلوا کر اُسے ماہانہ بنیادوں پر اعزازیہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔کمیونٹی فیڈرسکول کو قریب ترین گورنمنٹ پرائمری /ایلمینٹری سکول کا سب کیمپس بنایا جاتا ہے چونکہ دوری کی وجہ سے بچے/بچیاں سکول نہیں جا رہے ہوتے تو اُن کے گھر کے قریب کمونٹی فیڈر سکول کی سہولت مہیا کرکے 100فی صدی داخلہ کا ہدف ممکن بنایا جاتا ہے۔کمیونٹی فیڈر سکول میں زیر تعلیم بچوں کا سلسلہ نمبر قریبی گورنمنٹ پرائمری /ایلمینٹری سکولز میں درج کیا جاتا ہے۔ مفت کتابیں بھی قریبی تعلیمی ادارہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہیا کریگا۔کارکردگی کی جانچ پڑتال کے لئے ہیڈ ماسٹر صاحبان اور محکمہ تعلیم کے دیگر آفیسران نے ماہانہ بنیادوں پر کمیونٹی فیڈر سکول کو وزٹ کرنا ہوتا ہے۔ این سی ایچ ڈی فیلڈ آفیسران اور ضلعی آفیسران نے بھی ماہانہ بنیادوں پر وزٹ کرنا ہوتے ہیں تاکہ گراس روٹ لیول سے ضلع کی سطح تک یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام کے تحت 100فی صد نتائج حصول ممکن ہو پائے۔ یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام کے تحت 100فیصد داخلہ،غیر حاضری کو کنٹرول اور کوالٹی ایجوکیشن میں بہتری کے لئے این سی ایچ ڈی ضلعی حکومت اور ڈسڑکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے شانہ بشانہ کام کرتا ہے تاکہ بنیادی تعلیم کی فراہمی ممکن ہو پائے اور سوفی صدی نتائج کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔این سی ایچ ڈی تعلیم بالغاں پروگرام کے ذریعے 17سال سے 45سال کی اَن پڑھ عورتوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی اُن کے گھر کی دہلیز پر ممکن بنا کر ناخواندہ سے خواندہ بنا کرشرح خواندگی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی مثبت تبدیلی کے لئے کام جاری وساری ہے۔ این سی ایچ ڈی ہیڈ آفس چھ ماہ کے لئے تمام اضلاع کو تعلیم بالغاں پروگرام کے تحت لٹریسی سنٹرز کا ٹارگٹ دیتا ہے کہ150یا 200 لٹریسی سنٹرز بنائے جائیں۔ ضلعی این سی ایچ ڈی آفس محکمہ تعلیم اور لٹریسی ڈیپارٹمنٹ سے میٹنگ کرتا ہے کہ ضلع میں کہاں کہاں پہلے سے کام ہو رہا ہے اور لٹریسی سنٹرز بنائے گئے ہیں پھر اُنہی کے تعاون سے ضلع میں کم لٹریسی ریٹ والی یونین کونسلز سلیکشن کی جاتی ہے این سی ایچ ڈی ایک یونین کونسل میں 20سے 30تعلیم بالغاں کے لٹریسی سنٹرز قائم کرتی ہے ایک لٹریسی سنٹر میں 25اَن پڑھ عورتیں بطور لرنرز انرولڈ (داخل) کی جاتی ہیں۔پانچ ماہ کا شارٹ کورس جس میں تین اُردو کی کتابیں اور ایک ریاضی کی کتاب ہوتی ہے۔صوتی طریقہ تدریس کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے۔ روزانہ دو گھنٹے لٹریسی سنٹر میں کلاس ہوتی ہے جوکہ لرنرز کی مرضی سے لٹریسی سنٹرز کی ٹائمنگ (اوقات) سیٹ کی جاتی ہے۔ اُردو کتاب اول، کے بعد پھر کتاب دوم اور سوئم کے شروع میں لٹریسی ٹیچر کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ریاضی کی کتاب پہلے دن سے اختتام تک جاری رہتی ہے۔ پانچ ماہ میں کورس مکمل کرنا ہوتا ہے۔ پانچ ماہ میں اَن پڑھ لرنرز کوخواندہ بنانے کے ساتھ ساتھ روزانہ بنیادوں پر لٹریسی سنٹرز میں پہلے پندرہ منٹ بنیادی اسلام کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے،غسل کے فرائض،، نماز کا ترجمہ، کلمہ کا ترجمہ ودیگر ارکان اسلام کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ بنیادی صحت کے حوالہ سے تجربہ کار ماہرین کی وساطت سے لیکچر دلوا کر آگاہی دی جاتی ہے۔ گھریلو رہن سہن میں ضروری اشیاء بجلی بل، بینک چیک، دوائی پر Expiry date وغیرہ بارے آگاہی دی جاتی ہے تاکہ خواندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی معاشرتی زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ہر لٹریسی سنٹر میں مقامی سطح سے ہی بیروزگار میٹرک، ایف اے پاس بچیوں کو بطور لٹریسی ٹیچر 5000روپے ماہانہ اعزازیہ پر ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ لٹریسی سنٹر کے لئے مقامی آبادی مفت جگہ مہیا کرتی ہے۔ جہاں پانچ ماہ کے لئے لٹریسی سنٹر چلایا جاتا ہے۔ دس لٹریسی سنٹرز میں روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ اور راہنمائی وبہتری کے لئے لوکل ایریا سپروائزر تعینات ہوتی ہیں۔ جو اُسی کمیونٹی میں سے بی اے پاس بیروزگار بچیوں کو ٹریننگ کی بعد ذمہ داری سونپی جاتی ہے اور ہر لٹریسی سنٹر کے ساتھ لوکل کمیونٹی کے 3مرد رضا کار منسلک کئے جاتے ہیں۔ جنھیں لٹریسی سنٹر اور تعلیم بالغاں پروگرام بارے مکمل آگاہی دی جاتی ہے اور اُن کی ذمہ داریوں بارے ٹرینڈ کیا جاتا ہے۔پوری ایک یونین کونسل میں 20سے 30 لٹریسی سنٹرزتک کو فیلڈآفیسر دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لٹریسی سنٹرز میں ڈراپ آؤٹ کو کنٹرول کرنے،ٹریننگ،پروگرام ڈئزائن کے مطابق پروگرام کو چلانا فیلڈآفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈا ئریکٹر تعلیم بالغاں پورے تعلیم بالغاں پروگرام کو پروگرام ڈیزائن کے مطابق چلانے اور نتائج حاصل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یونیورسل پرائمری ایجوکیشن اور تعلیم بالغاں پروگرام کے ذریعے لٹریسی ریٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی میں بہتری لانا بنیادی مقصد ہے۔پانچ ماہ میں اَن پڑھ خواتین کو لکھنا پڑھنا،انگوٹھا چھاپ سے دستخط کرنا اور دو سے چار ہندسوں کا جمع کرنا سیکھانا کورس مکمل ہونے پر ہر کلاس سوئم کے برابر تمام پاس لرنرز کو درجہ دیا جاتا ہے۔ ضلع سرگودھا میں ابتک 2022تعلیم بالغاں کے لٹریسی سنٹر قائم کرکے 42462 اَن پڑھ شہریوں کو این سی ایچ ڈی کے پلیٹ فارم سے لٹریٹ کیا جا چکا ہے۔ این سی ایچ ڈی تعلیم بالغاں پروگرام کے ذریعے سال 2018 میں تحصیل سرگودھا میں یونین کونسل 87 کے چک نمبر 100،101,اور103میں 20 لٹریسی سنٹرز، یونین کونسل نمبر 77حیدرآباد ٹاؤن میں 3 لٹریسی سنٹر تعلیم بالغاں پروگرام،تحصیل شاہ پور کی یونین کونسل 152 خان پور میں نواب پور، سلطان پور، چک ساہنو، کوٹ خدا بخش، اسلام پور، ڈیرہ بگھور اور ڈیرہ چیمہ میں 20 لٹریسی سنٹرز جبکہ تحصیل کوٹ مومن کی یونین کونسل37 مٹیلہ میں 20 لٹریسی سنٹرز قائم کر چکاہے۔ ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں لٹریسی سنٹرز جیل انتظامیہ کی معاونت سے بنا کر اَن پڑھ قیدیوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی کے لئے کردار ادا کر رہا ہے جس میں لٹریسی ٹیجر جیل انتظامیہ مہیا کرتی ہے۔ روشن ہومز لاہور روڈ پر خانہ بدوشوں کی جھگیوں میں اور بستی خانہ بدوشاں تحصیل بھلوال کی ان پڑھ عورتوں کے لئے بھی لٹریسی سنٹر کھولا گیاتاکہ تمام خانہ بدوش خاندانوں کو بھی بنیادی تعلیم اُن کی دہلیز پر مہیا کرکے سو فی صدی لٹریسی ریٹ کو ممکن بنایا جائے اور سماجی ترقی میں بہتری لائی جائے۔خانہ بدوش جھگیوں میں بنائے گئے کمیونٹی فیڈر سکولز اور لٹریسی سنٹرز کے تمام بچوں اور بڑی عمر کی خواتین کے لئے پرویز لودھی صاحب ممبر پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ فنڈ (PHDF) کے خصوصی تعاون سے سولر لیڈ لائٹس(Solar LED Lights (تقسیم کر چکے ہیں، جبکہ مختار مرزا، روبینہ مختار صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سرگودھا اور انجینئر نذیر ملک وطین ٹیلی کام سرگودھا، محمد عرفان اکبر پرنسپل کمپری ہینسو بوائز ہائی سکول سرگودھا کمیونٹی فیڈر سکولز کے لئے شیلٹر اور لٹریسی خواتین لرنرز کے لئے تحائف تقسیم کر چکے ہیں۔ اسی طرح پاکستان ائیر فورس وویمن ایسوسی ایشن (PAFWA)مصحف ائیر بیس سرگودھاکے تعاون سے ائیر بیس کے اندر دولٹریسی سنٹر قائم کرکے ائیر بیس کے اندر ورکر کلاس کی تقرییاً45 اَ ن پڑھ خواتین کو لٹریٹ کیا گیاہے۔رضا کاریت برائے سماجی ترقی پروگرام کی توسط سے این سی ایچ ڈی یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام میں کمیونٹی فیڈر سکولز میں قائم کردہ فیڈر سکول مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعے رضا کاریت کی فروغ سوفی صد داخلہ غیر حاضری کو کنٹرول،سکول ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سہولیات کی فراہمی، لٹریسی مینجمنٹ کمیٹیوں میں لٹریسی سنٹرز میں بہتری کے لئے کردار،عالمی یومِ اساتذہ،عالمی یومِ خواندگی،عالمی یومِ رضاکاریت سیمینارز،آگاہی سیشن، نچلی سطح پر رضاکاریت کی فروغ کے لئے تگ ودو تاکہ ”تعلیم سب کے لئے“ کے طے شدہ اہداف کا حصول ممکن ہو پائے۔سکول ہیلتھ پروگرام کے زریعے کمیونٹی فیڈر سکولز میں زیر تعلیم بچے /بچیوں کا مکمل طبی معائنہ کروایا جاتا ہے تا کہ اگر بچپن میں بچے کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس سے وہ تعلیم سے دور بھاگ رہے ہیں تو مناسب علاج کروا کر بیماری کا خاتمہ بچپن سے ہی ہو پائے اور تعلیم کے حصول میں حائل رکاوٹ ختم ہو پائے۔ این سی ایچ ڈی کمیونٹی فیڈر سکولز اور تعلیم بالغاں پروگرام کے لٹریسی سنٹر ز والے علاقوں میں بنیادی صحت کی فراہمی،بہتر علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے لئے محکمہ صحت، مخیر حضرات، ادویات کی کمپنیوں اور مقامی رضاکاروں کے تعاون سے فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام بھی کرتاہے تا کہ بنیادی تعلیم اور بنیادی صحت کی فراہمی کے لئے عام شہری کو ہر ممکن سہولت گھر کی دہلیز کے قریب پہنچ پائے۔ چئیرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیراللہ مروت کا ویژن ہے کہ ملک بھر کے تمام اضلاع میں گراس روٹ لیول پر جہاں این سی ایچ ڈی ،، تعلیم سب کیلئے،، کے حوالہ سے طے شدہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی، ضلعی حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی معاونت سے مثبت نتائج کے حصول کے لیئے کردار ادا کر رہا ہے وہاں ساتھ ساتھ منشیات کے عادی شہریوں کاگراس روٹ لیول پر ریکارڈ مرتب کر کے نشے سے بچاؤ،منشیات کی روک تھام اور نشے کے عادی شہریوں کا اچھے طریقے سے علاج معالجہ کروا کر انھیں باعزت شہری بنانے کیلئے تگ و دو کی جائے تاکہ ملک پرامن اور صحت مند معاشرہ قائم ہو پائے۔ میرے نزدیک اگر کسی حکومت کی اوّلین ترجیح صحت اور تعلیم ہو تو اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہے۔این سی ایچ ڈی اٹھارویں ترمیم کے بعد صرف پسماندہ علاقہ جات میں ملک بھر میں بنیادی تعلیم کی فراہمی کے لئے محدود وسائل کے زریعے کام کر رہا ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادارے کی کارکردگی کافی متاثر ہوئی ہے اور ملکی طے شدہ ترقیاتی اہداف خاص،،کر تعلیم سب کیلئے،، کے حوالہ سے گراس روٹ لیول پر تمام اضلاع اور صوبوں میں کام تیزی سے جاری و ساری تھاجس سے ملکی ترقی پر کافی مثبت اثرات مرتب ہورہے تھے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے بے پناہ نقصان کا خدشہ ہے ۔حال ہی میں شعبہ تعلیم کے لئے بجٹ کا اضافہ کرنا حکومت کا ایک احسن اقدام ہے۔وفاقی حکومت اگر انسانی ترقی کے طے شدہ اہداف کے حصول پر کام کرنا چاہتی ہے تو پھر وفاقی ادارہ برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی)کی خدمات سے استفادہ حاصل کرناہوگا۔این سی ایچ ڈی ملک بھر میں تمام اضلاع میں ضلعی حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی معاونت سے گراس روٹ لیول پر جہاں تعلیم سب کیلئے کے حوالہ سے طے شدہ ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے منظم حکمت سے کام کررہاہے، اگر انسانی ترقی کے طے شدہ اہداف کا حصول ممکن بناناہے تو این سی ایچ ڈی واحد ادارہ ہے جو ملک بھر ملک و قوم کی تعمیرو ترقی میں مثبت کردار ادا کر پائے گا۔وفاقی وزیر شفقت محمود وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیراللہ مروت چئیرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ ہیں اورخوشدل خان ڈائریکٹر جنرل این سی ایچ ڈی ہیں۔چئیرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیراللہ مروت نے ضلع سرگودھا کا وزٹ کیا دورانِ وزٹ کمیونٹی فیڈر سکول لکسیاں تحصیل کوٹ مومن میں داخلہ مہم 2019کے تحت سکول نہ جانے والے بچوں کو کمیونٹی فیڈر سکول میں داخل کر کے داخلہ مہم کا آغاز کیا اور تمام زیرِتعلیم بچوں میں بستے،کتابیں اور دیگر تحائف تقسیم کئیے اور کمیونٹی فیڈر سکول میں پودا لگا کر کلین اور گرین پاکستان مہم کا آغاز کیا۔جبکہ کمیونٹی فیڈر سکول جھگیاں خانہ بدوشاں لالہ زار ٹاؤن سرگودھا کا وزٹ کرتے ہوئے دو بچوں کو کمیونٹی فیڈر سکول میں داخل جبکہ تمام بچوں میں یونیفارم اور دیگر قیمتی تحائف تقسیم کیئے اور والدین میں پرویز لودھی صاحب ممبر پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ فنڈ کے تعاون سے سولر لیڈ لائٹس تقسیم کیں۔ چئیرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیراللہ مروت نے ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں جیل انتظامیہ کے تعاون سے بنائے گئے تعلیم بالغاں پروگرام کے تحت لٹریسی سنٹرز کا افتتاح کیا اور زیرِ تعلیم قیدیوں کو تعلیم کے زریعے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی کے حوالہ سے خصوصی تلقین کی جبکہ سابقہ لٹریسی سنٹرز لرنرز میں سولر لیڈ لائٹس اور کارکردگی تعلیمی سر ٹیفیکیٹ تقسیم کئیے اور جیل انتظامیہ کے اعلیٰ کارکردگی پر شیلڈ سپرنٹینڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سید انجم شاہ کو پیش کی گئی۔مظہر ہال سول ڈیفنس سرگودھا میں سالانہ داخلہ مہم 2019-یونیورسل پرائمری ایجوکیشن /سکینڈری ایجوکیشن کے حوالہ سے منعقد سیمینار میں کمشنر سرگودھا ڈویژن سرگودھا شیخ ظفر اقبال کے ہمراہ بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور سکول نہ جانے والے بچوں کو سکول داخل کر کے داخلہ مہم کاآغاز کیاہیومن ڈویلپمنٹ سنٹر چک نمبر 70شمالی نزد حیدرآباد ٹاؤن ضلع سرگودھا سے گریجویٹ خواتین لرنرز میں اسناد، سولر لیڈ لائٹس اور نقد انعام تقسیم کئے گئے۔ضلعی حکومت،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سرگودھا آفیسران، اساتذہ، این سی ایچ ڈی آفیسران اور ضلعی سٹیک ہولڈرز میں کارکردگی شیلڈز تقسیم کی گئی۔ ضلع سرگودھا میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے کمیونٹی فیڈز سکولز 32مختلف ایسی جگہوں پر قائم ہیں جہاں بنیادی تعلیم کے حوالہ سے کوئی سہولت میسر نہیں۔کمیونٹی فیڈر سکولز میں 1470بچے/بچیاں زیر تعلیم ہیں، 14 فیلڈ آفیسر یونیورسل پرائمری ایجوکیشن پروگرام اور 03 فیلڈ آفیسر لٹریسی پروگرام، اٹیچ ڈسٹرکٹ خوشاب میں 03 کمیونٹی فیڈر سکول اور 06فیلڈ آفیسرز جبکہ ضلع منڈی بہاوالدین میں 04 کمیونٹی فیڈر سکول اور 05 فیلڈ آفیسرز جو کہ سکولوں کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ مرکز لیول پر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کے ساتھ 100 % داخلے کو یقینی بنانے کے لئے ڈراپ آؤٹ کو روکنے کے لئے اور کوالٹی ایجوکیشن میں بہتری لانے کے لئے مرکز لیول پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی معاونت کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی دن مثال کے طور پر داخلہ مہم، انٹرنیشنل لٹریسی ڈے، سلام ٹیچر ڈے، رضاکارروں کے عالمی دن کو مرکز، تحصیل اور ضلع کی سطح پر منانے کے لئے محکمہ تعلیم کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ لٹریسی ریٹ میں اضافے،بنیادی تعلیم کی فراہمی اور سما جی ترقی کے ملکی سطح پر طے شدہ اہداف کیلئے گراس روٹ لیول پر کام کر رہاہے۔
—–

Share
Share
Share