ت سے تول اور ت سے ترازو :- ڈاکٹرظہوراحمد دانش

Share

ت سے تول اور ت سے ترازو

ڈاکٹرظہوراحمد دانش
کراچی پاکستان

سامان اور سودا لیتے دیتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا ایک قسم کی چوری اور خیانت ہے جو حرام اور سخت گناہ ہے جس کی سزا جہنم کا عذاب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:
وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ اِذَاکِلْتُمْ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿﴾

ترجمہ کنزلایمان: اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا۔(پ15،بنی اسرآئیل:35)
اللہ تعالی کی پکڑ اور عذاب کو دعوت دینے والے امور میں سے ایک امر ناپ تول میں کمی کرنا بھی ہے۔
قارئین:
جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اللہ تعالی اس قوم کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کسی سے کوئی چیز لیتے وقت پوری پوری لینا اور دیتے وقت کم کرکے دینا ، یہ قبیح فعل شعیب علیہ السلام کی قوم بھی میں پایا جاتا تھا۔شعیب علیہ السلام نے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ باز نہ آئے۔ان کی اس سرکشی کی بنا پر اللہ تعالی نے ان پر دردناک عذاب نازل کیا۔ایک ہفتہ سخت گرمی پڑنے کے بعد ان پر بادلوں کا سایا کایا گیا۔جب لوگ بادلوں کو دیکھ کر ان کے سائے میں جمع ہوئے تو ان پر پانی کے بجائے آگ کے شعلوں کی بارش برسائی گئی۔یہ ان کے اس فعل کی سزا تھی جس سے وہ باز نہیں آتے تھے۔
سورۃ المطففین کی یہ آیت سننے کی سعادت حاصل کیجئے اور ترجمہ پر غور کیجئے !!!!!!!
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ اِذَا اکْتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾وَ اِذَا کَالُوۡہُمْ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمْ یُخْسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾اَلَا یَظُنُّ اُولٰۤئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبْعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾لِیَوْمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿۵﴾یَّوْمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کیلئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔(پ30،المطففین:1۔6)
قارئین :ناپ تول میں کمی کرنے والے عقل کے ناخن لیں ۔کس قدر وہ نادم ہوں گے ۔۔!!خدار!!!!!!ایسا نہ کریں !!ہرگز ایسا نہ کریں ً!!!
اے ناپ تول میں کمی کرنے والو!!!!!!!گاہک کو دھوکہ میں رکھ کر ترازو اور پیمائش اور ماپ کے اوزان میں کمی کرنے والو!!!اس روز کہاں جائے پناہ تلاش کروگے ۔۔
قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ایسے ہی بدنصیبوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ :
ؕاَوْفُوا الْکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُخْسِرِیۡنَ ﴿﴾ۚوَزِنُوۡا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ﴿﴾ۚوَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیۡنَ ﴿﴾ۚ
ترجمہ کنزالایمان:ناپ پوراکرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہواور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فسادپھیلاتے نہ پھرو۔(پ19،الشعراء:181۔183)
آئیے اب ہم اس قبیح فعل یعنی ناپ تول کمی کرنے کے متعلق بارگاہ ِ رسالت سے استفسار کرتے ہیں ۔ہمیں فرمامین مصطفی ﷺ سے اس کے متعلق کیا حکم دیاگیاہے ۔
حضور ا قدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کم ناپ تول کی ممانعت اور مذمت بار بار فرمائی ہے اور ناپ تول پورا پورا دینے کی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ناپ تول کرنے والوں سے فرمایا کہ بیشک تم لوگ ایسے کام پر لگائے گئے ہو کہ ا س کام میں تم سے پہلے کچھ امتیں ہلاک ہو گئیں۔
(سنن الترمذی ، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی المکیال والمیزان، الحدیث:۱۲۲۱، ج۳،ص۹)
قارئین:معلوم ہواکہ ناپ تول میں کمی نہ کرو کیوں کہ تم سے پہلے کچھ ا متوں نے ناپ تول میں کمی کی تھی۔ تو ان پر خدا عزوجل کا عذاب آگیا اور ان کو عذاب الٰہی عزوجل نے ہلاک کر ڈالا لہٰذا تم لوگ ناپ تول کرنے میں ہر گز ہر گز کبھی کمی نہ کرنا ورنہ تمہارے لئے بھی عذاب ِالٰہی سے ہلاکت کا خطرہ ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر میرے آقامدینے والے مصطفی ﷺ فرماتے ہیں :’’ رسول ا للہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک آدمی سے جو مزدوری لے کر تولتا تھا۔ فرمایا کہ زن وارجح یعنی وزن کرو اور کچھ بڑھا کر تولو،کم نہ تولو۔‘‘
( سنن الترمذی،کتاب البیوع، باب ماجاء فی الرجحان فی الوزن، الحدیث:۱۳۰۹، ج۳،ص۵۲)
قارئین ! جہاں تک ہوسکے اس گناہ سے بچتے رہو ۔ہمیں قرآن و احادیث میں بار بار اس قبیح کام سے روکا گیاہے ۔
رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اے گروہ مہاجرين !پانچ خصلتيں ايسی ہيں کہ اگر تم ان ميں مبتلا ہوگئے تو تم پر مصیبتيں نازل ہوں گی، ميں اللہ عزوجل سے پناہ چاہتا ہوں کہ تم انہيں پاؤ: (۱)جب بھی کسی قوم ميں فحاشی ظاہر ہوئی اور وہ اسے اعلانيہ کرنے لگے تو ان ميں ايسے امراض پھوٹ پڑے جو ان سے پہلے لوگوں ميں نہ تھے (۲)جو لوگ ناپ تول ميں کمی کرنے لگے تو ان کی پکڑ قحط سالی، سخت تکلیف اور حکمرانوں کے ظلم سے کی گئی (سنن ابن ماجہ،ابواب الفتن ، باب العقوبات ،الحدیث: ۴۰۱۹،ص۲۷۱۸)
قارئین:
آج ہمارے ہاں یہی رونا ہے پوری نہیں پڑتی ،ہاتھ تنگ ہوگیا،فصل نہیں ہوتی ،گنجائش نہیں ،فاقے ہیں وغیرہ ۔۔کبھی غور کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ہمیں اس آزمائش میں ڈال گیاہو۔آپ نے حدیث مبارکہ سماعت کی جو لوگ ناپ تول ميں کمی کرنے لگے تو ان کی پکڑ قحط سالی، سخت تکلیف اور حکمرانوں کے ظلم سے کی گئی۔الامان والحفیظ
مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس قوم ميں بھی لوٹ مار يعنی چوری کی کثرت ہوئی اللہ عزوجل نے ان کے دلوں پر دشمن کا رعب ڈال ديا، جس قوم ميں بھی زنا عام ہوا ان ميں اموات کی کثرت ہو گئی، جس قوم نے بھی ناپ تول ميں کمی کی اللہ عزوجل نے ان کے رزق کو کم کر ديا، جس قوم نے بھی نا حق فيصلہ کيا ان ميں لڑائی جھگڑا عام ہو گيا اور جس قوم نے بھی عہد کو توڑا اللہ عزوجل نے ان پر دشمن کو مُسلَّط کر ديا۔(مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب تغیر الناس،الفصل الثالث، الحدیث: ۵۳۷۰،ج۳،ص۲۷۶)
میرے تاجر بھائیو!!!!!!!دوکانداربھائیو!!!!!!!!گوشت فروش بھائیو!!!!!سنی آپ نے وعیدیں !!!!!!!!سنی آپ نے عبرت !!!سنا آپ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کا انجام !!!!!!!!!!!!
آہ!!!!!!!!!برائے خاک مدینہ !!!!!!!!!!پلیز اپنی بھلائی کی خاطر !!!!!!!!!!!اپنی نسلوں کی بقا اور ان کے بھلے کی خاطر !!!!!!!!خدارا!!اللہ عزوجل کی رضا اور اس کے حبیب ﷺ کی فرامین کی اتباع کی خاطر !!!!!!!!!!!!ناپ تول میں کمی جیسے گھناونے کام میں ملوث ہیں تو !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
پلیز پلیز ایسا نہ کریں !!!!!!!!خدار ا!!!!!!!!!!!ایسا ہر گز نہ کریں !!!!!!!!!!!!!!!آپ کی خیر خواہی اور بھلائی کی نیت سے ہم آپ تک پیغام پہنچاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز پلیز ایسا نہ کریں !!!!!!!!!!!!!!پلیزایسا نہ کریں ۔۔ہرگز ایسا نہ کریں !!!!!!
گناہوں سے مجھ کو بچا یا الہی
بری عادتیں بھی چھڑایا الہی
خطاؤں کو میری مٹایاالہی
مجھے نیک خصلت بنا یاالہی
مجھے مال و دولت کی آفت نے گھیرا
بچایاالہی بچا یا الہی

Share
Share
Share