کتاب : کہکشاں – مصنف : ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی – مبصر :- ڈاکٹر عزیز سہیل

Share
ڈاکٹر عزیز سہیل

کتاب : کہکشاں
(ادبی‘تہذیبی ومعلوماتی مضامین)

مصنف : ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی
مبصر : ڈاکٹر عزیز سہیل

اکیسویں صدی سائنس وٹکنالوجی کی صدی ہے، اس صدی میں اردوزبان بھی ٹکنالوجی کے ساتھ آراستہ ہورہی ہے،اردوزبان و ادب کو کو ٹکنالوجی سے جوڑنے،ٹکنالوجی کی اہمیت کو اجاگرکرنے اوراس سے متعلق شعوربیدار کرنے میں چنداحباب پیش پیش ہیں،جن میں ریاست تلنگانہ سے ڈاکٹراسلم فاروقی کانام بھی اہمیت کا حامل ہے

وہ آئے دن اپنی ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے سوشیل میڈیا پر چھائے ہوئے رہتے ہیں۔ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی پیشے سے ایک معلم ہیں وہ بحیثیت صدرشعبہ اردو این ٹی آر گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگرپراپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کاوطن نظام آباد ہے فی الحال وہ حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی نے تدریس کے حوالے سے اردو کے آن لائن لیکچررس کی روایات کوتلنگانہ میں عام کیاہے،وہ مختلف کالجس اور یونیور سٹی کی نصابی کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔ ساتھ ہی اورینٹل اردو عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد کے ریسرچ گائیڈ بھی ہیں۔ ہر سال پابندی سے ان کی ایک کتاب شائع ہونے لگی ہے چنانچہ ان کے معلوماتی مضامین کے مجموعے پر مشتمل ایک کتاب”کہکشاں“ کے عنوان سے(2018) میں اردوا اکیڈیمی تلنگانہ اسٹیٹ کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب سے قبل ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی کی تقریباً آدھا درجن کتابیں منظرعام پرآچکی ہیں جن میں قوس قزح(2005)‘ مضامین نو(2012) سائنس نامہ(2013)‘عزیز احمد کی ناول نگاری(2014)‘ برطانیہ میں اردو کا سپاہی حبیب حیدرآبادی (2016)‘دریچے(ادبی مضامین)2017 شامل ہیں۔
”کہکشاں“ڈاکٹراسلم فاروقی کی تازہ تصنیف ہے جس میں ان کے مختلف سائنسی‘معلوماتی‘ادبی اور مذہبی موضوعات پر حالات حاضرہ کے تناظر میں لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ خود صاحب کتاب نے رقم کیا ہے جس میں انہو ں نے کتاب کے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ”بٹ کوائن خیالی کرنسی کے بارے میں مضمون اردو میں اقتصادی معلومات پیش کرتا ہے۔ اسی طرح نوٹ بندی سے متعلق مضامین ہندوستان کے معاشی تناظر میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سیلاب سے متعلق مضامین موضوع سے متعلق شعور بیدار کرتے ہیں۔تلنگانہ میں اردو کی صورتحال‘مجوزہ عالمی اردو کانفرنس اور طلاق سے متعلق سماجی معلومات پر مضامین ہندوستان اور عالمی سطح پر اردو قارئین کے لیے بھر پور معلومات پیش کرتے ہیں،امید ہے کہ نئے زمانے کے طالب علم اور قاری ان مضامین کی پذیرئی کریں گے۔“
پیش لفظ کے بعداس کتاب کا تعارف پروفیسر محمدانورالدین (سابق پروفیسر حیدرآباد سنٹرل یونی ورسٹی)نے لکھا ہے۔ جس میں انہوں ڈاکٹراسلم فاروقی کے تعارف اوران کے قلمی کارناموں پر اظہارخیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ان کے معلوماتی مضامین پر مشتمل یہ ساتویں کتاب”کہکشاں“ زیور طباعت سے آراستہ ہورہی ہے۔ فی زمانہ ماحولیات‘اقتصادیات‘مذہبی مسائل‘اردو زبان کا فروغ اور دیگر سماجی موضوعات پر اردو میں اچھے مضامین لکھنے والے بہت کم ہیں اور ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی اپنے سلیس اسلوب کے ساتھ مضامین لکھتے ہوئے اردو میں سائنسی و معلوماتی مضامین لکھ کر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مضامین بٹ کوائن سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ آلودگی اور سیلاب کے بارے میں ان کے مضامین ماحولیات پر ان کی گہری نظر کی دلالت کرتے ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش اہم طلاق ثلاثہ مسئلہ پر انہوں نے تجزیاتی تحریریں پیش کی ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد اٹھنے والے مسائل اور ان کا حل‘بنکوں کی مالیاتی حالت‘ڈبیٹ کارڈ وغیرہ کے بارے میں اردو میں انہوں نے رہنمائی پر مبنی مواد پیش کیا ہے“۔
اس کتاب کی مشمولات میں جومضامین شامل ہیں وہ کچھ اس طرح ہے ”بٹ کوائن کرنسی کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟“دہلی کی فضائی آلودگی‘دوسرے شہروں کے لیے لمحہ فکر‘کیرالا سیلاب۔اسباب۔مسائل اور حل‘کیسے بنے گاہندوستان ایک کیاش لیس سوسائٹی؟‘نظیر ؔ کا شہر آشوب ہندوستان کے عصری حالات میں‘ڈیبٹ کارڈ دھوکہ دہی‘احتیاط کی ضرورت‘بنک دولت سے نہیں بھروسے سے چلتے ہیں‘آٹا چاہئے یا ڈاٹا؟‘جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں!‘پیشہ وارانہ اقدار وقت کی اہم ضرورت‘کیا ہمیں سرسید ثانی کی ضرورت نہیں؟‘طلاق ثلاثہ میڈیا اور مسلمانوں کا لائحہ عمل‘تین طلاق معاملہ۔شریعت‘قانون اور ہماری ذمہ داریاں‘تلنگانہ میں مجوزہ عالمی اردو کانفرنس تجاویز اور عملی اقدامات‘تلنگانہ میں اردو ذریعے تعلیم سے روزگار کے مواقع مسائل اور امکانات‘کائستھ خاندان کی تاریخ‘۔
اس کتاب کا پہلا مضمون”بٹ کوائن کرنسی کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟“موضوع پرشامل ہے۔ یہ اردوقارئین کے لیے نیا موضوع ہے جس سے واقفیت اردوقارئین کی ضرورت ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹراسلم فاروقی نے فی زمانہ دنیا بھر میں رائج ہورہی ہے تصوراتی کرنسی بٹ کوائن کر کی حقیقت کوواضح کیا ہے اور بہت ہی اہم معلومات اس متعلق فراہم کی ہیں۔ اس مضمون میں ان کاتحریری اندازدیکھیں:
”لوگوں نے عالمی سطح پر دیکھا کہ جب دنیا کے سب کام انٹرنیٹ پر بھروسے سے ہوسکتے ہیں تو کیوں نہ ایک معیاری خیالی کرنسی تیار کی جائے جو عالمی سطح پر مقبول ہو اور جس کی قدر بھی دنیا کی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہو۔ جس طرح آج ہم ڈیجیٹل لین دین کے ذریعے اپنی رقم کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہے ہیں جس میں حقیقی نوٹ یا سونے چاندی، پلاٹینیم کی قیمتی دھاتوں کے تبادلے کے بغیر ایک معیاری بنک کے بھروسے اعداد شمار کے تبادلے سے کاروبار کرتے ہیں۔ لیکن ہندوستان ہو یا امریکہ حکوموتوں کی اچھی بری پالیسیوں کے سبب روپئے اور ڈالر کی قدر میں گراوٹ ہونے سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کے سرمائے کو ایسی کرنسی میں محفوظ رکھا جائے جس پر ملکی حکومتوں کے قوانین لاگو نہ ہوں اس کی شرح بھی بڑھتی رہے اور وہ افراط زر کی لعنت سے محفوظ رہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ماہرین اس جانب کوشش کرتے رہے کہ اس طرح کی کوئی خیالی کرنسی تیار کی جائے جو عالمی سطح پر عوام کے اعتماد اور بھروسے پر کھری اترے چنانچہ چین کے ایک ماہر "ساتوشی ناکاموتو ” نے اسی ڈیجیٹل کرنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی پیپر شائع کیا اور کچھ ہی دن میں 3جنوری2009ء کو ساتوشی ناکاموتو نے”بٹ کوائن“ نامی خیالی کرنسی پیش کی جسے انگریزی میں ورچوئل کرنسی کہا گیا۔چینی زبان میں لفظ "ورچوئل ” کا ترجمہ ( Created from nothing ) ہے“۔
اس کتاب میں شامل دوسرا مضمون دہلی کی فضائی آلودگی دوسرے شہروں کے لیے لمحہ فکر کے موضوع پر شامل ہے جس میں ماحولیات کے حوالے سے ڈاکٹراسلم فاروقی نے دہلی کی فضائی آلودگی اور اس کی روک تھام سے متعلق حکومت کے اقدانات کوبیان کیاہے۔ آلودگی عصرحاضر کے مسائل میں ایک بہت اہم اور سلگتا مسئلہ ہے جس کی طرف ہماری توجہ مبذول ہونا عصرحاضر کا تقاضہ ہے اس لیے کہ جب تک ہم اپنے ماحول کوآلودگی سے پاک نہ کریں تب تک ایک اچھی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ ڈاکٹراسلم فاروقی نے اس مضمون میں دہلی میں فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پرلکھا ہے کہ ”دہلی میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گیے ہیں۔ چیف منسٹر دہلی جو عوام کی توقعات پر پورے اترنے والے عوامی چیف منسٹر کے طور پر مشہور ہیں وہ دہلی کی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے فکر مند ہیں۔ ویسے دہلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سال کے 365دن فضائی آلودگی برقرار رہتی ہے لیکن اب دیوالی کے ایک ہفتہ بعدبھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے تو ہنگامی حالات کے تحت تین دن تک مدارس کو بند کیا گیا ہے۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات کے طور پر دہلی حکومت نے طاق اور جفت اعداد پر مبنی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو ایک دن کے وقفے سے چلانے کی اسکیم کا آغاز کیا۔ اس اسکیم سے ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے اور آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے“۔اس کتاب میں شامل دیگر مضامین بھی معلومات کے اعتبار سے کافی اہم ہیں۔ان مضامین کی خاص بات یہ ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر انگریزی میں تو خاطر خواہ مواد مل جاتا ہے لیکن عصری موضوعات پر اردو میں مواد کی کمی ہے اور ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی اس طرح کے عصری مضامین اردو میں لکھ کر اردو زبان میں عصری موضوعات کے متلاشی قارئین کے لیے بھرپور مواد پیش کر رہے ہیں۔ میں اس کوشش کے لیے فاضل مصنف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اردو کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اپنی ساری کتابوں کو آن لائن محفوظ کردیا ہے۔ اور دنیا بھر سے قارئین ان کتابوں سے استفادہ کر رہے ہیں ان کی یہ کتابیں مشہور اردو ویب سائٹ ”ریختہ“ اور ”بزم اردو“ کے علاوہ این ٹی آر کالج محبوب نگر کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔
ڈاکٹراسلم فاروقی اردوکے ایک باشعور‘متحرک‘فعال ادیب ہیں۔سوشیل میڈیا کے ذریعے وقتاََفوقتاََ اردوکے قارئین کو عصری موضوعات سے واقف کرواتے رہے ہیں۔ ان کا تعلق پیشہ صحافت سے بھی رہا ہے۔ اس حیثیت سے بھی وہ اردوقارئین کو عصرحاضرمیں رونما ہونے والے مسائل اور ادب میں ہونے والی تبدیلیوں سے واقف کروانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جہاں ڈاکٹراسلم فاروقی کی دلچسپی اردو ٹکنالوجی او رعوامی مسائل سے ہے وہیں وہ کھیل کود کی خبروں پربھی اپنی دلچسپی کااظہار کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔
کتاب کو خالصتََا اگر سماجی موضوعات سے مملو کیا جاتا تو بہتر تھا لیکن مصنف نے چند ایک ادبی موضوعات کو اس میں شامل کرکے اس کتاب کے موضوعات کو متنوع کردیا ہے، مصنف کی یہ کاوش اردو میں نہایت قدر و قیمت کی حامل سمجھی جائے گی۔ بہرحال ان کی اس کاوش پر انہیں ڈھیرساری مبارک باد پیش کی جاتی ہے اوران سے اس بات کی امید بھی ہے کہ وہ اردوادب میں ہونے والی تبدیلیوں‘ٹکنالوجی اور سماجی مسائل کو اپنی تحریروں سے اجاگرکرتے رہیں گے۔ دیدہ زیب ٹائٹل اور آئی ایس بی این کے ساتھ 134صفحات پرمشتمل یہ کتاب آن لائن یا مصنف سے فون نمبر 9247191548 پررابطہ پیدا کرتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے۔
—-

Share
Share
Share