اذان کا دوسرا کلمہ- اَشْھدُ اَنْ لّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ (8) :- مفتی کلیم رحمانی

Share
مفتی کلیم رحمانی

اذان کا دوسرا کلمہ،
اَشْھدُ اَنْ لّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ (8)

مفتی کلیم رحمانی
پوسد(مہاراشٹر)
09850331536

اذان کا دوسرا کلمہ، اَشْھدُ اَنْ لّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی ساتویں (7) قسط کے لیے کلک کریں

قرآن مجید میں سورۂ بقرہ کے پانچویں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے اپنے طریقہ کار کو یوں بیان فرمایا،۔

یٰبنیٓ اِسْرآئیلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتیِ الَّتِیْ ٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَھْدِیٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ وَ اِیَّا یَ فَارْھَبوْنَ (سورۂ بقرہ آیت ۰۴) ترجمہ: ائے بنی اسرائیل میری نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی ہے اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرو۔ دوسرے پارے کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خطاب کرکے فرمایا۔ فَاذْکُرُوْنیِٓ اَذْکُرْکُمْ وَ اشْکُرُوالِیَ وَلاَ تَکْفُرُوْن
(سورۂ بقرہ آیت ۲۵۱) ترجمہ: (پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر کرو، اور میرا کفر مت کرو)۔
بارہویں پارے کی شروع کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے رزق کے متعلق اپنی سنت کو بیان فرمایا،اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے خود دینے کا وعدہ فرمایا ہے، ان کے ساتھ بھی انسانوں کی کوشش کو جوڑ دیا ہے،چنانچہ فرمان ِ باری تعالیٰ ہے، وَمَا مِنْ دَآبّۃِِ فِی الْاَرْضِ اِلّاَ عَلی اللہِ رِزْقُھاَ)(سورۂ ہود آیت نمبر۶)ترجمہ(اور نہیں ہے زمین میں کوئی جاندار،مگر اُس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے)مطلب یہ کہ روئے زمین پر جتنی بھی جاندار مخلوقات ہیں،اُن تمام مخلوقات کو رزق پہونچانے کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے،لیکن اس کے باوجود رزق کے حصول کے لیے تمام جانداروں کو کچھ نہ کچھ محنت کرنی پڑتی ہے،چنانچہ اسی رزق کے حصول کے لیے روزانہ لاکھوں کروڑوں پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر رزق تلاش کرتے ہیں،یہاں تک کہ پرندوں کے وہ بچے جو اپنے گھونسلوں سے نہیں نکل سکتے، انھیں بھی اپنی ماں کے چونچ میں کا رزق حاصل کرنے کے لئے اپنا منہ کھولنے اور نگلنے کی محنت کرنی پڑتی ہے، اور اسی رزق کے حصول کے لیے روزانہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دودھ پیتے بچوں کو، اپنی ماؤں کے سینوں کو چوسنے کی محنت کرنی پڑتی ہے،اور اسی رزق کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورۂ جمعہ میں تمام ایمان والوں کو جمعہ کی نماز کی بعد زمین میں پھیلنے کا حکم دیا،اور اسی رزق کے حصول کے لیے حضرت موسیٰ ؑ کو نبوت سے پہلے دس سال بکریاں چرانی پڑی،اور اسی رزق کے حصول کے لیے،خودآنحضرت محمدﷺکو نبوت سے پہلے چند قیراط کے عوض مکہ والوں کی بکریاں چرانی پڑی،اور تجارت کرنی پڑی۔
اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے،اگر اللہ کی طرف سے کوئی چیز صرف عطائی اور وہبی ہوتی، اور اس کے ساتھ محنت کی شرط نہ ہوتی، تو کم از کم پرندوں کے وہ بچے جو اُڑ نہیں سکتے،اور انسانوں کے وہ بچے جو بیٹھ نہیں سکتے، انھیں بغیر محنت کے رزق مل جاتا۔
افسوس ہے کہ وہ مسلمان جو رزق کے حصول کے لئے محنت و مشقت کو دینی لحاظ سے ضروری سمجھتے ہیں،وہ اسلامی حکومت کے متعلق سمجھتے ہیں کہ اس کے لئے کوئی محنت و مشقت کی ضرورت نہیں ہے،در اصل انھیں دین کی سمجھ نہیں ہونے کی وجہ سے شیطان نے انھیں بڑی آسانی کے ساتھ اس غلط عقیدے میں مبتلا کردیا ہے، اس لئے کہ شیطان کو شکست دینے کے لئے صرف عبادات کافی نہیں ہے، بلکہ دین کی سمجھ بوجھ ضروری ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں حضورﷺ نے فرمایا، (وَلَفَقِیہُ وَاحِدُ اَشَّدُّ عَلیَ الْشَیطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدِِ)(ترمذی،ابن ماجہ،مشکوٰۃ)ترجمہ (اور ضرور دین کا ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے)مطلب یہ کہ ہزار عابدوں کو بہکانا شیطان کے لیے آسان ہے، لیکن دین کے ایک فقیہ کو بہکانا شیطان کے لیے بہت مشکل ہے،یہی وجہ ہے کہ آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا،(مَنْ یُّرِدُِاللہُ بِہِ خَیراً یُفَقَِّھِْہُ فِی الدِّینِ)(بخاری و مسلم) ترجمہ (اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے) مطلب یہ کہ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے،اسے دین کا گہرا اور پختہ علم عطا کرتا ہے،جس سے وہ شیطان کے حربوں اور حیلوں کو سمجھ لیتا ہے،اور اس سے بچنے کی تدبیر کر لیتا ہے، لیکن یہ بات واضح رہے کہ دین کا گہرا اور پختہ علم قرآن و حدیث کے تحقیقی اور تفصیلی مطالعے سے حاصل ہوتا ہے، مگر افسوس ہے کہ آج سب سے زیادہ بے توجہی قرآن و حدیث کے تحقیقی و تفصیلی مطالعے کی طرف سے ہی ہے، یہاں تک کہ بہت سے علماء نے بھی قرآن وحدیث کے صرف سرسری علم کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، جس کی وجہ سے شیطان کے لیے مسلمانوں اور عبادت گذاروں کو دین سے ہٹا نا آسان ہو گیا ہے۔
مذکورہ تمام آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانوں اور اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اور فیصلہ ان کی کوششوں اور اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کو عذاب دیا جارہا ہے تو اس کا سبب بھی قوم کا عمل ہے، اور اگرکسی قوم کو انعام دیا جار ہا ہے، تو اس کا سبب بھی قوم کا عمل ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے جنت اور دوزخ کو بھی صرف وہبی و عطائی نہیں رکھا، بلکہ اس کے لیے بھی کچھ کوشش کی شرط رکھی ہے، چنانچہ قرآن میں جہاں کہیں بھی اہل ِ جنت اور اہل دوزخ کا تذکرہ آیا ہے، اس تذکرہ میں خصوصیت کے ساتھ جَزٓاءََ بِمَا کُنْتُمْ تَعمَلُونَ اور جَزَٓاءََ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبوُنَ)کے الفاظ آئے ہیں،یعنی یہ جنت اور دوزخ تمہارے اعمال اور تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے۔
کیا مذکورہ آیات پر ایمان رکھنے والا کوئی فرد یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت و اقتدار صرف ایک عطائی اور وہبی چیز ہے؟ اور پھر بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ اسلامی حکومت صرف اللہ کی عطائی اورو ہبی چیز ہے، تو کیا اس نے مذکورہ آیات کا انکار نہیں کیا؟ مگر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں اپنے طریقہ کار کو اتنی و ضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان کرنے کے باوجود پھر بھی بہت سے لوگ اپنے طریقہ کار کو، اللہ کا طریقہ کار قرار دیتے ہیں ایسے لوگوں کے حق میں بس ہدایت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے، اور انہیں صرف اللہ سے ڈرنے کی ہی تلقین کی جاسکتی ہے، کیونکہ انہوں نے یہ عقیدہ باطل حکومتوں کے ڈر اور خوشنودی ہی میں اختیار کیا ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اللہ کے طریقہ کار کو اپنے چند اشعار میں پیش کیا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
لیکن افسوس ہے کہ آج دنیا میں زیادہ ترمسلمان سیاسی لحاظ سے غیر اسلامی نظریات اور حکومتوں کی محکومیت قبول کئے ہوئے ہیں، جس کی بناء پر میدان سیاست میں ذلت و رسوائی کی صورت میں مسلمانوں پر اللہ کا عذاب بھڑکا ہوا ہے، اور آخرت کا عذاب اس سے شدید تر ہے اس لیے اس گناہ عظیم سے مسلمان جتنے جلد توبہ کرلیں، اور باز آجائے اور اپنی اصلاح کر لیں، ان کے لیے دنیا و آخرت میں اتنا ہی بہتر ہے۔
آج سے تقریباً ڈھائی سو سال پہلے جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت مضبوط ہو رہی تھی اور مسلمانوں کی حکومت کمزور ہو رہی تھی تو اس وقت علماء کرام کو اس بات کی فکر ہوئی تھی کہ مسلمانوں کو انگریز حکومت کی سیاسی غلامی سے بچانے کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک نصاب بنایا جائے، چنانچہ شاہ ولی اللہ محدثؒ کی قیادت میں اسلام کے پانچ کلموں کے نام سے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک نصاب ترتیب دیا گیا تھا جو ایک طرح سے اسلام کے پہلے کلمہلَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہُ مُحَّمَدُ رَسُولُ اللہِ کی تشریح و تقاضہ پر مشتمل تھا، یہ پانچ کلموں کانصاب ایک طرح سے ایک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان حد فاصل کے طور پر تھا، مطلب یہ کہ جو،ان پانچ کلموں کو مانتا ہے وہ مسلمان ہے اور جو ان پانچ کلموں کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں ہے، اور معاشرتی سطح سے ان پانچ کلموں کی اشاعت و تفہیم بھی کرائی جاتی تھی، اس کے لئے خاص طور سے نکاح کی مجلسوں کو استعمال کیا جاتا تھا، اسی طرح دینی مکاتب و مدارس کے ذریعہ بھی ان پانچ کلموں کی اشاعت ہوتی تھی،لیکن اس سلسلہ میں جو کمی رہ گئی وہ یہ کہ ان پانچ کلموں کی اشاعت پر جتنا زور دیا گیا اس کی تفہیم پر اتنا زور نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے ان پانچ کلموں کو پڑھنے اور ماننے کے باوجود بہت سے مسلمانوں نے غیر اسلامی حکومت کی محکومیت اور غلامی اختیار کرلی، آج بھی ان پانچ کلموں کی تفہیم و اشاعت کی شدید ضرورت ہے، ان پانچ کلموں میں سے چوتھا کلمہ اسلامی سیاست و حکومت کی وضاحت ور دعوت لیے ہوئے ہے، اور پانچواں کلمہ غیر اسلامی سیاست و حکومت کی تردید کی وضاحت و دعوت لئے ہوئے ہے، چنانچہ پنجم کلمہ کا نام ہی ردِ ّکفر ہے، یعنی کفر کو ردکرنا، ان میں سے چوتھے کلمہ کا نام توحید ہے، اور اس کے الفاظ اس طرح ہیں، چہارم کلمہ توحید ٰلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحَدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمدُ یُحْیِ وَ یُمِیْتُ بِیَدَہِ الْخَیْرِ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَی ءِ قَدِیْرُ۔ ترجمہ (نہیں کوئی معبود مگر اللہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے اقتدار ہے اور اسی کے لئے حمد ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)
—–

Share
Share
Share