کالم : بزمِ درویش – حضوری :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
حضوری

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

دنیا کے کسی بھی کام کو اگر آپ احسن طریقے سے سر انجام دینا چاہتے ہیں تو آپ کو اُس کام کے ماہر سے راہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ اُس کام کا ماہر اُس کام کو کئی بار کر کے کامیابی کے رموز جان چکا ہوتا ہے اُس شخص کے بتائے طریقے سے پھر آپ ان غلطیوں اور وقت کی بربادی سے بچ جاتے ہیں

جس میں سے وہ شخص پہلے ہی گزر چکا ہوتا ہے استاد کے بغیر آپ سیاہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے ہیں تکا لگ گیا تو کامیاب ورنہ ٹھوکریں ہی ٹھوکریں‘ آسان اور مکمل کامیابی کے لیے استاد کا ہونا بہت ضروری ہو تا ہے اِسی طرح جب ہم وادی تصوف کی پر خار وادی میں داخل ہوتے ہیں تو قدم قدم پر اسراروں کی دھند ناکامی کا خوف تزکیہ نفس مجاہدوں کے دوران جان تک جانے کا خوف اِس لیے کوچہ تصوف میں آپ ایک قدم بھی مرشد کامل کے بغیر نہیں چل سکتے اِسی لیے روز اول سے جب بھی کوئی طالب حق قرب الٰہی تلاش حق کے لیے کوچہ تصوف میں داخل ہوتا ہے تو اُس کی پہلی تلاش ایسے مرشد کامل کی ہو تی ہے جو اِس کے پراسراروں راستوں مجاہدوں ذکر اذکار سے گزر چکا ہو اگر آپ کو مرشد کامل نہیں ملتا تو آپ کی محنت عبادت مجاہدے بہت زیادہ ہو جاتے ہیں پھر بھی کامیابی کے امکانات بہت کم ہو تے ہیں اِس لیے جب بھی کو یہ پراسرار علوم یا گلشن ِ تصوف میں داخل ہوتا ہے تو مرشد کامل کی بارگاہ میں پیش ہو کر مرشد کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر مرشد کی زیر نگرانی تزکیہ نفس اور مجاہدوں کے ریگستان میں ننگے سر ننگے پاؤں چلنا شروع کردیتا ہے اِس لیے اِسی طرح ایک طالب بابا فرید ؒ کے دور میں بھی ملکوں ملک خاک چھانتاہوا بیت المقدس پہنچ گیا وہاں پر موجود متلاشیان حق کی صحبتوں سے خوب فیض یاب بھی ہوا لیکن نور حق کے دیدا ر سے محروم ہی رہا تو وہاں پر موجود درویشوں کی زبانی اجو دھن میں مقیم بابا فریدؒ کی بہت زیادہ تعریف شہرت سنی کہ اِس وقت زمین پر سب سے بڑے بزرگ جنہوں نے بے شمار کا بر اولیاء کرام کی صحبتوں سے فیض حاصل کیا طویل ریاضت عبادت کے بعد نوری پیکر بن چکے ہیں وہی ہیں جو تمہاری تلاش اور خالی سینے کو نور حق سے بھر سکیں اب تم اجو دھن میں بارگاہ فریدی ؒ میں جاکر دامن مراد پھیلاؤ اب وہی تمہارا مسیحا ہے وہیں تمہاری تلاش کی منزل ہے اب وہ سالک طویل سفر کے بعد اجودھن تشریف لا کر شہنشاہ معرفت بابا فرید ؒ کے حضور پیش ہوتا ہے بابا فریدؒ نے فطری شفقت محبت سے اُسے گلے سے لگایا خادموں کو حکم دیا کہ آنے والے مہمان کی خوب خاطر مدارت کی جائے اِس دوران لوگوں نے محسوس کیا کہ آنے والا ٹکٹکی باندھے بابا فرید ؒ کے چہرے مبارک کو والہانہ نظروں سے دیکھے جارہا ہے لوگ حیران تھے کہ یہ کھانا نہیں کھا رہا ہے بلکہ بابا جی ؒ کو ہی حیران محبت بھری نظروں سے دیکھی جارہا ہے پھر اچانک وہ شخص اٹھا اور دوڑ کر بابا جی کے ہاتھ پکڑ کر بار بار بو سے لینے لگا اور پر جوش آواز میں بولنے لگا یا شیخ آپ کو تو میں نے بیت المقدس میں بھی دیکھا تھا اور آپ کا نام مبارک بھی پوچھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ میں شیخ اجو دھنی ہوں تو شاہ پاک پتن بو لے تم درست کہہ رہے ہو لیکن تم نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ تم یہ بات کسی کو بھی نہیں بتاؤ گے تو مہمان بولا میرے شہنشاہ آپ ؒ درست فرمارہے ہیں لیکن میں اپنی حیرت اور خوشی پر قابو نہ پاسکا تو بابا فریدؒ بولے تم ٹھیک کہہ رہے تو تمہیں ایک حقیقت بتاتا ہوں کہ اولیاء اللہ ددنیا کے کسی بھی خطے میں رہیں خانہ کعبہ بیت المقدس روضہ رسول ﷺ اُ ن کی نظروں کے سامنے رہتا ہے اہل حق جسمانی الائشوں سے پاک ہو کر پیکر نور بن کے سیر الارض کر تے ہو ئے زمین کے کسی بھی حصے میں چند قدموں سے ہی جاسکتے ہیں مہمان حیران نظروں سے بابا فریدؒ کا چہرہ مبارک دیکھ رہا تھا تو شیخ اجو دھنی دلگیر لہجے میں بولے تو چلو ابھی تم کو مشاہدہ کرائے دیتے ہیں آنکھیں بند کرو اور خدا کی قدرت کا نظارہ کرو اب مہمان نے آنکھیں بند کر لیں تو عجب نظارہ دیکھتا ہے کہ اُس کے سامنے بہت المقدس کے روشن نظارہ تھا مہمان حیران تھا کہ اُس کا جسم اجو دھن میں درویش کے پاس تھا جبکہ بند آنکھوں سے وہ بیت المقدس کا نظارہ اِس طرح کر رہا تھا جیسے وہ اجو دھن میں نہیں بلکہ بیت المقدس میں ہو بابا فریدؒ کا روحانی تصرف اور شانِ درویشی دیکھ کر نعرہ مار کر بے ہو ش ہوگیا ہوش میں آیا تو بابا فرید ؒ کے قدموں سے لپٹ گیا اور چیخ چیخ کر پکارنے لگا جس مر شد کامل کی تلاش میں بر سوں میں جنگلوں پہاروں دریاؤں ریگستانوں کی خاک چھانتا پھر رہاہوں ہو مرد کامل تو آپ ؒہیں میری منزل تو آپ ؒ ہیں خدا کے لیے مجھے اپنی غلامی میں لے لیں میرے گلے میں غلامی کا پٹہ دال دیں دلوں کے مسیحا بابا فریدؒ نے مرید بنایا تھوڑی مدت میں ہی راہ سلوک کے پر خطر راستے سے گزار کر خلافت عطا کر کے ہستیاں بھیج دیا تا کہ وہاں بھی معرفت کی روشنی بانٹی جاسکے وہاں پر بھی معرفت کا اسلام کا مینار روشن ہوسکے- روحانیت اور تصوف کے منکرین اسی کرامات پراعتبار نہیں کر تے لیکن ان کی اصلاح کے لیے قرآن مجید میں ملکہ سبا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے جبکہ آصف بن برخیا نے حضر ت سلیمان ؑ کے حکم پر پلک جھپکنے میں ہی ملکہ صباہ کاکئی گز لمبا چوڑا تخت دربار سلیمان ؑ میں پیش کر دیا تھا جس کے بارے حق تعالی فرماتے ہیں ہم نے اُس کو کتاب کا علم عطا کیا تھا جب بھی کو ئی انسان خود کو الہی رنگ میں ڈھال لیتا ہے جسمانی کثافت کو دھو کر پیکر لطافت بن جاتا ہے تو پھر وہ سیف زبان ہو تا ہے کن فیکون کا مالک ہو تا ہے جو وہ کہتا ہے ہو جاتا ہے اہل حق کو یہ مقام کیسے حاصل ہوتا ہے ایک اور ایمان افروز واقعہ ھدیہ قارئین ہے سلطان ہندوستان غیاث الدین بلبن سے ایک بار سونے کے سکوں کے دو تھال دربار فریدی ؒ میں بھیجے تو بابا جی ؒ لنگر خانے کے انچارج سے بو لے آج لنگر خانے میں کتنی رقم کی ضرورت ہے تو وہ بو لا جناب آج صرف ایک سکے کی ضرورت ہے تو بابا جی ؒ بولے صرف ایک سکہ لنگر خانے کے لیے رکھ لو باقی ضرورت مندوں میں ابھی تقسیم کردو تو مرید بولا جناب ایک سکہ قرضہ بھی لیا ہو اہے جو لنگر خانے کو چلا نے کے لیے کسی سے لیا ہے تو بابا جی بولے وہ سکہ بھی رکھ با قی فقرا میں تقسیم کردو ملازم سے جاکر سارے سکے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دئیے واپس آکر خیال آیا کہ دوران تقسیم ایک سکہ زمین پر گر گیا تھا واپس جاکر اُس سکے کی تلاش کہ تو وہ سکہ مل گیا جسے لے کر واپس آگیا آکر عشاء کی نماز کے لیے بابا جی ؒ کے پیچھے کھڑا ہو گیا سورہ فاتحہ شروع کی لیکن نماز توڑ دی پھر شروع کی پھر نامکمل نماز توڑ دی یہ عمل کئی بار کیا نماز شروع کر تے لیکن مکمل کیے بغیر ہی نماز توڑ دیتے مریدوں کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی آخر کار بابا جی نماز چھوڑکر بیٹھ گئے اور بولے لنگر خانے کے انچارج سے بو لے آج مجھے نماز میں حضوری نہیں نصیب ہو رہی کیا وجہ ہے سارے سکے ضرورت مندوں میں بانٹ دئیے تھے یا مجھے لگ رہا ہے کہ اُن سکوں میں سے کچھ رہ گیا ہے جو مجھے حضوری نہیں نصیب ہو رہی تو لنگر خانے کے انچارج نے سکہ نکال کر پیش کر دیا اور سارا واقعہ بھی سنا دیابابا جی ؒنے وہ سکہ دور پھینک دیا اور بولے سکہ ہی میرے اور خدا کے درمیان دیوار بن رہا تھا پھر نماز شروع کی اور حضوری نصیب ہو گئی اسطرح کا تقوی ہی خاک نشینوں کو خدا کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔

Share
Share
Share