کالم : بزمِ درویش – ماڈرن صوفی :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
ماڈرن صوفی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

ہزاروں سال پہلے روم کے بازاروں میں ایک مجذوب دن کی روشنی میں ہاتھ میں چراغ لیے پھرتا رہا تھا لوگوں نے جب پوچھا کہ تم کس کی تلاش میں ہو تو مجذوب بو لا میں انسان کی تلاش میں ہو ں تو لوگوں نے حیرت سے پوچھا سارا شہر ہزاروں انسانوں سے بھرا پڑا ہے

تو تم کس انسان کی تلاش میں ہو تو مجذوب بولا ایسا انسا ن جو حقیقی معنوں میں انسان ہو‘ مادیت اقتدار اپنی ذات اور جنس پرستی میں لُتھرا ہوا جانور نہیں جو اپنی خو ہشات کی تکمیل کے لیے دوسرے انسانوں کو چیرتا پھاڑتا تباہ و برباد کر تا جا رہا ہو۔ محترم قارئین یہ بات ہزاروں سال پہلے کی ہے جب مادیت پرستی کا سونامی نہیں آیا تھا جبکہ آج تو مادیت پرستی اقتدار پرستی شہرت اور خود کو سب سے اونچا سمجھنا اِس کا سیلاب آیا ہوا ہے ایسے دور میں ایک اچھا انسان ہمیں لاکھوں انسانوں میں جاکر بھی نہیں ملتا اچھا انسان کون ہے جس کے بارے میں محبوب خدا ﷺ نے فرمایا روز محشر سب سے اچھا انسان وہ ہو گا جس کے اخلاق اچھے ہو ں گے اب اچھے اخلاق کا مالک ہمیں کہاں سے ملے تو نکلسن انگریز جو اسلام اور مسلمانوں کا بہت بڑا ناقد رہا ہے اُس سے کسی نے اچھے انسان کے بارے میں پو چھا تو اُس کو بھی کہنا پڑا کہ اخلاق حسنہ کا نقطہ کمال اگر آپ دیکھنا چاہے تو کسی صوفی کو دیکھیں بلا شبہ موجودہ دور کا انسان مادیت پرستی اقتدار شہرت اور اپنی ذات کے طلسم میں گرفتار ایک وحشی درندے کا روپ دھار چکا ہے اپنی خواہشات کے لیے وہ درندوں کی طرح لاکھوں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیتا ہے نفسا نفسی کے اِس دور میں بھی حق تعالی معاشروں کو زندہ رکھنے کے لیے اچھے انسان ہر دور میں ہر خطے میں پیدا کرتا آیا ہے آج کے دور میں بھی یہ صالح نیک اخلاق حسنہ کے علمبردار انسان کی کھوج اگر ہم لگائیں تو یہ ہمیں اہل تصوف میں ہی نظر آتے ہیں یہاں پر میں طالب علمانہ رائے دیتا چلوں کہ صوفی ہو تا کون ہے ایسا انسان جو اپنی ذات کی نفی کرکے خود کو حق تعالی کے حضور پیش کر ے پو ری کائنات میں صرف خالق کائنات کو چنے پھر اُس کی مخلوق کی خدمت پر لگ جائے صوفی وہ نہیں ہو تا جس سے کرامات کا ظہور ہو بلکہ جس کے صحت یافتہ اخلاق حسنہ سے مزین ہوں صوفی دنیا جہاں کی خبریں نہیں دیتا بلکہ حق تعالی تک پہنچانے والی نظر عطا کرتا ہے صوفی شعبدہ باز نہیں بلکہ کر دار ساز ہو تا ہے وہ لوگوں کو حیرت کے سمندر میں غرق نہیں کرتا بلکہ حقیقت شناس بناتا ہے لوگوں کے دلوں کے راز نہیں جانتا بلکہ دلوں کے زنگ کو دھوتا ہے وہ ہواؤں میں نہیں پرواز کرتا بلکہ قلب و روح کے نہاں خانوں کو اجالوں سے منور کرتا ہے وہ سمندروں پر نہیں تیرتا بلکہ چوروں کے دل پھیرتا ہے وہ کرشمے نہیں دکھاتا زندگی کے رازوں سے پردہ اٹھا تا ہے صوفی بیابانوں کا نہیں آبادیوں کا آدمی ہوتا ہے صوفی بے مثل محبت کرتا ہے تفرقہ بازی نفرت کدورت غصہ شہوت لالچ کینہ بغض مادیت پرستی شہرت اقتدار کی سنہری زنجیریں توڑ کر خود کو پیار محبت اخوت مساوات در گزر پیار خدمت خلق سے سنوارتا ہے انہی لوگوں کے دم سے بزم جہاں کے رنگ آباد ہیں آپ تاریخ کا دامن چاک کر کے دیکھ لیں چنگیز ہلاکو تیمور ہٹلر موجودہ مودی جیسے لوگوں نے گلشن جہان کے رنگ و بو کو درہم بر ہم کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جنہوں نے شہروں کے شہر راکھ کے ڈھیر بنا دئیے ہیرو شیما ناگاساکی کو آگ کے الاؤ میں تبدیل کر کے لاکھوں انسانوں کو کو ئلے میں تبدیل کردیا لیکن ہر دور میں یہ اولیاء اللہ ہی تھے جو گلیوں کی خاک پھانکتے تھے مگر لوگوں میں خوشیاں بانٹتے تھے خاک نشین ہو کر عرش کی چیزیں لاتے تھے اِن کی شان بے نیازی اور قلندری کے سامنے جلالی سکندری بھی ماند رہا اِن کے کچے آنگنوں کے گلشن آباد رہے اِن کو دنیا کے کسی دربار میں جگہ نہ ملی اور نہ ہی یہ گئے لیکن یہ بادشاہ گر رہے اہل دنیا ہیرے جواہرات سمیٹتے رہے یہ لوگ دیدہ ور پیدا کر تے رہے بادشاہوں نے تلواروں گو لہ باری سے کام لیا یہ لوگ نگاہ اثر کیمیا سے کام کرتے رہے
نہ تاج و تخت میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
سچ تو یہ ہے کہ یہی اولیاء جو خاک بسر رہے وہ تاریخ عالم میں امر ہو گئے جو دنیا میں بے نشان رہے ان کے آستان بنے جو خاک نشین تھے وہ ہمسایہ جبرائیل امین بن گئے جن کی جھونپڑی میں چراغ نہیں جلتا تھا آج ان کی لحد سے چشمہ نور پھوٹتا ہے جن کودو قت کی روٹی نہیں ملتی تھی آج لاکھوں لوگ ان کے آستانوں پر پلتے ہیں سلاطین ریشمی سبزوں پر پہلو بدلتے رہے یہ خاک پر گدی نشین کے مزے لیتے رہے سلاطین شہر کے لیے پاپڑ بیلتے رہے آج اُن پر گمنامی کی چادر پڑی ہے جبکہ یہ خاک نشین آج دلوں کے حکمران ہیں شہرت کے آسمان پر نکھرتے جا رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ خالق کائنات ہر دور میں اپنے نیک دوستوں کو بزمِ جہاں میں اتارتا رہا اور ہر دور میں لوگ ایسے انسانوں کی تلاش میں رہے میری اور میرے دوستوں کی بھی زندگی اِسی تلاش میں گزری اور پھر خدا تعالی نے ہمیں ایسا انسان جاوید صدیق کی شکل میں دیا جو سر سے پاؤں تک اخلاق حسنہ کا پیکر ہمہ وقت دوسروں کی مدد کر نے پر بے قرار وہ ایک ایسا ہیرا تھا جو مقدر والوں کے نصیب میں ہو تا ہے وہ عام ہیرا نہیں تھا بلکہ ہفت رنگ ہیرا تھا ایسا ہیرا جس کو سورج کے سامنے رکھ دیا جائے تو ہر زاویے سے نیا رنگ پھوٹتا نظر آتا ہے ایک طرف سے سنہری دوسری طرف سے حنائی تیسری طرف سے ارغوانی پیلا نیلا سرف آپ زاویہ بدلتے جائیں نیا رنگ دیکھتے جائیں موجودہ دور بلاشبہ ترقی جدت کا در ہے تو خدائے لازوال نے صوفیوں کی شکل بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق کر دی پینٹ شرٹ پہنے گلے میں لیپ ٹاپ کا بیگ لٹکائے جاوید صدیق اپنی شخصیت کے رنگوں سے معاشرے کی بے رنگی ختم کر نے پر دن رات لگا ہوا تھا جاوید صاحب کو دیکھا جائے تو ہر زاویے سے نئی تصویر ابھرتی ہے جو دلکش اور سحر انگیز ہے کسی شخص کو تاریخ میں امر ہو نے کے لیے ایک خوبی کافی ہے لیکن اِس بندے کو تو ہفت رنگ ہیر اکہنا چاہیے ہر رنگ پہلے سے اچھا مختلف دلکش نظر آتا میری زندگی میں جب درجنوں پڑھے لکھے لوگ آئے اور انہوں نے آکر یہ کہا سر ہم آپ کو نہیں جانتے اور ہی ہمیں تصوف سے لگاؤ ہے ہم جاوید صاحب کو عقل مند اور پڑھا لکھا ترین استاد مانتے ہیں ہم ان کو مکمل بھر پور مانتے ہیں لیکن جب وہ آپ کی تعریف کر تے ہیں تو شوق ہوا کہ آپ سے ملا جائے جاوید صاحب علم و دانش اور کمپیوٹر کی تعلیم کے گرو ہیں تو مجھے پتہ چلا کہ جاوید صاحب دنیاو ی تعلیم کے بھی کے ٹو ہیں لیکن آفرین ہے اُس شخص پر کبھی اپنا علمی بخار دوسروں پر اتارا ہو سمٹا سمٹا یا شرمیلا اپنی ہی ذات میں گم ہر وقت دوسروں کی مدد فکر اُن کے جانے کے بعد اُن کے بہت سارے رنگ اور بکھر کر سامنے آئے کہ وہ کس طرح دوسروں کی مدد کر تے تھے کسی کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات کسی کے گھر کا کرایہ تو کسی کے ہسپتال اور دوائیوں کے اخراجات خاموشی سے دے رہے ہیں اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ مد مقابل بھوکا ہے تو اُس کو شہر کے بہترین ریسٹورنٹ میں لے جا کر عزت نفس سے کھانا کھلانا اُسے گھر تک چھوڑنا پھر واپسی پر اُس کی جیب میں خاموشی سے پیسے ڈال دینا پتہ چل جاتا فلاں دوست کے گھر میں راشن دوائی یا خرچہ نہیں تو اُس کے گھر چلے جانا اور کہنااِدھر سے گزر رہا تھا تو آپ کی طرف آگیا اگر کسی نے کسی طرف جانا ہو تا تو کہتے آؤ میں بھی ادھر ہی جارہا ہو ں سب سے بڑی بات بہت سارے لاوارث یتیموں کی طرح روتے رہے بار بار کہتے کہ ہم نے بے شمار دفعہ ان سے ادھار مانگا انہوں نے کبھی بھی پچھلے پیسوں کا طعنہ نہیں دیا بلکہ خاموشی سے پھر دے دئیے آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیکن تو ایک بھی انسان نہیں ملے گا جس سے آپ ایک بار ادھار لیں پھر وہ آپ کو دوسری تیسری چوتھی بار دے بلکہ آپ کو دھکے دے کر بھگا دے گا لیکن یہ کیسا مرد درویش تھا بار بار عزت نفس کو مجروح کئے بغیر اپنی دولت دوسروں پر لٹا رہا تھا اپنے بے مثال علم اور ٹیلنٹ کی وجہ سے ساری دنیا سے پر کشش تنخواہ کی آفر آتی رہیں لیکن ایک ہی جواب کہ والدہ کی خدمت سب سے پہلے والدہ کے بعد لاوارث مجبور لوگوں کی مدد یہی زندگی کا فلسفہ حیات دوسروں کی مدد گریس فل طریقے سے خاموشی سے پھر واپس نہ لینا اور نہ ہی دوسروں کو احساس دلانا بلاشبہ جاوید صاحب موجودہ دور کے ماڈرن صوفی تھے جنہوں نے اپنے علم وقت پیسے زبان توجہ سے دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کر نے کی کو شش کی رب تعالی نے کیا خوب کہا ہے اہل دنیا میر اکبنہ ہے جو مجھے راضی کر نا چاہتا ہے وہ میرے کنبے کو راضی کرے تو جاوید صاحب ساری زندگی خدا کے کنبے کو راضی اور خدمت پر لگے رہے وہ آج کے ماڈرن صوفی تھے آپ کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے۔
انو کھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

Share
Share
Share