کتاب : نورلھدی‘ – شاعر : ہمّتؔ احمد نگری :- مبصر : ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ

Share


کتاب : نورلھدی‘
شاعر: ہمّتؔ احمد نگری

مبصر : ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ

لغت کے اعتبار سے نعت کہنا یا لکھنا یعنی کسی کی ستائش یا مدح کرنا یا لکھنا۔بقول اختر حسین اختر ؔ:”محمد الرسول اللہ (ﷺ) کی شان میں کسی بھی صنف سخن میں کہی گئی یا تحریر کی گئی شعری کاوش کو نعت کہتے ہیں۔“

آپ (ﷺ) کی ذات کی اعلیٰ شان یہ ہے کہ خود خدا نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ” وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَنَا“ (ترجمہ: اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا۔)۱؎(حوالہ ۱؎:پارہ نمبر ۰۳، ۴۹سورۃ الشرح، آیت نمبر ۴)۔ عام طور پر کسی بھی شخصیت کے بارے میں اس کی پیدائش کے بعد ہی اس کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے اس کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور نظم اور نثر میں اس کے تعلق سے لکھا یا پڑھا جاتا ہے۔ ہمارے نبی محمد (ﷺ)کو یہ شرف حاصل ہیں کہ آپ کی تعریف روز ِ ازل سے خالق ِ کائنات خود کرتا آرہا ہے نیز آپ کی شخصیت کے فیضان سے آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی شان میں نعتیہ اشعار کہنے کا فخر یمن کے بادشاہ تبان اسعد بن کلیکرب کو حاصل ہے۔
؎ شہدت علی احمد انہ
رسول من اللہ باری النسم
(ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد مجتبیٰ (ﷺ) خالقِ کائنات اللہ کی جانب سے رسول ہیں۔(اردو ویکیپیڈیا:نعت) دربار رسالت کے شاعرِ اعظم صحابیِ رسول حسان ابن ثابت(رضی اللہ عنہ) ہی کو یہ افتخار حاصل ہے کہ آپ (ﷺ) کی حضوری میں منبر مسجدِ نبوی پر کھڑے ہو کر نیز رسول (ﷺ) کی مانڈی پر بیٹھ کر فخر موجودات محبوب ِ خدا (ﷺ) کی شان میں نہ صرف نعتیہ اشعارپڑھے بلکہ آپ (ﷺ) اور صحابہ سے وہ داد و تحسین پائی جو تا قیامت کوئی نہیں پا سکتا۔
” وَ اَحسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنیِ
وَ اَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ اَلنّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
(ترجمہ: اور میری آنکھوں نے آپ سے بہتر نہیں دیکھا اور کسی عورت نے آپ سے خوبصورت کسی (بچے کو) جنم نہیں دیا۔آپ ہر عیب سے مبرّا پیدا کیے گئے ہیں۔گویا کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق پیدا کیے گئے ہیں۔)
فارسی میں مولانا روم، شیخ سعدی اور مولانا جامی کے نام زبان زدِ عام ہے۔ اولیائے عظام میں غوث ِ اعظم، بابا فرید، نظام الدین اولیاء، امیر خسرو کا نعتیہ کلام بارہا سُنا جاتا ہے۔ اردو زبان کے استاد شعراء میں امیر مینائی ؔ، الطاف حسین حالی ؔ، ڈاکٹر محمد علامہ اقبالؔ، بہزاد لکھنویؔ، قابل ذکر ہے۔ ہندوستان میں شہنشاہِ نعت کہلانے کا سہرا بریلی شریف کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کے سر ہے۔مہاراشٹر کے شہر احمد نگر میں جن شعراؤں نے نعت گوئی میں اپنا الگ مقام بنایا ہے اُن میں ” غلامِ احمد“کہے جانے کے مستحق جنا ب ہمّت خان ہمّتؔ احمد نگری کا نام صف ِ اوّل میں شامل ہے۔ ان کے والد عُمر خان ریلوے میں ملازم تھے۔ ہمّت خان ایم ای ایس میں ملازمت کرنے لگے۔ انہیں بچپن ہی سے شعر و سخن سے لگاؤ تھا وہ حافظؔ احمد نگری اور امیرؔ احمد نگری سے کافی متاثر تھے۔ موصوف کو اسلامیات سے بڑا لگاؤ تھا۔اس لیے ان کا رجحان نعتیہ شاعری کی طرف ہوگیا۔ وہ ایک سچے عاشق ِ رسول تھے لہٰذا میلاد کی محفلوں میں ان کے کلام کو سامعین کی طرف سے خوب داد و تحسین حاصل ہوتی تھی۔ وہ ۱۹۱۰ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۷۶ء میں ۷۵ ستّا ون برس کی عمر میں وفات پائی۔
ڈاکٹر اشفاق انجمؔ (مالیگاؤں) نے ہمّت ؔ احمد نگری کو ایک توفیق یافتہ شاعر بتاتے ہوئے جن دو اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان سے ہمتؔ احمد نگری کی نعت گوئی کو سمجھنے میں ہمیں کافی مدد ملتی ہے۔
” ۱) اللہ تعالیٰ نعت گوئی کی توفیق ہر کسی کو نہیں دیتا اس کے لیے تو خاص دل مخصوص ہوتے ہیں جن کو وہ
حُب رسول (ﷺ) سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہی توفیق یافتہ شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔(ص۔ ۱۳)
۲)میری نظر میں وہی نعتیہ شاعری قابل قدر ہے جس میں صداقت، حقیقت اور واقعیت ہو، اور جو سنّت
شریعت سے انحراف نہ کرتی ہو۔“ (حوالہ ۲،۳: کتاب: نورلھدی(ہمّتؔ احمد نگری کا مجموعہ نعتیہ کلام)(ص۔ ۵۱)
ہمّتؔ احمد نگری نے اپنی ایک حمد کے مقطع میں اپنی ذات کی صداقت اور حقیقت کو یوں پیش کیا ہے:
؎ ہمّت غلام تیرے نبی ﷺ کا ہے کبریا
زاہد نہ متّقی ہے نہ یہ پاک باز ہے (ص: ۲۴)
ہمّت ؔ احمد نگری نے اپنی ایک نعت کے مطلع میں اللہ تعالیٰ سے شہر نبی مدینہ طلب کیا ہے وہ کہتے ہیں:
؎ نہ جلا مُوسوی دے نہ دے عیسیٰ کا قرینہ
میں غلام مصطفےٰ ﷺ ہوں مجھے کر عطا مدینہ ( ص : ۲۸)
سر زمینِ طیبہ اور طُورِ سینا کی عزمتوں کا اظہار کرتے ہوئے ہمّت ؔ احمد نگری نے اپنے تصورات کو ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
؎ کہاں طُورِ سینا موسیٰ کہاں سر زمینِ طیبہ
وہاں آپ تھے اکیلے یہاں جھُک گیا زمانہ (ص : ۴۰)
تمام رسولوں کی بارگاہوں میں ہر دور کے مومن بندوں نے اپنے استغاثے اپنے اپنے منفرد انداز میں پیش کیے ہیں ہمّتؔ احمد نگری نے شاہ ِامم (ﷺ) کی بارگاہ میں اپنا دعویٰ یوں پیش کیا ہے:
؎ خدا کے بعد ہمّت ؔ سرورِ عالم ہی حامی ہیں
میری سُیئے وہ ہیں شاہِ امم ان سے نہ کچھ کہنا (ص : ۴۲)
اسلام میں سجدۂ عبادت صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے لیکن جہاں تک تعظیم و توقیر اور قدر و منزلت کا تعلق ہے اسلام ہی کی تعلیمات میں اس سے متعلق ہدایات موجود ہیں جیسا کہ قرآن کے پارہ نمبر چھبیس ۲۶، سورۃ الفتح ۸۴ کی آیت نمبر ۹ میں ارشادِ ربّانی ہے:
” وَ تُعَزِّ رُ وْ ہُ وَ تُوَقِرُوْہُ“ “ (ترجمہ: اور اس (خدا کے رسول ﷺ) کی تعظیم و توقیر کرو۔)
؎ مدینہ پہنچ کر اے زائر خدا را‘ ادب سے تو بابِ حرم چوم لینا
دیارِ مدینہ میں پلکوں سے اپنے‘ نبی ﷺ کے تو نقشِ قدم چوم لینا ( ص : ۶۵)
ہمارے نبی (ﷺ) نے دینِ اسلام کی دعوت اپنے کنبے، خاندان، رشتہ داروں، اور اہلِ عرب سے لے کر اطراف و جوانب کے قیصر و کسریٰ کی تک پہنچائی۔ بالآخر قیصر و کسریٰ کو بھی چاروناچار اپنے سرِ تسلیم خم کرنے پڑے جس کا اشارہ ہمّتؔ احمد نگری نے اپنے اس شعر میں کیا ہے:
؎ جلوہ گر جب وہ ہوا ماہ ِ عرب تو دیکھئے
قصرِ کسریٰ بھی جھُکے ہیں اور سرِ قیصر جھُکے (ص : ۵۰)
اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے،ان میں ہمارے نبی ﷺ کے سوا کوئی رحمۃ اللعامین نہیں۔ قرآن پارہ ۱۷، سورۃلا انبیاء ، آیت نمبر ۱۰۷: ” وَ مَاآرْسَلْنٰکْ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ “ اسی کی طرف ہمّتؔ احمد نگری نے نشادہی کرتے ہوئے یہ شعر کہا ہے:
؎ نبیوں میں ما سوا تیرے
رحمۃاللعالمین نہیں دیکھا ( ص: ۲۷)
تمام غلامانِ رسول (ﷺ ) کی آخری خواہش یہی ہوتی ہیں کہ ان کا سلام و پیام آقا (ﷺ) تک پہنچے ہمّتؔ احمد نگری بھی اپنی دلی تمناؤں کا اظہار یوں فرمایا ہے:
؎ لللّہ میری اب تو خیرالانام سن لو
سوئے حرم بُلا کر عرضِ غلام سن لو
؎ ہر ہر قدم پہ دیکھو جالِ ستم بچھے ہیں
ہمّتؔ کی اب خبرلو خیرالانام سن لو ( ص : ۷۷)
مجموعی طور پر ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہمّتؔ احمد نگری کی نعتیہ شاعری اعلیٰ معیار کی نہ ہوتے ہوئے بھی عوام الناس کے جذبات کی ترجمان ہے۔
———–
حوالہ : کتاب : نورلھد ی‘
شاعر: ہمّتؔ احمد نگری (کا مجموعہ نعتیہ کلام)،
ناشر: منورحسین چھوٹے خان: ۱۵۷۱، شنی گلّی،
جھنڈی گیٹ، احمد نگر ،: موبائل نمبر: 9272444720/ 8446593422 ،
ای میل : Email:
——-

ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ
Share
Share
Share