” گریہ بر کنارِ دریا “پر ایک نظر :- ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

Share
پاؤلو کویلھو

” گریہ بر کنارِ دریا “پر ایک نظر

تحریر: ڈاکٹر عبدالعزیز ملک
شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی، فیصل آباد

پاؤلو کویلھو کا شمار دورِ حاضر کے معروف ناول نگاروں میں ہوتا ہے جس نے 1982ء میں Hell Archive سے اپنے تخلیقی سفر کاآغاز کیالیکن اُس وقت عالم گیرشہرت حاصل کر لی جب 1988ء میں ” الکیمسٹ “ناول تحریر کیا۔جب 1994ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو وہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولوں میں شمار ہوا،

اس کی تازگی اورشہرت تاحال برقرار ہے اوراب بھی دنیا میں بڑی تعداد اس ناول کو پڑھ کر لطف محسوس کرتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اب تک اس کی پینسٹھ ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں اور تقریباً دنیا کی تمام بڑی (لگ بھگ اکتالیس) زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ ان کے ناول جو معروف ہوئے ان میں Pilgrimage, The Fifth Mountain,Brida, Eleven Minutes,The Witch of Portobello,The Winner Stands Alone ,Aleph ,Adultry اورBy River Piedra,I sat down and wept.نمایاں ہیں۔ پاؤلو کویلھو کا جنم اگست 1947ء میں برازیل میں ہوا۔ انھیں بچپن ہی سے لکھاری بننے کا شوق تھا لیکن اس کے والدین اس کے حق میں نہیں تھے۔انھوں نے اسے قانون کی تعلیم دلوانے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوا۔تخلیقی دباؤ اور شوق کی ناکامی نے اس کی طبیعت میں اضطراب اور بے چینی پیدا کر دی۔والدین نے اسے خلل دماغی جانا اور سترہ سال کی عمر میں اسے پاگل خانے میں دااخل کرا دیا گیا جہاں سے اس نے بیس سال کی عمر تک تین بار فرار حاصل کیا۔اس نے ہپیوں کی زندگی اختیار کی اورروحانی تجربات کے حصول کے لیے جنوبی افریقا،شمالی افریقا،میکسیکو اور یورپ کے کئی ممالک کے سفر کیے۔ان اسفار کے دوران میں اس نے خود آگہی اور روحانی بیداری کی منازل طے کیں جو اس کے ناولوں کے مختلف کرداروں میں منعکس ہوتی ہیں۔ پاؤلو کویلھو کی جوانی میں برازیل فوجی مطلق العنانی کے شکنجے میں پھنس گیا۔ اس دوران میں اسے جیل بھی جانا پڑا جہاں اس نے فوجی تشدد کاکئی بارسامنا کیا۔
جتنی شہرت اُسے بین الاقوامی حلقوں میں میسر ہے اتنی اسے اپنے ملک برازیل میں میسر نہیں۔بعض نقاد اس کے فکشن کو سنجیدہ فکشن کا حصہ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جس میں ”افعی پُراسراریت“(Snake-Oil Mysticism)اور”بے کیف،جذباتی پیغامات“(Vapid,Inspirational Messages)کے علاوہ کچھ نہیں۔یہ تاثر اس وقت اور نمایاں ہوا جب 2012ء میں پاؤلو کویلھو نے جمیز جوائس کی تحریوں کی تحقیر کی اور اسے بڑا لکھاری ماننے سے انکار کیا۔یہ وہی جیمز جوائس ہے جسے نقاد بیسویں صدی کا بڑا ناول نگار تسلیم کرتے آئے تھے۔اس پر سب سے شدید رد عمل سیموئیل جانسن کا سامنے آیا جس کا جملہ معروف ہوا کہ”اگر گھوڑے پر مکھی بیٹھ بھی جائے تو گھوڑا،گھوڑا اور مکھی، مکھی ہی رہتی ہے۔“بہ ہر حال شدید تنقید کے باوجود کویلھوکی شہرت میں کمی نہیں آئی اور تاحال اس کے ناولوں کو قارئین کی وسیع تعداد میسر ہے۔وہ اپنے ناولوں میں محبت، پر اسراریت، مذہب،جدو جہدِ حیات اورخیر و شر کے تصورات جیسے موضوعات اوردلکش اسلوب سے قاری کو سحر زدہ کرلیتا ہے جو اس کی مقبولیت اور قبولیت کی بنیادی وجہ ہے۔
By the River Pierda,I sat down and wept پہلی بار 1994ء میں شائع ہوا اور اب اردو ادب میں حال ہی میں مثال پبلشرز، فیصل آباد سے ڈاکٹر سعید احمد کے اردو ترجمے ”گریہ بر کنارِ دریا“کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا ہے۔اس ترجمے میں ان کے شاگرد مشتاق بزمی کا تعاون شامل رہا ہے۔مشتاق بزمی کیتھولک مسیحی ہیں اور ناول کا مرکزی کرداربھی کیتھولک مسیحی خیالات کا حامل ہے اس لیے بیشتر مباحث کا ترجمہ کرتے ہوئے ڈاکٹرسعید احمد صاحب نے ان سے رابطہ رکھا ہے تاکہ ترجمے کی روح متاثر نہ ہو،اور وہ اس مقصدمیں کامیاب بھی رہے ہیں۔ترجمہ خشک اور تھکا دینے والا کام ہے،چوں کہ وہ پیشہ ور مُترجِم نہیں اس لیے انھوں نے یہ کام شوق، لگن،محنت اورجاں فشانی سے کیا ہے اس لیے ترجمے میں تخلیقیت کا عنصر ہویدا ہوا ہے جو ترجمے کے متن میں روانی کا باعث بناہے۔بہت کم جگہوں پر محسوس ہوتا ہے کہ ناول ترجمہ کیا گیا ہے،ورنہ قاری کے لیے کہیں بھی مشکل اور بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔ترجمہ کاری پیشہ نہ بھی ہو تو بہ ہر حال یہ ایک فن ہے جس میں مُترجِم کو پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے،قدم قدم پر ایسے مسائل آتے ہیں جنھیں سلجھاناکٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک اردو میں بہت کم عمدہ اور کامیاب تراجم منظرِ عام پر آئے ہیں۔ٹالسٹائی، بالزاک، موپساں،جیمز جوائس،شیکسپئیر،میکسم گورکی،فاکنر، میتھیوآرنلڈ، آئی اے رچرڈز اور ٹی ایلیٹ کے تخلیقی شاہکاروں اور تنقیدی افکار سے لے کر کئی سائنسی اور فلسفیانہ تحریرو ں کو اردو زبان کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی لیکن من و عن خیالات،احساسات اور کیفیات کی ترسیل ممکن نہ ہو سکی۔صحیح،عمدہ اور کامیاب ترجمہ وہ ہوگا جس میں مترجم نہ صرف مصنف کے ذہن اور باطن میں اترنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ ان احساسات، کیفیات اور خیالات کو بھی محسوس کرے جوتصنیف کی وجہ بنی ہیں۔آسان ترین لفظوں میں کہا جائے تو ترجمہ ایک جسم کو دوسرا لباس پہنانے کے مترادف نہیں بلکہ ایک جسم کے مقابل ایک اور جسم تراش کر دوسرا لباس اس طرح زیب تن کرانا ہے کہ دونوں اجسام میں روح ایک ہی رہے۔یہاں جسم، روح اور لباس علامتی طور پر استعمال ہوئے ہیں اس سے مراد،زبان، خیال اور تاثر ہیں جو قاری کے قلب و ذہن پر قائم رہنا ضروری ہے۔بصورتِ دیگر خیال کی ترسیل کہیں سے کہیں جا پڑے گی۔مذکورہ ترجمے میں ان چیزوں کا خیال رکھا گیا ہے۔الفاظ کا چناو سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ترجمے میں حاشیہ نگاری سے بھی کام لیا گیا ہے۔مترجم نے جہاں ضروری سمجھا ہے وہاں کہیں کہیں نامانوس مقامات اور مشکل خیالات کی وضاحت کر دی ہے جو کم ہے،مزید ایسے خیالات بھی موجودتھے جن کی وضاحت ہو سکتی تھی یا کی جانی چاہیے تھی وہ نہیں کی گئی، یاممکن ہے اسے قاری کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہو کہ وہ خود خالی جگہ پُر کرے۔
” گریہ بر کنارِ دریا “ تیس سالہ خاتون پِلَرجو سپین کے شہر سوریا سے تعلق رکھتی ہے، کے روحانی سفر کی کہانی ہے۔ایک ایسا سفر جو انکشافِ ذات پر مبنی ہے۔اسے ایک دن خط موصول ہوتا ہے جس میں اسے آغازِ شباب کے ایک دوست کا مذہبی لیکچر سننے کی دعوت دی گئی ہے۔اس طرح اسے میڈریڈ میں گیارہ سال بعد عنفوانِ شباب کے دوست سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک مضبوط اورآزاد عورت میں بدل چکی ہے،جب کہ اس کا دوست خوب صورت،دلکش اور کرشماتی شخصیت میں ڈھل کر روحانی پیشوا بن چکا ہے۔اس مقام تک پہنچنے میں اس نے زندگی کے سرد وگرم کا سامنا بڑی ہمت اورصبر سے کیا ہے جو پاولو کے معروف ناول ” الکیمسٹ “ کے ہیرو سنتیاگو کی یاد دلاتا ہے۔دنیا کے مختلف خطوں کے اسفار نے اسے متنوع ثقافتوں اورمذاہب کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا جہاں سے وہ خدا کے نسائی روپ کا قائل ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ سوچ اسے دیگر مذہبی اور روحانی پیشواؤں سے منفرد بناتی ہے۔وہ اپنے تجربات اور خیالات سے ناول کے مرکزی کردارپِلَر کو مستفید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چوں کہ پلرنے روایتی کیتھولک انداز میں تربیت پائی ہے اس لیے بندھے ٹکے خیالات،غیر منطقی آرا اورنصابی کتب کی بندش کا شکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ محتاط رویہ اختیار کرتی ہے۔وہ اسے خدا کی عظمت،جادوئی لمحوں،طفلِ باطن،دوسرے (Otherness)،مکمل خود سپردگی کی اسراریت،معجزات اوراہلِ ایمان کی مسیحائی کے بارے میں آگاہ کرتاہے۔وہ اس کے ساتھ سات دن گزارتی ہے۔ان سات دنوں میں وہ اسے مقدس مقامات کی زیارتیں کراتا ہے۔ اس دوران میں وہ محبت کے جذبے سے سرشار ہوتی ہے جو اسے روحانی یکسوئی عطاکرتاہے،اس کی وسوسوں سے لبریز اورمنتشر شخصیت ایک نکتے پر مرکوز ہوتی ہے اور یوں وہ خدا کا قرب حاصل کر لیتی ہے۔ کیوں کہ زندگی کاباوقار انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے یکسوئی اورصلاحیتوں کا ارتکاز ضروری ہے۔جیسے ٹکروں میں بٹی ہوئی سلطنت دشمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اسی طرح منتشر شخص زندگی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔پاولو کویلھو کے خیال میں یکسوئی اور ارتکاز انسان کو یقین سے حاصل ہوتی ہیں:
”سچائی وہیں ہوتی ہے جہاں عقید ہ ہو! میں نے ایک بارپھر کلیسا کے اندرون کو دیکھا۔شکستہ پتھر گرتے رہے تھے اور کئی بار انھیں بدلا گیاتھا۔انسان کو آخر کس چیز نے اتنا مستقل مزاج بنایا ہے۔۔۔عقیدہ بدھ مت کے پیروکار سچے تھے۔ہندو مت والے بھی راست تھے۔مسلمان بھی صادق تھے اور اسی طرح یہودی بھی،جب بھی کوئی ایمان کی راہ پر چلتا ہے۔سچے دل سے اس راہ پر گامزن ہوتا ہے۔وہ مرد ہویا عورت خدا تک رسائی کے قابل ہو جاتا ہے اور معجزات دکھا سکتاہے لیکن محض اسے جان لینا کافی نہیں۔آپ کو انتخاب کرنا پڑتا ہے۔میں نے کیتھولک کلیسا کا انتخاب کیا کیوں کہ میں اسی عقیدے میں پلا بڑھا اور میرا بچپن اس کے معجزات سے بارور ہوا۔“
یقین میں دل فیصلہ کرتا ہے نہ کہ دماغ۔روحانیت کے پیرائے میں دیکھیں تو یقین میں دل ہی کا فیصلہ قابلِ قبول ہوتا ہے۔ یقین جو مکمل خود سپردگی کا قائل ہے اور وسوسوں پر قابو پانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ زندگی میں کسی نہ کسی مقام پر ہم سب محبت کے اس تجربے سے گزرتے ہیں۔یہاں پاولو کویلھو کامحبت سے مراددوسرے لوگوں سے اشتراک ہے اوران کی معرفت خدائی نور حاصل کرنا ہے۔ خدائی نور حاصل ہو جائے تو پھر محبت فاتح عالم بن جاتی ہے۔محبت جو خد ا کا ایک روپ ہے۔بقول میرا جی:
میں تجھے جان گیا روحِ ابد
تو تصور کی تمازت کے سوا کچھ بھی نہیں
(چشمِ ظاہر کے لیے خوف کا سنگیں مرقد)
اور مرے دل کی حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
اور مرے دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
یوں ”گریہ بر کنارِ دریا“کومحبت کی کہانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ایک ایسی محبت جو کامل سپردگی کا تقاضا کرتی ہے اورجب ظاہر ہوتی ہے تو صرف روشنی ہی روشنی دکھائی دیتی ہے،یہاں سے آگے بے اختیاری کی کیفیت کا آغاز ہو تا ہے اور پھر ممکن اور ناممکن کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔اس بات کو ناول میں ڈیم کی تمثیل سے سمجھایا گیا ہے:
”میں اس سے اس طرح مرعوب نہیں ہو سکتی تھی جیسے دیگر لوگ ہو رہے تھے،لیکن محبت تو ایک ڈیم کے مانند ہے۔ذرا سی دراڑ،جس میں سے صرف پانی کی ایک بوند گزر سکے،چشمِ زدن میں پورے ڈھانچے کو منہدم کر دے گی اور پھر کوئی اس موجِ بلا خیز کو نہ روک سکے گا۔“
ناول کی زیریں سطح پر پاؤلو کویلھو قاری کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ جیسے محبت قوانین کی محتاج نہیں بلکہ اس سے ماورا ہے،اسی طرح خداکی عبادت جب محبت میں ڈھل جاتی ہے تو یہ بھی قوانین سے ماورا ہو جاتی ہے۔یہی وہ مقام یا طلسمی لمحہ ہے جب پلرایمان اور یقین کے جذبے سے سرشار ہو تی ہے،خوف کے جذبے پر قابو پالیتی ہے اور دنیاوی رغبتوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔اب اس کا زندگی گزارنے کا فلسفہ تبدیل ہوجاتا ہے۔کامل محبت انسان کو بہادر بنا دیتی ہے اورقوانین و ضوابط کے شکنجے سے آزاد ہو کر وہ معجزے دکھاسکتاہے، شفا بخش سکتا ہے،پیش گوئی کر سکتا ہے،خود کو منقلب کر سکتا ہے،جنگ جو بن کر خود کو داو پر لگانے کی خوشی محسوس کر سکتا ہے،خطرات مول لے سکتا ہے اور کائناتی اسرار سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔
ناول نگار محبت کو جب خدا کے مترادف سمجھتا ہے تو وہ اس کے نسائی روپ کا اقرار کر رہا ہے۔ناول میں پاولو کویلھو نے خداکے نسائی روپ کوجس طرح نمایاں کیا ہے،اس نے نہ صرف ناول کو دلچسپ بنایا ہے بلکہ مذہبی طبقے کے روایتی اندازِ فکرکو چیلنج بھی کیا ہے۔مذاہب کو ماننے والے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ خدامذکر ہے۔ مرد ہی عقائد کے نگران ہیں،وہی قانون سازی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ناول میں پلر کا دوست (جو روحانی اور مذہبی راہ نما کی صورت میں دراصل پاولو کویلھو کا ماؤتھ پیس ہے۔)اس کے برعکس سوچتا ہے اور خدا کے نسائی رخ پر یقین رکھتا ہے۔یہ نظریہ اگرچہ کیتھولک نظریے سے ہم آہنگ نہیں لیکن چرچ نے کئی ایسی کتابوں کو قبول کیا ہے جس میں خدا کا نسائی روپ پیش کیا گیا ہے۔کیتھولک نظریات کے مطابق خدا نہ مرد ہے اور نہ عورت، وہ جنس سے بالا ہے، مگر ناول میں پاولو کویلھو اس نظریے کا استردادکرتے ہوئے، خدا کے نسائی روپ کو نمایاں کرتا ہے۔اسی لیے اس نے ناول میں مریم کنواری کوبطور علامت استعمال کیا ہے۔اس ضمن میں ناول کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
”وہ عام عورت کی طرح تھی۔اس کے ہاں پہلے بھی اولاد تھی۔بائبل ہمیں بتلاتی ہے کہ یسوع مسیح کے دو بھائی بھی تھے۔کنوار پن کا تعلق یسوع مسیح سے تھا جو کہ ایک مختلف چیز ہے۔حضرت مریم نے عطا کی نئی نسل کی پہل کی۔ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔وہ کائناتی دلھن ہیں،ارض جو اپنے آپ کو سماوات کے لیے کشادہ کرتی ہیں تاکہ وہ بار ور ہو سکے۔اس نے اپنے مقدر کو قبول کرنے میں جس جرأت کا مظاہرہ کیا۔اس نے خدا کو زمین پر اترنے پر رضا مند کیااور اس طرح وہ مادرِ عظیم کی صورت میں متشکل ہوگئیں۔وہ جو کچھ کہ رہا تھا میں اسے بجا طور پر سمجھنے سے قاصر تھی،اور وہ یہ دیکھ رہا تھا۔وہ خدا کا نسوانی روپ ہے۔اس کی اپنی الوہیت ہے،وہ بڑے جذباتی انداز میں بول رہاتھا۔“
عیسائی تاریخ کا جائزہ لیں تواس میں ہمیں خدا کے نسائی تصور کی متعدد مثالیں مل جاتی ہیں۔مثلاً چودھویں صدی عیسوی میں عیسائی صوفی بزرگ جولین آف نورچ نے کہا تھا کہ ”جس طرح خدا ہمارا باپ ہے، اسی طرح خدا ہماری ماں بھی ہے۔“وہ عیسیٰ کو بھی ماں کہ کر مخاطب کرتی ہیں۔اسی طرح گیارہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے آرچ بشپ آف کینٹر بری،سینٹ آنسلم مسیح کی عبادت کرتے ہوئے انھیں ماں پکارتے تھے اور خدا کو عظیم ماں کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔تاریخ میں مزید پیچھے کا رخ کریں تو تیسری صدی عیسوی میں شام کے چرچ میں ایک ایسے گروہ کا علم ہوتا ہے جو مقدس روح کی عبادت مؤنث کے صیغے میں کرتا تھا۔سٹیون ٹامکنز نے اپنے ایک مضمون میں ایک کتاب ”دی ایکٹس آف ٹامس“کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سینٹ ٹامس نے ایک مذہبی مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے اچانک مقدس روح کے لیے مؤنث کا صیغہ ”شی“استعمال کرتے ہوئے اسے آواز دی۔اس طرح کسی نہ کسی طرح عیسائیت میں خدا کے نسائی روپ کا سراغ ملتا ہے۔اسی طرح قدیم تہذیبوں کے مطالعے میں دیوتاؤں کے مقابلے میں دیویوں کے تصورات بھی موجود ہیں جو خدا کے نسائی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں۔اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پاولو کویلھو لکھتے ہیں:
”میں آپ سے تاریخ کے متعلق بات نہیں کرنا چا ہتا۔اگر تم تاریخ سے متعلق جاننا چاہتی ہو تووہ کتابیں پڑھ سکتی ہو جو میں اپنے ساتھ لایا ہوں لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عورت۔دیوی،مریم کنواری،شکینہ، مادرِ عظیم،آئسس، صوفیہ، باندی اور بانو روئے زمین کے ہرمذہب میں موجود ہے۔اسے بھلا دیا گیا۔ممنوع قرار پائی اور مستور رکھی گئی لیکن اس کی عبادت قرن ہا قرن سے ہوتی آئی ہے اور آج بھی یہ رسم باقی ہے۔خدا کے چہروں میں سے ایک چہرہ عورت کا ہے۔“
تاریخ و تمدن کی تاریخ میں عورت کا جو وجود غائب تھا اسے پاولو کویلھو نے از سر نو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ناول میں جا بجا ایسے تصورات موجود ہیں جوعورت کے وجود کے آزادانہ اظہارکے حق میں اور مرد اساس معاشرے کی فرسودہ اقدار اور رسوم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔پاولو کویلھو نے مرد اساس معاشرے میں غیر اہم قرار دیے جانے والے احساسات و جذبات کو معرضِ تفہیم میں لانے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق عورت سے ہے۔یوں عورت کے باطن میں جھانک کر کویلھو نے مرد کی جبریت کا انکار کیا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار پلر کے مقابلے میں اس کے دوست کو بے نام رکھا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت کو پلر کے مقابلے میں دھندلا رکھا جا سکے۔پلر کے کردار کو شعوری طور پراس طرح پیش کیا گیا ہے کہ عورت اگر چاہے تو مرد کے برابر خود کو کھڑا کر سکتی ہے،خواہ وہ دنیا داری ہو یا روحانیت۔ یوں مرد کے جنسی، سماجی، مذہبی اور روحانی تفاخر کو توڑ کر عورت اور مرد کو برابری کی سطح پر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
پاولو کویلھو کو مذکورہ ناول کو مابعد الطبیعیاتی تمثیل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جس میں اس نے مختلف علامتوں اور استعاروں کی مدد سے روحانیت کے اسرار بیان کرنے کی کوشش کی ہے،جسے اس ناول کا مرکزی خیال قراردیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے وہ اپنے ناولوں میں آسمانی صحائف،اساطیر، لوک کہانیاں،حکایات اورملفوظات کا استعمال کرتے ہیں۔مذہبی روایات کوجب مذہبی کتب کے حوالے سے پڑھا جاتا ہے تو اس کی حیثیت مسلمہ ہوتی ہے اور جب یہی واقعات ادبی اور تمثیلی رنگ میں بیان کیے جائیں تو ان کی حیثیت استعاراتی اور علامتی ہوجاتی ہے۔ کہیں کہیں تو وہ فطرت کی اشیا ء جیسے پہاڑ، غار، کنواں، پانی، چاند، سورج اور چرند پرند کو بھی تخلیقی سطح پر یوں استعمال کرتے ہیں کہ قاری ان کی تخلیقیت کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ان کے ناولوں میں بعض مناظراورکرداربھی علامتی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں جیسے ”الکیمسٹ“کا سنتیاگو،”شیطان اور مس پرم“ میں ہوٹل کی مالکہ،مئیر اور پادری اور ”گریہ بر کنارِدریا“ کا پلرعلامتی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ناول کی کہانی پلر کے ذریعے بیان کی گئی ہے جو باطنی سفر کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔ نوجوان پادری جسے اس ناول میں بے نام رکھا گیا ہے، وہ بھی ایک علامتی کرداربن کر سامنے آیا ہے جسے قاری پرکردار کی ذہانت، مکالموں،ذاتی جدو جہد اور زندگی کے رجائی انداز سے منکشف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔وہ اپنے تذبذب اور بے چینی پر اپنی باطنی آواز کے ذریعے قابو پا کر یکسوئی حاصل کر تاہے۔ پاؤلو کویلھو کا کمال یہ ہے کہ وہ علامات کو ابہام کی نذر نہیں ہونے دیتا بلکہ اس طرح استعمال کرتاہے کہ علامت مرکزی خیال کے بیان میں تقویت کا باعث بن جاتی ہے۔مثلاًناول میں ساراگوزا کے شہر کا ذکر پلر کی زبان سے بار بار کرایا گیا ہے جو عام آدمی کی زندگی کی علامت ہے،جہاں پلر بار بار لوٹ جانے کی خواہاں ہے مگر اس کا دوست اسے زندگی اور روحانیت کے سفر میں آگے لے جانے کا متمنی ہے۔اسی طرح تمغے کا ذکر بھی کسی نہ کسی طرح پورے ناول میں موجود ہے جودونوں کرداروں کی اوائل جوانی کی محبت کی علامت ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ محبت عذاب یا کرب نہیں خوش گواراور خوش کن لمحات میں سے ایک لمحہ ہے، اسی لیے نوجوان پادری اسے سنبھال کر رکھتا ہے۔تمغے کو محفوظ رکھنا محبت میں وفاداری کو ظاہر رہا ہے جس میں تلاش کے کئی سالوں کے سفر کی آمیزش بھی شامل ہو گئی ہے۔ایک مقام پر گلاس کے ٹوٹنے کے عمل کو دکھایا گیا ہے جودراصل خوف کے خاتمے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے کے بعد پلر کے کردار میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوتی ہے اور وہ ”دوسرے“ (The Other)کو شکست دے کرحتمی فیصلے کی جانب بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح سینٹ ساوین کا گھر خواب کی علامت کے طور پرناول میں موجود ہے۔پہاڑوں کے سلسلے خداکی تخلیقی عظمت کی علامت ہیں جو ان کو بہ نظر غائر دیکھتا ہے اس کی تخلیقی عظمت کی بابت سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پہاڑ ساکت ہیں اور ان کی قسمت میں ہمیشہ ایک ہی منظر دیکھنا لکھا ہے،جب کہ دریا پہاڑوں کے مقابل متحرک ہے جو زندگی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے،یہ بہتا ہے اور ارد گرد کو بدل دیتا ہے۔ اس کے پانی زرخیزی کا باعث ہیں،روحوں اور جسموں کو پاکیزگی عطاکرتے ہیں۔پیڈرا کا دریا پلر کی روحانی پاکیزگی کی علامت بن کر سامنے آیا ہے جس کے کنارے بیٹھے وہ اپنی کہانی لکھ کراس کے پانیوں کے سپرد کر رہی ہے۔
” گریہ بر کنارِ دریا “درحقیقت محبت اور روحانیت کے سفر کا استعارہ ہے جہاں پلر اور نوجوان پادری ایک دوسرے کے ہمجان (Soul Mate)بن کر سامنے آتے ہیں۔ بظاہر وہ الگ الگ دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی روحیں ایک ہی منزل کی مسافر ہیں۔ناول میں پلر اور”دوسرے“(The Other)کے مابین تضاد کو خیر و شر کے تصادم کی صورت میں دکھایا گیا ہے یوں ناول خیر و شر کے مابین تصادم میں خیر کی فتح کا نمایندہ ناول بن جاتا ہے جہاں خداکے وجود کی موجودگی کی جانب اشارہ ہے۔کائنات میں خدا اور اس کی الوہی طاقتیں جدو جہد کرنے اور خواب دیکھنے والوں کی معاون بنتی ہیں اور کامیابی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ان موضوعات کو پیش کرنے میں پاولو کویلھومذہبی اورثقافتی اساطیر،حکایات،ملفوظات اور خوابوں کا استعمال کر کے حقیقت اور فنطازی کے مابین سفر کراتا رہتا ہے۔ اس ضمن میں وہ فیش بیک اور فور شیڈونگ تیکنیکوں کے ساتھ ساتھ سر رئلزم، جادوئی حقیقت نگاری اور کہیں کہیں واہموں سے کام لیتا ہے۔کرداروں کی باطنی کیفیات کو منکشف کرنے کے لیے معروضی تلازمات گھڑنے میں بھی اسے مہارت حاصل ہے۔(جس پر گفتگوایک الگ مضمون کی متقاضی ہے،یہاں طوالت کے خوف سے مؤخر کی جاتی ہے۔)
—–

عبدالعزیز ملک
Share
Share
Share