کالم : بزمِ درویش – غزوہ بدر :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
غزوہ بدر

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

تاریخ اِنسانی اور کرہ ارض کی سب سے اہم اور فیصلہ کن گھڑی آچکی تھی یہ رمضان ہجری کی رات تھی محبوب خدا ﷺ کے ساتھ صرف ستر اونٹ دو گھوڑے اور تین سو آٹھ مجاہدین تھے جن میں سے مہاجرین ساٹھ سے اوپر تھے اور باقی سب انصار تھے آٹھ صحابہ اور تھے جو بوجہ عذر شامل نہ ہو سکے

لیکن شہنشاہِ دو عالم ﷺ نے ان کو بھی مالِ غنیمت میں سے پورا حصہ دیا لہذا یہ بھی اصحابِ بدر میں شمار ہوتے ہیں۔ ابتدا میں مکی لشکر کی تعداد تیرہ سو تھی جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زریں تھیں اونٹ بہت زیادہ تھے جن کی ٹھیک تعداد معلوم نہ ہو سکی لشکر کا سپہ سالار ابو جہل بن شام تھا اِسی رات اللہ تعالی نے بارش نازل فرمائی جو مشرکین پر موسلا دھار برسی جن سے ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ آگئی لیکن مسلمانوں پر یہ بارش ہلکی پھوار بن کر برسی۔ پیارے آقا ﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدانِ جنگ تشریف لے گئے وہاں رسول رحمت ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے جگہ بتائی کہ کل فلاں کی قتل گاہ یہ ہے انشا اللہ فلاں کی قتل گاہ یہ ہے اور اگلے دن اِسی طرح ہوا جہاں جہاں نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا تھا مشرکین اسی جگہ قتل ہوئے اِس کے بعد رسول دو جہاں ﷺ نے وہیں ایک درخت کے پاس رات گزاری۔ بدر کے میدان میں تین سو تیرہ مجاہدین کے مقابلے پر مشرکین مکہ ایک ہزار جنگجو سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ساتھ آئے تھے مجاہدین ِ اسلام کے پاس جذبہ جاں نثاری کے سوا کچھ نہ تھا۔ نہ سواریا ں نہ ہتھیار یہ منظر دیکھ کر رحمتِ دو جہاں ﷺ کا دل بھر آیا رقت طاری ہو گئی اور گریہ زاری کے عالم میں رب ذولجلال کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اے میرے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا اے اللہ اپنا وعدہ پورا کر پھر آپ ﷺ اللہ تعالی کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے اور گلو گیر آوار میں فریاد کرنے لگے۔ اے میرے خدا میں نے اپنی کل کائنات تیری رضا کے لیے میدان میں لا کھڑی کر دی ہے اللہ آ ج اگر یہ چند جانیں ضائع ہو گئیں تو پھر قیامت تک اِس زمین پر تیری عبادت کرنے والا کو ئی نہ ہو گا۔ حضرت ابو بکر صدیق نے جب آپ ﷺ کی گریہ زاری اور فریاد و اضطراب بے قراری کو دیکھا تو ان کا دل بھر آیا اپنے محبوب ﷺ کی شکستہ دلی دیکھ کر دل بھر آیا اور رو پڑے آگے بڑھے گلو گیر آواز میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان اللہ آپ ﷺ کو ہر گز مایوس نہ کرے گا وہ آپ ﷺ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ایک جھپکی آئی پھر آپ ﷺ نے سر اٹھا یا اور فرمایا ابو بکر خو ش ہو جا تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی ہے جبرائیل امین آگئے ہیں اِس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی کنکر یلی مٹی لی اور قریش کی طرف رخ کر کے فرمایا چہرے بگڑ جائیں اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی پھر مشرکین میں سے کوئی نہ تھا جس کی دونوں آنکھوں نتھنے اور منہ میں اس مٹھی مٹی میں سے کچھ نہ کچھ نہ گیا ہو۔ اِسی کی بابت اللہ تعالی کا ارشاد ہے ترجمہ: جب آپ ﷺ نے پھینکا تو درحقیقیت آپ ﷺ نے نہیں پھینکا اللہ نے پھینکا۔ مبارزت میں قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے عتبہ شیبہ اور ولید مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث مقابلے پر آئے حضرت حمزہ نے شیبہ کو حضرت علی نے ولید کو قتل کردیا لیکن عبیدہ بن حارث زخمی ہو گئے تو حضرت علی اور حضرت حمزہ جو اپنے شکار سے فارغ ہو گئے تھے دونوں آگے بڑھے اور عتبہ کا کا م تما م کر دیا اور زخمی حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے قریش اپنے تین نامور جنگجوں کو کھو چکے تھے لہذا اب وہ غضب ناک ہو کر آگے بڑھے اب عام جنگ شروع ہو چکی تھی دوران جنگ چند ایسے ایمان افروز منظر سامنے آئے جو پہلی اور آخری بار وقوع پذیر ہوئے حضرت ابو عبید بن الجراح اپنی محبوب سے محبوب چیز بھی رسول اللہ ﷺ پر قربان کرنا پسند کرتے تھے غزوہ بدر میں ان کا باپ عبداللہ بن جراح کفا ر کی طرف سے آیا تھا وہ ایمان لانے کی وجہ سے ان سے سخت ناراض تھا دو ران جنگ کئی بار تاک تاک کر حضرت ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا حضرت ابو عبیدہ کچھ دیر بعد طرہ دیتے رہے جب دیکھا کہ وہ باز نہیں آتا تو کہا لا اس دشمن ِ خدا کا کام کر ہی ڈالوں یہ کہہ کر ایک ہی وار کیا اور عبداللہ بن جراح ڈھیر ہو گیا۔ یہ دنیا کی پہلی اور آخری جنگ تھی ایک طرف اللہ کے دوست اور دوسری طرف اللہ کے دشمن کھڑے تھے یہ سب آپس میں رشتہ دار تھے ایک طرف باپ اور دوسری طرف بیٹا ایک طرف چچا تو دوسری طرف بھتیجا ایک طرف سسر تو دوسری طرف داماد ایک طرف بھائی تودوسری طرف دو سرابھائی ایک طرف ھٹ دھرم مشرکین اور دوسری طرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دیوانے متوالے جن کے لیے سب رشتہ داریاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے رشتہ میں ہیچ تھیں۔حضرت ابو بکر کا بیٹا مشرکین کی طرف سے آیا تھا۔ ایمان لانے کے بعد ایک دن بیٹا عبدالرحمن اپنے والد سے کہنے لگا بدر کے دن آپ کئی مرتبہ میرے تیر کی زد میں آئے مگر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا تو قربان جائیں عاشقِ رسول ﷺ پر فرمایا خدا کی قسم مجھے رسول اللہ ﷺ نے نہ روکا ہوتا تو میں اپنا ہاتھ ہر گز نہ رو کتا۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے عشق میں حضرت عمر دیوانے تھے جو بھی مدِ مقابل آتا اس کو قتل کر دیتے اِس معرکہ میں ان کا ماموں عاص بن ہشام بھی مشرکین مکہ کی طرف سے آیا تھا دو رانِ جنگ جب وہ حضرت عمر فاروق کے سامنے آیا تو آپ اس کو قتل کرنے کے لیے جب اس کی طر ف بڑھے تو وہ خوف زدہ ہو کر چلایا میرے بھانجے کیا تو ہی مجھے قتل کر ے گا تو حضرت عمر نے فرمایا ہاں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمن میں ہی تیرا کام تما م کروں گا یہ کہہ کر اپنی تلوار کے وار سے اس کا سر اڑا دیا اور فرمایا جو اللہ کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے میں جنگ بدر میں تھا کہ اچانک دو نوجوانوں کو دیکھا ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا چچا جان مجھے ابو جہل دکھا دیں اِسی دوران مجھے ابو جہل نظر آگیا میں نے کہا وہ رہا شکار دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر جھپٹ پڑے اور اسے قتل کر دیا دونوں حملہ آوروں کا نام معاذ بن عمرو اور معاذ بن عفرا تھا حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں میں امیہ اور اس کے بیٹے کے درمیان چل رہا تھا کہ امیہ نے پوچھا آپ لوگوں میں وہ کونسا آدمی تھا جو اپنے سینے پر شتر مرغ کا پر لگائے ہو ئے تھا میں نے کہا وہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب تھے امیہ نے کہا یہی شخص ہے جس نے ہمارے اند ر تباہی مچا رکھی تھی۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا اِس میں چودہ مسلمان شہید ہو ئے لیکن مشرکین کا بھاری نقصان ہو اان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کئے گئے جو زیادہ تر سردار اور بڑے لوگ تھے دوران جنگ آپ ﷺ کے چچا زاد حارث بن عبدالمطلب بھی شدید زخمی ہوئے ان کا جسم زخموں سے چور تھا آپ کو اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لایا گیا بڑی محبت سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ چچا ابو طالب کہا کرتے تھے ترجمہ: ہم محمد ﷺ کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ ان کے اردگرد مارے جائیں گے اور اپنے بچوں اور بیویوں سے غافل ہو جائیں گے اِس قول کا ان سے زیادہ مستحق میں ہوں یہ کہا اور رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں جان دے دی۔

Share
Share
Share