افسانہ : قسمت کی بولی…“ :- ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ

Share
ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ

افسانہ : قسمت کی بولی…“

ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ
Email:

سلیم اپنے دوست سے کہتا ہے کہ پرگیہ میدان میں سبزی منڈی لگی ہے۔ انور جواب میں کہتا ہے چلو کچھ سبزی ہی لے آئے ورنہ اس لوک ڈاؤن نے توہمیں بنگال کے قحط کے دن یاد دلا دیے۔ انورتمہیں کیسے معلوم بنگال میں قحط ہوا تھا۔

انورکہتا ہے میرے دادا جان نے ہمیں آزادی سے قبل کی اور آزادی کے بعد کی کہانیاں سنائی تھیں۔ سلیم انور سے کہتا ہے موہن اور سوہن کو بھی ساتھ لے چلے۔ سلیم،انور،موہن، سوہن چاروں مل کر پرگیہ میدان میں لگی سبزی منڈی جاتے ہیں۔ سلیم نے انور سے کہا بھئی فاصلے بنا کر چلنا بھی ہے اور اسی فاصلے میں رہ کر سبزی خریدنی بھی ہے۔ سبزی منڈی میں لوگ کم ہی نظر آ رہے تھے اس کی ایک وجہ کورونا رائرس کے بڑھتے مریض اور یہ لوک ڈاؤن بھی کچھ حد تک ذمہ دار ہے اور سب سے زیادہ ذمہ دار ہم انسان ہیں اگر ہم تھوڑا احتیاط رکھ کر کام کریں تو شاید اس وبا پر قابو پاسکتے ہیں سب سے پہلا کام گھر میں رہنا،غیر ضروری کام کے بغیر گھر سے نہ نکلنا، اپنے آس پاس صفائی رکھنااور بار بار ہاتھ دھوتے رہنا۔ انور چیختا ہے سلیم یہ کیا میدان میں؟ یہاں تو کسان سے لے کر بیوپاری تک نے اپنا ٹھیلا لگایا ہوا ہے اس میدان میں تقریباً بیس ٹھیلے لگے ہوں گے۔ انور کہتا ہے میں تو ٹماٹر لوں گا،تاکہ خون کی کمی کو کم کیا جاسکے، وہی سلیم نے کہا میں تو بھنڈی لونگا میری امّی کو بھنڈی بہت پسند ہے انور ٹھلے والے سے پوچھتا ہے ٹماٹر کیسے دام میں دیے؟ ٹھیلے والے نی کہا ٹماٹر ساٹھ روپیے کلو انور کہتا ہے اتنا مہنگا ٹماٹر میں تو صرف دس روپیے کا ہی ٹماٹر لوں گا۔۔اس ٹھیلے والے نے دو چھوٹے سائز کے ٹماٹر دیے۔ ادھر سلیم نے بھنڈی کا بھاؤ تال کیا تو ٹھیلے والے نے کہا بھئی جان پیاری ہے تو نہ تم ہمارا وقت بگاڑو اور نہ ہی اپنا اگر لینا تو کھڑے رہو ورنہ آپ یہاں سے جاسکتے ہو۔ سلیم نے آدھاکلو بھنڈی لی۔ انور اور سلیم بات چیت کرتے کرتے سبزی خرید رہے تھے کہ ادھر موہن اس کسان کے پاس جاتا ہے جہاں وہ الگ الگ قسم کی دالیں لیے بیٹھا تھا موہن نے اس کسان سے پوچھا یہ ارہر کی دال کیسا کلو دی؟ وہ کسان کہتا ہے دو سو روپیے کلو۔موہن نے اس کسان سے کہا تم تو کسان ہو کم از کم تم تو سستے داموں میں دال بیچ سکتے ہو تب اس کسان نے موہن کو پلٹ کر جواب دیا کہ تم دکان پر بل لے کر پورے پیسے دیتے ہو اور ہم جیسے کو ہی دام کم کرنے کو کہتے ہو جب کہ اس لوک ڈاؤن کے چلتے سب سے زیادہ اثر ہم پر پڑا ہے کوئی بیوپاری ہمارا مال لینے کو تیار نہیں ہے انہیں لگتا ہے کہیں یہ دھان بھی کورونا وائرس سے سنکرمیت تو نہیں۔ اب ہماری بھی زندگی ہے ہمارے بھی بال بچے ہیں ہمیں بھی پیٹ کی بھوک ستاتی ہے۔آپ شہر والے اچھا مال لینے میں بھی اپنی کنجوشی دکھاتے ہیں جبکہ یہ سو فیصد چوکھا ہے اور دام بھی واجب ہے۔موہن نے جب کسان کی یہ ساری باتیں سُنی اور کہا بھائی کسان آپ ڈھائی سو گرام ارہر کی دال دے دو۔کسان دال کو تولتے ہوئے بولتا ہے بھاؤ کلو کا پوچھتے ہے اور صرف ڈھائی سو گرام ہی لیتے ہے۔موہن کہتا ہے اگر آپ کسان ہے تو ہم نوکری پیشہ عام آدمی ہے دو مہینے نے تنخواہ نہیں ملی ہے جو بچت کی تھی وہ استعمال کرکے دن گزار رہے ہیں صرف لوک ڈاؤن کا اثر تم پر ہی نہیں پڑا بلکہ شہریوں کی جیبوں پی بھی پڑا ہیں۔ایک طرف موہن دال لیتا ہے تبھی سوہن دوسرے کسان کے پاس جا کر گیہو ں خریدتا ہے سوہن جس کسان کے پاس گیا تھا اس کسان کے پڑوس میں ایک بیوپاری کا ٹھیلا تھا اور وہ گیہوں کا آٹا بیچ رہا تھا سوہن سوچنے لگا کہ گیہوں لوں گا پھر اس کو پسانا بھی پڑے گا اگر آٹا لیتا ہوں تو گیہوں پسانے کی جھنجٹ سے بچ سکتا ہوں۔ سوہن اس گیہوں بیچنے والے کسان سے پوچھتا ہے گیہوں کیسے دیے؟ تب کسان کہتا ہے چالیس روپیے کلو کہو تو پانچ کلو تول دو۔ سوہن نے سوچا گیہوں کا بھاؤ تو پوچھ لیا اب جاکر اس بیوپاری سے گیہوں کے آٹے کا بھاؤ بھی پوچھ لیا جائے۔ سوہن جیسے ہی اس بیوپاری کے ٹھیلے پر جانے لگا تو وہ کسان کہنے لگا یہ صرف آج کے لیے اور ابھی کے لیے ہے پھر یہ نہیں ملے گا۔ سوہن اس کسان سے کہتا ہے کہ تھوڑا انتظار کرو۔میں ابھی آتا ہوں کہہ کر اس بیوپاری کے پاس چلا جاتا ہے اس بیوپاری سے پوچھتا ہے کہ بھئی یہ گیہوں کا آٹا کیسا کلو بیچ رہے ہو تب وہ بیوپاری کہتا ہے کہ ساٹھ روپیے کلو۔ سوہن کے ہوش اڑ گئے تھوڑی دیر کے لیے وہ سکتے میں آگیا۔ وہ واپس کسان کے پاس جاتا ہے اور پانچ کلو گیہوں لیتا ہے تب کسان کہتا ہے کہ بیوپاری تم کو بھی لوٹ لے گا اور جاتے جاتے مجھے بھی۔بیوپاری کی لوٹ مار فطرت ہوتی ہے۔ تبھی وہاں رتن سیٹھ نامی شخص اپنے مزدور کو ساتھ لے کر آتا ہے اور اس سے پرگیہ میدان کے دروازے پر کھڑا رہنے کو کہتا ہے۔وہ سیٹھ کافی سارے روپیے لیے کئی ساری چیزیں خرید رہا تھا ہم چاروں کی نظر ایک اور ٹھیلے پر گئی۔اس ٹھیلے پر چند لڑکیاں بیٹھی تھی اور ہاتھ میں لکھا ہوا پرچا تھا آپ کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ہم وہ یتیم لڑکیاں ہیں جن کا گزارا آپ لوگوں کی مدد سے ہی ہوتا ہیں۔ تبھی وہاں ایک اور ٹھیلا تھا ابھی ہم سب ان ٹھیلوں کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک پولیس کی گاڑیاں وہاں آگئی اور ان ٹھیلے والوں کو کہہ رہی تھی کہ آپ کا وقت پورا ہوگیا ہے اب یہاں دوسرے ٹھیلے والے اپنا ٹھیلا لگائیں گے۔ ابھی یہاں ایک ٹیم آئے گی اور اس جگہ کی دوبارہ سے صفائی کرے گی۔ ایک دم لوگ بھی آناً فاناً یہاں سے وہاں ہونے لگے۔ ایک پولیس والا اس رتن سیٹھ کے مزدور دھنی رام کو کہہ رہا تھا تم کون ہو۔ دھنی رام ڈرتے ڈرتے کہتا ہے ہم اپنے مائی پاب رتن سیٹھ کے ساتھ ہے۔پولیس والا کہتا ہے ہم کسی رتن سیٹھ کو نہیں جانتے؟ اتنے میں رتن سیٹھ خود آ جاتا ہے وہ بھی پولیس کو دیکھ کر تھوڑا بہت گھبرا جاتا ہے پولیس جب اس مزدور کے تعلق سے رتن سیٹھ سے سوال کرتی ہے تب رتن سیٹھ کہتا ہے میں اِسے نہیں جانتا۔ دھنی رام رونے لگا اور رتن سیٹھ کے پاؤں پکڑ کر رونے لگا مائی پاب آپ ہمری پہچان ہو۔اگر آپ ہی ایسن کروں گے تو تم کہا جائی۔ رتن سیٹھ کہتا ہے میرا پاؤں چھوڑ دو۔ اے پولیس والے یہ ہمیں چھو رہا ہے پولیس والے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا مزدور کے ڈنڈے سے مارتا رہا، تو نے فاصلے نہ رکھنے کا قانون توڑا ہے۔ اتنے میں سلیم،انور، موہن اور سوہن بھی وہاں سے نکل گئے۔ دھنی رام پولیس والے کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا۔۔ پولیس بھی جتنا مارسکتی تھی اتنا مار کر چھوڑ دیا۔ اتنے میں اسی میدان میں دوسرے ٹھیلے والوں نے اپنا اپنا ٹھیلا جمانا شروع کیا۔ مزدور دھنی رام اسی دروازے کے پاس کھڑا رہا شاید کوئی سیٹھ ہمیں مل جائے تو کچھ نہ کچھ جگاڑ کرکے ہی گھر لوٹیں گے۔ دوسرے سارے ٹھیلے جم گئے۔لوگ بھی آنے لگے۔ دھنی رام کی نگاہ اس ٹھیلے پر پڑی جہاں ایک آدمی بچہ کو لیے کھڑا تھا اس کے پاس ایک کالے کوٹ والا وکیل بھی کھڑا تھا۔ دھنی رام نے سوچا یہ بڑے لوگن کا کام کاج ہے ہمرے کیا۔اس کے ہاتھ ایک پرچہ تھا اس میں لکھا ہوا تھا قسمت کی بولی“پہلے اس ٹھیلے پر ایک عورت جاتی ہے وہ کہتی ہے اس طرح سے تم اب انسانوں کے بچوں کو بیچوں گے۔ وہ شخص کہتا ہے ہماری مجبوری کو سمجھے اس کے ماں باپ کورونا وائرس میں مر چکے ہیں یہ ان کی اکلوتی اولاد ہے اور خوب ساری ملکیت بھی ہے اگر کوئی اس بچہ کی ذمہ داری لیتا ہے تو ساری ملکیت اسی کی ہو جائے گی۔وہ عورت کہتی ہے کیا اسے بھی کورونا وائرس ہوگیا ہے؟اس شخص نے کہا اس کا رپوٹ آنا باقی ہے یہ تو قسمت کی بولی ہے۔وہ عورت کہتی ہے آج کے زمانے میں ذاتی بچوں کا پلنا مشکل ہے اور اس بچہ کی بھی تو کوئی گارنٹی نہیں یہ تو موت کو دعوت دینے جیسا ہے۔ تبھی وہاں ایک مولوی صاحب آتے ہیں اوراس ٹھیلے کو دیکھتے ہی لاہول ولا قوۃ پڑھنے لگے بھئی ہم نے تو چودہ سو سال پہلے انسانوں کے بکتے دیکھا تھا اور من ہی من سوال کر بیٹھتا ہے کہ کیا یہ آج کا بلال ہے؟ نہیں نہیں کہتے کہتے وہاں سے نکل پڑتا ہے۔دھنی رام دور کھڑا یہ سارا منظر دیکھتا ہے اور من میں سوچتا ہے کہ یہ سارے لوگ وہاں جاتے ہیں اور خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں کیوں نہ میں بھی قسمت کی بولی کو آزماؤ۔ دھنی رام وہاں پہنچتا ہے اور ساری معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ طے کرتا ہے کہ وہ قسمت کی بولی لگانا چاہتا ہے۔ وہ شخص خوش ہوجاتا ہے لیکن دھنی رام اپنے من میں سوچتا ہے کہ میری موت تو اسی رتن سیٹھ کے مجھے پہچاننے پر انکار کرنے سے ہوگئی تھی اور میرے پاس کوئی دھن دولت بھی نہیں لیکن اس بچہ کی قسمت تو دیکھو سب کچھ گنواں کر بھی دھن دولت والا ہے۔ وہ شخص اور وکیل دھنی رام کو کاغذات پر انگوٹھا لگانے کو کہتے ہے دھنی رام اس بچہ کی ذمہ داری لے لیتا ہے دھنی رام کو وہ شخص اور وکیل پہلے ہسپتال لے جاتے ہے وہاں اس بچہ کا رپوٹ آنے والا ہوتا ہے بچہ کا رپوٹ نیگیٹیو آتا ہے دھنی رام کی قسمت کی بولی پر جیسے قسمت چمک گئی تھی۔ دھنی رام اس بچہ کو لے کر محل جیسے گھر میں جاتا ہے اب وہ سیٹھ بن چکا تھا وہ گھر میں نوکر کو دیکھ کرکے ان کو جانے کو کہتا ہے مگر اس رتن سیٹھ کی کرتوت یاد آنے پر وہ انہیں رکھ لیتا ہے جب نوکر دھنی رام کے سامنے اچھا عالی شان پکوان لے کرکے آتے ہے تب دھنی رام کہتا ہے ہم تو مزدور آدمی ہے ہمیں تو ایک پیاز اور دوئی روٹی دے دو۔تب وہ نوکر کہتا ہے اب آپ تو دھنی رام سیٹھ ہوچکے ہیں اب آپ کو ایسے ہی روزانہ کھانا ملے گا اب تم مزدور نہیں بلکہ دھنی رام سیٹھ بن چکے ہو۔ دھنی رام کو وشواس نہیں ہو رہا تھا مگر انسان کی لالچ اسے پہلا شکار بناتی ہے دھنی رام نے سوچا کیوں نہ اس کی عادت آج سے ہی ڈالی جائے۔ دھنی رام خوشی خوشی وہ کھانا کھا لیتا ہے مگر شام تک اسے پیٹ میں گڑبڑ ہوجاتی ہے دھنی رام کی طبیعت کو دیکھ کر نوکر اسے ہسپتال لے جاتاہے مگر ہر ہسپتال میں کوڈ 19 کے مریضوں کا علاج چل رہا ہوتا ہے نوکر ہسپتال کے باہر ہی دھنی رام کو چھوڑ کر اس شخص اور وکیل کو اطلاع کرنے نکل جاتا ہے دھنی رام درد کے مارے تڑپتا ہے۔ ڈاکٹر سے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر ڈاکٹر اسے کوڈ 19 کے مریضوں کے ساتھ رکھ دیتے ہیں دھنی رام کی رپوٹ پوزیٹیو آتی ہے کیونکہ ہسپتال کے اندر جو شخص اسے لے کرکے آیا تھا اسے کورونا وائرس تھا اس کے چھونے سے دھنی رام کو بھی کورونا وائرس ہو گیا ہے وہ شخص اور وکیل ہسپتال سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہے وہ دھنی رام کے بارے میں پوچھ ہی رہے تھے کہ ایک نرس کی آواز سنائی دی کہ وہ دھنی رام کا مریض جو ابھی آیا تھا اب وہ مر چکا ہے۔ وہ شخص اور وکیل فون رکھتے ہوئے کہتے ہیں دھنی رام کو قسمت کی بولی راش نہیں آئی۔ اب کل پھر ہمیں قسمت کی بولی لگانی ہوں گی۔وکیل اس شخص سے کہتا ہے تم خود ہی کیوں نہیں قسمت کی بولی میرا مطلب اس بچہ کی ذمہ داری لے لیتے۔وہ شخص کہتا ہے میرے اپنے چار بچے ہیں اور اس بچہ کی قسمت ہی خراب ہے پہلے ماں باپ کو کھا گیا اور جس دھنی رام نامی شخص نے لیا تھا وہ بھی مر چکا ہے میں اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا۔ وہ شخص وکیل سے کہتا ہے وکیل صاحب آپ خود ہی کیوں اس بچہ کی ذمہ داری نہیں لے لیتے۔ وکیل کہتا ہے مجھے وکالت کرنے دو۔میری بیوی کہتی ہے کہ تم دنیا کے کسی بھی بچہ کی ذمہ داری لینا مگر اس قسمت کی بولی یعنی اس بچہ کی ذمہ داری مت لینا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Dr. Sufiyabanu. A. Shaikh
C- Ground Floor Tajpalace, Kumbharwada
380001. ,Jamalpur Ahmedabad

Share

One thought on “افسانہ : قسمت کی بولی…“ :- ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ”

Comments are closed.

Share
Share