کالم : بزمِ درویش – میرا سوہنا سید بچھڑ گیا :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share

کالم : بزمِ درویش
میرا سوہنا سید بچھڑ گیا

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

اٹھارہ سال پہلے جب کوہ مری میں بارہ سال قیام خدمت خلق کے گزرے ہزاروں کے مجمعے کو چھوڑ کو میری ٹرانسفر لاہور ہوئی تو میں نے انسان کا ایک نیا روپ دیکھا‘مری میں قیام کے دنوں میں چار پانچ ہزار لوگوں کا روزانہ کا مجمع‘ مقامی لوگ میرے ساتھ ہو تے‘میری ٹرانسفر پر وہ بہت اداس ہو گئے

میں بھی اداس ہو گیا میرا دل بلکل نہیں تھا مری کو چھوڑوں‘ کو ہ مری کے شب و روز نے میر ی تکمیل کی‘ مُجھ فقیر قطرے کو سمندر سے ملنے کا راستہ دکھا یا میرے تبادلے کا جب لوگوں کو پتہ چلا تو لاہور سے میرے دوست آگئے‘ ٹرک کھڑا کر دیا کہ میں خودسامان لے کر جاؤں گا‘ مقامی لوگوں اور جانثاروں کے اداس چہرے دیکھ کر میرا بھی شہر چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا ایک ہفتہ ٹرک کھڑا رہا میرا دوست بضد کہ میں خودسامان لے کر جاؤں گا آخر کار میر ا سامان دوستوں نے روتے دھاڑیں مارتے بچوں کی طرح بلکتے لوڈ کرایا اداس تھے کہ میں اُن کا شہر چھوڑ کر لاہور جارہا ہوں میں بھی ان کے ہجر میں آنسو بہا رہا تھا پھر ہزاروں اہل مری کی محبتوں کے پھول دامن میں سمیٹے میں لاہور آگیا یہاں میں پردیسی تھا مجھے کو ئی نہیں جانتا تھا میں مری میں اپنے آباد گلشن کو اُجاڑ کر ویران کر کے آگیا تھا میں سوچ رہا تھا کہ مری کے ہنگامے ہزاروں کا رش دوستوں کی محبت عشق اب ماضی کے قصے ہیں اب دوبارہ چمن کبھی اُس طرح آبا دنہ ہو گا میر ے حصے کی زندگی میں نے جی لی اب نئے شہر میں گمنامی مصروفیت مزدوری کی دنیا ہو گی اور میری ذات ہو گی راہ فقر کے کسی بھی سالک کی ایک خواہش ہو تی ہے کہ اُس کی دوکان آستانے خانقاہ پر بہت لوگ آئیں میرے پاس تو ہزاروں آتے تھے میرا جی بھرگیا تھا- راہ سلوک کے مسافروں کی زندگی کے گلشن آخری دنوں میں آباد ہو تے ہیں میلے لگتے ہیں لیکن حق تعالیٰ نے تو مجھے جوانی میں ہی بہار کے سارے رنگوں سے بھر دیا تھا لاہور آکہ میں بھی گمنامی کی سادہ عام زندگی گزارنا چاہتا تھا لیکن قدرت نے پتہ نہیں میرے والدین یا اجداد کی کسی وقت کی دعا قبول کی تھی ورنہ میں تو خطا کار سیاہ کار جس کے دامن میں کوئی بھی قابل ذکر نیکی نہیں تھی اُس نے یہاں بھی میرے مقدر میں خدمت خلق کی ڈیوٹی لکھ دی نہ چاہتے ہو ئے بھی مری والوں نے لاہوریوں کو بتا بتا کر میرے پیچھے لگا دیا پھر یہاں بھی مُجھ فقیر کا گلشن دوستوں دیوانوں پروانوں سے آباد ہو نے لگا چند مہینوں میں ہی بہت سارے ایسے دوست میرے گلشن میں کھلتے گئے کہ گلشن پرپھر بہار کے قافلے اُترنے لگے اِن میں ہر رنگ مزاج کے پھول تھے ہر پھول دوسرے سے زیادہ خوبصورت مہک سے بھرا ہوا تازگی شادابی خوشبو میں اپنی مثال پھر اِسی گلشن میں ایک ایسا پھول کھلا کہ اُس کی خوبصورتی خوشبو رنگ تازگی اٹھان کے سامنے سارے پھولوں کی چمک دلکشی ماند پڑگئی یہ ایک سید زادہ تھا سید آفتاب شاہ صاحب میری زندگی لاہور میں بے ترتیب تھی انہوں نے آکر میری ساری بے ترتیبی کو منظم کیا شروع کی چند ملاقاتوں کے بعد ہی شاہ صاحب کو مُجھ خطا کار میں پتہ نہیں کیا نظر آیا کہ وہ میرے عشق میں مبتلا ہو گئے۔
ایک دن اُن کے کو چے سے گزارا تھا میں
پھر یہی روز کا مشغلہ بن گیا
شاہ صاحب کی تخلیق عشق کی مٹی سے ہو ئی تھی وہ عشق الٰہی کے متلاشی تھے مُجھ فقیر پر نظر پڑی تو میرے عشق میں پروانے بن گئے من میں دبی عشق کی چنگاری شعلے کا روپ دھار کر آگ کا بھانبھڑ بن گئی پھر اِس آگ کے اُن کے سر سے پاؤں تک اپنی گرفت میں لے لیا اُن کا محبوب معشوق میں تھا وہ چوبیس گھنٹے میرے عشق کی آگ میں گیلی لکڑی کی طرح سلگتے تھے وہ سید زادے تھے میں ہمیشہ اُن کو دل و جان سے عزیز تھا وہ جب بھی میری حب میں کچھ کر تے تو شرمندگی مجھے گھیر لیتی کہ وہ سید ہیں میری اُن کے سامنے کیا اوقات لیکن وہ تو اپنا تن من دھن سب کچھ میرے اوپر وارنے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے بہت پیارے انسان اُن کے لہجے میں سمندوں کا ٹہراؤ آبشاروں کا ترنم تھا ہونٹوں پر ہر وقت ایک دلنواز مسکراہٹ رقص کر تی نظر آتی مجھے دیکھ کر اِس مسکراہٹ اوراُن کی ا ٓنکھوں میں ہزاروں ستاروں کی چمک آجاتی ہر وقت میری خوشی میری دل جوئی میرے آرام کا خیال رکھتے میرے گھر پر ملاقاتی آتے‘ میں اکیلا تھا ٹریفک کے مسائل لوگوں کو سنبھالنے کے مسائل تو میرے کہے بناہی شاہ صاحب نے خود کو پیش کر دیا تہجد کے وقت آکر کاغذ پنسل لے کر آنے والوں کو ٹوکن دیتے اپنا فون نمبر دیا شام کو آکر آنے والوں کی راہنمائی میں جب بھی نکل کر دیکھتا تو عرق ندامت میں بھیگ جاتا ایک سید زادہ میرے عشق میں میری آسانی کے لیے چوکیدار بنا بیٹھا تھا میرے اور میرے گھر بچوں کے لیے ایسے ایسے کام کہ لکھوں تو لکھا نہ جائے وہ اپنی ذات کو بھلا بیٹھے صرف میری خوشی میرا آرام خو د دار اتنے کے ساری زندگی درویشی بے نیازی قناعت فقر استغناکو اپنا زیور بنائے رکھا کبھی کسی کے سامنے دست سوال نہ کیا تنگی غربت روز مرہ کے مسائل مالی الجھنوں کے باوجود سید زادے کی پیشانی وقار اور آسودگی سے ہی روشن رہی کبھی اپنے دوستوں حلقہ احباب رشتہ داروں کو اپنے کمزور حالات کی خبر تک نہ ہو نے دی مجھے بتائے بغیر پوچھے بغیر جہاں دیکھتے میری خدمت آسانی کر سکتے ہیں تو آگے بڑھ کر کر دیتے سب سے بڑی بات زندگی کے نشیب و فراز میں بہت سارے کمزور لمحات آئے جب اکثر لوگ رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں شاہ صاحب نے ساری زندگی حرف شکوہ زبان پر نہیں لایا شاہ صاحب کو پتہ چلا میں حضرت امام بری ؒ خوجہ معین الدین اجمیری ؒ سے عشق کرتا ہوں تو انہوں نے بھی دونوں بزرگوں سے پیار کرنا شروع کر دیا میری خشنودی کے لیے دونوں بزرگوں کا سالانہ عرس منانا شروع کر دیا شاہ صاحب نے کیا چراغ جلایا کہ پھر چراغ سے چراغ جلتا گیا چند لوگوں سے شروع ہو نے والا سالانہ عرس سینکڑوں ہزاروں میں چلا گیا میرے آستانے اورسالانہ عرس کے روح رواں جان شاہ صاحب ہی تھے شاہ صاحب میری اور میرے گلشن کے سب سے قیمتی اور چمک دار خوشبو دار پھول بن گئے جن کے وجود سے ہماری زندگیاں مہک رہی تھی شاہ صاحب اور ہم سب لازم و ملزوم ہوتے گئے شاہ صاحب ہماری محفلوں کے سردار تھے وہ سید تھے عشق کی انتہا پر اپنا آپ بھلا بیٹھے خود کو آفتاب بھٹی لکھنا شروع کر دیا میں نے دبے لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی لیکن سید زادے کو کون روکے وہ عشق کے آسمان پر روشن ستارے کا مقام پا چکے تھے ہمارا گلشن پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مہک رہا تھا کہ اچانک خزاں نے شاہ صاحب پر وار کیا چند دن پہلے وہ بیمار ہو گئے میرے سوہنے سید زادے کا مسکراتا روشن چہرہ مر جھانے لگا گھر والوں او ر دوستوں میں تشویش دوڑنے لگی علاج شروع ہو گیا بیماری صحت کا پنڈولم جھولنے لگا ہر دوست کی جا ن سولی پر لٹکی تھی ہر سانس پر کوہ ہمالیہ دھرا تھا خوف کی امر بیل سب کو چاٹ رہی تھی کہ تمام علاج معالجوں کے باوجود ایک دن پہلے جب کسی دوست نے فون کیا کہ ہمارے شاہ صاحب ہمیں چھوڑ گئے تو لگا تیز دھار خنجر سینے کے اندر تک اتر تا گیا ہے سانسیں رک سی گئیں دھڑکنیں ساکت ہو گئیں دل کو کسی نے مٹھی میں دبا لیا حواس شل دماغ سن کہ واقعی شاہ صاحب نہیں رہے جسم فالجی سا ہو گیا کتنی دیر تک بے جان سا پڑا رہا موت کتنی بے رحم اوراچانک وار کر تی ہے کہ شاہ کو تاج و تخت سمیٹنے اور گدا کو اپنا بوریا لپیٹنے کا موقع نہیں دیتی کوئی شاہی بستروں پر آخری ہچکی لے یا فٹ پاتھ پر آخری آرام گاہ وہی دو گز بھر زمین ہائے میرے شاہ صاحب چلے گئے یقین نہیں آرہا تھا کہ شاہ صاحب جیسا زندہ بیدار مسکراتا شخص ہماری محفلوں کی جان اِس قدر جلد موت کا لقمہ بن جائے گا جس کو بھی خبر ملی جسم و جان لرز کر رہ گئے۔ ایسا خود دار شخص زندگی کی آخری سانس تک خودی کے ساتھ قائم رہا کسی کا احسان لینا بو جھ بننا تو جانتا ہی نہیں تھا۔ زندگی کے آخری دنوں جب جان لیوا بیماری اُن کے جسم کو چاٹ رہی تھی تو بھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کیا شاہ صاحب اُن انسانوں میں سے ایک تھے جو محنت مشقت قربانی کے وقت سب سے آگے ہو تا ہے لیکن جب انعام کا وقت آتا ہے تو قطار میں سب کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے ایسا خوددار شخص وہ واقعی سید زادہ تھا سید زادے کا وقار اُس کے انگ انگ سے جھلکتا تھا میری زندگی میں ہزاروں چاہنے والے آئے لیکن کو ئی بھی شاہ صاحب جیسا نہ تھا اب کون میری گلی میں بتائے بغیر گھنٹوں اِس امید پر کھڑا ہو گا کہ کب سیڑھیاں چڑھتا یا چھت پر یا دروازے پر نظر آؤں تو وہ دیدار کر کے چلا جائے کو ن میرے ملک سے باہر جانے پر روزانہ میرے گھر بچوں سے مل کر کوئی حکم کو ئی کام کہے گا اور جب کوئی ان سے کہتا کہ آپ وہ دروازے پر بیل کو دبا ئیں بھٹی صاحب آجائیں گے تو وہ کہتے یہ گستاخی میں نہیں کر سکتا کوئی کہتا اپنی پریشانی الجھن مرشد سے شیئر کر و تو وہ کہتے اُن کو پتہ ہے جب دوران سماع مجھے دیکھ دیکھ کر نہال ہو تے جب قوال میری تعریف شروع کر تا تو وہ عالم مستی جوش سرشاری نشے میں جھومتے ہوئے میری طرف بڑھتے تو اُن کے آنکھیں میں ہزاروں ستاروں کی چمک اور چہرے پر کروڑوں پھولوں کو حسن جس کی وجہ سے ان کا چہرہ گلنار ہو تا تھا پھر شدت جذبات محبت عشق میں آکر مجھ فقیر سے لپٹ جاتے اب کو ن آئے گا کوئی نہیں‘ میر ی آنکھیں اب وہ سوہنا مست سید زادے کا دیدار نہیں کر پائیں گی میرا گلشن جو ان کے دم سے آباد تھا اجڑ گیا وہ سید زادہ سارے رنگ خوشیوں کو اپنے ساتھ لے گیا ہم سب کو اداس ویران کر گیا وہیں چھوڑ گیا کو ئی ضد نہیں کو ئی تقاضہ نہیں کو ئی شکوہ نہیں بھریا میلا چھوڑ گیاہم آواز بھی نہیں دے سکتے ابھی ناصر کشمیری جاوید صدیق کا غم نہیں بھولے تھے کہ شاہ صاحب بھی میرے گلشن کے سب سے پیار ے چمک دارروشن تازہ پھول چلے گئے گلشن اجڑ گیا ویران ہو گیا پیار و محبت عشق کا سنہرا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ کرونا کی موجودہ وبا کی وجہ سے ہم شاہ صاحب کے جنازے پر اپنی محبتوں کا اظہار نہ کر سکے یہ زخم ہمیشہ ہمارے دلوں پر رہے گا ہم سارے دوست اپنے پیارے شاہ صاحب کو عشق و محبت کی بے مثال وار فتگیوں کے جلو میں دفن تو کر آئے لیکن وہاں سارا وقت جدائی ہجر دکھ کی برسات برستی رہی اور ابھی تک بر س رہی ہے اور ساری زندگی یہ برسات نہیں تھمے گی شاہ صاحب کے چاہنے والے دن بھر کے ہنگاموں کے بعد جب بھی بستروں پر آئیں گے تو شاہ صاحب کا مسکراتا چہرہ سامنے آجایا کرے گا پھر ہجر کے آنسو ٹپکا کریں گے شاہ صاحب وی آل مس یو ہمیشہ کرتے رہیں گے۔
بھیڑ میں دنیا کے جانے وہ کہاں گم ہو گئے
کچھ فرشتے بھی رہا کر تے تھے انسانوں میں
—–

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
Share
Share
Share