اتحاد و اتفاق کامیابی کی شاہ کلید :- امانت علی قاسمی

Share
مفتی امانت علی قاسمی

اتحاد و اتفاق کامیابی کی شاہ کلید

امانت علی قاسمی
استاذ و مفتی دار العلوم وقف دیوبند

اتحاد واتفاق کی اہمیت اور اس کی ضرورت ہر کوئی محسوس کرسکتا ہے، یہ کامیابی کی شاہ کلید ہے، ترقی کا زینہ، فتح و کامرانی کا شامیانہ اور عزت و سر بلندی کا وسیلہ ہے اور اس کی ضد ا نتشار و افتراق، مخالفت و عناد کمزوری کا ضامن،ذلت و پستی کا سبب،خواری بربادی کا راستہ ہے،

ہر کوئی آسانی سے محسوس کرسکتا ہے کہ رسی کے بٹے ہوئے دھاگے میں اتنی طاقت ہے کہ کوئی کئی لوگ مل کر بھی اس کو نہیں توڑ سکتے ہیں؛ لیکن جب اس کی گرہیں کھل جائیں تو بچہ بھی اس کے کھلے دھاگے کو توڑنے پر قادر ہوجاتا ہے۔کبوتر اگر جال میں پھنس جائے تو کسی حال میں اس جال سے باہر نہیں نکل سکتا ہے لیکن اگر سارے کبوتر مل کراتحاد کا مظاہرہ کریں تو جال کا ہی شکار کرسکتے ہیں اور جال کو ایک ساتھ لے کر اڑسکتے ہیں، آسمان میں ایک دو تارے ہوں تو اس میں کوئی کشش نہیں ہوتی ہے؛ لیکن اگر یہی تارے بہت زیادہ ہوں توآسمان میں جھلملاتے ہوئے کہکشاں بن جاتے ہیں، اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جس سے اتحاد و اتفاق کی طاقت،اس کی اہمیت و ضرورت کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ہرکوئی اس کی اہمیت سے واقف ہے، قرآن و حدیث میں اس کی ضرورت و افادیت پر بہت زور دیا گیا ہے اللہ تعالی نے بہت واضح الفاظ میں بیان کیا واعتصموا بحبل اللہ جمیعاو لا تفرقوا(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تقسیم مت ہوجاؤ)مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ کی رسی سے مراد اقرآن و حدیث ہے یعنی یہ وہ مرکزی عنوان ہیں جس پر تمام مسلمانوں کا بلا کسی شرط کے ا تحاد و اتفاق ہوسکتا ہے؛ لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلم سماج میں اتحاد و اتفاق کا سب سے زیادہ فقدان نظر آتا ہے،یہ وہ قوم کو اجتماعیت کے مظاہرہ کرنے کی تلقین کی گئی، جمعہ کی نماز جامع مسجد میں پڑھ کر اور عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھ اجتماعیت کے نمونہ قوموں کو دکھانے کے لیے کہا گیا،نماز میں امیر و غریب، شاہ گدا کو ایک ساتھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا،حج کے موقعہ پر لاکھوں کا اجتماع پوری انسانیت کے لیے اجتماعیت کا حیرت انگزیز نمونہ ہے۔ ایک رب ایک قرآن اور ایک نبی پرایمان لانے کو کہا گیا،ایک قبلہ کی طرف نماز پڑھنے کو کہا گیا یہ درحقیقت اجتماعیت او ر انسانی مساوات کی عملی مثال دی گئی، اسلام کے ا بتدائی زمانے میں اوس و خزرج یہ دوقبیلے تھے جن کے درمیان سو سال سے زائد سے جنگ اور عداوت چلی آرہی تھی اور ہر جانے والا شخص اپنی آنے والی نسل کو بدلہ کی تلقین کرکے جاتا تھا؛ لیکن اسلام نے اپنی تعلیم کے ذریعہ اوس و خزرج کو شیر و شکر کردیا، ہمیشہ کی عداوت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی اور دونوں بھائی ہوگئے اور ایک اجتماعیت کی لڑی میں اس طرح پروگئے جیسے دونوں ایک ہی تسبیح کے دو دانے ہوں لیکن افسوس جس قوم کے پاس اجتماعیت اور اتحادکی ایسی مثالیں ہیں، ایسی تعلیم اور ایسی کتاب ہے اس قوم میں اجتماعیت کا سب سے زیادہ فقدان ہے۔ اقبال نے کیاہی درد کا اظہار کیا ہے۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ا یک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پا ک بھی قرآ ن بھی اللہ بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی جو ہوتے مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں او ر کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اس وقت جو ملک کے حالات ہیں، وہ کسی بھی باشعور سے مخفی نہیں ہیں،مسلمان سیاسی اعتبار سے سب سے کمزور ترین حالات سے گزر رہے ہیں، ہماری صورت حال اس نوالے کی طرح ہے جسے مختلف قومیں اپنا لقمہ تر بنالینا چاہتی ہیں،ہمارے خلاف سازشی منصوبے سالوں سے بن رہے ہیں،بلکہ اب بن چکے ہیں، اور اب اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہورہی ہے، مسلمان اپنی معیشت، تعلیم، مذہب اور سیاست ہر اعتبار سے دیکھ لیں اتنہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں، ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہمیں بدنام کردیا جاتا ہے، دہشت گرد قرار دے کر پورے ملک میں شور مچایا جاتا ہے، ہماری حیثیت عرفی ختم کردی جاتی ہے، نفرت کا ایک زہر گھول دیا جاتا ہے،اس کے بعد مجرم قرار دے کر کال کوٹھری میں پھینک دیا جاتا ہے، ہماری ملی تنظمیں جیل سے رہائی کے لیے کوشاں ہوتی ہیں، بالآخر ایک دن آتا ہے کہ ہم چھوٹ جاتے ہیں اور جشن مناتے ہیں کہ ہمیں کامیابی مل گئی، کیسی کامیابی ہے یہ جو ہمارا لہو نچوڑ کر ہمیں دیا جاتا ہے؟ یہ کیسی کامیابی ہے یہ جو ہمیں ذلیل کرکے حاصل ہوتی ہے؟،یہ کیسی کامیابی ہے جو ہماری عمر عزیز کو ضائع کرکے اور جان و مال سے کھیل کر؛ بلکہ سماج اور معاشرے میں بے حیثیت بنا کر حاصل ہوتی ہے؟آخر یہ کیسی کامیابی ہے جس میں ہم اپنا سب کچھ لٹا کر کامیاب ہوتے ہیں؟ میں اس کامیابی کو سمجھنے سے قاصر ہوں، ہاں جنہوں نے ہماری یہ درگت کی ہے اس کو کال کوٹھری میں بھیج کر اس کو کیفر کردار تک پہونچا کر اگر کہا جائے کہ یہ کامیابی ہے تو کسی حد تک بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن ہماری تنظمیں جتنا کرتی ہیں اس کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ یہ ہماری قوم کے وہ ٹمٹماتے چراغ ہیں جن کی لو مدھم ہوچکی ہے اگر یہ لو بھی بجھ گئی تو ایک مہیب اندھیرا ہوگا جس میں اس کامیابی کا تصور بھی مذاق بن جائے گا۔
نماز میں صف بندی کی بڑی اہمیت ہے، احادیث میں صف بندی کا یہ طریقہ بتایاگیا ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی صف ہو تاکہ بچے اپنے بڑوں سے نماز دیکھ کر سیکھ سکیں۔حدیث میں غور کیجئے تو اس ایک مسئلے میں ملی قیادت کے بہت سے مسائل کا حل پوشیدہ ہے،اس وقت قیادت کو بدنام کرنا اور قیادت سے اعتماد کو ختم کردینا یہ بہت بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ملی قیادت میں نئی نسل کو جگہ نہیں دی گئی ہے، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑوں کو ملی قیادت میں بھی آگے رہنا چاہیے جیسے وہ ہماری نماز کی صفوں میں آگے ہوتے ہیں اورنئی نسل کو پیچھے کی صف میں رہ کر بڑوں کے کام کو دیکھنا چاہیے، اس سے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت دونوں چیزیں نمایاں ہوگیں۔ شاید اس مسئلہ میں ہم لوگ افرا ط و تفریط کے شکار ہیں،ایک طرف بڑوں سے بالکلیہ بدگمانی ہے تو دوسری طرف چھوٹوں کو مکمل طورپر نظر انداز کردیا گیا ہے، یہی وجہ ہے جب کسی قائد اور بڑے کا انتقال ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت کے جانے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیاجس کو پر ہونا ممکن نہیں ہے ظاہر ہے کہ جب پیچھے کی صف میں کسی کو نہیں رکھا گیا تو آگے کی صف کو پر کرنے والا کہاں سے آئے گا۔یہ وقت قیادت کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کا ہے، قیادت کے بخیے ادھیڑنے کا نہیں ہے۔لیکن غور و فکر کاایک پہلو یہاں پر ضرور ہے کہ ہندوستان میں مذہبی قیادت ہے او رمضبوط ہے اور عوام کا ان سے رشتہ بھی ہے، لیکن سیاسی قیادت،مذہبی قیادت سے علحدہ شئی ہے،دو الگ الگ راستے ہیں دونوں کی ذمہ داری الگ الگ ہے ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت نام کے برابر بھی نہیں ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ الیکشن کے زمانے میں مذہبی قیادت کی طرف نگاہیں اٹھنے لگتی ہیں اور مذہبی قیادت کا یہ میدان نہیں ہوتا ہے اس لیے سیاسی میدان میں مذہبی قیادت بہت زیادہ مؤثر نہیں ہو پاتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ علماء ہندہے، اور جمعیۃ علماء نے باربار یہ اعلان کیا ہے کہ جمعیۃ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ ایک مذہبی جماعت ہے۔ظاہر ہے کہ جمعیۃمذہبی جماعت ہے تو ہماری سیاسی جماعت کہاں ہے؟ اور اس کی پوزیشن کیا ہے؟اور کیا سیاسی قیادت کا مسلمانوں پر اعتماد بحال ہے؟ اور اگر نہیں تو اس کے وجوہات کیا ہیں یہ سب غور و فکر کا موضوع ہے۔
مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بنیادی وجہ اخلاقی زبوں حالی ہے، جس قوم کے نبی معلم اخلاق ہوں جب ان کے ماننے والوں میں اخلاقی گراوٹ پیدا ہوجائے تو ان کی ترقی کے خواب دیکھنا فضول ہے، اخلاقی زبوں حالی کی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں، جتنے لوگ مسلمانوں میں اپنی قوم کی مخبری کرنے والے ہوتے ہیں دوسری قوموں میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے، سیاست میں مسلمانوں کی ناقص اور غیر مؤثر نمائندگی کی وجہ یہ بھی ہے کہ الیکشن کے زمانے میں کتنے لوگ ہیں جن کو پیسوں پر خریدا جاسکتا ہے، ایک ہی محلہ میں کئی کئی پارٹیوں کے دفتر ہوتے ہیں، بلکہ بسا اوقات ایک ہی گھر میں کئی پارٹی کے ورکر ہوتے ہیں، سیاست میں ہماری حیثیت تو اب ورکر کی ہی ہوگئی ہے اور اگر اخلاقی زبوں حالی میں ترقی کی شرح یہی رہی ہے تو شاید ہم کسی پارٹی کی ورکری کے لائق بھی نہیں رہیں گے۔
مرغوں کی دکان کے باہر مرغوں کو رکھنے کے لیے ایک پنجڑا نما جال ہوتا ہے اس میں مرغیاں ہوتی ہیں دکان دار اس میں ایک مرغی نکالتا ہے اور وہ چیختی چلاتی ہے جب کہ دوسری مرغیاں خاموش ہوتی ہیں کہ ان کا نمبر نہیں ہے تھوڑی دیر بعد دوسرے کا نمبر آتا ہے اس طرح ایک ایک کرکے ساری مرغیاں ختم ہوجاتی ہیں، اسی طرح کتابوں میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ چار چور مل کر چوری کرتے ہیں مکان مالک یہ دیکھتا ہے کہ ان سے ایک ساتھ نمٹنا ممکن نہیں ہے؛اس لیے کہ پہلے وہ تین کی تعریف کرکے جان بخش دیتاہے کہ آپ تو سید ہیں آپ اونچی ذات کے ہیں اور آپ سردار ہیں اس لیے آپ لوگ یہ کام نہیں کرسکتے ہیں اور ایک کو یہ کہہ کر مارتا ہے تو نے کیوں چوری کی؟ وہ تینوں یہ سمجھ کر کے مجھے بخش دیا گیا خاموش رہتے ہیں لیکن جب اس کا کام ختم ہوجاتا ہے تو پھر ان تین میں سے ایک کو الگ کیا جاتا ہے اور دو کو بخش دیا جاتا ہے وہ دونوں خوش ہوتے ہیں اور تیسرے کا کام ختم ہوجاتا ہے اس طرح ایک ایک کرکے سب کا نمبر آتا ہے اور سب ختم ہوجاتے ہیں۔یہی صورت حال اس وقت ہماری ہے کبھی تبلیغی جماعت پر حملہ ہوتا ہے تو باقی لوگ خاموش ہوتے ہیں پھر کسی دوسری جماعت کا نمبر آئے گا اس طرح ہر ایک کا نمبر آئے گا اگر وقت رہتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک کرلیا گیا توممکن ہے کہ کچھ تدارک ہوجائے ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

Share
Share
Share