کالم : بزمِ درویش – یہ کیسی قربانی ہے :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
یہ کیسی قربانی ہے

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

میں رات دس بجے واک کر کے گھر آیا تو ایک عورت سیاہ برقعے میں ملبوس میرا انتظار کر رہی تھی میری یاد داشت کے مطابق مجھے کسی سے نہیں ملنا تھا نہ ہی کسی نے ملاقات یا آنے کا نہیں بتا یا تھا حبس گر می میں تیز واک کے بعد پسینے میں شرابور کسی سے ملنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا میرے دماغ اور جسم میں ناگواریت کی لہریں دوڑنے لگیں

مجھے دیکھ کر عور ت کھڑی ہو کر بولی پروفیسر صاحب میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں جو رات کے اِس وقت آپ سے ٹائم لئے بغیر ملنے چلی آئی میں اِس وقت آنے اورآپ کو تکلیف دینے پر شرمندہ اور معذرت خواہ ہوں لیکن میں اپنے کسی ذاتی مسئلے کے لیے نہیں آئی میں کتنے دنوں بلکہ سالوں سے ایک الجھن کا شکار ہوں میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر تا ہے ضمیر کی بار بار ملامت اور ندامت سے میں آخر کار مجبور ہو کر آپ کے پاس آئی ہوں میں دو تین بار ۱یک دو سال پہلے اپنی بھانجی کے مسئلے کے سلسلے میں آچکی ہوں اُس کا مسئلہ حل ہو جانے کے بعد پھر نہ آسکی لیکن آپ سے و ہ چند ملاقاتیں اچھا تاثر چھوڑ گئیں جس لیے میں مدد کے لیے آپ کو تکلیف دینے آج آئی ہوں‘عورت کا شائستہ مہذب رویہ میرے اعصاب نارمل کر چکا تھا میری ناگواریت بھی شائستگی میں ڈھل چکی تھی میں سامنے بیٹھ کر بولا جی بہن آپ حکم کریں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو وہ بو لی مسئلہ میرے خاوند کا ہے اِس لیے میں بہت عرصہ سوچھنے کے بعد آپ کے پاس آئی ہوں میں سمجھا عورتوں والا روٹین کا مسئلہ کہ خاوند تنگ کر تا ہے تو میں بو لا جی بہن آپ کا خاوند آپ کو تنگ کر تا ہے تو وہ بولی نہیں وہ مجھے بلکل بھی تنگ نہیں کر تا تو میں حیران ہو کر بولا تو باہر عورتوں کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ ہے تو وہ بو لی نہیں ایسی کو ئی بات نہیں اُسے بد چلن عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے تو میں حیران ہو کر بولا تو شراب جوئے میں اپنی دولت بربا دکر تا ہے تو اُس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں بھائی ایسی کو ئی بات نہیں ہے وہ کبھی کبھی دوستوں میں تھو ڑی بہت پی لیتا ہے لیکن ایسا شرابی نہیں کہ دولت اور گھر کو برباد کر نے کے ساتھ شراب کے بعد گھر میں یا محلے میں دنگا فساد کر ے اور جوئے کا تو اُس کو پتہ بھی نہیں نہ ہی کبھی اُس نے جوئے پر رقم اڑائی ہے اُس کی بات سن کر میں کرسی پر پہلو بدلنے لگا کہ اب پھر اِس کو اپنے خاوند کے ساتھ کیا شکایت ہے تو میں پھر بو لا کوئی غیر قانونی کام‘کالا دھندہ‘ سمگلنگ‘ ذخیرہ اندوزی قبضہ مافیا کا مسئلہ یا پھر بد معاشی کرتا ہے قتل و غارت کرتا ہے غنڈہ گردی کرتا ہے ایسے کاموں میں ملوث ہے کہ اُس کو پکڑے جانے یا جیل جانے کا خوف ہے تو وہ پھر بولی نہیں نہیں پرو فیسر صاحب ایسے کاموں کے تو وہ قریب سے بھی نہیں گزرتا وہ تو ڈرپوک مہذب سا آدمی ہے اُس نے زندگی بھر میں کو ئی غیر قانونی کام نہیں کیا جس کا اُسے یا ہمارے گھر کو کو ئی خطرہ ہو وہ تو معاشرے کا صلح پسند شہری ہے معاشرے یا گھر کو خاندان کو اُس سے یا اُس کسی سرگرمیوں سے کسی بھی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے عورت کی یہ ساری باتیں اور خاوند کی تعریفیں سن کر میری ساری حساسیت بیدار ہو گئیں کہ اب کو نسا راز بھید ہے جس سے یہ عورت پر دہ اٹھائے گی اور اگر اِس کا خاوند اتنا ہی اچھا ہے تو پھر اُس کی کو نسی شکایت لے کر میرے پاس آئی ہے اب میں نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پو چھا اُس کی صحت کیسی ہے آپ کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں آپ کو بچوں کو گھر کو وقت دیتا ہے تو وہ بو لی ہمیں فل وقت دیتا ہے مجھے میرے بچوں خاندان والوں کو اُس سے کو ئی شکایت نہیں ہے وہ سب کے ساتھ مثالی سلوک رکھتا ہے اب تو میرے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا باجی اگر وہ اتنا ہی اچھا ہے تو پھر اُس کے پاؤں دھو کر پئیں ایسے خاوند تو مقدر والیوں کو ملتے ہیں آپ تو خوش قسمت ہیں کہ ایک مہذب شریف با کردار پیار کر نے والا شوہر اللہ نے آپ کو دیا آپ اُس کی قدر کرنے کی بجائے اُس کی شکایت لے کر رات کو میرے پاس آگئی ہیں تو وہ بو لی میں اپنا مسئلہ آپ سے شئیر کر تی ہوں پھر آپ شاید میرے آنے کا مقصد بہتر طور پر سمجھ سکیں میرے خاوند والدین کا اکلوتا بیٹا ہے والدین بڑی جائیداد دوکانیں پلازے چھوڑ کر اللہ کے پاس چلے گئے اب اُس کو بڑی رقم کرائے کی صورت میں ہر ماہ مل جاتی ہے اُس کرائے کی وجہ سے اُسے کوئی بھی کام نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے اُس کا بینک بیلنس ہر گزرتے مہینے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے وہ ہر قسم کی مالی تنگی سے آزاد ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اُس کی مالی خوشحالی میں مزید اضافہ ہو تا جارہا ہے عورت کی یہ بات سن کرتو میں چکرا سا گیا کہ رزق کی ریل پیل ہے مالی مسئلہ کو ئی نہیں تو پھر کیا ہے اب وہ پھر بولی میرے خاوند کا ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ اُس کو معاشرے کے طاقت ور بااثر بیوروکریٹ اور زندگی کے ہر شعبے کے با اثر اونچے لوگوں سے تعلقات بنانے کا بہت شوق ہے کیونکہ وہ خود نہ توسرکاری آفیسر یا سیاسی بندہ ہے نہ ہی کسی بڑے سیاسی خاندان سے تعلقات ہے اب پتہ نہیں کس انجانے خوف میں مبتلا ہے ہر ماہ معاشرے کے با اثر لوگوں کو دعوتیں کر تا ہے پورا سال تہواروں پر پر بہانوں بہانوں سے اُس کے گھر وں میں مہنگے تحائف بھیجتا ہے اُن کے کام کر تا ہے سرکاری افسران کے گھروں کے بل ادا کرتا ہے لوگوں کو عمرے پر بھیجتا ہے غیر ملکی سفروں کے لیے ٹکٹ لے کر دیتا ہے مجھے اِن باتوں یا فضول خرچیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اب جیسے عید بقرہ آرہی ہے تو یہ عید پر جانوروں کی قربانی بھی خدا خوفی مذہبی عبادت کی بجائے تعلقات بنانے اُن کو استوار کر نے کے لیے کر تا ہے ہر بار ہر سال کی طرح ایک اونٹ دو گائیں دس شاندار صحت مند بکرے لے کر قربانی والے دن ذبح کر تا ہے مجھے خوشی ہے لیکن میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ قربانی وہ صرف لوگوں کو دکھانے اور تعلقات بنانے کے لیے کر تا ہے مثلاً اپنے دوستوں کوفون کر کے پوچھتا ہے کہ میں یہ سارے جانور ذبح کر رہا ہوں آپ کو کو نسے جانور کا کونسا گوشت ران چانپیں قیمہ کیا چاہیے اور اگر کو ئی فرمائش کر ے تو پورا جانور اُس کے گھر بھیج دیتا ہے عید والے دن اِس نے کچھ قصابوں کو پہلے سے خرید رکھا ہو تا ہے اُس سے گھر میں کام لیتا ہے اورپھر جن کو ضرورت ہو ان کے گھر بھیجتا ہے مجھے یہاں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے مسئلہ تب ہو تا ہے جب یہ غریبوں کو ہڈیاں چھیچھڑے چربی بیکار گو شت دیتا ہے اچھا گوشت سارا بانٹ کر بے کار گوشت گھر کے نوکروں اور گو شت لینے آنے والے غریبوں کو دیتا ہے میں نے کئی بار کہا کہ غریبوں اور پڑوسیوں کا حصہ بھی ہے اور اگر ہم نے حق داروں کاگوشت نہ دیا تو ہماری قربانی قبول نہیں ہو گی تو وہ کہتا ہے غریبوں کو سارا شہر گوشت دیتا ہے میرے نہ دینے سے یہ بھوکے نہیں مر جائیں گے سر وہ قربانی کے جانور دکھاوے اور تعلقات بنانے استوار کر نے کے لیے کر تا ہے اب میں کیا کروں میں بہت پریشان ہوں وہ میر اخاوند ہے میں ایک حد تک ہی لڑائی یا ضد کر سکتی ہوں آپ مجھے بتائیں میں کیا کروں اب میں سمجھا وہ بیچاری کیوں مدد طلب کر نے آگئی تھی میں نے اُسے کہا تم اُسے قرآنی آیات اور احادیث دکھاؤ کہ اسطرح قربانی نہیں ہو تی تو وہ بو لی یہ میں کئی بار کر چکی ہوں نہیں مانتا تو میں بو لا تمہیں جو خر چہ دیتا ہے اُس میں سے بچا کر قربانی کا جانور لو یا کسی غریب فیملی کو جانور دو تمہیں ثواب مل جائے گا پھر اُس کو تسبیح اذکار دیئے کہ یہ پڑھو تاکہ خاوند راہ راست پر آجائے پھر وہ چلی گئی لیکن مجھے حیران پریشان کر گئی کہ ہمارے معاشرے میں اکثریت امیر لوگ قربانی کو تعلقات استوار کر نے نبھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ ایسی عبادت قربانی خدا کے ہاں قبول نہیں ہو تی ایک شخص نے سرور دو جہاں ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ نجات کس عمل میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا بندہ اللہ کی اطاعت میں کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے لوگ مقصود ہوں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ غضب سے روز محشر فرمائیں گے تو جھوٹا ہے صدقہ کرنے سے تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں ایسے لوگوں کو ان کے اعما ل کو ثواب نہیں ملے گا کیونکہ ریاء نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ہیں۔

Share
Share
Share