عید الفطر کا پیغام :- ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

Share

عید الفطر کا پیغام

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
9885210770

آج عید کا دن ہے۔ خوش نصیب ہیں خدا کے وہ بندے جنہوں نے ماہ رمضان کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے آج ربِّ کریم کی جود و سخا کے مستحق ہو گئے۔ عید الفطر کا یہ دن اللہ تعا لیٰ کی کبریائی کا اعلان کر تے ہوئے اس کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔ عید کا دن انسانی برداری کے درمیان اخوت کے اظہار کا دن ہے۔ عید کی نماز کے ذریعہ وحدتِ انسانی کا جو پیغام دنیا کو دیا جاتا ہے اس کی نظیر اور مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔

اسلام نے عید کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس میں فخر و مباہات یا شور و شرابہ کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔ عید کا دن دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا دن ہے۔ اسی لئے نمازِ عید الفطر سے پہلے "صدقہ فطر”ادا کرنے کی تاکید کی گئی، تا کہ معاشرہ کا ہر مسلمان عید کی مسرتوں میں شامل رہے۔ عید اجتماعی خوشیوں کے مواقع فراہم کر تی ہے۔ مسلمانوں کے مفلوک الحال افراد کے چہروں پر اگر عید کے دن بھی مسکراہٹ نظر نہ آ ئے تو امت عید کی سچی خوشیوں کو پانے میں ناکام رہے گی۔ عید، محض کسی رسم کو ادا کرنے کا نام نہیں ہے۔ دیگر مذاہب میں جس انداز سے تہوار منائے جا تے ہیں اگر مسلمان بھی یہی طور طریقے اختیار کرلیں گے تو اسلام کے تصورِ عید کی معنوعیت ختم ہو جائے گی۔ عید کا یہ دن جہاں خوشیوں کی سوغات لاتا ہے اسی طرح یہ دن "یوم الجائزہ”بھی ہے۔ اس دن عید کی خوشیان منانے والے اپنا احتساب بھی کریں۔ اپنے دلوں کو ٹٹولیں کہ کیا واقعی ہم نے رمضان کا اس طرح اہتما م کیا جس طرح کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ نزولِ قرآن کے اس مبارک مہینہ میں ہمارا تعلق قرآن سے جس انداز میں ہونا چاہیئے تھا کیا اس پر ہم نے عمل کیا۔ نمازوں اور روزوں کے ساتھ قیام الیل بھی رہا لیکن کیا اللہ کے راستے میں انفاق کا وہ معاملہ رہا جس کا بار بار حکم قرآنِ مجید میں دیا گیا۔ صاحبِ استطاعت ہو تے ہوئے کیا ہم وقت کی اس نازک گھڑی میں غریبوں اور محتاجوں کی مدد کئے۔ اگر اس معاملے میں کوتاہی برتی گئی تو عید کا یہ مبارک دن ہمارے دلوں کو کچوکے دے گا کہ آزمائش اور مصیبت کے وقت ہم لوگوں کی مدد نہیں کر سکے تو ہمیں عید کی سچی خوشی کیسے حاصل ہو گی۔ عید کا دن ہمیں اجتماعی فلاح و بہبود کے کام کر نے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی عید کا دن ایسے وقت آیا ہے کہ ساری دنیا اور خاص طور پر ہمارا ملک کورونا کی قہر سامانی سے ایک زبردست بحران سے گذر رہا ہے۔ عید کے دن بھی لاگ ڈاؤن ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں۔ نہیں معلوم کہ آج عید کے موقع پر کتنے ہی خاندانوں میں فاقہ چل رہاہو گا۔ کتنے ہی گھروں میں لوگ انتظار میں ہوں گے کہ کہیں سے کوئی مسیحا آ کر ان کو بھی اپنی خوشیوں میں شا مل کر ے گا۔ کورونا کی جان لیوا بیماری سے جہاں ہزاروں لوگ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں وہیں اس وباء نے ایسی معاشی بد حالی پیدا کر دی کہ اچھے خاصے خاندان بھی اس وقت پریشان ہیں۔ عید کے اس موقع پر امتِ مسلمہ باہمی اخوت اور ایک دوسرے سے ہمدردی کا مظاہرہ کر تے ہوئے ایک دوسرے کی مددگار بنتی ہے تو اس سے دنیا کو بھی یہ پیام جائے گا کہ مسلمان عید کو صرف اپنے خوشی کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ وہ سارے انسانوں کواس میں شامل کرتا ہے۔ اس سال بھی عید کی کوئی گہماگہمی نظر نہیں آ ئے گی۔ نمازِ عید بھی گھروں یا محلوں کی مسجدوں میں مختصر جماعتوں کے ساتھ ادا کرلی جا ئے گئی۔ رشتہ داروں یا دوستوں سے بھی عید ملنے کے کوئی آ ثار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال ہمارے لئے تکلیف دہ ہے۔ لیکن احتیاط کرنے کا حکم اسلام نے دیا ہے
ایسے صبر آزما حالات میں مسلمان عید منارہے ہیں بلاؤں اور مصیبتوں نے ساری انسا نیت کو اپنے شکنجہ میں لے لیا ہے۔ ہر طرف موت رقص کر رہی ہے۔ کوویڈ۔ ۹۱ نے انسانوں کے دلوں سے سکون و اطمینان چھین لیا ہے۔ ہر قسم کی آسائشیں رکھتے ہوئے بھی موت کے خوف سے انسان حواس با ختہ ہو گیا ہے۔ اس نامعلوم وائرس نے حکومتوں کو بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔ شہر قبرستانوں میں بدلتے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کو ویڈ کی تیسری لہر اس سے زیادہ خطرناک ہو گی۔ ایک ریسرچ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان میں ا گست کے مہینہ تک دس لاکھ افراد کی موت کویڈ کی وجہ سے ہو جائے گی۔ بیماری پر قابو پانے کے جو کچھ بھی جتن کئے جا رہے ہیں اس کے کوئی خا طر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہو رہے ہیں۔ ہر دن مرنے والوں کی تعداد میں اضا فہ ہو تا جا رہا ہے۔ کو ئی نہیں کہہ سکتا کہ آ خر دنیا اس مرض سے کب چھٹکارا پائے گی۔ حالات کی اس سنگینی میں مسلمان، جہاں خدمتِ خلق کو اولین ترجیح دیں وہیں انسا نیت کو اس نسخہ کیمیاء سے واقف کرائیں جو ماہ رمضان میں قرآن مجید کی شکل میں نازل ہوا۔ اسی قر آن میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی کہ "خشکی اور تری میں جو فساد برپا ہو تا ہے وہ درا صل انسانوں کی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہو تا ہے "دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آج انسانیت جس شدید بحرانی دور سے گزر رہی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ چند انسانیت دشمن عناصر نے دنیا میں فتنہ و فساد مچا رکھا ہے۔ اپنے حقیر مفادات کے لئے انسانوں کے درمیان تفریق اور نفرت کے ماحول کو ہوا دے رکھی ہے۔ ان کی ظا لمانہ کارستا نیوں نے پوری انسانیت کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ کورونا کے بعد ایک نئی دنیا منظرِ عام پر آ نے والی ہے۔ اس دنیا کو ظالموں اور قاہروں سے پاک رکھنے کے لئے قرآن کی تعلیمات کو دنیا میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے کہ دنیا میں جب ظلم اور عُدوان کا دور دورہ ہوگا تو قہر الٰہی سے بھی دنیا کو دوچار ہو نا پڑے گا۔ کوویڈ۔۹۱ خدا کا قہربھی ہو سکتا ہے۔ یہ عذابِ الٰہی کا ایک شکل بھی ہو سکتی ہے۔ قرآنِ مجید میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کا عذاب مختلف شکلوں میں آ تا رہا ہے۔ انسان اپنی سر کشی سے باز نہ آ ئے تو کورونا سے زیادہ مہلک مرض کی لپیٹم میں آ سکتا ہے۔ سائنس، کوویڈ کے تعلق سے جو کچھ بھی کہے وہ بات ا پنی جگہ صحیح ہو سکتی ہے لیکن خدا کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے تمام انسانیت اور بالخصوص مسلمانوں کو اللہ سے رجوع ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ وہی بلاؤں کا دور کرنے والا اور آزمائشوں سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ رمضان میں قرآن کی تلاوت تو بہت کی گئی لیکن رمضان کے بعد قرآن سے ہمارا تعلق کمزور ہو جائے تو یہ کوئی مناسب عمل نہیں ہو گا۔ عید کی خوشی ہم مناتے ہی اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں قرآن کو نازل کیا۔ یہ وہ نعمتِ خداوندی ہے جس کے شکرانہ کے طور پر عید الفطر منائی جا تی ہے۔ اس نعمت کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے سامنے دنیا کی ساری لذ تیں ہیچ ہیں۔ اس نعمت کی قدر کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم خود قرآن پر عامل ہو جائیں اور حاملِ قرآن ہونے کے ناطے اس کے پیغام کو دنیا میں عام کریں۔ عید کا یہ دن امت کے ایک فرد کو یہ یاد دہانی کراتا ہے عید محض خو شیاں منانے کا دن نہیں ہے بلکہ امت جس منصب پر فائز کی گئی ہے اس کا کما حقہ حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ امت مسلمہ کو قرآنِ نے "خیر امت”کے لقب سے نوازا ہے۔ اس اعزاز کوپانے کے بعد اس کا حق ادا نہ کرنا دنیا میں ناکامی اور آ خرت میں خسران کا سبب ہوگا۔ مصائب و مشکلات کے اس نازک وقت ایک طرف مسلمان خدمت خلق کو اپنے لئے حزرِ جاں بنالیں، اور بلا لحاظِ مذہب و ملت انسا نیت کی خدمت کریں اور دوسری طرف پوری انسانیت کو اس پیغام کی طرف دعوت دیں جو قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
اس سال عید الفطر ایک ایسے وقت آئی ہے جب کہ فلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کے خون سے لہو لہان ہے۔ اسرائیلی جا ریت اپنی انتہا پرپہنچ چکی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی کو دنیا اپنی کھلی آ نکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں جب کہ فلسطینی مسجدِ اقصٰی میں نماز جمعہ ادا کر نے کے لئے جمع ہوئے تھے اسرائیلی پولس اور فوج نے ان نہتے نمازیوں پر حملہ کرکے اپنی بدترین جا رحیت کا ثبوت دیا۔ اس ظلم اور جبر کے خلاف دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کرتی ہوئی بھی نظر نہیں آرہی ہیں۔ اسرائیل انسانی حقوق کی دھجیاں اُ ڑا رہا ہے اور معصوم فلسطینیوں کے لئے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس کے باو جود دنیا کا ضمیر نہیں جاگا ہے۔ عالمِ عرب میں بھی ایک سناٹا دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ 70سال سے فلسطینی، اسرائیل کی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔چھوٹے بچوں سے لے کر ضیعف افراد بھی اسرائیلوں کے مظالم سہہ رہے ہیں۔ حتی کہ خواتین بھی ظلم کی اس چکّی میں پِس رہی ہیں۔ افسوس اور صدمہ اس بات کا ہے کہ دنیا کے مسلمان اسے صرف فلطینیوں کا مسئلہ سمجھ کر ان کی مدد کے لئے آ گے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ یہ کوئی محض زمین کو حاصل کر نے والی لڑائی ہے۔ ارضِ فلسطین اور بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ اور تعلق دینی ہے۔ بیت المقدس کا ذکر قرآنِ مجید میں موجود ہے۔ بیت المقدس، مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ مسلمانوں کے ایمان کی علا مت ہے۔ کعبہ شریف اور مسجد نبویﷺ کے بعد ساری دنیا کے مسلمان بیت المقدس کی حرمت و تقدس پر جان چھڑکتے ہیں۔ایک بین الااقوامی سازش کے تحت فلسطین میں یہودیوں کو لاکر بسا یا گیا۔ اس کے بعد سے ہی یہودی، بیت المقدس کی حرمت کو پامال کر نے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرئیلی فوج نے جو وحشیانہ حرکت کی ہے وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے پہلے بھی مسجدِ اقصٰی میں آ گ لگائی گئی اور اس کے اطراف کھدوائی بھی کی گئی تھی تاکہ اپنے ناپاک قدموں کے ذریعہ مسجدِ اقصٰی کی بے حرمتی کی جائے۔ اسرا ئیل کے پیشِ نظر ایک "عظیم تر اسرائیل” کا قیام ہے۔ اس کا مقصد سارے جزیرۃ العرب پر قبضہ کر نا ہے۔ ووفلسطین سے سارے فلسطینیوں کا صفایا چاہتا ہے۔ اسی لئے اس نے مسجد ِ اقصیٰ کے قرب وجوار میں واقع فلسطینی آ بادی پر ہّلہ بول دیا۔ یہاں فلسطینی صدیوں سے بستے ہیں لیکن اسرائیل اس کو بھی فلسطینیوں سے لینے کے درپہ ہے۔ دنیا پر یہودیوں کی حکمرانی کا خواب لئے صہیو نی قوتیں فلسطین میں زور آ زمائی کر رہے ہیں۔ فلسطین کے مجاہدین کے جذ بہ حریت و شہادت کو سلام کہ وہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اسرائیل کو اپنے مذموم عزائم میں کا میاب ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی نے ہی فلسطین میں آگ اور خون کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ فلسطینیوں کی زمینوں پر زور زبردستی یہودی آ باد کاری اسرا ئیل کا شروع سے ایجنڈا رہا ہے۔ اس وقت بھی ان ہی عزائم کو لے کر وہ فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے۔ صہیونی اسرائیلیوں کی تمنا بس یہی ہے کہ اپنی دہشت گردی کے ذریعہ پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا جائے۔ اس کے اس ناپاک ایجنڈے کو روبہ عمل لانے میں امریکہ ہمیشہ اس کی پشت پناہی کر تا رہا ہے۔ آج بھی امریکہ میں اگر چکہ حکومت بدل چکی ہے لیکن اسرائیل کے تعلق سے وہی نرم گو شہ پایا جاتا ہے۔ اگر 57اسلامی یا مسلم ممالک کی بات کی جائے تو یہاں بھی کوئی فلسطینیوں کا سچا بہی خواہ نظر نہیں آ تا۔ عالم اسلام اپنے اتحاد کا ثبوت دیتا تو دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ کاش کم از کم اب بھی مسلم حکمرانوں کو ہوش آئے اور وہ اپنے عیش کدوں سے نکل کر مظلوم فلسطینیوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ورنہ وہ اللہ کے دربار میں اور تاریخ میں مجرم قرار دئے جا ئیں گے۔

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

Share

۳ thoughts on “عید الفطر کا پیغام :- ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد”

Comments are closed.

Share
Share