ڈاکٹرقطب سرشار: تعمیری ادب کا نمائندہ شاعر

Share
 قطب سرشار
ڈاکٹر قطب سرشار

ڈاکٹرعزیز سہیل،لیکچرا ر

ایم وی ایس ڈگری کالج محبوب نگر

عصرحاضرمیں تعمیری ادب کا نمائندہ شاعرڈاکٹر قطب سرشار
اردو ادب کی تاریخ میں انیسویں صدی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔کیونکہ یہی وہ صدی تھی جس میں اردو ادب کے تعمیری پہلو وں پر بہت زیادہ زور دیا گیا ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو زبان کے آغاز کے ابتدائی نقوش کا تعلق بھی تعمیری ادب سے ہی رہاہے۔ عصر حاضر میں علاقہ دکن کی چندمعروف شخصیات میں ایک معتبر نام ڈاکٹر قطب سرشار ؔ کا ہے ۔جو تعمیری ادب کی تخلیق میں اپنے آپ کومنہمک رکھے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنی زند گی کے قیمتی پچاس سال اردو ادب کی خدمات میں گزارا۔جو کہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔
سوانحی خاکہ : نام سید قطب الدین سرشارؔ ولدیت سید محبوب علی1945ء میں ضلع محبوب نگرمیں پیدا ہوئے۔جامعہ عثمانیہ سے ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔شعبہ تدریس سے وابستہ رہے اور بحیثیت ڈگری کالج اردو لیکچرار کے سبکدوش ہوئے۔اپنے ادبی سفر کا آغاز 15 سال کی عمر میں شاعری سے کیااور 1990ء سے تبصرہ نگاری و مصاحبہ نگاری کی جانب مائل ہوئے۔ان کی تخلیقات میں انفس و آفاق(شعری

مجموعہ)1983ء،اوراقِ تازہ(شعری مجموعہ)1993ء،اِظہار(شعری مجموعہ)2007ء،امعان(تنقیدی مضامین)2007ء،تلگو ادب میں نئے رحجانات(تحقیق و تنقید)2012ء اور اصباح(شعری مجموعہ)2014ء شامل ہیں۔ان کے تلگو زبان سے اردو زبان میں مطبوعہ تراجم بہتا ہوا نغمہ (شعری مجموعہ) ڈاکٹر سی نارائن ریڈی،آسماں کا لمس(شعری مجموعہ)وی آر ودیارتھی،انحراف(شعری مجموعہ)ڈاکٹر سری لتا کے شامل ہیں۔ان کی اردوادب کی گراں خدمات کو دیکھتے ہوئے اردو اکیڈیمی آندھراپردیش نے کارنامہ حیات ایوارڈ2013ء سے انھیں نوازا گیا۔ڈاکٹر قطب سرشار اردوکے بیشتر قومی سمیناروں اور مشاعروں میں خصوصاََمدعو کئے جاتے ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے پیش نظر ماہنامہ عدسہ حیدرآباد نے اکٹوبر2010ء اور ماہنامہ شاعر ممبئی نے جولائی 2012ء میں خصوصی گوشے شائع کئے۔ وہ اردو کی مختلف فعال ادبی انجمنوں سے وابستہ ہیں جن میں اردو تلگو لٹریری فورم حیدرآباد،حیدرآباد لٹریری فورم،دبستان جدید محبوب نگر،بزم ادب ناگر کرنول شامل ہیں۔
ڈاکٹر قطب سرشار ؔ جس نے اپنے فن کے ذریعہ تخلیقی سفر کے 50سالوں کی تکمیل کی ہے۔ان کا لب ولہجہ منفرد ہے ان کے شاعری کے مطالعہ سے کلام میں عصری رحجانات کا اندازہ ہوتا ہے وہ ایک سادہ مزاج اور پرکار شاعر ہے ان کی شاعری میں کلاسیکی رچاو کے ساتھ ساتھ جدید طرز اظہار اور جدید موضوعات کا اظہار بھی نظر آتا ہے۔ ایسی خوبی اور ایسا وصف بہت کم صاحبان فن کے حصہ میں آیا ہے۔ معاصر شعرا میں اگر سب کا نہیں تو بیشتر کا حال اس خوبی اور اس وصف سے خالی ہے۔ڈاکٹرقطب سرشار کی شاعری میں الفاظ کی ترتیب واستعمال بہت ہی اچھوتا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر قطب سرشار کی فنِ شاعری کے عصری رحجانات سے متعلق پروفیسرسید محمدعقیل لکھتے ہیں۔
’’ڈاکٹر قطب سر شار ؔ کی شاعری ایک شاعرِ نغزگو کی شاعری ہے۔انہوں نے غزل کی تہذیب کو اپنی شاعری میں اچھی طرح جذب کیا ہے۔ جہاں کلاسیکیت کے ساتھ نئے تجربے بھی ہیں کہ غزل کی یہی روایت رہی ہے ۔ کلاسیکیت کو کچھ لوگ محض روایات کی پاسداری اور خالص قدامت پرست سمجھتے ہیں مگر اس میں تاثیر اور اس کی قوت نمو کو بھول جاتے ہیں۔ اگر یہ باتیں نہ ہوں تو کلاسیکی شاعری صرف روایت پرستی رہ جاتی ہے۔قطب سرشار نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔اسی لیے جہاں غزلوں کی تحریم ان کے یہاں ہے وہیں گلا سری اور ان کی سوچ بھی نئے حالات کے تحت بدلتی ہے۔ اس طرح کہ ان میں اعتدال اور غزل کی تمام تہذیب بھی باقی رہتی ہے۔ یہ اس دور کی بڑی بات ہے‘‘۱؂
جب بھی علاقہ تلنگانہ بلخصوص حیدرآباد ومحبوب نگر میں اردو کے حوالے سے گفتگو ہوگی اس وقت ڈاکٹر قطب سرشارؔ کا نام ضرور لیا جائے گا۔کیونکہ انہوں نے اردو ادب کی بے لوث خدمت کی ہے ساتھ ہی دیگر زبانوں کے ادب کو اردو دنیا میں روشناس کروایا ہے نہ صرف روشناس کروایا بلکہ انہوں نے تلگو ادب میں نئے رحجانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے اور تلگو کے قیمتی ادبی تصانیف کو اردو میں منتقل کیا ہے۔ جو ایک کارنامہ سے کم نہیں ہے۔
ڈاکٹر قطب سرشار کی ادبی خدمات سے متعلق نورالحسنین نے کیا خو ب لکھا ہے۔
’’حیدرآباد کی جن شخصیات نے نہایت خاموشی سے اپنا ادبی سفر طئے کیا اوراردو ادب کو محض اپنی ہی زبان سے نہیں بلکہ دیگرزبانوں کے ادبی سرمائے سے بھی واقف کروایاان میں ایک نام بلاشبہ ڈاکٹر قطب سرشارؔ کا بھی ہے۔وہ ادبی افق پر ایک شاعر کی حیثیت سے طلوع ہوئے ،شعور کی آگہی نے انھیں تنقید وتبصرہ نگاری کی طر ف بھی راغب کیاتو ریا ست کی علاقائی زبان تلگوکے علم نے انھیں وہ فہم بخشاکہ وہ اس کے ادبی خزانوں کے اسرار سے اردو داں طبقے کو واقف کرواسکیں۔‘‘ ۲؂
ڈاکٹر قطب سرشار کی شاعری میں اسلامی شعور و فہم سے متعلق بہت سے اشعار نظر آتے ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تعمیری ادب کی تخلیق میں اپنا قیمتی وقت لگایا ہے۔ان کے شعر ی مجموعہ اصباح سے چندحمدیہ اشعار ؂
جبرِ معاشرہ نے کر ڈالے مسخ چہرے ہے فتنہ آفریدہ قرآن سے تغافل
اشک سے گوندھی ہوئی مٹی ہوں میں،تو جان ہے لغزشوں کی دھول ہوں میں اور تو سبحان ہے
میرا کیا ہے جو تقسیم کرتا ہوں میں ذہن تیرا ہے دل بھی غنی تجھ سے ہے
ڈاکٹر قطب سرشار کی شاعری پاکیزہ ہے ان کا انداز منفرد ہے ان کی سونچ تفکر کی سونچ ہے ان کی شاعری میں انفرادیت پائی جاتی ہے ان کی شاعری نے تعمیر ادب میں انہیں خصوصی مقام عطا کیا ہے ان کی شاعری کے موضوعات میں تنوع پایا جاتا ہے نئی علامتیں ،عصر ی حسیت کا اظہاربھی ملتا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری سے چند اشعار؂
پروازان ؐکی سدرہِ افکار سے بڑی توصیف ان کی وسعتِ اظہار سے بڑی
سیرت کی یہ مثال کہ ملتی نہیں مثال صورت کی تاب ہر کسی شہکار سے بڑی
سرشارؔ اہلِ فہم و ذکا میں کوئی روش پائی نہ ہم نے سیرتِ سرکارؐ سے بڑی
ڈاکٹر قطب سرشار کی غزلوں سے چند متفرق اشعارجن میں ایک انفرادیت اور پاکیزہ پن نظر آتا ہے۔ ؂
یہ نسل نو کے نمائندہ نوجواں کی چھبی جڑوں سے جیسے جدا ہو گیا شجر کا تنا
پاؤں پھیلانے سے ہوتی نہیں چادر لمبی یوں ہی گوہر کو کہاں ملتی ہے آغوش صدف
شیشہ گروں نے رکھ دی ہے دنیا سمیٹ کر دامِ ہوس تجاذبِ ھل من مزید ہے
خوشبو اذان دے گئی منبر سے نور کے پڑھنے لگی ہے روح کی بالیدگی نماز
ہمارا حال ہے معتوب امتوں کی طرح ہمارے جھوٹ نے کتنے ہی سچ مٹا ڈالے
ڈاکٹر قطب سرشارکے خیالات میں کافی وسعت پائی جاتی ہے وہ پاکیزہ سونچ و فکر رکھتے ہیں ،وہ اکثر اپنے خیالات کو دوسرں تک پہنچانے میں لگے رہتے ہیں ان کے اقتباس سے ان کی فکر اور تعمیری سونچ کا اندازہ ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں۔
’’ادبی،سیاسی،معاشرت۔ سائنسی اور دیگر تمام علوم جو انسانی فکر و تحقیق کے انکشافات مانے جاتے ہیں تغیر پذیر ہیں اور بے ثبات بھی۔جبکہ قرآن و سنت کے حقائق ماورائے فکر انسانی کے مطابق فطری سچے پائیدار اور اٹل ہیں۔تسکینِ ذوق،داد طلبی ،شہرت اور بلند قامتی کی ہوس عصری رحجانات کے انجذاب سے ہم اپنی نفسیات کو آلودہ ہونے سے نہیں بچا پاتے۔ یہ تو انفس کی بات ہوئی اگر آفاق کے حوالے بات کرتے ہیں تو بے شمار تلخ ترین سچائیوں اور مکروہات کی ناقابلِ برداشت کڑواہٹ کے باعث روح کو ابکائیاں آنے لگتی ہیں‘‘ ۳؂۔
ڈاکٹر قطب سر شار کے شعر پر اپنی گفتگو تمام ترکرتا ہوں۔
زمانہ مجھ کو جانے یا نہ جانے یہی کیا کم ہے خود کو جانتا ہوں
حوالے:
1۔پروفیسر سید محمدعقیل،سابق صدر شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی،اصباح،ص125
2۔نور الحسنین،اردو ادب کا قلندر ۔قطب سرشارؔ ،اردو آج کل ویب سائٹ و اصباح،ص127
3-ڈاکٹرقطب سرشار،اصباح،ص ۲۰

ڈاکٹر عزیز سہیل
ڈاکٹر عزیز سہیل

Dr.Md Azeez Suhail

Share
Share
Share