فلمی دنیا کے کچھ دلچسپ حقائق

Share
بالی ووڈ
Bollywood

یہ ہے بالی ووڈ میری جان

l بالی ووڈ ۔یہ لفظ ہالی ووڈ کی نقل ہے۔ ہالی ووڈ اس علاقہ کا نام ہے جہاں امریکن فلم انڈسٹری ہے جبکہ بالی ووڈ کسی علاقہ کا نام نہیں ہے بلکہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کو یہ نام فلم ساز و اسکالر امیت کھنا اور ایک صحافی بیوندا کولاکو نے دیا ہے۔ 1970سے بالی ووڈ کا استعمال ہونے لگا جب اس نے ہالی ووڈ کوہر شعبہ حیات میں پیچھے چھوڑ دیا۔بالی ووڈدراصل Tollywood سے بھی اخذ کیا گیا ہے جو بنگالی فلم انڈسٹری کے لئے مشہور تھا۔ کیونکہ کلکتہ کے ٹولی گنج علاقہ میں بنگالی فلم انڈسٹری کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اب ٹالی ووڈ تلگوفلم انڈسٹری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ملیالم فلم انڈسٹری کے لئے کالی ووڈ کا استعمال ہورہا ہے۔

l داداپھالکے (ڈھونڈی راج گووند پھالکے 1870 to 1944)۔ ہندوستان میں پہلی مکمل فیچر فلم بنائی 19سال میں 95فلمیں اور شاٹ فلمس بنائیں۔انہی کے نام سے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کا حکومت ہند نے 1969ء میں آغاز کیا۔
l خان بہادر اردیشر ایرانی(1886-1969) رائٹر ڈائرکٹر پروڈیوسر، ایکٹر فلم ڈسٹریبوٹرس، سنیماٹوگرافر، انہوں نے مختلف زبانوں میں فلمیں بنائیں۔ ان کی ایک گرامافون ایجنسی اور کار ایجنسی بھی تھی‘ پہلی بولتی فلم ’’عالم آرا‘‘ 1931ء میں بنائی اور اس کی ہدایت دی۔
l عالم آرا۔ ہندوستان کی پہلی بولتی فلم جو 14؍مارچ 1931ء کو بمبئی میں ریلیز کی گئی۔ ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کو طلب کی گئی تھی۔
l وی شانتا رام 1901 – 1990ء فلمساز اداکار جو اپنی فلموں ’’ڈاکٹر کٹ نیس‘‘ کی امر اکہانی، امر بھوپالی، جھنک جھنک پایل باجے، دو آنکھیں بارہ ہاتھ، دنیا نہ مانے، پنجرا کے لئے مشہور ہوئے۔ انہوں نے پربھات فلم کمپنی قائم کی اور 1942ء میں راج کمل کلا مندر بمبئی میں قائم کیا جو ملک کا سب سے بہترین فلم اسٹوڈیو تھا۔ مشہور اداکار چارلی چیاپلن نے وی شانتا رام کی مراٹھی فلم ’’مانوس‘‘ کی ستائش کی تھی۔
l بیمل رائے 1909 سے 1965 اپنے وقت کے مشہور ہدایت کارجن کی فلم ’مدھومتی‘ نے کینز فلم فیسٹول میں انٹرنیشنل ایوارڈ جیتا تھا اور 9فلم فیئر ایوارڈ حاصل کئے تھے۔ یہ ریکارڈ 37برس تک قائم رہا۔
l محبوب خان 1907 – 1964‘ محبوب اسٹوڈیو کے مالک جو مدر انڈیا جیسے فلم کے لئے مشہور ہوئے۔
l دلیپ کمار 11؍دسمبر 1922 کو پیدائش۔ ہندوستانی فلمی دنیا کے 100سال میں انہیں سب سے عظیم اداکار قرار دیا گیا۔ انہیں اداکاری کا اسکول بھی کہا جاتا ہے۔ شہنشاہ جذبات کے طور پر بھی شہرت حاصل کی۔ اور پھر شہنشاہِ ظرافت کا خطاب بھی حاصل کیا۔ انداز، امر،سنگ دل، فٹ پاتھ، داغ، دیدار، یہودی، دل دیا درد لیا اور دیوداس، گنگاجمنا، سنگھرش، نیادور،داستان جیسی شاہکار فلموں میں اپنی اداکاری سے ہر عمر کے شائقین میں مقبول رہے۔ مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کے رول نے انہیں فلمی دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا۔ انہوں نے کئی فلموں میں کامیڈی رول بھی کئے اور خود کو شہنشاہ ظرافت ثابت کیا۔ کوہِ نور، آزاد، لیڈر، رام اور شیام میں انہوں نے مزاحیہ رول ادا کئے۔ کیرکٹر ایکٹر کی حیثیت سے شکتی، مشعل، سوداگر، ودھاتا، دنیا، کرما، کرانتی میں ان کے فنکارانہ جوہر کیزبردست عکاسی ہوئی ہے۔انہیں بھارت رتن دینے کے لئے مہم چلائی جارہی ہے۔
l راج کپور: 14؍دسمبر 1924۔ 2؍جون 1988: شو مین کے طور پر مشہور اداکار فلمساز ہدایت کار‘ دو نیشنل فلم ایوارڈز اور 9فلم ایوارڈز حاصل کئے۔ کینس فلم فیسٹول میں 1951ء میں فلم آوارہ اور بوٹ پالیش(1954ء) کے لئے ایوارڈ حاصل کئے۔ 1973ء میں پدمابھوشن اور 1987ء میں داداپھالکے ایوارڈ حاصل کیا۔
l نوشاد: دسمبر 1919۔ مئی 2006۔ہندوستانی فلمی دنیا کے عظیم موسیقی کار جن کی 35فلموں نے سلور جوبلی، 12نے گولڈ جوبلی اور تین نے ڈائمنڈجوبلی منائی۔ 1982 میں داداپھالکے ایوارڈ اور 1992ء میں پدمابھوشن ایوارڈ حاصل کئے۔
l این ٹی راما راؤ: 1923۔جنوری 1996ء این ٹی آر کے نام سے مشہورتلگو فلم انڈسٹری کے عظیم فلمی اداکار جو تین میعاد کے لئے آندھراپردیش کے چیف منسٹر بھی رہے۔
l ایم جی رام چندرن: جنوری1917ء دسمبر 1987ء۔ تاملناڈو کے عظیم اداکار ہدایتکار پروڈیوسر اور سیاستدان‘ تین دہوں تک تامل فلم انڈسٹری پر چھائے رہے۔ سیاستدان بھی رہے اور مسلسل تین میعاد کے لئے چیف منسٹر بھی رہے۔
l شیواجی گنیشن:اکتوبر1928۔جولائی 2001ء۔ عظیم تا مل اداکار 50برسوں میں 300سے زائد تامل، تلگو، کنڑا، ملیالم اورہندی فلموں میں کام کیا۔
l راج کمار(ایس پی متو راجو): اپریل 1929ء اپریل 2006ء۔ کنڑا فلمی دنیا کے عظیم اداکار اور گلوکار جو اداکاری کا شہنشاہ سمجھے جاتے تھے۔ وہ راجنا کے نام سے بھی مشہور تھے۔ ویرپن نے ان کا اغوا کیا تھا۔
l پریم نذیر: اپریل 1926ء جنوری 1989ء ملیالم کے عظیم اداکار جو سدابہار ہیرو کے نام سے مشہور تھے۔ اصلی نام عبدالقادر تھا۔
l امتیابھ بچن: ہندوستانی فلمی دنیا کے دلیپ کمار کے بعد دوسرے عظیم اداکار 1970کے دہے کے اینگری ینگ مین 180سے زائد فلموں میں کام کیا۔ فرنچ ڈائرکٹر امیتابھ بچن کو (One Man Industry) کہتے ہیں۔ تین نیشنل ایوارڈ، بے شمار انٹرنیشنل فلم فیسٹول ایوارڈ، 14فلم فیئر ایوارڈ، حاصل کئے۔ وہ ایک کامیاب پلے بیک سنگر بھی ہیں۔ فلم پروڈیوسر اور ٹیلی ویژن پرزینٹر کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ مقبول ترین ریالٹی شو ہے۔ پدماشری اور پدمابھوشن حاصل کرچکے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں الہ آباد سے ایچ این بہوگنا کو شکست دی‘ بعض اسکامس میں نام لئے جانے پر مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے 2013ء میں ہالی ووڈ کی فلم ’’دی گریٹ گٹس بائی‘‘ میں ہندوستانی یہودی کا رول ادا کیا۔
l دیوآنند: 1923سے 2011ء۔ پورا نام دھرم دیو پشوری مل آنند۔ نوکیتن فلمس کے مالک‘ ہندوستانی فلمی دنیا کے عظیم اداکار پدمابھوشن اور داداپھالکے ایوارڈ یافتہ‘ 114فلموں میں کام کیا جس میں سے 104میں وہ ہیرو رہے۔ دو انگلش فلموں میں بھی کام کیا ۔
l ہیما مالنی۔ 16؍اکتوبر 1948۔ اداکارہ، ڈائرکٹر پروڈیوسر ڈانسر سیاستدان جنہوں نے 1968ء سے فلمی کیریر کا آغاز کیا۔ ایک عرصہ دراز تک وہ ڈریم گرل رہی۔آج بھی وہ مقبول ترین اداکارہ ہیں۔
l رجنی کانت۔ 12؍دسمبر 1950ء۔ عظیم اداکار میڈیا پرسنالٹی، تہذیبی سفیر 1975ء میں اپنی پہلی فلم ’’آپوروا راگنگل‘‘ کے لئے نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیا۔ ایشیا میں وہ جیکی چین کے بعد 26کروڑ روپئے ایک فلم کے معاوضہ کے طور پر حاصل کرنے والے دوسرے اداکار ہیں۔ انہوں نے 6تامل ناڈو اسٹیٹ فلم ایوارڈ، فلم فےئر ایوارڈ، پدمابھوشن حاصل کیا۔ سب سے زیادہ ان کے فیانس کلب ہیں۔
l شاہ رخ خان۔ 2؍نومبر 1965۔ بالی ووڈ کا بادشاہ یا کنگ خان کے طور پر مشہور شاہ رخ خان ہر عمر طبقہ کے فلم بینوں میں مقبول ہیں۔ 75فلموں میں کام کیا۔ 14فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ ہندوستانی فلمی دنیا کی ایک صدی کے موقع پر فلم فےئر نے اپنے سرورق پر دلیپ کمار، امیتابھ اور شاہ رخ خان کی تصویر شائع کرکے یہ سند عطا کردی کہ بالی ووڈ کے تین ہی عظیم داکار ہیں۔ انہیں پدماشری بھی مل چکا ہے۔
l مغل اعظم: ہندوستان کے عظیم ترین فلم 1960ء میں ریلیز ہوئی ڈائرکٹر کے آصف، پروڈیوسر شاہ پورجی پالن جی، پرتھوی راج کپور اکبر اعظم، دلیپ کمار شہزادہ سلیم، مدھوبالا انارکلی کے رول میں فلمی تاریخ کا حصہ بن گئے۔مکالموں، نغموں، موسیقی، اداکاری فوٹوگرافی، سیٹس، ساؤنڈ ٹریک، کے لئے یہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ایک ایک سین کے لئے جتنا پیسہ خرچ کیا گیا اتنے پیسے میں ایک فلم تیار کی جاسکتی تھی۔ اس فلم نے کلکشن کے تمام ریکارڈ توڑے جو پندرہ برس تک قائم رہے۔ 2004ء میں اسے رنگین پیش کیا گیا اور یہ بھی کامیاب رہی۔برٹش ایشین ویکلی نے اسے بالی ووڈ کی ہر دور کی سب سے کامیاب فلم قرار دیا۔
l شعلے: 1975ء میں جی پی سپی نے فلم بنائی ان کے فرزند رمیش سپی نے ہدایت دی، دھرمیندر، امیتابھ بچن، سنجیو کمار، ہیمامالنی، جیہ بہادری کے ساتھ ڈاکو گبر سنگھ کے رول میں امجد خان نے زبردست رول ادا کیا۔ہندوستان کی دس ٹاپ فلموں میں سے ایک شمار کی جانے والی فلم شعلے کو فلم فےئر کے پچاسویں سالانہ ایوارڈ فنکشن میں 50برسوں کی سب سے بہترین فلموں کا ایوارڈ کیا گیا۔ اس فلم نے باکس آفس کلکشن میں مغل اعظم کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔اب یہی فلم 3D میں تیار کی گئی جس کی بدولت سلیم جاویدکی جوڑی دوبارہ ایک ہوگئی۔
l فلم ایوارڈس:فلم فےئر میگزین کی جانب سے 1954ء سے فلم کے مختلف شعبوں میں بہتر کارکردگی کے اساس پر ایوارڈس کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ حکومت ہند کی جانب سے 1973ء سے نیشنل ایوارڈس، ڈائرکٹریٹ آف فلمفیسٹول کی جانب سے دےئے جانے لگے۔ ایوارڈ فنکشن کی صدارت صدر جمہوریہ ہند کرتے ہیں۔ فلم فےئر ایوارڈ کا فیصلہ کمیٹی ایکسپرٹس اور عوام دونوں ہی کرتے ہیں۔ جبکہ نیشنل ایوارڈس کا فیصلہ حکومت ہند کی جانب سے تقرر کی جانے والی کمیٹی کرتی ہے۔ ان دو کے علاوہ اسکرین ایوارڈس، اسٹارڈسٹ ایوارڈس اور گلوبل انڈین فلم اینڈ ٹیلیویژن آنرس پیش کئے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے باہر زی سنیما ایوارڈ،انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈیمی ایوارڈس (IIFA) پیش کئے جاتے ہیں۔
l لتامنگیشکر: دنیا کی چند خوبصورت آوازوں میں سے ایک لتامنگیشکر 1929ء میں موسیقی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ 1942ء سے پلے بیاک سنگر کی حیثیت سے تقریباً تمام ہندوستانی زبانوں میں ہزاروں گیت، نغمے،غزلیں، قوالیاں، ٹھمریاں گاچکی ہیں۔ بھارت رتن، پدمابھوشن اور کارنامہ حیات ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی آواز میں فلمی اور غیر فلمی گیت صدا بہار سمجھے جاتے ہیں۔ 80برس کی عمر میں انہوں نے 18سالہ اداکارہ کے لئے گانے گائے۔
l محمد رفیع: 1924سے 1980ء: ہندوستانی سنیما کی ایک صدی کے سب سے عظیم گلوکار کا ایوارڈ رفیع صاحب کو بعد از مرگ دیا گیا ہے۔ ایسی آواز شاید ہی کسی اور گلوکار کو عطا کی گئی ہو۔ ہزاروں نغمے، گیت، قوالیاں، غزلیں کئی زبانوں میں گاچکے ہیں۔ ان کی آواز ہندی فلموں کی کامیابی اور کئی اداکاروں کو اسٹار بنانے میں مددگار ثابت ہوئی۔
l مدرانڈیا: 1957ء کی ایک عظیم فلم محبوب خان کی ہدایت میں نرگس، راج کمار، سنیل دت،راجیندر کمار اور کنہیا لال نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم فےئر کے سبھی ایوارڈ اس فلم نے حاصل کئے۔ اس فلم میں ایک ہندوستانی خاتون کی عظمت کو پیش کیا گیا۔ نرگس کو لوگ مدر انڈیا کے نام سے جاننے لگے۔ جس کی وجہ سے نرگس نے اداکاری چھوڑ دی۔
l حواشی: گاندھی۔ یہ فلم ہالی ووڈ کی تھی جس کی ہندی میں ڈبنگ کی گئی۔
(ماخوذ ۔ اردو صحافت کل آج کل ۔از۔ ڈاکٹرسید فاضل حسین پرویز)

Share

One thought on “فلمی دنیا کے کچھ دلچسپ حقائق”

Comments are closed.

Share
Share