ڈاکٹرسید مصطفی کمال کی علمی وادبی خدمات – – مبصر: ضامن علی حسرت

Share

kamal

کتاب : ڈاکٹرسید مصطفی کمال کی علمی وادبی خدمات
مصنف : محمد انور الدین
سیل نمبر : 09032458868

مبصر: ڈاکٹرضامن علی حسرت
مکان نمبر 9-16-60،احمد پورہ کالونی نظام آباد
سیل نمبر:9440882330
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تصنیف ’’ڈاکٹر سید مصطفی کمال علمی وادبی خدمات ‘ریسرچ اسکالر محمد انور الدین کا (ایم ۔ فل )کا مقالہ ہے ۔انہوں نے اس تحقیقی مقالے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حبیب نثار یونیورسٹی آف حیدآباد کی نگرانی میں مکمل کیا۔ اب تک اُن کی چار تصانیف’’اُرد وزبان سیکھنے کیلئے آسان اُردو‘‘(تین ایڈیشن 2012 – 2014) ،’’معجزۂ فن ‘‘(2014)، ’’ قرآن مجید کا خلاصہ بچوں کیلئے‘‘(2014)اور’بھلائے نہ بھولیں ‘‘(2014)۔ منظرعام پر آچکی ہیں ۔ اِن کی دوتصانیف ’’ نگارِشات ‘‘ اور’’محمد جمال ؒ حیات او رخدمات‘‘ زیرطبع ہیں ۔

زیر نظر تصنیف ڈاکٹرمصطفی کمال کی علمی و ادبی خدمات اور اُن کی ہمہ رنگی شخصیت سے متعلق ہے۔ڈاکٹر مصطفی کمال قریباً نصف صدی سے اُردو ادب کی خاص طور سے طنزیہ ومزاحیہ ادب کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی پہلی پسند ’’طنز ومزاح ‘‘ہے جس کا جیتا جاگتا ثبوت ان کی ادارت میں نکلنے والا رسالہ ’’شگوفہ ‘‘ ہے جو پچھلے 46 برسوں سے نہایت ہی پابندی کے ساتھ شائع ہورہا ہے جو ایک ریکارڈہے اِسے ہم ڈاکٹر مصطفی کمال کا ایک عظیم کارنامہ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ڈاکٹر مصطفی کمال نے طنز ومزاح کے فروغ میں جو غیر معمولی اور ناقابل فراموش رول ادا کیا ہے اُسے آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ ’’زندہ دلان حیدرآباد‘‘ کو پروان چڑھانے اور اسے بین الاقوامی شہرت دلانے میں بھی ڈاکٹر صاحب کی غیر معمولی ادبی صلاحیتو ں کا بڑا دخل ہے۔ ایسی ادب نواز شخصیت پر نوجوان ریسرچ اسکالرمحمد انورالدین نے اپنا ایم فل کا تحقیقی مقالہ پائے تکمیل کو پہنچاتے ہوئے اپنی سوجھ بوجھ وعلمی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ انورالدین کی تحریروں کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ ایک محنتی اور باصلاحیت قلمکار ہیں۔
224 صفحات پرمشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر مصطفی کمال کی شخصیت اوران کے فن سے متعلق ہر وہ چیز موجود ہے جسے جاننے اور پڑھنے کے لوگ خواہش مند رہتے ہیں۔ انورالدین نے اپنی تصنیف میں ڈاکٹر صاحب کے فن کا ان کی شخصیت کا کوئی بھی پہلو اور کوئی بھی گوشہ ادھورا نہیں چھوڑا ہے۔ جس سے قارئین کو ایک تشنگی اور ادھورے پن کا احساس ہوسکے۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ انورالدین کو ڈاکٹر مصطفی کمال کی باکمال شخصیت سے کس قدر محبت وعقیدت ہے۔ تصنیف کو چھ ابواب میں تقسیم کیاگیا ہے۔ ’’باب اول‘‘ میں ڈاکٹر مصطفی کمال کی سوانح وشخصیت پر بھرپور اور تفصیلی انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس مقصد کے تحت مصنف نے ان عنوانات کو ضبط تحریر میں لایا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے آباء واجداد، والدین، ولادت باسعادت، تعلیم وتربیت، ملازمت، شادی خانہ آبادی، ازدواجی زندگی، مصروفیت، حلیہ ،لباس، پسند نا پسند، صبروتحمل، وقت کی پابندی، عادت واطوار، حق گوئی وبے باکی، رکنیت اور منظوم تہنیتْ جیسے عنوانات کے ذریعہ ڈاکٹر صاحب کے پوشیدہ گوشوں کو نہایت ہی فنکاری وچابکدستی کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔ ’’باب دوم‘‘ میں ڈاکٹر مصطفی کمال کی علمی وادبی خدمات کو ان تین عنوانا ت کے ذریعہ اجاگر کیاگیا ہے وہ عنوانات یہ ہیں ’’کالج آف لینگویجس کے قیام میں سید مصطفی کمال کا حصہ‘‘ ، زندہ دلان حیدرآباد کی خدمت بحیثیت بانی ورکن‘‘ اور ’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی سرگرمیاں‘‘ ان عنوانات پر مصنف نے کافی سیر حاصل بحث کی ہے جسے پڑھنے کے بعد ڈاکٹر مصطفی کمال کے ادبی خدمات کُھل کر ہماری نظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔ ’’باب سوم‘‘ میں مصنف نے ڈاکٹر صاحب کی ادبی خدمات کا ان عنوانات ’’بحیثیت مدیر مجلہ جامعہ عثمانیہ کا دکنی ادب نمبراور ‘‘ بحیثیت مصنف حیدرآباد میں اردوکی ترقی و تعلیمی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے ‘‘ (تحقیقی وتنقیدی مطالعہ) کے تحت مکمل اور جامع انداز سے جائزہ لیتے ہوئے قارئین کو یہ بتلانے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ ڈاکٹرمصطفی کمال کی ادب کی باریکیوں اور بنیادی اُمور پر کس قدر گہری نظر تھی اور انہوں نے اپنے فن سے اپنی ہمہ گیر ادبی شخصیت کے ذریعہ کتنی بہترین اور جامع ادبی خدمات انجام دی ہے۔ ’’باب چہارم‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کی صحافتی زندگی سے متعلق اہم باتوں کو بعنوان ’’ادارت: رہمنائے دکن کے ادبی صفحات‘‘ کے ذریعہ نہایت ہی گہرائی وگیرائی کے ساتھ پیش کیاہے۔ ڈاکٹر مصطفی کمال نہ صرف اعلی درجہ کے طنزو مزاح نگار ہیں بلکہ وہ ایک بلند پایہ صحافی بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعہ اعلی درجہ کی صحافتی خدمات بھی انجام دی ہیں اور دیتے چلے آرہے ہیں۔
’’باب پنجم ‘‘میں بعنوانات ’’اردو طنز ومزاح نگاروں کی پہلی کل ہند کانفرنس ‘‘ ،’’ کُل ہند کانفرنس کے یادگار سوونیر‘‘، دیڑھ ماہی شگوفہ کا آغاز‘‘، دیڑھ ماہی شگوفہ کی ماہنامہ میں تبدیلی‘‘، شگوفہ کے خصوصی شمارے‘‘، شگوفہ کے اعزازی شمارے‘‘، شگوفہ کے بہ یاد اور گوشے‘‘، شگوفہ کے سال نامے‘‘، شگوفہ کے قلم کاروں کے اسمائے گرامی‘‘، مدیرشگوفہ بحیثیت ناشر(شگوفہ بہ حیثیت طباعتی واشاعتی مرکز)‘‘، شگوفہ انٹر نیٹ پر‘‘، شگوفہ مراسلے برائے شگوفہ ‘‘اور ’’ماہنامہ شگوفہ 45 سالہ سفر بیک نظر‘‘کے ذریعہ مصنف نے جملہ 15عنوانات کی مدد سے ماہنامہ شگوفہ کے نشیب وفراز اور شگوفہ کے قلمکاروں کی تخلیقات کے بارے میں تفصیلات پیش کی ہیں۔ کئی اعتبار سے ’’باب پنجم ‘‘اہمیت کا حامل ہے ۔ مصنف نے اس باب کو تحریر کرنے میں کافی مستعدی اور محنت سے کام لیا ہے اور اسے ایک یادگار واہم باب بنادیا ہے۔ زیرِ تصنیف کا ’’باب ششم ‘‘ ڈاکٹر سید مصطفی کمال کی علمی وادبی خدمات کا مختصر جائزہ‘‘ پر مشتمل ہے جسے ساری تصنیف کا نچوڑ بھی کہا جائے توغلط نہ ہوگا۔ کسی بھی تحقیقی کتاب کا آخری باب نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے او راس باب میں مصنف کو بڑی دانشمندی اور مستعدی سے کام لیتے ہوئے اپنی مہارت وقابلیت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ گویا یہ کہا جائے کہ ’’سمندر کو کوزے میں بند کرنا‘‘ ہے اس عمل میں ذرا سی بھی بھول چوک ہوجائے تو تصنیف کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔
انو رالدین نے اپنے تحقیقی مقالے کے آخری باب کو نہایت ہی سلیقے سے نپے تلے انداز میں تحریر کرتے ہوئے ایک فعال ومتحرک قلم کار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب پر کافی محنت کی ہے اسی لئے کتاب میں کہیں بھی جھول یا ادھورے پن کا احسا س نہیں ہوتا۔ البتہ یہا ں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ انہوں نے ایک ایک صفحہ پر بہت زیادہ سطروں کو جگہ دی ہے ۔ اگر ہر صفحہ پر سطروں کی تعداد کو کچھ کم کیاجاتا تو مناسب تھا اس عمل سے یقیناًکتاب کی ضخامت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن اس کی خوبصورتی اور ندرت میں ضرور اضافہ ہوجاتا اس کے علاوہ کتاب کی بائنڈنگ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھو ڑ کر کتاب نہایت ہی عمدہ ہے ،پروف ریڈنگ کی غلطیاں نہیں کے برابر ہیں نتیجہ بہت اچھا برآمد ہوا ہے۔ شروع سے آخر تک مصنف نے کتاب کے ہر شعبہ پر اپنی گرفت کو مضبوط رکھا ان کا قلم کہیں بھی اپنی راہ سے نہ بھٹکا او رنہ ہی بہکا اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ بہت سارے مصنف دورانِ تحریر اپنی را ہ سے بھٹک جاتے ہیں وہ لکھناکچھ چاہتے ہیں اور لکھ کچھ او ردیتے ہیں جس کی وجہ سے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔ یہ بات انو رالدین کی تصنیف پر لاگو نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اپنی تصنیف کو اپنی سوجھ بوجھ اور ادبی بصیرت کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ کتاب کے ’’انتساب ‘‘کو اپنے مرحوم والدین کے نام معنون کرتے ہوئے انورالدین نے والدین سے اپنی اٹوٹ محبت کا ثبوت دیا ہے۔ بچے جب بڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کی زندگی بھی بدل جاتی ہے اور اکثران کے والدین کی جگہ وہ احباب آجاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت بعد میں آتے ہیں۔ 6چھ ابواب کے اختتام پر ’’ کتابیات‘‘ کو تفصیل کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے جو ایک تحقیقی مقالہ کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ یہ حوالے کتاب کو مستند بنانے میں نہ صرف نہایت ہی اہم رول ادا کرتے ہیں بلکہ اس کی توقیر واہمیت میں بھی اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی کی جزوی مالی اعانت سے شائع کی گئی اس کتاب کا ملٹی کلر سرِورق نہایت ہی عمدہ وجاذب نظر ہے۔ کتاب کا کاغذ بھی معیاری ہے جو اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس کتاب کو ’’جیشا ایجوکیشن سوسائٹی سکندر آباد نے نہایت ہی اہتمام کے ساتھ شائع کیا ۔ کتاب کے آخری صفحہ پر مصنف کی تصویر کے ساتھ ساتھ ان کا مختصرسا علمی وادبی مواد بھی موجود ہے جو کتاب کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ بہر حال محمد انور الدین کی یہ کتاب کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے اس کتاب سے طنز ومزاح کے ریسرچ اسکالروں کو کافی مدد ملے گی ۔
کتاب کی قیمت (250/- )دو سو پچاس روپئے
کتاب ملنے کا پتہ :
۱۔ محمد انورالدین شریک مدیر سہ ماہی ’’پھولبن‘‘ حیدرآباد سیل نمبر : 09032458868
۲۔ دفتر ماہانہ شگوفہ حیدرآباد 31&18 ، بیچلرس کوارٹرس معظم جاہی مارکیٹ حیدرآباد ۔500001 (ٹی ایس )
– – –
anwer

zamin

Share

One thought on “ڈاکٹرسید مصطفی کمال کی علمی وادبی خدمات – – مبصر: ضامن علی حسرت”

Comments are closed.

Share
Share