عیسوی کیلنڈر ۔ ایک مطالعہ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد رضی الدین معظم

Share

calender کیلینڈر

عیسوی کیلنڈر ۔ ایک مطالعہ

محمد رضی الدین معظم
مکان نمبر 20-3-866 ’’رحیم منزل ‘‘، شاہ گنج ، حیدرآباد ۔2
سیل: +914069990266, 09848615340
ای میل :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جنتری تقویمCalendar دنیا کے لئے ناگزیر ایجادات میں سے ایک ہے اور تمدنی دنیا میں ایک زبردست شاہکار تصور کی جاتی ہے ۔ اس کے ارتقاء میں تہذیب نے بڑے بڑے مشاہدات حاصل کئے جو جدید علمی دور کے لئے اہم ایجادات کا موجب ہوئے ۔ ابتدائی دنیا میں سب سے پہلے انسان کو تقویم جنتری کی ازبس شدید ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس کے ارتقاء کے لئے انسان علم نجوم کے مطالعہ سے شمس وقمر (Sun & Moon) مکا مطالعہ کیا اور نتیجتاً علم فلکیات اور علم سائنس سے روشناس ہوا ۔ کن کن تہذیبوں کی ایجادات سے موجودہ تقویم جنتری آج ہم تک پہنچی اور رہنماؤں مصلحین و محققین نے کس قدر محنت شاقہ برداشت کی اس کے اظہار کے لئے قلم عاجز ہے ۔

ابتدائی زمانہ میں تقویم جنتری کا تعلق زیادہ تر موسموں پر منحصر تھا ۔ کسی موسم میں پھل پکتے تھے تو کسی موسم میں کلیاں کھلتی یا کسی موسم میں برف باری ‘ پت جھڑ‘ موسم باراں( بارش) مانسون ہوتا غرض عہد عتیق میں انسان کی عمر کا حساب بھی موسم ہی کے لحاظ سے کیا جاتا تھا ۔ دن اور رات شب و روز کا تصور اس قدر قدیم ہے کہ تاریخ سے اس کا پتہ صحیح نہیں چل سکا ۔ عہد عتیق کے قبائل مرغ کی بانگ‘چڑیوں کی چہچہاہٹ‘ ستاروں کے نمودارہونے اور ڈوبنے سے رات دن کا حساب رکھتے تھے یعنی پہلا تارہ نظر آتے ہی رات اور غائب ہوتے ہی دن کا آغاز سمجھتے۔ اس طرح رات دن کی تقسیم رہی ۔ دن کے اوقات سورج کے سائے اور رات کے اوقات رفتار ثوابت پر منحصر تھے ۔ اسی طرح انسان نے جب اختر شناسی میں ترقی کرلی و مہینہ وسال کا تعین رفتار ثوابت ہی سے کیا ۔ انہوں نے دن کے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کررکھا تھا ۔ یعنی صبح‘ دوپہرسہ پہر او شام اور رات کو بھی چار حصوں میں بانٹ دئیے تھے ۔ ابتدائی شب ‘ نصف شب‘ آخر شب اور صبح رفتہ رفتہ گھنٹوں لمحوں اور ثانیوں( سکنڈ) کی تقسیم عمل میں آئی ۔
جب ہم اپنے ملک میں برسہا برس سے رائج عیسوی کیلنڈر پر غور کرتے ہیں تو یہ اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ رومی اپنے دیوتاؤں کے نام پر مہینے کے نام رکھتے تھے ۔ جو آج بھی مغربی دنیا میں قائم ہیں۔ ان کے پا سال بارہ مہینے ہی کا مقرر تھا لیکن بارہ مہینے کے نام کچھ اس طرح سے تھے(۱) مارٹیئس artius)‘(۲)اپریلیس(Aprilis)‘(۳)مالیں(Mauis) ‘ (۴)ایونیئس(Iunius)‘(۵) کوئنٹلس(Quintilis)‘(۶)سیکسٹیلس(Sextilis)‘ (۷)سپتمبر(September)(۸) اکتوبر (October)‘(۹)نومبر(November)‘ (۱۰) ڈسمبر(December) ‘(۱۱) انیورائیس (Iunuerius)‘(۱۲) فبروارئیس (Februarues) ان میں سے پہلا تیسرا پانچواں اور آٹھواں مہینہ۳۱ دن کا باراہوں مہینہ۲۸دن کا اور باقی مہینے ۲۹دن کے ہوا کرتے تھے ۔ اس طرح ان کا سال۳۵۵ دن کا ہوا کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ مہینہ میں تین ہفتے (Weeks) دس دس دن کے محسوب کئے جاتے ۔ علاوہ ازیں روم میں خانگی اور تجارتی اشخاص میں مختلف قسم کی جنتریوں کا رواج تھا لیکن یہ عموماً بے ضابطہ سمجھے جاتے تھے ۔ ان بے ضابطہ جنتریوں اور ان کے نقائص کو دور کرنے کیلئے اسکندریہکے لوگ سوسیگ نیس (Sosignies) نے محسوس کیا اور اس کی اصلاح کی جستجو شروع کی ۔ انہو ں نے مصری رائج الوقت شمسی جنتری کی نقل کرکے اس میں چند اصلاحات کے بعد جولیس سیزر کے دربار شاہی میں پیش کیاا تو جولیس سیزر نے داد تحسین کے ذڑیعہ سرکاری طور پر اس کو اختیار کرنے کی منظوری دے دی اور ہمہ جنتری۴۵ء قبل مسیح میں جاری کردی گئی ۔ اب ان کا سال مصری سال کی طرح۳۶۵ دن کا ہوتا تھا اور ہر چوتھے سال ایک دن کا اضافہ کیا جانے لگا ۔ فلکیات کے مزید انکشافات سے ایک سال ۳۶۵‘ دن پانچ گھنٹے۴۰۵ لمحے اور (۴۲) ثانیے کا ہوگا ۔ اس طرح مصری اور رومی سال میں گیارہ لمحے۱۴ ثانیے کا فرق باقی رہا ۔ چونکہ جولیس سیزر نے مصری جنتری کو جنوری میں نافذ کیا تھا جو اس وقت رائج تھی لہٰذا جو لیس سیزر کی یادمیں کوئنٹلیس (Quintilis)نامی مہینہ بدل کر جولیس(Julius)رکھ دیا گیا جو رفتہ رفتہ جولائی (July) کے نام سے موسم ہوگیا ۔ اسی طرح سیکسٹیلس(Sextilis) مہینہ کا نام بھی بدل کر اگسٹس سیزر کے نام پر اگسٹس کردیا گیا یہ مہینہ بھی بعد میں اگست (August) بن گیا ۔ آخر دومہینے اینوارئیس (Iunuerius) اور فبروارئیس (Februares) بالترتیب جنوری (January) اور فبروری (February) کے نام سے مشہور ہوگئے ۔ رفتہ رفتہ پہلا دوسرا تیسرا اور چوتھا مہینے کا نام بدل کر مارچ‘ اپریل‘ مئی اور جون ہوگئے ۔ اور اس کو جولین جنتری کے نام سے موسم کیا جانے لگا ۔ جو آج بھی مغربی دنیا میں عیسوی کتسیوی جنتری کے نام سے موسوم ہے ۔
۱۵۸۲ء میں ایک اطالوی پادری اسکالر جوزف سیلجر نامی محقق نے کسی بھی دن کے شمارے کے لئے یکم جنوری کو تاریخ کا آغاز قرار دیا او راس طرح ان کی یہ دریافت جو لین جنتری کے لئے قبول کرلی گئی عیسوی کیلنڈر کی حقیقت اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ جو لیس سیزر مصری جنتری کو اصلاح کے بعد حکم جاری کیا تھا اور عموماً تمام عالم مغرب میں صدیوں تک جاری رہی ۔ عیسائی مذہب کے تمام تہوار ایسرڈن (EasterDay) سے متعین ومقرر ہیں۔ یہ تارخ موسم بہار کے نقطہ معتدلہ شمسی کے مشاہدہ سے مقرر ہوتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ موسم بہار کے نقطہ معتدلہ شمسی کے بعد پہلی رویت ہلال کی تاریخ معلوم کی جائے ۔ لیکن یہ طریقہ مصری ‘ با بل اور رومی شمسی جنتری کے ذریعہ معلوم کرنا محال ہے کیونکہ اس جنتری میں ہلال کسی تاریخ میں بھی نمودار ہوسکتا ہے ۔ جولین جنتری میں یہ تاریخ25 مارچ مقرر کی گئی تھی لیکن اس وقت کی مشہور ومعروف کونسل آف نائیس (Council of Nice) نے ایسٹر کی تاریخ۲۱ مارچ مقرر کی ‘ جولین جنتری میں چند لمحے ‘ ثانئے اور سکنڈوں کا فرق تھا اس وجہ سے الیسٹرکی تاریخ سولہویں صدی عیسوی میں۱۱مارچ پڑگئی ۔ جس کے باعث تشویش پیدا ہوگئی ۔ بالآخر اس نقص کو محسوس کرتے ہوئے یوپ گریگری نے جولین جنتری کو از سر نو نظر ثانی کی اور نقص کو دور کردیا ۔ لہٰذا اب اس جنتری کو بجائے جولین جنتری کے عیسوی کیلنڈر کہا جانے لگا ۔ پوپ گریگری نے اس جنتری کیلنڈر کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ اسللام کی وفات سے جو عیسائیوں کا عقیدہ ہے محسوب کیا ۔ گرچہ یہ کہ جدید تحقیقات سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دن تو کیا ۔ آپ کے بارے میں واقعات کا علم بھی کسی کو نہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس سن میں اس عالم فانی میں رونق افروز ہوئے اور کب تک رہے یہ سب راز جاننے والے سوائے اللہ رب العزت کے سب عاجز ہیں۔
پوپ گریگری نے قیاسایہ دن مقرر کرلیا ہے ۔ اس طرح سن عیسوی کا رواج ہوگیا ۔ جو آج تک جاری ہے اور گریگورین کیلنڈر کے نام سے موسوم ومعروف ہے ۔ جنتری کی تقویم کی وجہ سے دنیا میں توہم پرستی رونما ہوئی ۔ اور ختر شناسی کا عمرانی زندگی پر اس قدر گہرا اثر پڑا کہ سائنس کی انتہائی کوشش کے باوجود توہم پرستی دنیا سے نہیں مٹائی جاسکی حقیقت یہ ہے کہ عہد عتیق ہی سے اختر شناسوں نے سیاروں کو دیوتا تصور کیا اور جنتری کی تقویم کے ساتھ ساتھ ہر ستارے کے اثرات کی بھی نشرو اشاعت ہوئی ۔ جس کی وجہ سے ایک منظم قسم کی اصنام پرستی پھیل گئی ۔ نجومی ہمیشہ یہ باور کراتے آئے ہیں کہ سیاروں کی گردش سے ہر لمحہ وثانیہ انسان کی تقدیر متاثر ہوتی رہتی ہے اور ہر سیارے کی گردش کے سبب مختلف ایام میں نحوست یا خوشحالی کا اثر ہوتا ہے ۔ یہ تو ہمات ہندوستان میں نہ صرف جاہل طبقہ میں بکثرت موجود ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان پر عقیدہ واثق رکھتا ہے ۔ جدید سائنس نے تحقیق و جستجو کے آئینہ میں یہ بتادیا ہے کہ سیاروں سے انسانی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور توہم پرستی لغو ہے ۔ البتہ جنتری کی حد تک سیاروں کی گردش اہمیت رکھتی ہے ۔ ہاں! یہ ضروری ہے کہ حضرت انسان اپنی زندگی میں خود اپنے ہی اعمال و کرتوتوں سے کچھ ایسے اعمال بدو نحوست کا شکار بنتے ہیں جس کے لئے سرور کائنات رسول مکرم ومعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تاکیداً ذکر فرمایا ہے جو اوراق احادیث کے مطالعہ پر مشعل راہ بنتے ہیں۔
الغرض عیسوی سال نو کیپہلی تاریخ یکم جنوری کو ہی مانا جاتا ہے ۔ حکومت ہند اور تمام ریاستی حکومتیں عیسوی کیلنڈر ہی کو قانوناً رائج و مروج گردانتے ہیں بلکہ ساری دنیا میں بھی عیسوی کیلنڈر ہی کا رواج عام ہے ۔
Md Razi Uddin Moazzam
محمد رضی الدین معظم

Share
Share
Share