گذارکرزندگی اس طرح ۔ پھرشانِ رحمت دیکھئے – – محمد رضی الدین معظم

Share
محمد رضی الدین معظم
محمد رضی الدین معظم

گذارکرزندگی اس طرح ۔ پھر شانِ رحمت دیکھئے

محمد رضی الدین معظم
مکان نمبر 20-3-866 ’’رحیم منزل ‘‘
، شاہ گنج ، حیدرآباد ۔2 سیل: +914069990266, 09848615340
ای میل :
– – – – – – –
معزز مکرم قارئین ! یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہر شخص مفلسی و مصیبتوں سے بیزار سکون و چین کی زندگی چاہتا ہے لیکن افسوس کہ اپنی روز مرہ زندگی میں حضرت انسان سے خود ایسے کچھ افعال سرزد ہوتے رہتے ہیں جس کے باعث‘ باوجود اس کی کوششوں ومصیبتیں اٹھانے کے ‘ گھر میں افلاس ہی چھائے رہتی ہے اور بدبختی سے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں اور گھر میں نحوست کا دور دورہ رہتا ہے ۔ ممتاز عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد رحیم الدین صاحب ؒ نے اپنی ایک خصوصی تحریر میں فخر محدث‘ ولی کامل حضرت مولانا ضیاء الدین سنائی کے قطعہ کو نوٹ فرمایا ہے ۔ جسمیں دس ایسے اشیائے منحوس کے نام بتلائے ہیں اور لکھا ہے کہ ان سے بہت جلد تباہی آتی ہے ۔

عشر منفعت وخول بیت ملکا
آلات قمار کشفت مستوی ۃ
خمرجرس وکناسہ ومنرمار
کلب جنت بجمع بول وصورۃ
حضرت آگے رقمطراز ہیں کہ یہ دس چیزیں ایسی ہیں ۔ جہاں اس کی موجود گی سے نیکی کے فرشتے نہیں آتے اور وہ گھر افلاس کا شکاررہتا ہے جس کے بعد گھر کا سکون ختم ہوجاتا ہے ۔ حضرت نے ہدایت فرمائی ہے کہ ہرمسلمان مرد و عورت ان اعمال بد و نحوست سے باز رہیں ۔
دس چیزیں یہ ہیں :
(۱) قمار بازی‘ جوا‘ شطرنج کا کھیل وغیرہ ۔
(۲) مستر جسم شئے کا کھلا رہنا یعنی برہنگی و نیم عریاں لباس کا استعمال ۔
(۳) بجنے والی گھنٹی ۔
(۵) گھر میں کوڑا کرکٹ‘کچراجھاڑ کرگھر ہی میں جمع رکھ لینا ۔
(۶) بونگی شہنائی ‘ ستار‘ ہارمونیم دوتاری وغیرہ ‘ فی زمانہ ٹی وی‘ ویڈیو ‘ٹیب ‘ کمپیوٹر‘ لیپ ٹیپ کا استعمال۔کمپیوٹر و موبائیل فون کے استعمال پر بچوں و بڑوں پر نگرانی کا نہ ہونا ۔
(۷) کتا۔
(۸) جنب یعنی جنابت( ہم بستری) واحتلام پر غسل میں بلاعذر تاخیر کرنا ۔
(۹) بول وبراز پیشاب پاخانہ ‘ خواہ معصوموں کا ہی کیوں نہ ہو برتن ( ریٹی ) میں جمع رکھنا (۱۰) جاندار انسان یا حیوان کی تصاویر آویزاں کرنا ۔
مطالعہ احادیث میں کچھ ایسے اعمال بد ونحوست کا ذکر ملتاہے جس کے باعے میں حضور نبی ممتاز معظم المرسلین اعظم الخلقیا ذکی النبین اشرق الاتقیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‘ صحابہ کرام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ہر مسلمان مرد وعورت اس سے دور رہے کہ یہ اللہ اور رسول دونوں کو ناپسند یدہ ہیں۔ ان احادیث کا ذکر بخاری شریف ‘ مسلم ‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ مشکوٰۃ ‘ ابن ماجہ ‘ نسائی شریف وغیرہ سے ماخوذ ہے ۔
(۱) پائجامہ ( شلوار لہنگا وغیرہ ) کھڑے ہو کر پہننا نحس ہے ‘ یہ فقیری اور بدبختی لاتا ہے اور جو ایسا عمل کرے اللہ تعالیٰ اس کو ایک ایسی بلا میں گرفتار کرتے ہیں ‘ جس کا کوئی علاج نہیں۔
(۲) صحبت یا ہم بستری بالکل برہنگی حالت میں کرنا نہایت بد ونحوست ہے ‘ اگر حمل رہا تواولاد بے حیاو نافرمان ہوگی ۔ اسی طرح ایک بار صحبت ہو جانے کے بعد بلا غسل پھر صحبت کرنا نحس ہے ۔ اس سے گھر میں بہت جلد افلاس آتا ہے اور میاں بیوی میں نفاق پیدا ہوتا ہے ۔
(۳) جنب یا احتلام کے غسل میں بلا عذر شرعی تاخیر کرنا بدنحوست ہے عموماً خواتین محترم کام کی مصروفیات کے باعث غسل میں بہت زیادہ تاخیر کی عادی رہتی ہیں اور بعض تو ایسی ہی ناپاکی کی حالت میں دوبارہ صحبت کرتی ہیں جس کا علم شوہر کو نہیں رہتا ایسا کرنا گناہ عظیم ہے ۔ یہ عمل نوجوان خواتین میں زیادہ رہتا ہے ‘ جہاں تک ممکن ہوسکے غسل میں عجلت کریں اور ہاں ! کام کاج میں مصروف ہونے کے لئے کم از کم وضو کرلیں۔ اور جتنا جلد ممکن ہوسکے غسل صحبت سے فارغ ہوجائیں۔ محض ان کی تاخیر گھر میں افلاس وتباہی کا سبب بنتا ہے ۔
(۴) کھڑے رہ کر سرکے بالوں میں کنگی کرنا درویشی لاتا ہے اور قرضداری بڑھتی ہے ‘ فی زمانہ قد آدم سنگھار میزوں کا رواج سرکے بالوں میں کنگی کرنے کا رواج عام ہے ۔ ہر کس وناکس عالم جاہل سب ہی اس نحس عادت کا شکار ہیں‘ اس کے علاوہ رات میں کنگی کرنا بد وتحس ہے ۔ اس عمل سے بھی گھر میں بہت جلد افلاس آتا ہے ۔ خواتین محترم کی کثرت اس بد ونحس عمل کی زیادہ عادی ہیں۔ جب بھی کسی ضیافت دعوت تقریب وغیرہ میں شرکت کرنا ہو‘ خواتین محترم فوراً قد آدم آئینے کے سامنے اور وہ بھی رات کے وقت کھڑے کھڑے کنگی کرنا شروع کردیتی ہیں۔ اس طرح کا عمل گھر کو افلاس کا شکار بنا دیتا ہے ۔ اور نحوست کا دور دورہ رہتا ہے ۔ اسی طرح جُو ں نکلنے پر زندہ چھوڑ دینانحس ہے جیسے ہی جوں نظر آئے فوری مارڈالیں۔
(۵) میت کے پاس بیٹھ کر کھنا پینا درویشی ‘ فقیری محتاجی لاتا ہے اور قبرستانوں میں کھانا پینا نفاق پیدا کرتا ہے اور اس سے دل سخت ہوجاتا ہے ۔
(۶) فقیروں ‘ محتاجوں مسیکنوں کے پاس سے بھیک صدقہ وغیرہ کی روٹیاں‘ اناج غذا‘ وغیرہ خریدنا‘ بدونحس ہے ‘ ایسا کرنے سے بہت جلد مفلسی آتی ہے ۔
(۷) بائیں ہاتھ سے کھانا پینا بدونحس ہے ‘ بچوں کو بھی اس نحس عادت کا شکار نہ بنائیں ورنہ ماؤں کی تھوڑی سی غفلت ولاپرواہی ان کی اولاد میں بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی عادت پڑجاتی ہے جو بدونحس ہے ۔ اسی طرح برہنہ سر کھا نا پینا بھی بد و نحس ہے ۔ اس عمل کے شکار مرد و خواتین دونوں ہیں اس سے بھی گھر میں بہت جلد افلاس آتا ہے ۔
(۸) مٹی مل کر ہاتھ دھونا یا آٹا‘بے سن اناج وغیرہ سے ہاتھ دھونا بھی بد ونحسن ہے ۔ یہ بھی درویشی و محتاجی لاتا ہے ۔اور جس برتن میں کھانا کھائیں اسی میں ہاتھ دھونا بھی نحس ہے ۔ مریضوں کو بھی اس عمل سے باز رکھیں جو تیمار دار اس کی احتیاط کریں ان کے لئے اجرعظیم ہے ۔
(۹) دانتوں میں خلال کرنے سے نکلنے والی شئے کا کھانا نحس ہے فوری اسے تھوکدیں۔ ہر ایک قسم کی لکڑی سے خلال کرنے کی سخت ممانعت ہے ۔ہری ڈالی سے خلال کرنے سے دہن میں گندہ بو پیدا ہوتی ہے ۔ بانس کی لکڑی سے خون آتا ہے ۔انارکی لکڑی سے خارش پیدا ہوتی ہے بوریا اور پنکھا وغیرہ کے تنکوں سے دانتوں کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ گلاب کی کاڑی سے نقصان عقل ہوتا ہے ۔ گاجر کے تنکے سے تنگدستی وافلاس آتا ہے ۔بہترین خلا ل نیم کا تنکہ ہے ۔ خواتین محترم اکثر اس قسم کے خلال کے عادی ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو خلال کے لئے تنکادینا اجر و ثواب ہے ۔ عموماً بڑی بڑی ہوٹلوں اور دعوتوں میں خلال کی کاڑیاں رکھنے کا اہتمام بھی رہتا ہے جو ثواب کا موجب ہے ۔اجر عظیم ہے ۔
(۱۰) کھانے کے برتن شب بھر بغیر دھوئے ڈالے رکھنا نحس ہے اور بغیرڈھانپے کھلاچھوڑنا بھی بد ونحس ہے بلکہ اس میں جھینگر‘ ٹڈے کیڑے پتنگے گرجانے کا قوی امکان رہتا ہے ۔
(۱۱) مٹی چینی وغیرہ کے ٹوٹے برتن استعمال میں رکھنا نحس ہے ۔ اس سے درویشی آتی ہے ۔
(۱۲) دروازہ کی دہلیز یا چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا پینا نحس ہے ۔ اکثر خواتین محترم اس عادت کی شکار رہتی ہیں اس عمل سے بھی افلاس آتا ہے ۔
(۱۳) بلا دعوت کسی کے ہاں کھانے پینے میں شریک ہونا حرام ہے اور کسی کے کھانے پینے کے وقت سے واقفیت رکھتے ہوئے جانا نحس ہے ۔اسی طرح دعوت میں کسی قسم کا نقص نکالنا بھی نحس ہے ۔ اس کے علاوہ دعوت کے وقت سے بہت قبل یا بہت دیر شریک ہونا بھی سخت منع ہے کہ ایسا عمل میزبان کے لئے دل آزاری کا باعث ہوتا ہے ۔ کسی قسم سے بھی دل آزاری گناہ ہے ۔
(۱۴) رات کے وقت جھاڑو دینا بدو نحس ہے ۔ خواتین محترم اپنے کاموں کی مصروفیات کے باعث عموماً رات میں ضرور جھاڑو دینے کی عادی رہتی ہیں۔ کسی کپڑے ‘ جھٹکنی وغیرہ سے جھٹک لینا درست ہے ۔ رات میں جھاڑو دینے سے گھر میں بہت جلد افلاس آتا ہے ۔
(۱۵) مکڑی کے جالے گھر میں رہنے دینا بھی بد ونحس ہے ۔
(۱۶) زیر ناف پندرہ روز سے زائد بال نہ نکالنا بد و نحس ہے اور چاقو چھری اور قینچی سے کاٹنا بھی بد و نحس ہے ۔
(۱۷) قبرستانو میں ہنسنا درویشی لاتا ہے ۔ عموماًلوگ تدفین میں کسی وجہ سے تاخیر کے سبب بیٹھے بیٹھے کھڑے کھڑے آپس میں باتیں کرتے ہوئے قہقہہ مار کر ہنسے ہنسانے سے بھی گریز نہیں کرتے ‘ حتیٰ کہ مرحوم کی برائیاں وغیرہ تک بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسا عمل سخت ممنوع اور گناہ ہے ۔ احادیث میں ہے کہ مرنے والے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں لہٰذا ان کی برائی بیان کرنا گنا ہے ۔ اس طرح کے عمل سے میت میں شریک ہونے کے اجر وثواب کے بجائے گناہگار ہوجاتے ہیں۔
(۱۸) ماں باپ کوستانے والے ‘ دل دکھانے والے ‘ نام لیکر پکار نے والے ‘ ان کی خبر گیری سے لا پرواہی کرنے والے گھر بہت جلد تباہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ صرف ان کے چہروں کو دیکھ لینا اجر عظیم وثواب ہے پھر ان کے ساتھ حسن وسلوک‘ عزت و احترام اولاد کے لئے عطیہ اکرم ہے ۔ بیوی کی باتوں میں آکر ماں باپ سے عدم دلچسپی بہت جلد تباہی آتی ہے ۔ ماں باپ کا قصور ہونے پر بھی بیوی کی طرفداری کرنا باعث تباہی ہے ۔ ساس خسر بھی بہوؤں کے ساتھ حسن سلوک ‘ عزت و احترام کا خیال رکھیں اور ہمیشہ خوش دلی سے پیش آئیں ۔ بہر صورت اولاد پر ماں باپ کی عزت واحترام واجب ہے ۔
(۱۹) کھلے عام اور قبلہ رخ ضرورت سے فارغ ہونا بد ونحس ہے ۔ اکثر طلباء مدارس و کالجس کے قریب اس عمل کے عادی ہیں ۔ دیکھنے والے ان کو نہ روکنا گناہ ہے ۔ اس سے نقصان عقل اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح نجاست کی جگہ وضو کرنا سخت منع ہے ۔
(۲۰) صبح کی نماز چھوڑ نا افلاس لاتا ہے ۔ اور نمازوں کے لئے بلا عذر شرعی تاخیر سے پڑھنے کی عادت رہنا سخت منع گناہ عظیم ہے ۔ اس عمل کے بھی خواتین محترم شکار رہتے ہیں ۔ اپنے کاموں کی مصروفیات کے باعث نماز کے مقابلہ میں کام کو ترجیح دیتے ہیں ۔ نتیجہ اکثر آخر اوقات یا پھر نماز قضاء کردیتے ہیں ۔ اس عمل سے بھی بہت جلد افلاس آتا ہے ۔
(۲۱) ناخنوں کو دانت سے کتر نا بدو نحس ہے ۔ اس سے برص کی بیماری ہوتی ہے ۔ اسی طرح چاقو چھری سے کانٹنا بھی نحس ہے ۔ہمیشہ قینچی نیل کٹر استعمال کریں ۔
(۲۲) کپڑوں کو پھٹے ہوئے حالات میں پہننا نحس ہے ۔ اور بے حیائی بھی ہے اسی طرح جسم سے اتارے بغیر پھٹے کپڑے کا سینا بھی نحس ہے ۔
(۲۳) حالت جنابت میں کھانا پینا کام کاج بدونحس ہے ‘ کم از کم وضوکرلیں ۔
(۲۴) روٹی ‘ دانت سے کتر کر کھانا منع ہے ۔معصوم بچوں کو بھی اس عمل سے باز رکھنا ماؤں کا فرص ہے ۔ اس عمل سے بھی افلاس آتا ہے ۔
(۲۵) برہنہ سر ضرورت کے لئے جانا منع ہے ۔ اسی طرح جاتے وقت سیدھا پیر پہلے رکھنا اور نکلتے وقت دایاں پیر پہلے نکالنا منع ہے ۔ اس عمل سے کیڑے پتنگے کا ٹنے کا احتمال زیادہ رہتا ہے اور ضرورت میں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔
(۲۶) میاں بیوی کو آپس میں نام لیکر پکار نا سخت منع ہے ۔ اس طرح کا عمل آج کی نئی نسل فخر سمجھتی ہے جو بدو نحس ہے ۔
(۲۷) کھانے کے برتن میں سے بیچ سے نہ شروع کریں بلکہ بازو بازو سے شروع کریں ۔ بیچ میں برکت رہتی ہے ۔ ( خشکہ ‘ بریانی ‘ کھچڑی وغیرہ)۔
(۲۸) بے ادبی سے کھانا پینا بھی بد ونحس ہے ۔ فی زمانا میز کرسی کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے ‘ دعوتوں میں تو لازمی ہوچکا ہے اور اس قسم کاطرز ایک مجبوری ہے لیکن گھروں میں بھی غیرضروری روزانہ کھانے پینے کے لئے میز کرسی کا استعمال کرنا اور برہنہ سرپیروں میں جوتے چپل وغیرہ اور بائیں ہاتھ سے عموماً پینے پلانے کی عادت بدونحس ہے ، عام ہوگئی ہے ۔
(۲۹) جوتے چپل وغیرہ اوندھا پڑے‘ رہنا بد ونحس ہے اس کے سبب اکثر جھگڑے ہوا کرتے ہیں‘ جوتے چپل وغیرہ اوندھا پڑارہ کر دیکھتے ہوئے انجان بننا گناہ ہے ۔
(۳۰) کھانے پینے کی اشیاء بلاعذر شرعی غلطی سے یا شرار تاً بھی موری میں بہادینا گناہ ہے اور قصداً ہو تو بہت جلد گھر میں تباہی آتی ہے ۔ خواتین محترم کی نئی نسل عموماً ساس صاحبہ یا شوہر محترم کے ڈر سے کھانے پینے کی اشیاء موری میں بہادیا کرتی ہیں جو بد ونحس ہے ۔
(۳۱) حجام کی کنگھی سے بالوں میں کنگھی کرنا بد ونحس ہے ۔ اس سے عوارضات پیدا ہوتے ہیں۔ ٹوٹی کنگی کا استعمال بھی نحس ہے ۔
(۳۲) پھونک کر چراغ یا موم بتی وغیرہ بجھانا نحس ہے ۔ ہاتھ یا کسی شئے کی مدد سے بجھائیں۔
(۳۳) جھوٹی قسمیں کھانا بدونحس ہے ‘ اس سے بہت جلد گھر میں تباہی آتی ہے اور آپسی رنجش میں اضافہ ہوتا ہے ۔
(۳۴) دانتوں کو کپڑوں سے صاف کرنا جیسے مسواک سے صاف کرتے ہیں نہایت نحس ہے ۔
(۳۵) ہاتھ دھوکرکرتے وغیرہ کے دامن سے پوچھنا نحس ہے ۔
(۳۶) سائل کے سوال کو رد کرنا اور خصوصاً رات کے وقت کچھ نہ کچھ نہ دینا درویشی وفقیری لاتا ہے ۔
(۳۷) کھانے پینے کی اشیاء ضرورت سے زیادہ پکار کر ضائع کردینا بہت جلد محتاجی لاتا ہے ۔
(۳۸) زیب وزینت و آرئش کے ساتھ خواتین کا راستوں میں گھومنا پھر نابدونحس ہے ۔ اس سے گھر میں افلاس آتا ہے بلکہ اولاد بھی بے حیا ہوتی ہے اور حاملہ خواتین ہو توں اس کا اثر جلد ہوتا ہے ۔
(۳۹) سڑکوں پر کھلے عام کھانا پینا نحس ہے اور بلا عذر کھانے پینے کی اشیاء ہوٹل بازار وغیرہ سے منگوانا نحس ہے ۔ گھر کا پکوان خواہ کتناہی سادہ و معمولی کیوں نہ ہو باعث برکت و فضیلت ہے ۔
(۴۰) آخر میں کچھ کلمات خیر پیش ہیں ‘ اس کی عادت ڈالئے انشاء اللہ گھر میں ہمیشہ نیک بختی ‘ سکون قلب ‘ فرحت و مسرت حاصل رہے گی کہ یہ کلمات خیر بندگان خدا کے لئے عطیہ اکرم ہیں۔
a جب کچھ کام وغیرہ کرنے کا ارادہ فرمائیں تو کہئے ’’ انشآء اللّٰہ ‘‘
a کوئی اچھی خبر ‘ اطلاع سنیں تو فرمائیں ’’ سبحان اللّٰہ ‘‘
a کسی تکلیف میں ہو تو فرمائیے ’’ یا اللّٰہ ‘‘
a جب کوئی کام شروع کریں تو فرمائیے ’’ بسم اللّٰہ ‘
a کسی چیز کی تعریف کرنا چاہیں تو فرمائیے ’’ ماشاء اللّٰہ ‘‘
a کسی کا شکریہ ادا کرنا چاہیں تو فرمائیے ’’ جزاء ک اللّٰہ ‘‘
a کسی غلط کام پر افسوس کرنا چاہیں تو فرمائیے ’’ استغفر اللّٰہ‘‘
a کسی کو رخصت فرمائیں تو فرمائیے ’’ فی امان اللّٰہ ‘‘
a جب کچھ نا گواری محسوس کریں تو فرمائیے ’’ نعوذ باللّٰہ ‘‘
a جب خوشگواری محسوس کریں تو فرمائیے ’’فتبارک اللّٰہ ‘‘
a جب چھینک آئے تو فرمائیے ’’ الحمد للّٰہ ‘‘
a جب جمائی لیں تو فرمائیے ’’ استغفر اللّٰہ ‘‘
جب کسی نقصان یا کسی کی موت کی خبر سنیں تو فرمائیے’’ انا اللّٰہ وانا لیہ راجعون ‘‘
a جب سوکر اٹھیں تو فرمائیے ’’ لاالہ الااللّٰہ ‘‘
a جب اللہ کے نام پر کچھ دیں تو فرمائیے ’’ فی سبیل اللّٰہ ‘‘
a جب سونا چاہیں تو فرمائیے ’’اللھم باسمک واموت واحیا‘‘

Share

۴ thoughts on “گذارکرزندگی اس طرح ۔ پھرشانِ رحمت دیکھئے – – محمد رضی الدین معظم”

Comments are closed.

Share
Share