مولانا آزاد کی مذہبی بصیرت – – – مولانا امانت علی قاسمیؔ

Share

Maulana Azad  بصیرت

امانت

مولانا آزاد کی مذہبی بصیرت

مولانا امانت علی قاسمیؔ
استاذ دار العلوم حیدرآباد
Email:
Mob: 07207326738

ہندوستان کی سر زمین پر علمی اور فکری اعتبار سے جن عظیم شخصیتوں کے انمٹ نقوش ہیں، جنہوں نے جدوجہد آزادی میں قائدانہ اور فاتحانہ کردار ادا کیا اور آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے انتھک کوششیں کیں، اور جوش وجذبات سے نکل کر سنجیدہ لائحہ عمل اور مدبرانہ طرز عمل دیا، ان میں سب سے بلند نام امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کا ہے۔

مولانا آزاد ہندوستانی مسلمانوں کے قائد، سیاست کے مہر تاباں، صحافت کے بدروہلال، خطابت کے شہنشاہ اور قرطاس وقلم کے بازی گر تھے،آپ علم وفضل کے تاجدار، ادب کے درنایاب اور فکرونظر کی بلندی وتابانی میں آفتاب وماہ تاب تھے، مولانا آزاد نے ایک ایسے وقت میں مسلمانوں کو سنبھالا دیا ہے جب کہ ملت ا سلامیہ کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھارہی تھی، اس کشتی کا کوئی ناخدا اور کھیون ہار نہیں تھا، ایسے وقت میں انہوں نے مسلمانوں کے شعور کو زندہ کیا ہے اور امید کے چراغ کو روشن کیا ہے جب کہ مسلمانوں کا سیاسی سورج غروب ہوچکاتھا اور مدھم روشنی دینے والے باریک لو کو بھی بھجانے کی پوری کوشش کی جارہی تھی،مسلمانوں کے سیاسی زوال کے بعد ان کے فکرونظر، تہذیب وثقافت اور دین ومذہب پر بھی قد غن لگانے کی مکمل تیاری ہوچکی تھی، سورش کاشمیری نے اپنے مخصوص انداز میں مولانا کے چہرہ مہرہ اور ان کے امتیازی اوصاف کا تعارف کرایا ہے، لکھتے ہیں:
قد طویل نہ قلیل، متوسط القامت، اکہرا بدن، نازک الجثہ، شرح وسپید رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، متحرک اور روشن ۔۔۔ فقرواستغناء کے پیکر اور صبر جمیل کا مجسمہ، گفتگو کے بادشاہ، علم کے بحر ناپیدا کنار، خطابت کے شہسوار، قلم کے ایسے دھنی کی بہ قول رشید احمد صدیقی الفاظ کو ربوبیت اور نبوت کا جامہ پہنا دیتے اوردماغ سوچنے کے بجائے پوجنے کی طرف چلاجاتا، اردو زبان کے سب سے بڑے خطیب، سفر کے دلدادہ، سیاست دانوں میں عبقری، حافظہ بے پناہ، کتابوں کے دوست، مطالعے کے مجنوں،قرن اول کے شہ دماغ، گمشدہ اسلاف کی یادگار ۔۔۔ مستقبل کے فیاض، بولتے تو پھول جھڑتے، مطالب کے فرش پر الفاظ کا رقص،چاروں طرف سحر پھیل جاتا ، ۱۸۵۷ء کی خونخواری کے بعد ۱۹۱۰ء میں اسلام کی پہلی آواز جس نے مسلمانوں کے پلکوں سے نیندیں اتار دیں اور ان کے کانوں کا جھومر بن گئی، ان کے دلوں کا نگینہ ا ور ان کے دماغوں کا سفینہ ہوگئی۔(سورش کاشمیری، ابو الکلام آزاد، ص۳۴ ایم آر پبلیکیشنز دہلی، ۲۰۱۳ء)
ہمہ گیر شخصیت:
مولاناآزاد، آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی دم توڑتی سیاست کے مسیحا اور بہترین قیادت کے اعلی جوہر تھے، ان کی زندگی ہمہ گیر وہمہ جہت تھی، وہ ایک بلند پایہ مصنف، انشاء وصحافت کے شہباز، علم وفضل کے مہتاب، قرآن اور قرآنی علوم کے گوہر شناس مسحور انداز خطاب سے لوگوں کے دلوں پر سحر کرنے والے اور اپنی طرز گفتگو سے لوگوں کو محو حیرت میں ڈالنے والے اور خطابت کی جولانی سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے والے بے باک خطیب تھے۔
مولانا ایک ایسے خاندان کے چشم وچراغ تھے جہاں صدیوں سے علم وارشاد کی مسند بچھی تھی اور علم وحکمت کے گنجہ ہائے گراں مایہ بکھیرے جارہے تھے، آپ کے والد بزرگوار عالم دین اور تصوف کے سرخیل تھے، آپ نے مذہب کے سر چشمہ مکہ مکرمہ میں آنکھ کھولی اور مذہبی تعلیم سے ہی آراستہ کئے گئے، والد محترم نے آپ کو از خود درس نظامی کی تعلیم دی، اس کے بعد دوسرے علماء مشائخ سے آپ نے علم دین حاصل کرکے درس نظامی کے نصاب کی تکمیل کی اور بہت کم عمری میں آپ نے علم دین کے علاوہ دوسرے علوم وفنون میں مہارت حاصل کرلی، شعروشاعری، صحافت وانشاء پردازی اور تقریر وخطابت کی جوہری صلاحیت نے بہت جلد شہرت کے آسمان پر پہونچا دیا، سولہ سترہ سال کا نوجوان جب خطابت کی مسند پر بیٹھ کر عالمانہ افکار وخیالات کا اظہار کرتا تو لوگ دم بخود رہ جاتے، چودہ سال کی عمر میں لسان الصدق جیسے موقر رسالے کے اجراء سے علمی حلقوں میں حیرت واستعجاب کا ایک سناٹا چھاگیا، ۱۹۰۴ء میں جب مولانا شبلی سے پہلی ملاقات بمبئی میں ہوئی تو آدھا گھنٹہ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے فرمایا: تو ابوالکلام آپ کے والد ہیں‘‘؟ مولانا نے جواب دیا، نہیں، میں ہی ابوالکلام ہوں، اس وقت آپ کی عمر سولہ سال کی تھی۔
مذہب بیزاری:
مولانا خاندانی ا عتبار سے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور مذہب کی ہی تعلیم انہیں دی گئی تھی، لیکن آپ خاندانی مذہبی حالات سے بالکل متاثر نہ تھے، بلکہ خاندانی روایات سے بغاوت کرکے ایک نئی راہ پر چل پڑے جسے خود آپ نے الحاد وتشکیک کا راستہ قرار دیا ہے اور کچھ اس وادی غیر ذی زرع میں اضطراب وبے چینی کا سفر کرتے ہوئے آخر کار مذہب کی ٹھوس اوور مستحکم بنیادوں کو حاصل کرلیا ا ور مطالعہ قرآن کے ذریعہ عقائد کی درستگی اور اسلام کی صحیح فہم تک پہونچ گئے، شورش کا شمیری نے اپنی کتاب ’’ابوالکلام آزاد‘‘ میں مولانا کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے:
(۱) پیدائش اور خاندانی ورثے میں جو مذہب ملا تھا میں اس پر قانع نہیں رہا اورجونہی مجھ میں اتنی طاقت پیدا ہوگئی کہ کسی چیز کو اپنے سے الگ کرسکوں میں اسے الگ کردیا اور پھر ایک خالی دل ودماغ لے کر طلب وجستجو میں نکلا، میرے مذہبی عقائد نہ تو مجھے خاندان سے ملے نہ میرے استادوں نے ان کی تلقین کی، نہ میری سوسائٹی ان کے لئے رہنما ہوسکتی ہے، یہ تمام چیزیں موافق ہونے کے بجائے میری راہ میں روکاٹ کا حکم رکھتی تھی، انہوں نے مجھے جو کچھ دیا وہ میں نے کھودیا، مجھے جو کچھ مطلوب تھا وہ خود اپنی طلب وجستجو سے دھونڈ نکالا، عرصے تک میٹریلزم اور ریشنلزم کے جلوۂ سراب کو آب حیات سمجھتا رہا، اس راہ کی جتنی بیماریاں ہیں وہ بھی مجھے لگیں اور جتنے نسخے ہیں وہ بھی میں نے استعمال کئے، آخر سب سے بڑی بنیادی سچائی مجھ پر کھل گئی کہ مذہب عقل وادراک سے نہیں بلکہ خالص اور بے میل جذبات سے طے کی جاسکتی ہے اور مذہبی حقیقت کو پالینا اس لئے کٹھن نہیں ہے کہ مشکل ہے بلکہ اس لئے کہ وہ بہت آسان ہے اور انسان کی سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ سامنے کی آسان اور عام چیزوں کو ہمیشہ نظر انداز کردیتا ہے۔(کاشمیری ،سورش،ابو الکلام آزاد، ص۲۵ ایم آر پبلیکیشنز دہلی، ۲۰۱۳ء)
غرضیکہ آپ الحاد کی اس نازک پگڈنڈی پر کچھ دنوں تک محو سفر رہے اور حقیقت وسچائی کی تلاش میں سرگرداں رہے، لیکن آپ اس الحاد اور شک واضطراب کی دلدل میں کب تک رہے، اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، بس اتنا کافی ہے کہ ایک سفر کے بعد مولانا پرتمام عقدہ لا ینحل کھل گئے اور اس منزل پر پہونچ گئے کہ قرآن نسخہ حیات ہے، یہی و ہ کیمیہ سعادت ہے جس میں انسانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے، یہی وہ آب حیات ہے جس کی تلاش تھی اور اس راہ میں نہ جانے کتنی گم کردہ راہ چیزوں کو آب حیات سمجھ لیا تھا۔
مذہبی بصیرت کے علمبردار:
جب مولاناپر قرآن اور قرآنی علوم کا اعجاز منکشف ہوا تو اس کے اظہار اور ابلاغ میں مولانا نے تامل نہیں کیا، آپ نے مسلمانوں کی اعتقادی اور عملی کمزوری کی شہ رگ کو بھانپ لیا اور مسلمانوں میں عقیدہ وعمل کی پختگی پیدا کرنے کی جدوجہد شروع کردی اور مولانا نے اس میں کامیابی بھی حاصل کی، اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا کی سیاسی جدوجہد ان کے مذہبی تگ ودو پر حاوی ہوگئی اور مولانا میدان سیاست کے رمز شناس کہے جانے لگے اوران کی سیاسی بصیرت لوگوں کی زبان پر اس درجہ مسلط ہوگئی کہ مولانا کی مذہبی بصیرت لوگوں کی نگاہ سے عنقا ہوگئی، حالانکہ سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ مولانا کی مذہبی بصیرت بھی ناقابل فراموش ہے، پروفیسر اختر الواسع نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ مولاناآزاد مذہبی بصیرت کے سب سے بڑے علمبردار تھے، انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے علاوہ ان کی مذہبی وفکری قیادت بھی کی ہے،مولانا کی مذہبی بصیرت ہم ان کی تقریروں اور تحریروں میں نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں، مولانا کی تحریر یں انقلابی ہوا کرتی تھیں، آپ کے نثرکی سحر آفرینی سے لوگ نظم کی چاشنی بھول جاتے تھے، یہاں تک کہ مولانا حسرت موہانی کوکہنا پڑا ؂
جب سے دیکھی ہے ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
میں ان کی تقریروں اور تحریروں کے حوالے سے ان کی مذہبی بصیرت کے چند پہلو روشن کرنے کی کوشش کروں گا۔
ترجمان القرآن:
مولاناآزاد کی تصانیف میں ترجمان القرآن سب سے شاہکار ہے، اس تفسیر نے مسلمانوں میں بالخصوص انگریزی داں طبقہ میں قرآن فہمی اور رجوع الی القرآن کو زندہ کیا ہے، مولانا نے مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی زبوں حالی اور ملت کی پستی وضعف وناتوانی کا بنیادی سبب قرآن سے دوری محسوس کیا، اس لئے انہوں نے الہلال کے ذریعہ پہلے لوگوں کے شعورکو بیدار کیا، ان کے احساس ذمہ داری کو جھنجھوڑا اور پھر ترجمان القرآن کی صورت میں انہیں وہ آپ حیات دیا جس سے مسلمان اپنی ہمیشہ اور ابدی زندگی کو سنوار سکتے ہیں، اپنے مستقبل کو تابناک اور روشن کرسکتے ہیں، ترجمان القرآن نے مسلمانوں کے ایمان کی کرنوں کو جلا بخشی اور ان کے دل کو نور ایمان سے منور کردیا، سید سلیمان ندوی اس کی امتیاز وخصوصیت کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان مسلمانوں میں قرآن پاک کا ذوق مولانا ابو الکلام کے الہلال اور البلاغ نے پیدا کیا اور جس اسلوب بلاغت، کمال انشاء پردازی اور زور تحریر کے کے ساتھ انہوں نے انگریزی خواں نوجوانوں کے سامنے قرآن پاک کی ہر آیت کو پیش کیا ہے اس نے ان کے لئے ایمان ویقین کے نئے نئے دروازے کھول دئے اور ان کے دلوں میں قرآن پاک کے معانی ومطالب کی بلندی اور وسعت کو پوری طرح نمایاں کردیا۔ ( کاشمیری،سورش، ابو الکلام آزاد، ص۳۰۶ ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی، ۲۰۱۳ء)
ترجمان القرآن مولانا کی مذہبی بصیرت پر سب سے نمائندہ کتاب ہے، اس کے مطالعہ سے مولانا کی مذہبی بصیرت اور ملی دانشوری بالکل نمایاں معلوم ہوتی ہے، یہ کتاب قرآن کریم کی دلنشیں تشریح، قوت استدلال، زور تحریر، جدید اسلوب وسعت مطالعہ، عالم گیر فکر، کے ساتھ دینی وعلمی بصیرت کا حسین مجموعہ ہے۔
الہلال:
مولاناکی ز ندگی کا سب سے قابل فخر کارنامہ، الہلال کا اجرا ہے، الہلال افق صحافت کا وہ درخشاں ستارہ ہے جس کی روشنی میں مسلمانوں نے اپنے آپ کو پہچانا، اپنی گم گشتہ پونجی کا احساس کیا، اپنے وقار کی بحالی اور اپنے کردار کو زندہ کرنے کے لئے جان کی بازی لگائی، الہلال نے مسلمانوں کو نیند سے بیدار کیا، ان کی غیرت وحمیت کو جھنجھوڑا اور مسلمانوں کی زندہ قوم کی طرح اپنی عظمت رفتہ بحال کرنے کا پیغام دیا، انہیں اسلامی تہذیب وثقافت کی معنویت واہمیت کا احساس دلایا اور خود اعتمادی اور قوت ارادی کا مضبوط درس دیا، الہلال سے مولانا کا رشتہ جولی دامن کا تھا، الہلال مولانا کی زندگی کا لازمی حصہ تھا، گویا کہ الہلال مولانا کی مجازی بانوئے بلند اختر تھی، شورس کاشمیر الہلال اور مولانا کے رشتہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
مولانا ابو الکلام اور الہلال لازم وملزوم ہیں، دونوں ایک خاص تگ ودو تک گل وبلبل کا عروضی لازمہ تھے، الہلال شمع تھا مولانا پروانہ، الہلال پروانہ تھا مولانا شمع، الہلال ناقہ تھا مولانا حدی خواں، الہلال کارواں تھا مولانا میر کارواں، الہلال قرطاس تھا مولانا قلم، الہلال صریر خامہ تھا مولانا نوائے سروش، الہلال لیلیٰ تھا مولانا قیس، الہلال عذرا تھا مولانا وامق تھے، الہلال نعرہ رستخیز تھا مولانا مرد رستخیز۔(سورش کاشمیری، ابو الکلام آزاد، ص ۳۸۵)
الہلال کی پہچان صحافت کے طور پر کی جاتی ہے اور اسے صحافت کا نیر تاباں قرار دیا جاتا ہے اور صحافت کی دیڑھ سو سالہ مدت میں الہلال کی زمزمہ سنجی برقرار ہے، یہ نہ صرف اخبار تھا بلکہ ایک تحریک کانام تھا، الہلال کے ذریعہ مولانا کی ادبی، صحافتی اور سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، یہ سب صحیح ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ الہلال کے ذریعہ مسلمانوں کی مذہبی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا گیا ہے، اس کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلام اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا گیا، مسلمانوں میں اسلام کی صحیح فکرکی خامہ فرسائی ہوئی اس کے ذریعہ مولانا آزاد کی مذہبی بصیرت، اور دینی حمیت، اسلامی دانشمندی کی جلوہ گری بھی سامنے آئی ہے،مولانا عبد الماجد الہلال کے مذہبی رنگ وآہنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ الہلال کے نکلتے ہی ابو الکلام مسلم طور پر مولانا ہوگئے اور شہرت کے پروں سے اڑنے لگے، الہلال کی مانگ گھر گھر ہونے لگی ا ور مولانا کی خطابت کے جوہر بھی اس وقت سے خوب چمکے، ہر جلسے کی رونق ان کی ذات سے ہونے لگی، الہلال بظاہر ایک سیاسی پرچہ تھا، لیکن اس کی دعوت تمام تر دینی رنگ میں تھی اور اس کی سیاست پر بین الملی اسلامیت کی چھاپ لگی ہوئی تھی، بات بات پر قرآنی آیات سے استدلال واستناد علمی وادبی پہلو بھی نمایاں تھے، فکاہی رنگ بھی کچھ کم شوخ نہ تھا۔(مشمولہ آئینہ آزاد،ص:۴۳ بحوالہ ماہنامہ قومی زبان نومبر۲۰۱۵ء، مضمون مولانا آزاد کی اخبار نویسی، ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم) الہلال کے مقاصد میں مولانا نے جو لکھا ہے اس سے صاف طور پر مولانا کی مذہبی بصیرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، الہلال کے مقاصد اور پولیٹیکل تعلیم کے تحت ۸؍ ستمبر ۱۹۱۲ء کو لکھتے ہیں:
* ہمارے پاس اگر کچھ ہے تو قرآن ہی ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے۔
* ہم نے تو اپنے پولیٹیکل خیالات مذہب ہی سے سیکھے ہیں، وہ مذہبی رنگ ہی میں نہیں؛بلکہ مذہب کے پیدا کئے ہوئے ہیں، ہم انہیں مذہب سے کیوں کر علیحدہ کردیں، ہمارے عقیدہ میں ہر وہ خیال جو قرآن کے سوا کسی اور تعلیم گاہ سے حاصل کیا گیا ہو ایک کفر صریح ہے اور پالیٹیکس بھی اس میں داخل ہے۔
* قرآن سامنے ہوتا تو نہ گورنمنٹ کے دروازے پر جھکنا پڑتا،نہ ہندؤوں کے اقتداکی ضرورت پیش آتی اسی سے سب کچھ سیکھتے جس کی بدلوت تمام دنیا کو سب کو سکھایا۔
* الہلال کا مقصد اصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ان کے تمام اعمال ومعتقدات میں صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر عمل کی دعوت دیتا ہے، خواہ تعلیمی مسائل ہوں، خواہ تمدنی یا سیاسی ہو، خواہ اس کے سوا کچھ اور وہ ہر جگہ مسلمانوں کو صرف مسلمان دیکھنا چاہتا ہے۔(کاشمیری،سورش ، ابو الکلام آزاد ،ص ۴۰۳،ایم آر پبلیکیشنز نئی دہلی ۲۰۱۳ء)
خطبات آزاد:
مولانا کی تحریروں کی طرح ان کی تقریروں میں بھی ہمیں مذہبی بصیرت کی حیرت انگیز مثالیں ملتی ہیں، مولانا میدان خطابت کے عظیم شہ سہوار تھے، بلکہ زبان وبیان کے شہنشاہ تھے، ان کی تقریروں نے جدوجہد آزادی میں خاص طور پر مسلم لیگ کے مخالفانہ تیور کے دور میں ہندوستان میں مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا، مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدا کیا، مسلمانوں کے دلوں کو جھنجھوڑا، ان کی تقریر میں جوش وولولہ کے ساتھ ساتھ معلومات کا بہت بڑا سرمایہ ہوتا تھا،مولانا کی تقریروں میں مذہبی بصیرت، دینی تصلب، اسلام پر جمنے اور مرمٹنے کا جذبہ خوب دکھائی دیتا تھا، انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس رام گڈھ میں فرماتے ہیں:
میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم، اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم وفنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں، بحیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچر دائرے اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے۔(آزاد،مولانا ابو الکلام ، خطبات آزاد، ص ۲۹۷ ساھتیہ اکادمی نئی دہلی،۲۰۱۲ء)
مولانا آزاد مذہب کے بڑے داعی اور علمبردار تھے اگر چہ ان کی عملی زندگی کا زیادہ تر حصہ سیاست کے بازار میں گزرا ہے، لیکن بازار سیاست میں انہوں نے مذہب کو فروخت نہیں کیا، بلکہ مذہب کو اپنا آئیڈیل بنا کر پیش کیا، ان کے نام کے ساتھ مولاناوصف تام کی طرح جڑا ہوا تھا، انہوں نے سیاست کے لئے مذہب سے کبھی اپنے آپ کو الگ نہیں کیا، بلکہ مذہب کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی سیاسی زندگی کو ڈھالا، آج مولانا کی مذہبی بصیرت لائق تقلید ہے اور مولانا کے سیاسی نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے جب کہ سیاست کی وادی مذہب کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے، سیاست کے ساتھ اگر مذہب کا ٹکراؤ ہوتا ہے بلا جھجھک مذہب کو خیرآباد کہہ دیا جاتا ہے اور جواب دیا جاتا ہے سیاسی چاپلوسی(جس کو وہ مصلحت کا نام دیتے ہیں) کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے، جو لوگ مولانا آزاد کو ا پنا سیاسی رہنما مانتے ہیں اور مولانا کی سیاسی بصیرت کے قائل ہیں انہیں مولانا کی مذہبی بصیرت پر بھی غور کرنا چاہئے اور مولانا کی سیاسی زندگی کا صحیح ڈھنگ سے مطالعہ کرنا چاہئے۔
مولانا آزاد کی مذہبی بصیرت کے تعلق سے ایک اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ مولانا آزاد کی صحافت وسیاست سے جس قدر استفادہ کیا گیا ہے اور اسے موضوع بحث بنا کر لکھا گیا ہے، میرا خیال ہے کہ مولانا کی مذہبی بصیرت، اسلامی دانشمندی سے اس قدر استفادہ نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی اس کو اس درجہ موضوع بحث بنایا گیا ہے، مولانا کی مذہبی بصیرت جاننے کے لئے اتنا کافی ہے کہ مولانا کی زیادہ تر تصنیفات (تصورات قرآن، ترجمان القرآن، شہادت حسین،تذکرہ، خطبات آزاد، ارکان ایمان وغیرہ) مذہبی بصیرت کی آئنہ دار ہے۔

Share

One thought on “مولانا آزاد کی مذہبی بصیرت – – – مولانا امانت علی قاسمیؔ”

Comments are closed.

Share
Share