ریفرڈجرنل : ادب و ثقافت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدیر: پروفیسرمحمد ظفرالدین

Share

adab ریفرڈ

ریفرڈجرنل : ادب و ثقافت

اداریہ : پروفیسرمحمد ظفرالدین
ناشر: مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت ۔ مانو
ای میل :

مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے ادبی جریدے ’ادب و ثقافت‘ کا دوسرا شمارہ پیش ہے۔پہلے شمارے کی غیرمعمولی پذیرائی نے ہمارے حوصلے بڑھا دیے ہیں اور ہم ایک نئے جوش و جذبے اور متنوع مضامین کے ساتھ ایک بار پھر حاضر خدمت ہیں۔اس شمارے میں بھی ادب و ثقافت کے معیار کو برقرار رکھنے اور کیفیت و کمیت دونوں اعتبار سے خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

20 اکتوبر 2015 ء کا سورج مولانا آزاد نیشنل اُردویونیورسٹی کے تعلق سے ایک انتہائی مبارک پیغام کے ساتھ طلوع ہوا جب سائنس اور اُردو کی معروف شخصیت ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے چوتھے شیخ الجامعہ کی حیثیت سے یونیورسٹی کی باگ ڈور سنبھالی۔ اُن دنوں یونیورسٹی پرآشوب دور سے گزررہی تھی۔اساتذہ ‘ طلبہ اور غیرتدریسی عملے میں ہر سطح پر اضطراب کی سی کیفیت تھی۔اس صورتحال میں ڈاکٹر اسلم پرویز نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے یونیورسٹی برادری سے خطاب کیا۔ اُن کی تقریر نے تپتے ہوئے صحرا کے پیاسوں کے لیے آبِ سرد کا کام کیا اور حالات یکایک کافی حد تک معمول پر آگئے۔ وہ باربار عدل کی دلالت و وکالت کرتے ہوئے انصاف کے ترازوکا توازن بگڑنے نہیں دے رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز اُردو زبان اور اُردو ذریعہ تعلیم کے زبردست حامی ہیں۔ اُنہوں نے اس مختصر سی مدت میں اُردوکی سربلندی کے سلسلے میں کئی اقدام کیے ہیں جس سے نہ صرف اندرونِ جامعہ بلکہ بیرونِ جامعہ بھی پوری اُردو دُنیا میں اُن کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے ’’ادب و ثقافت‘‘ کے لیے مثبت رویے کا اظہار کیا اور اسے پورے آب و تاب سے جاری رکھنے کی تائید کی۔ہمیں یقین ہے کہ اُن کے عہد میں منفردنوعیت کی یہ دانش گاہ نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔ہمیں اُن کی ذاتِ گرامی سے بے حداچھی اُمیدیں ہیں۔
اُردو کے ادبی حلقوں کے لیے 2016 ء کا نیا سال اپنے ساتھ کئی سانحوں کو سمیٹ کرلایا۔ ابتدائی دو مہینوں میں انتظار حسین‘ ندا فاضلی‘ زبیر رضوی اور عابد سہیل ہم سے بچھڑ گئے۔ بین الاقوامی شہر ت کے حامل افسانہ نویس اور ناول نگار انتظار حسین 2 فروری کو لاہور میں انتقال کر گئے۔انتظار حسین 7 دسمبر1923ء کو متحدہ ہندوستان کے مقام ڈبائی ‘ بلندشہر میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کی تحریروں میں قدیم ہندوستانی اور کلاسیکی روایات کی خوشبونمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ اُنہوں نے تادم آخر ان روایات کی پاسداری کی۔ اُن کے انتقال سے اُردو ادب میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے شاید ایک طویل ’’انتظار‘‘ کرنا پڑے گا۔ممتاز شاعر ندا فاضلی نے 8 فروری کو ممبئی میں اپنی زندگی کے ایام پورے کیے ۔ وہ 2 اکتوبر 1938 کو دلّی میں پیدا ہوئے تھے۔ فلمی شاعری کے حوالے سے اُنہوں نے اپنی مخصوص پہچان بنائی۔ وہ مشاعروں کے بھی مقبول شاعر تھے جہاں اُنہوں نے نظم اور دوہوں کو رواج دیا۔ وہ مذہبی منافرت اور شدت پسندی کے مخالف رہے جس کی جھلکیاں جا بجا اُن کے کلام میں موجود ہیں۔ معروف شاعر ‘ ادیب اور براڈکاسٹر زبیر رضوی 20 فروری کو دہلی اُردو اکیڈمی کے ایک سمینار کی صدارت کرتے ہوئے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ 15 اپریل 1935ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے سہ ماہی جریدے ’’ذہن جدید‘‘ نے تہذیبی و ثقافتی ادب کے حوالے سے خصوصی شناخت بنائی جس کا کم و بیش نصف مواد طبع زاد یا ترجمہ‘ خود زبیررضوی کا ہی ہوتا تھا۔معروف افسانہ و ناول نگار اور صحافی عابد سہیل کا 26 جنوری کو84 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال ہوا۔وہ نیشنل ہیرالڈ اور قومی آواز جیسے اخبارات سے وابستہ رہ چکے تھے۔اُنہیں اُترپردیش اُردو اکیڈمی کے باوقار مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے نوازا جا چکا تھا۔وہ متعدد کتابوں کے علاوہ ایک سو سے زائد افسانوں اور مضامین کے مصنف تھے۔ کرناٹک اُردو اکیڈمی کی فعال چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ چودھری کا 24 فروری کو بنگلور میں اکیڈمی کی ایک تقریب کے دوران تقریر کرتے ہوئے 62 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ ان تمام ادبی شخصیات کے انتقال پر ہم ادب و ثقافت کے قارئین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ہم تمام مقالہ نگاروں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ’’ادب و ثقافت ‘‘ کے لیے قلمی تعاون کیا ہے۔ خاص طور پر پروفیسرعتیق اللہ کا ممنون ہوں کہ اُنہوں نے ہماری گزارش پر بہت ہی کم وقت میں عابد سہیل کی خودنوشت سوانح ’’جویادرہا‘‘ پر ایک مضمون لکھا۔پروفیسر شارب ردولوی نے بابا نیاز حیدر کے یومِ وفات کی مناسبت سے ایک مضمون مرحمت فرمایا۔ پروفیسرمرزا خلیل احمد بیگ نے ’’مسعود سعد سلمان کے ہندوی دیوان کے قدیم ترین حوالے‘‘پر ایک وقیع تحقیقی مقالہ عنایت کیا ہے جس میں اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ مسعود سعد سلمان کی ہندوی شاعری 1193 ء میں مسلمانوں کی فتح دہلی سے قبل کی قدیم کھڑی بولی یا ابتدائی قدیم اُردو کے ادبی نمونوں میں سے ایک ہے۔ ’’ادب و ثقافت‘‘ کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ثقافتی ڈسکورس قائم کیا جائے اور اُسے توسیع دی جائے ۔ اس حوالے سے پروفیسر قدوس جاوید کا مقالہ ’’اُردو کا سماجی اور ثقافتی ڈسکورس‘‘خاص اہمیت کا حامل ہے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے بیدی صدی تقاریب کے حوالے سے2ستمبر 2015 کو مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت میں ’’راجندرسنگھ بیدی کی تخلیقات میں عورت‘‘ کے موضوع پر لکچر پیش کیا تھا۔ ہم اس لکچر کو بھی ایک مضمون کی شکل میں یہاں شامل اشاعت کررہے ہیں۔ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے کلیم عاجز کی خودنوشت ’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘‘ کو ایک ثقافتی بیانیہ قرار دیتے ہوئے اس پر بہت سیر حاصل مضمون قلم بند کیا ہے۔محترمہ قمرجمالی افسانہ نگار‘ ناقد اور ادبی صحافی کی حیثیت سے شناخت رکھتی ہیں۔ ان کا مضمون’’ ترقی پسند اُردو غزل میں سماجی سروکار‘‘ اِس جریدے کا حصہ ہے۔ڈاکٹر سید محمود کاظمی‘ ڈاکٹرشمس الہدی دریابادی‘ ڈاکٹر محمد ریاض احمد‘ ڈاکٹر شاہ نواز عالم‘ ڈاکٹر مزمل سرکھوت‘ ڈاکٹر رؤف خیر اور ڈاکٹر بدرسلطانہ کا بھی ہمیں قلمی تعاون ملا ہے جس کے لیے ہم اُن تمام کے مشکور ہیں۔
آپ سے استدعا ہے کہ اپنا غیرمطبوعہ تحقیقی مضمون ’’ادب و ثقافت‘‘ میں اشاعت کے لیے ہمیں روانہ کیجیے اور ہمارا جواب آنے تک اُسے کہیں اورارسال نہ کریں۔ادب کا تہذیبی وثقافتی مطالعہ زیرنظر جریدے کی اولین ترجیح ہے۔ فنون لطیفہ پرلکھے گئے مضامین کا بھی بخوشی استقبال کیا جائے گا۔بہتر ہوگا کہ آپ اپنی تحریران پیج فائل میں بذریعہ میل ارسال کریں۔اُمید ہے کہ ’ادب وثقافت‘ کے پہلے شمارے کے مصداق زیرنظر شمارہ بھی آپ کو پسند آئے گا۔ ہمیں آپ کے تاثرات اور ایسے مفید مشوروں کا انتظار رہے گا جن کی مدد سے جریدے کو مزید بہتر اور معیاری بنایا جا سکے۔
پروفیسر محمد ظفرالدین
ایڈیٹر

Share

One thought on “ریفرڈجرنل : ادب و ثقافت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدیر: پروفیسرمحمد ظفرالدین”

Comments are closed.

Share
Share