مسلم پرسنل لا بورڈ – – – – – – مولاناسید احمد ومیض ندوی

Share

muslim بورڈ
مسلم پرسنل لا بورڈ
مسلمانوں کا سہارا اور ملت کی آنکھوں کا تارا

مولاناسید احمد ومیض ندوی
Email:
Mob: 09440371335

موجودہ حالات میں جب کہ حکومت طلاقِ ثلاثہ کو ختم کرکے یکساں سول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کا تہیہ کرچکی ہے اور مسلم پرسنل لا بوڈ کی جانب سے اس صورتِ حال کا بڑی حکمت کے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو مسلم پرسنل لا بورڈ سے نابلد ہے، اُسے یہ پتہ نہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کس بلا کا نام ہے اور ملک میں تحفظِ شریعت کے لیے اس کی کیا خدمات ہیں؟ سطور ذیل میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعارف اور اس کی خدمات کا خاکہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ہے کہ ہماری نئی نسل مسلم پرسنل لا بورڈ کی خدمات اور اس کے کارناموں سے واقف ہو اور عام مسلمانوں میں بورڈ کے ساتھ اٹوٹ وابستگی پیدا ہوجائے۔

قیام کا پس منظر
مسلم پرسنل لا بورڈ ملتِ اسلامیہ ہند کا وہ واحد عظیم ادارہ ہے جس نے ہر نازک موڑ پر ملت کی رہنمائی اور ملک میں شریعتِ اسلامیہ کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا، بورڈ کے قیام کے پس منظر اور اس وقت کی ملک کی صورتِ حال پر روشنی ڈالنے سے تحفظِ شریعت کے سلسلہ میں بورڈ کی خدمات نمایاں ہوکر آتی ہیں۔
مغلیہ دورِ حکومت میں اسلام کا قانون ہی ملکی قانون تھا، نہ صرف یہ کہ عائلی معاملات میں شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کیے جاتے تھے، بلکہ فوجداری قانون بھی شرعی حدود کے مطابق چلایا جاتا تھا،البتہ غیر مسلموں کو عائلی مسائل میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی،۱۷۶۵ ؁ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت عدالتوں کی از سر نو تنظیم کی جانے لگی تو انگریز جج بھی اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ کرتے تھے، بعد میں رفتہ رفتہ انگریزی قانون رائج ہوتا گیا، یہاں تک کہ ۱۸۶۲ء ؁ میں اسلام کے فوجداری قانون کو ختم کرکے انڈین پینل کورڈ نافذ کردیا گیا اور نکاح ، طلاق اور وراثت وغیرہ عائلی مسائل میں اسلامی قانون باقی رہنے دیا گیا، لیکن مسلمان عائلی مسائل میں دیگر اقوام سے متاثر ہونے لگے اور اسلامی تہذیب کی جگہ غیر اسلامی تمدن جڑ پکڑنے لگا، جس کی وجہ سے ۱۹۳۷ ؁ء میں علماء اور عام مسلمانوں کے مطالبہ پر انگریز دورِ حکومت ہی میں مسلم پرسنل لا کا نفاذ عمل میں آیا، ملک کی آزادی کے بعد انگریزوں کے مرتب کردہ اسی مسلم پرسنل لا کو باقی رہنے دیا گیا، ملک کے دستور میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ واشاعت کا پورا حق دیا گیا، تاہم ابتدا ہی سے ملک میں ایک ایسا طبقہ سرگرم رہا جس کا اوّلین مقصد مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو ختم کرکے انہیں ملکی تہذیب میں ضم کرنا تھا، یہ طبقہ دفعہ نمبر ۴۴ کا سہارا لے کر شروع ہی سے ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کرتا رہا، یکساں سول کوڈ کے حامیوں کو اس وقت بڑی شہ ملی جب ملک کے وزیر قانون مسٹر ایچ آر گوکھلے نے پارلیمنٹ میں لے پالک بل پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ یکساں سول کوڈ کی تدوین کی طرف پہلا قدم ہے، اس اعلان کے ساتھ ہی ملتِ اسلامیہ میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی اور عروس البلاد ممبئی میں مسلمانوں کا ایک نمائندہ کنونشن منعقد کیا گیا، جس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا، ۱۹۷۲ ؁ء میں منعقد ہونے والے اس ممبئی اجلاس میں مسلمانوں کے تمام مسالک کے علماء اور دانشوروں نے شرکت کی اور باتفاق آراء مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند) کو بورڈ کا صدر اور مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ کو جنر سکریٹری کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔
اغراض ومقاصد
بورڈ نے اپنے قیام کے درج ذیل مقاصد متعین کیے اور انہی اغراض ومقاصد کی روشنی میں اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا:
* ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور شریعت ایکٹ کے نفاذ کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے مؤثر تدابیر اختیار کرنا۔
* بالواسطہ بلا واسطہ متوازی قانون سازی، جس سے شریعت میں مداخلت ہوتی ہو، عام ازیں کہ وہ قوانین پارلیمنٹ یا ریاستی مجلس قانون سازمیں وضع کیے جاچکے ہوں، یا آئندہ وضع کیے جانے والے ہوں، یا اس طرح کے عدالتی فیصلے جو مسلم پرسنل میں مداخلت کا ذریعہ بنتے ہوں، انہیں ختم کرانے یا مسلمانوں کو ان سے مستثنیٰ قرار دے جانے کی جدوجہد کرنا۔
* مسلمانوں کو عائلی ومعاشرتی زندگی کے بارے میں شرعی احکام وآداب، حقوق وفرائض اور اختیارات وحدود سے واقف کرانا اور اس سلسلہ میں ضروری لٹریچر کی اشاعت کرنا۔
* شریعتِ اسلامی کے عائلی قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں پر ان کے نفاذ کے لیے ہمہ گیر خاکہ تیار کرنا۔
* مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کے لیے بوقتِ ضروری مجلسِ عمل بنانا، جس کے ذریعہ بورڈ کے فیصلہ پر عمل در آمد کرنے کی خاطر پورے ملک میں جدوجہد کی جاسکے۔
* علماء اور ماہرینِ قانون پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی کے ذریعہ مرکزی یا ریاستی حکومتوں یا دوسرے سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے ذریعہ نافذ کردہ قوانین اور گشتی ا حکام یا ریاستی اسمبلیوں یا پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے مسوداتِ قانون کا اس نقطۂ نظر سے جائزہ لیتے رہنا کہ ان کا مسلم پرسنل لا پرکیا اثر پڑتا ہے۔
* مسلمانوں کے تمام فقہی مسلکوں اور فرقوں کے ما بین خیرسگالی، اخوت اور باہمی اشتراک وتعاون کے جذبات کی نشو ونما کرنا اور مسلم پرسنل لا کی بقا وتحفظ کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ان کے درمیان ربط اور اتحاد واتفاق کو پروان چڑھانا۔
* ہندوستان میں نافذ محمڈن لا کا شریعتِ اسلامی کی روشنی میں جائزہ لیتے رہنا اور نئے مسائل کے پیش نظر مسلمانوں کے مختلف فقہی مسالک کا تحقیقی مطالعہ کرنا اور شریعتِ اسلامی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے کتاب وسنت کی اساس پر ماہرین شریعت اور فقہ اسلامی کی رہنمائی میں پیش آمدہ مسائل کا مناسب حل تلاش کرنا۔
* بورڈ کے مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے وفود ترتیب دینا، سمینار، سمپوزیم، خطابات، اجتماعات، دوروں اور کانفرنسوں کا انتظام کرنا، نیز ضروری لٹریچر کی اشاعت اور بوقتِ ضرورت اخبارات ورسائل اور خبر ناموں کا اجرا کرنا اور اغراض ومقاصد کے حصول کے لیے دیگر ضروری امور انجام دینا۔
مذکورہ بالا اغراض ومقاصد کے حصول کے لیے بورڈ نے چار جہتوں سے اپنی کوششوں کو جاری رکھا:
(۱) ہر اس کوشش کا تدارک کرتا رہا ہے جس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ شریعت میں مداخلت ہوتی ہو۔
(۲) مسلم معاشرہ میں اسلام کے عائلی قوانین کے نفاذ کے لیے ہمہ گیر جدوجہد کرتا رہا۔
(۳) فقہ ا سلامی کا تحقیقی مطالعہ اور شریعت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے کتاب وسنت کی روشنی میں نئے مسائل کا حل تلاش کرتا رہا۔
(۴) بابری مسجد کے مقدمہ کی مستقل پیروی کرتا رہا اور بابری مسجد تنازعہ کے سلسلہ میں پیدا شدہ بحران کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا، ان چار مرکزی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے:
مسلم پرسنل لا کا تحفظ
جہاں تک شریعت کے تحفظ اور مسلم پرسنل لا کی حفاظت اور شریعت کے قوانین میں مداخلت کی راہ کو بندکرنے کی کوششوں کا تعلق ہے تو بورڈ نے اس باب میں ایک روشن تاریخ بنائی ہے، اپنے قیام سے لے کر اب تک کتنے مرحلے ایسے آئے جہاں بورڈ کے مؤثر رول کے نتیجہ میں حکومتِ وقت کو اپنے بل واپس لینے پڑے، یہاں بورڈ کے چند تاریخی اقدامات کا ا ختصار کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے:
* ۱۹۷۲ ؁ء میں راجیہ سبھا میں متبنٰی بل پیش کیا گیا، اس وقت کے وزیر قانون نے اعلان کیا کہ یہ قانون یکساں شہری قانون کی حیثیت سے تمام شہریوں پر نافذ ہوگا، ظاہر ہے کہ متبنٰی بل ا سلامی قانونِ وراثت ونکاح پر براہِ راست اثر انداز ہوتاہے، بورڈ نے اس کے خلاف سارے ملک میں زبردست مہم چلائی اور رائے عامہ کو متحرک کیا، ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں جلسے منعقد کیے، جن میں حکومتِ وقت پر یہ واضح کیا گیا کہ یہ بل قانونِ شریعت کے سراسر مخالف ہے اور مسلم پرسنل لا میں کھلی مداخلت ہے، آخر کار ۱۹۷۸ ؁ء میں جنتا حکومت نے اس بل کو واپس لے لیا اور اس وقت کے وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا کہ اسلامی فقہ متبنٰی کو وراثتی حقوق نہیں دیتی، اس لیے بل واپس لیا جارہا ہے، تاہم کانگریس حکومت نے ۱۹۸۰ء ؁ میں دوبارہ پھر اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا، لیکن بورڈ کے سخت موقف کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا اور اس قانون سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کردیا گیا۔
* جون ۱۹۷۵ ؁ء میں ایمر جنسی کے دور میں جب ملک میں جبری نس بندی کا زور ہوا اور معاملہ اس قدر شدت اختیار کرتا گیا کہ جبری نس بندی کے خلاف کسی کازبان کھولنا مشکل تھا، بورڈ نے ۱۷؍ اور ۱۸؍ اپریل ۱۹۷۶ ؁ء کو دہلی میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا، جس میں جبری نس بندی کے خلاف ایک تجویز پاس کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ نس بندی شریعت کے منافی ہے، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا منت اللہ رحمانیؒ نے خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان سے ایک رسالہ شائع کرکے بڑے پیمانہ پر ملک میں تقسیم کیا، جس کے بڑے اچھے ا ثرات مرتب ہوئے۔
* ۱۹۷۸ ؁ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ سے مساجد ومقابر کے سلسلہ میں انتہائی نامناسب فیصلہ صادر ہوا، جس کے تحت لکھنؤ کی دو مسجدوں اور قبرستان، اسی طرح جے پور کی ایک مسجد کو وہاں کے کارپوریشن نے ایکوائر کرلیا اور مساجد ومقابر کی حرمت ختم کردی، اس فیصلہ کے تحت حکومت کو کامل اختیار دیا گیا کہ وہ جس مسجد یا قبرستان کو چاہے مفادِ عامہ کی خاطر اپنے قبضہ میں لے سکتی ہے، مولانا منت اللہ رحمانیؒ نے گشتی مراسلوں کے ذریعہ مسلمانوں کو اس فیصلہ کے اثرات سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ حکومت کے ذمہ داروں کو ٹیلی گرام بھیجیں، پھر اس فیصلہ کے خلاف سارے ملک میں اجتماعات منعقد کیے گئے، حکومتی ذمہ داروں سے ملاقاتیں کی گئیں، جس کے نتیجہ میں یوپی اور راجستھان کے وزراءِ اعلیٰ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔
* بورڈ کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ نفقۂ مطلقہ کے مسئلہ سے متعلق اس کی مہم ہے،۱۹۷۳ ؁ء میں حکومت نے پارلیمنٹ میں مطلقہ کو تا حیات یا تا نکاحِ ثانی سابق شوہر سے نفقہ دلائے جانے کا بل پیش کیا، بورڈ نے اس سلسلہ میں ملک گیر مہم چلائی اور حکومت کو آگاہ کیا کہ یہ قانون شریعت سے صاف ٹکراتا ہے، چنانچہ بل کی آخری خواندگی روک دی گئی اور بورڈ کی کوششوں سے دفعہ نمبر ۱۲۷؍ میں ایک شق کا ا ضافہ یہ کیا گیا کہ اگر طلاق دینے والے شوہر شرعی واجبات ادا کرچکے ہوں یا مطلقہ نے معاف کردیے ہوں تو دفعہ نمبر ۱۲۵؍ کے ذریعہ حاصل شدہ ڈگری منسوخ ہوجائے گی، اسی زمانہ میں سپریم کورٹ نے شاہ بانو کیس میں مطلقہ کے لیے تا حیات یا تا نکاحِ ثانی نفقہ لازم کیا اور قرآن وحدیث کی من مانی تفسیر کی، جس پر بورڈ نے کامیاب تحریک چلائی، بالآخر حکومتِ ہند نے ۶؍مئی ۱۹۸۶ ؁ء کو قانونِ حقوقِ مسلم مطلقہ پاس کرکے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو رد کردیا اور نفقہ کے اسلامی قانون کو رائج کیا۔
* اپریل ۱۹۸۰ء ؁ میں اوقاف کی آمدنی پر انکم ٹیکس لگانے کا نیا قانون جاری کیا گیا، جس کا بورڈ نے سخت نوٹس لیا اور وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے مسئلہ کی وضاحت کی اور کامیابی حاصل کی۔
* ۱۹۸۴ء ؁ میں مرکزی حکومت نے وقف کے قانون میں ترمیم کے لیے راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا، جس میں وقف بورڈ کی جمہوری حیثیت ختم کردی گئی اور اوقاف کی جائیداد کا قانونی تحفظ ختم کردیا گیا، بورڈ نے اس کے خلاف بھی رائے عامہ کو متحرک کیا اور کامیابی حاصل کی۔
اصلاحِ معاشرہ
بورڈ کی سرگرمیوں کا دوسرا اہم حصہ اصلاحِ معاشرہ ہے، اصلاحِ معاشرہ کے بغیر ہندوستان میں تحفظِ شریعت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا، نکاح کی غیر اسلامی رسموں اور طلاق کے بے جا استعمال سے مسلم معاشرہ طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہورہا ہے، بورڈنے طلاق کی مذمت اور طلاق کے استعمال کے صحیح طریقے اور دیگر معاشرتی مسائل کے سلسلہ میں زبردست اصلاحی مہم چلائی، حالیہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ بھی اسی صورت حال کا نتیجہ ہے،مساجد میں ائمہ سے اصلاحی موضوعات پر توجہ دینے کی درخواست کی گئی، بڑے پیمانہ پر اصلاحِ معاشرہ کے جلسے منعقد کیے گئے، مختلف زبانوں میں اصلاحِ معاشرہ اور نکاح وطلاق سے متعلق مؤثر لٹریچر شائع کرکے سارے ملک میں پھیلایا گیا، اسی طرح مسلمانوں کی ازدواجی زندگی میں استحکام لانے کے لیے ایک نئے انداز کے نکاح نامہ کو مرتب کیا گیا۔
فقہِ اسلامی اور جدید تقاضے
بورڈ نے نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے علماء کی ایک نمائندہ جماعت تیار کی، چنانچہ اسلامی فقہ اکیڈمی کے ذریعہ یہ کام بحسن وخوبی انجام پارہا ہے اور ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے باکمال علماء ہر سال اہم ترین نئے مسائل میں ملک وملت کی رہنمائی کررہے ہیں اور اب تک کئی ایک نئے مسائل میں علماء کی آراء مرتب ہوکر اہل علم تک پہنچ چکی ہیں۔
بابری مسجد سے متعلق مقدمات کی پیروی
بورڈ کی خدمات کا ایک اہم حصہ بابری مسجد سے متعلق اس کے اقدامات ہیں، ۱۹۸۶ء ؁ میں غلط طریقہ سے بابری مسجد کا تالا کھولا گیا، جس کے نتیجہ میں مسجد میں کھلے عام پوجا ہونے لگی اور ملک میں زبردست تناؤ کی کیفیت پیدا ہوئی، ۳؍ دسمبر ۱۹۹۰ء ؁ کو بورڈ نے اپنی مجلس اعلیٰ کا اجلاس منعقد کیا اور صاف الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ بابری مسجد، مسجد ہی ہے، نہ تو یہ غصب شدہ زمین پر و اقع ہے اور نہ ہی مندر توڑ کر اس کی جگہ بنائی گئی ہے، یہ مسجد ہے، اس لیے اسے نہ منتقل کیا جاسکتا ہے، نہ فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ منہدم کیا جاسکتا ہے، بورڈکے اس اعلان کا بڑا اثر ہوا، اس سے بابری مسجد کمیٹیوں کو قوت ملی اور مسلمانوں میں ایک طرح کا حوصلہ پیدا ہوا، ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۰ء ؁ میں بورڈ نے پورے ملک کے دورہ کا آغاز کیا، مختلف شہروں میں بورڈ کے قائدین کے زیر نگرانی بڑے پیمانے پر جلسے منعقد کیے گئے، جن میں مسلمانوں کو در پیش مسائل سے آگاہ کیا گیا اور سپریم کورٹ میں دائر بابری مسجد مقدمات کی پیروی کے لیے فنڈ مہیا کیا گیا، ۱۱؍ اگست ۱۹۹۲ء ؁ کو بورڈ کی مجلس عاملہ نے بابری مسجد کے سلسلہ میں اپنی پرانی قرار داد کا اعادہ کیا، ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء ؁ میں مسجد کی شہادت کا المناک سانحہ پیش آیا، جس کے بعد ۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء ؁ کو بورڈ نے دہلی میں اپنا ایک اجلاس طلب کیا، جس میں مسجد کی شہادت کی سخت مذمت کی گئی اور نیا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کی گئی، اس کمیٹی کا نام ’’مسلم پرسنل لا بورڈ بابری مسجدکمیٹی‘‘ رکھا گیا، اسی سال ۱۲؍ اگست کو کمیٹی کے ممبران نے دھرنا دیا اور گرفتاریاں دیں، ۹؍ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۹۳ء ؁ کو جے پور میں مجلس عاملہ کا کل ہند اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مسجد کے سلسلہ میں قانونی چارہ جوئی کے مسائل پر غور کیا گیا، اس کے بعد سے اب تک مسلسل بورڈ بابری مسجد کے مسئلہ میں اہم رول ادا کررہا ہے۔
نظام دارالقضاء
مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں شریعت پر عمل کے پابند ہیں، نیز اپنے سارے نزاعات کو خدا ورسول کے حکم کے مطابق حل کرنے کے مکلف ہیں،اس کے لئے مناسب تھا کہ ارباب حل وعقد بیٹھ کر کسی کو امیر منتخب کرتے، لیکن چونکہ امارت کا معاملہ لیت ولعل کا شکار ہوگیا،اس لئے اب مسلم پرسنل لا بورڈ ہی ملک میں امیر کا قائم مقام ہے،اسی تناظر میں بورڈ کے ذمہ داروں نے ضروری سمجھا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں دارالقضا کا قیام میں عمل لایا جائے، اس طرح ملک کے طول وعرض میں بورڈ کے تحت دارالقضاکا نظام چل رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام قضاء کو وسیع سے و سیع تر کیا جائے اور مسلمانوں میں شعور بیدار کیا جائے کہ وہ اپنے تمام نزاعات میں دارالقضا سے رجوع ہوں۔
مجموعۂ قوانین اسلامی کی ترتیب
مجموعۂ قوانین اسلامی کی ترتیب اور اس کی اشاعت بورڈ کا عظیم کارنامہ ہے، مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کے دور صدارت میں اورمولانا سید منت اللہ رحمانی کی راست نگرانی میں اس کام کا آغاز کیا گیاتھا، مفتی ظفیر الدین صاحب مرحوم نے اس کا بنیادی مسودہ مرتب فرمایا تھا، جس کی کاپیاں پورے ملک کے ارباب افتاء کو بھیجی گئیں پھر محقق علماء کی ایک کمیٹی نے پوری دقت نظری کے ساتھ نظر ثانی کرکے اسے قطعی شکل دے دی، پھر اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔
مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقتاً فوقتاً مختلف کتابوں کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا، بورڈ کی مطبوعات میں روداد آل انڈیا مسلم پرسنل لا کنونشن برائے تحفظ قوانین شرعیہ ہے، جس میں مسلم پرسنل لا کنونشن ممبئی کے انعقاد کے پس منظر اور اجلاس کے مقررین کے اقتباسات اور موضوع سے متعلق دیگر تفصیلات درج ہیں، یہ رسالہ ۱۹۷۳ ؁ء میں شائع ہوا، بورڈ کی جانب سے شائع شدہ ایک کتاب متبنٰی بل ۱۹۷۲ ؁ء ۔ایک جائزہ بھی ہے، جس میں متبنٰی بل کی وجہ سے مسلم پرسنل لا پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کے علاوہ مسلم پرسنل لا کے مختلف گوشوں اور یکساں سول کوڈ کے مضر اثرات پر روشنی ڈالنے والے مختلف رسالوں کی اشاعت عمل میں آتی رہی۔
الغرض مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستان میں ملتِ اسلامیہ کا واحد متحدہ پلیٹ فارم ہے، یہ مسلمانوں کے امیدوں کا مرکز ہے، ہر نازک موڑ پر ملت کی نگاہیں اسی کی طرف اٹھتی ہیں، اس سے اٹوٹ وابستگی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس وقت سارے مسلمان بورڈ سے وابستگی کا ثبوت دے رہے ہیں، بورڈ امت مسلمہ کے اتحاد کا نشان ہے، طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر پورے ملک کے مسلمان بورڈ کے پرچم تلے اتحاد کا مظاہرہ کررہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔

Share
Share
Share