قسط: 6 – تعلیمِ قرآن حقیقت و اہمیت : – مفتی کلیم رحمانی

Share
مفتی کلیم رحمانی

دین میں قرآن فہمی کی اہمیت
قسط: 6
تعلیمِ قرآن حقیقت و اہمیت

مفتی کلیم رحمانی
پوسد ۔ مہاراشٹرا
موبائیل : 09850331536
——–
دین میں قرآن فہمی کی اہمیت ۔پانچویں قسط کے لیے کلک کریں

دین اسلام کے احکام میں سے ایک حکم تعلیمِ قرآن ہے۔ اور دین کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس کی کوئی حقیقت و اہمیت نہ ہو اور ہر حکم کی غرض و غایت کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی حقیقت و اہمیت کو سمجھا جائے۔ آج کے ان حالات میں تعلیم قرآن کی حقیقت و اہمیت کو واضح کرنے کی اس لئے بھی زیادہ ضرورت ہے کہ عام مسلمانوں کے ذہن و دماغ سے تعلیم قرآن کی حقیقت و اہمیت نکلتی جارہی ہے۔

اور جو مسلمان تعلیم قرآن کو کچھ اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک بھی تعلیم قرآن کی صحیح حقیقت و اہمیت پائی نہیں جاتی جس کی وجہ سے قرآن کا حقیقی پیغام عام مسلمانوں تک نہیں پہنچ پارہا ہے۔ کسی بھی حکم کی حقیقت کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کی لفظی و معنوی حقیقت معلوم کی جائے اس لحاظ سے تعلیم قرآن کی لفظی حقیقت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ لفظ تعلیم ، علم سے مشتق ہے اور علم کے معنی جاننے معلوم کرنے ، واقف ہونے کے ہیں تو اب تعلیم قران کے معنٰی ہونگے قرآن کے احکام و فرامین کو جاننا، معلوم کرنا ، واقف ہونا، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب تعلیم قرآن کے عمل میں قرآن کے الفاظ سیکھنے سکھانے کے ساتھ آیاتِ قرآنی کے معانی و مطلب کو بھی سیکھا اور سکھایا جائے اور یہ بات تو کسی سے پوشیدہ نہ ہوگی کہ ہرکتاب اور ہرکلام میں جس طرح الفاظ مقصود ہوتے ہیں اسی طرح معانی بھی مقصود ہوتے ہیں بلکہ حقیقی لحاظ سے دیکھا جائے تو الفاظ واسطہ اور ذریعہ کا درجہ رکھتے ہیں اور معانی مقصد کا درجہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اصول فقہ کے مرتب کرنے والے فقہاء کرام نے قرآن کی تعریف ھُوَالْلَّفْظُ والمَعْنَی جَمِیْعََاکی ہے۔ یعنی قرآن لفظ اور معنی کے مجموعہ کا نام ہے۔ چنانچہ اُصول فقہ کی ایک مشہور و معروف کتاب نورالانوار میں قرآن کی یہی تعریف مذکورہے۔ جو شعبہ عا لمیت کے درسی نصاب میں بھی داخل ہے۔ قرآن کی اس تعریف سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ قرآنی آیات کے معنی جانے بغیر آیاتِ قرآنی کی صرف تلاوت کامل تلاوت نہیں کہی جاسکتی بلکہ کامل تلاوت وہی ہوگی کہ تلاوت کرنے والا آیاتِ قرآنی کے معنی و مطلب کو جانتے ہوئے تلاوت کرے۔ مگر اس کو المیہ ہی کہنا چاہئے کہ آج مسلمان قرآنی الفاظ کو سیکھنے سکھانے اور عام کرنے میں جتنی محنت صرف کررہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی معانئی قرآن کے سیکھنے سکھانے اور عام کرنے میں صرف نہیں کررہے ہیں ۔ اس سے ہماری ہرگز یہ غرض نہیں ہے کہ مسلمان ضرورت سے زیادہ الفاظ قرآن کے سیکھنے سکھانے میں توجہ صرف کررہے ہیں بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ الفاظ قرآن کے سیکھنے سکھانے کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ الفاظِ قرآن کے سیکھنے سکھانے میں جتنی محنت صرف ہو اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی ہی محنت معانئی قرآن کے سیکھنے سکھانے اور عام کرنے میں صرف ہو۔ تعلیمِ قرآن کے متعلق مسلمانوں کی یہ سوچ بھی عام مسلمانوں کو علمِ قرآن سے دور رکھے ہوئے ہے جس کے تحت کہا جاتا ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب کو جاننے کے لئے قرآن کی تلاوت سیکھنا لازم ہے اور ساتھ ہی عربی زبان سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ حالانکہ موجودہ دور میں عام مسلمان قرآن کی تلاوت سیکھے بغیر اور عربی زبان سے ناواقفیت کے باوجود آیاتِ قرآنی کے معانی و مطالب سے واقف ہوسکتے ہیں۔ مثلاً : قرآن کے اُردو تراجم و تفاسیر اور درسِ قرآن کی مجالس وغیرہ۔ جہاں تک تعلیمِ قرآن کی اہمیت کا تعلق ہے اس کو جاننے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ دینِ اسلام میں تعلیمِ قرآن کو جتنی اہمیت حاصل ہے اتنی اہمیت کسی اور عمل کو حاصل نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دینِ اسلام کو جاننے اور ماننے کا انحصار تعلیمِ قرآن پر ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تعلیم قرآن کے فریضہ پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تعلیمِ قرآن کے کام کو نبی ﷺ کی بعثت کا ایک اہم فریضہ کام قرار دیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں چار مقامات پر اللہ تعالی نے نبی کریم ؐ کی بعثت کے چار اہم کام بیان فرمائے۔ ارشاد ربّانی ہے۔رَبَنَّا وَابْعَثْ فِےْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ ےَتُلُوْا عَلَیھِمْ اٰےٰتِکَ وَےَعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَےُزَکِّےِْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِےْزُ الحَکِےْمُ (البقرہ ۱۲۹)کَمَآْ اَرْسَلْنَا فِےْکُمْ رَسُولًامِّنْکُمْ ےَتْلُوا عَلَےْکُمْ اٰےٰتِنَا وَ ےُزَکِّیکُمْ وَےُعَلِّمُکُمُ الکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَےُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُونُوا تَعَلَمُوْنَ ط(البقرہ ۱۵۱) لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ علَیَ الْمُوْمِنِےْنَ اِذْ بَعَثَ فِےِھمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ ےَتْلُوْا عَلَےْھِمْ اٰےٰتِہِ وَےُزَکِّےْھِمْ وَےُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلِِِ مُّبِےْن (سورہ آل عمران ۱۶۴) ھُوَ الَّذیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّےّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ ےَتْلُوا عَلَےْھِمْ اٰےٰتِہِ وَ ےُزَکِّیھِمْ وَےُعَلَّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلِِ مُّبِےْنِِ (الجمعہ ۲) مذکورہ چاروں ہی آیات میں نبی کریمؐ کے چار کام بیان کئے گئے ہیں یعنی تزکیۂ نفس، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت، ان چار کاموں میں سے ایک کام تعلیمِ قرآن ہے یعنی لوگوں کو قرآن کے معانی و مطالب بتلانا اور اس سلسلہ میں یہ بات تعلیمِ قرآن کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے کہ بقیہ تین کاموں میں ایک کام تلاوتِ قرآن بیان کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دین کی تعلیم و تفہیم کے لئے صرف تلاوتِ قرآن کافی نہیں بلکہ تعلیمِ قرآن ضروری ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تلاوتِ قرآن دین کا ایک مستقل عمل ہے۔ اور تعلیمِ قرآن ایک مستقل عمل یعنی کوئی صرف تلاوتِ قرآن کے عمل کو انجام دے کر تعلیمِ قرآن کے عمل سے بری الزمّہ نہیں ہوسکتا۔اور پھر مزید یہ کہ آیاتِ مذکورہ میں نبی کریم ﷺ کے تعلیمِ قرآن کے عمل کو براہ راست اس قوم کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو صرف تلاوتِ قرآن ہی سے قرآن کے بیشتر حصہ کے معانی و مراد کو سمجھ جایا کرتی تھی۔ صرف بعض آیات کی مراد جاننے میں وہ تعلیمِ قرآن کی محتاج ہوتی تھی اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آج عام مسلمانوں کو تعلیم کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ جو صرف تلاوتِ قرآن سے ایک آیت کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور یہ بات تو کسی بھی اہلِ ایمان سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس دنیا میں نبی کریم ؐ کا جو کام تھا وہی فریضہ کام تما م ایمان والوں کا ہے۔ اس لحاظ سے ایک مسلمان کی اوّلین ذمّہ داری ہے کہ وہ آیاتِ قرآنی کے معانی و مراد کو جانیں اور انھیں دوسروں تک پہنچائیں یہی وجہ ہے تعلیمِ قرآن کی اہمیت میں نبی کریم ؐ کی بیشمار احادیث ہیں : بخاری شریف کی ایک روایت ہے : آپؐ نے فرمایا : خَیرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَہُ یعنی تم میں بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔یہاں بھی سیکھنے سکھانے سے مراد صرف الفاظِ قرآن کا سیکھنا سکھانا نہیں ، بلکہ الفاظ کے ساتھ معانی و مراد بھی ہے اس لئے کہ لفظ تعلیم و تعلّم میں معانی لازمی طور پر شامل ہیں۔ اب حدیث رسول کا خلاصہ یہ ہوا کہ جو شخص بھی اس دنیا میں بہتر شخص بن کر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ تعلیماتِ قرآنی سے واقف ہو اور دوسروں کو واقف کرائے اور یہی دو صفتیں ہیں جن سے متصف ہوکر ایک مسلمان کی زندگی دینی لحاظ سے اعتدال پر قائم رہ سکتی ہے، ورنہ افراط و تفریط کا شکار ہوجاتی ہے ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا جو ترمذی و مشکوٰۃ میں ہے ۔ تَعَلَّمُو الْفَرَاءِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوْا النَّاسَ فَاِنِّیِ مَقْبُوْضٌ (یعنی فرائض اور قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو سکھلاؤ اس لیے کہ میں تم سے رخصت ہونے والا درس قرآن کی فضیلت کو واضح کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیْوتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہ، وَیَتَدَارَ سُوْنَہ‘ بَیْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَت عَلیھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلٰءِکَۃُ وَذَکَرَ ھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہ‘ وَمَنْ بَطَّاَبِہٖ عَمَلَہ‘ لَمْ یُسْرِعُ بِہٖ نَسَبْہ‘ (مسلم مشکوٰۃ) ترجمہ : ( جو جماعت اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں قرآن کی تلاوت کرتی ہے اور ایک دوسرے کو اس کا درس دیتی ہے تو اس پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت اُنھیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انھیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطورِفخر کے ان کا تذکرہ فرشتوں کے سامنے کرتا ہے اور جس کو اس کا عمل پیچھے کردے اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔)
اس حدیث سے دو اہم باتوں پر روشنی پڑتی ہے ایک یہ کہ مساجد کے قیام کا جہاں ایک مقصد ان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز وغیرہ ادا کرنا ہے وہیں ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان میں تلاوتِ قرآن اور درسِ قرآن کی مجلس منعقد ہوں اور دوسرے یہ کہ قرآن کے متعلق صرف تلاوت کافی نہیں بلکہ معانی و مراد کا جاننا بھی ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ حدیثِ مذکورہ میں تلاوت کے ساتھ درس قرآن کا بھی ذکر ہے۔ تعلیم قرآن کی اہمیت میں نبی کریمؐ نے مزید ارشاد فرمایا :عَنْ عُبَیْدَۃَ الْمَلَیْکیِ وَکَانَتْ لَہ‘ صُحبَۃُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ یَا اَھَلَ القُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوْ الْقُرْآنَ وَاتْلُوْہ‘ حَقَّ تِلا وَتِہِ مِنْ اٰنَآءِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَافْشُوْہُ وَتَغَنَّوْہُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِیْہٖ لَعَلَّکُم تُفْلِحُوْن وَلَا تَعَجَّلُوْا ثَوَابَہ‘ فِاَنَّ لَہ‘ ثَوَاباً (بہیقی ، مشکوٰۃ) ترجمہ : (حضرت عبیدہ ملکیؓ جو صحابی رسول ہیں ، رسولؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور اس کی تلاوت کرو جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے دن اور رات کے حصوں میں اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو خوش آواز ی سے پڑھو اور اس کے معانی میں غور کرو تاکہ تم فلاح کو پہنچو اور اس کا بدلہ دنیا میں طلب مت کرو، اس لیے کہ آخرت میں اس کے لیے بڑا اجر ہے ) اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ پانچ باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ اور ان پانچوں ہی باتوں سے معانئی قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ نبی کریم ؐ نے ایمان والوں کو اہل قرآن کہا ، جس سے معلوم ہوا کہ مومن کی اصل پہچان اہلِ قرآن ہونا ہے اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جبکہ اہل ایمان کو قرآن کے معانی و مطالب سے خصوصی لگاؤ ہو۔
دوسری بات یہ کہ آپؐ نے قرآن کو تکیہ بنانے سے منع فرمایا۔ دراصل یہاں کنایہ طور پر قرآن کو تکیہ کا مصرف بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ اب دیکھا جائے تو بنیادی طور پر تکیہ کے دو مصرف ہوتے ہیں ایک سر کے نیچے اور دوسرا پیٹھ کے پیچھے مطلب یہ کہ قرآن پر اپنا دماغ مت رکھو، بلکہ قرآن کو اپنے دماغ پر رکھو۔ اسی طرح عملی لحاظ سے پس پشت مت ڈالو بلکہ اپنے سامنے رکھو اور اس کے پیچھے چلو ۔
بات کا خلاصہ یہ نکلا کہ ایک مسلمان کی فکر و عمل دونوں قرآن کے تابع ہونے چاہئیں ۔اور یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ قرآن کے معانی و مطالب کو سمجھا جائے۔ تیسری بات یہ کہ آپؐ نے قرآن کی ایسی تلاوت کرنے کا حکم دیا جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے یوں تو مطلق تلاوت میں بھی معانی قرآن کا مفہوم شامل ہے۔ لیکن آپؐ نے حقِّ تلاوت کا حکم دے کر معانی وُ مراد سے واقفیت ضروری قرار دے دی ہے۔ چوتھی بات یہ کہ آپؐ نے قرآن کو پھیلانے کا حکم دیا اور ظاہر ہے یہاں صرف الفاظ قرآن کا پھیلانا مراد نہیں بلکہ الفاظ و معانی کے ساتھ پھیلانا مراد ہیں۔ پانچویں بات یہ کہ آپؐ نے قرآن میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی تب ہی ممکن ہے جبکہ قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے۔
اسی طرح ایک حدیث میں نبیؐ نے فرمایا قرآن کے لئے ظاہر اور باطن ہے۔ ظاہر سے مراد الفاظ ہے اور باطن سے مراد معانی و مطالب ۔ اس سے بھی معانی قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا : لَمْ ےَفقَہُ مَنْ قَراَءَ القُرْآنَ فِیْ اَوّلِ مِنْ ثَلَاثٍ ۔
(ابو داؤد ، ترمذی)
یعنی جس نے تین روز سے پہلے قرآن ختم کیا اس نے قرآن نہیں سمجھا۔
معلوم ہوا کہ قرآن کے پڑھنے کا ایک اہم مقصد اس کو سمجھنا ہے اور جس نے قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھا گویا اس نے قرآن پڑھنے کے ایک اہم مقصد کو فوت کردیا۔

Share
Share
Share