افسانے کی تکنیک :- ڈاکٹر صفیہ بانو۔ اے۔شیخ

Share
ڈاکٹر صفیہ بانو

افسانے کی تکنیک

ڈاکٹر صفیہ بانو۔ اے۔شیخ

انسان نے زمین پر قدم رکھا تب سے اپنی زندگی کے ضروری کاموں کو آسان بنانے کے نئے نئے تجربات کرتا رہا ۔ جستجو کے اسی جذبے نے ہر دور میں انسان کو اشرف المخلوقات بنائے رکھا ۔آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے اس دور میں جدید تکنیکوں نے انسان کی روز مرّہ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے

خط و کتابت کے ذریعے پیغام رسانی میں پہلے اُسے بہت سا وقت ضائع کرنا پڑھتا تھا لیکن آج Cell phone سے بھی آگے Smart phone اور Whats app کے ذریعے اسی کام کو چند سیکنڈوں میں بخوبی انجام دیا جانے لگاہے۔چراغ جلا کر روشنی حاصل کرنے والے انسان نے بجلی پیدا کرکے رات کو بھی دن میں تبدیل کردیا ہے ۔LED کی تکنیک کے ذریعے بجلی سے کئی گنا سستے داموں میں اپنے منصوبے انجام دے رہا ہے مختصر یہ کہ انسان نے اپنے حاصل کردہ تمام علوم و فنون میں بے شمار نئی نئی تکنیکیں ایجاد کرکے اپنا لوہا منوا لیا ہے ۔
نئی تکنیکوں کی ایجاد کے معاملے میں زبان و ادب کا شعبہ بھی اچھوتا نہیں رہا ہے۔شاعروں نے نئی نئی بحریں ایجاد کیں۔ نئی نئی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کیں۔ ادیبوں نے بھی نثری فن پاروں میں نئی نئی تکنیکوں کے نئے نئے تجربات کیے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے تکنیک کی تعریف کے سلسلے میں اختلافات کے باوجود منددجہ ذیل قابلِ قبول بیانات ملتے ہیں۔
ارسطو :
’’ تکنیک سے مراد ہے وہ طریقہ جس سے فنکار اپنے موضوع کو پیش کرتا ہے ۔‘‘ ۱؂
*بقول : اختر حسین اخترؔ :
’’ Presentation یعنی پیش کش کو دلچسپ ، موئثر ، بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لے جو طریقہ کار اپنایا جائے اسے تکنیک کہتے ہیں۔‘‘
*ڈاکٹر عبادت بریلوی :
’’ تکنیک اور ہیئت کا مسئلہ جمالیات کا مسئلہ ہے ۔ جمالیات حسن کا فلسفہ ہے ۔ وہ ہر زمانے میں حالات اور واقعات کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بدلتا ہے جیسے جیسے زندگی میں تغیر آتا ہے ، معیار اقدار بدلتے رہتے ہیں ، افراد کے مزاج اور طبائع میں تبدیلیاں ہوتی ہیں ، ویسے ویسے حسن کے تصورات بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ تکنیک کے اصول بھی اٹل نہیں ۔ ادب اور فن کی مختلف اصاف کی تکنیک ہر دور اور ہر زمانے میں تغیرات کے سانچے میں ڈھلتی رہتے ہے ۔ یہ تغیرات حالات و واقعات کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ جب حالات و واقعات میں انقلاب انگیز تبدیلیاں ہوتی ہیں …..تو یہ تبدیلیاں تکنیک اور فن میں نمایاں ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ۲؂
*ممتاز شیریں:
’’ افسانے کی تعمیر میں جس طریقے سے مواد ڈھلتا جاتا ہے ، وہی تکنیک ہے ۔ ‘‘ ۳؂
*ڈاکٹر فوزیہ اسلم :
’’ یہ کہنا کہ بجا ہوگا کہ جو چیز تیار ہو کر شکل پذیر ہوتی ہے اور اس کے خام مواد سے شکل پذیر تک جو عمل کا م کرتا ہے تو اس پورے میکنزم کو تکنیک کہتے ہیں ۔ ‘‘ ۴؂
تکنیک کو سمجھنے کے لیے اس کی تعریف کے ساتھ ساتھ تکنیک کی اصطلاح بھی ضروری ہے Technique تکنیک لفظ انگریزی زبان کے سبب وجود میں آیا ہے لیکن انگریزی زبان میں یہ لفظ یونانیزبان سے مستعار لیا ہے ۔۔ یونانی میں یہ لفظ Technikoاور انگریزی میں Technique بنا ۔ جبکہ* (Dictamp)Oxford english dictionary کے مطابقTechnic یعنی
Origin :early 17 th cent. ( as an adjective in the sense ‘ to do with art or an art ‘) from LATIN technicus, from GREEK tekhnikos, from tekhne’ art ‘.The noun اور dates from the 19 th cent.
Technique یعنی
noun a way of carrying out a particular task , especially the execution or performance of an artistic work or a scientific procedure.
[mass noun] skill or ability in a particular field he has excellent technique.
he has excellent technique[ in sing].
an established athlete with a very good technique
a skilful or efficient way of doing or achieving someting tape recording is a good technique for evaluating our on communications
Origin:early 19 cent, : from FRENCH, from LATIN , technicus,( see : Technic)
*Ferozsons english to english and urdu Dictionary
31 Technic ( tek -nik) adj , & n.
Pertainnig to art ، کسی فن یا ہنر کے متعلق ، فنّی ، صنعتی ، اصول فن ، طریق کار ، طرز ادا ، عام اصول یا نظریات ۔‘‘ ( ص ۔968)
Technique ( tek-nik) n.
Method of performance، طریق کار ، طرز تحریر ، کریگری ، فنی عمل ، آداب فن ‘‘ (ص ۔ 968)
*Qaumi english – urdu Dictionary
Technic – n
تکنیک ، فنیات ؛ تکنیکی مہارت ( صفت ) تکنیکی ، فنیاتی ۔ ( ص ۔ 22)
Technique , n
تکنیک ، فنّی پہلو ، ڈھنگ ، اسلوب ،لائحہ ، عمل ، طریق کار ، اصول فن ، سنؑ ت گری ، مہارت ، آداب فن، کاریگر ی ،
130 ( جیسے :(the Technique ofthe poet مہارت کار ، تکنیکی مہارت ۔ ‘‘ ( ص ۔ 22)
*The standard english urdu dictionary
( baba – e- urdu, Dr. abdul haq)
Technic(-k-),a.&n.
(۱)(شاذ) فنی ، صنعتی (۲) اصول فن ؛ طریق کار ؛ طرز ادا (۳) (جمع) فنون صنعت و حرفت وغیرہ کے عام اصول اور نظریات ؛ آداب فن ،(۴) ( جمع؛ فن کی ) مصطلعات ، اصول و ضوابط وغیرہ ؛ جزئیات فن۔ ( ص ۔ 1285)
Technique, (-ek)n.
(۱) (موسیقی ،مصوری وغیرہ میں) طرز ادا ، طریق کار ، اصول فن ؛فن۔ (۲) فنون لطیفہ میں ) فنی قابلیت ؛ اسول فن سے واقفیت ؛ طرز ادا یا طریق کار میں مہارت : کاری گری ؛ صفت گری ، (۳) آداب فن ۔ ( ص ۔ 1285 )
*فیروزاللغت
تکنیک :(Technique) ( دیکھیے ٹکنیک) ( ۱) فنون کا نظریہ ۔(۲) ہنر مندی (۳) فنی طریق اظہار ( ص ۔ ۳۸۰)
ٹیکنیک :(Technique) ( ٹک ۔نیک) ( انگ ۔ا۔مث) (۱) فنون کا نظریہ (۲) طرز ادا ( ۳) ہنر مندی ، فنی طریق اظہار ۔
( ص ۴۴۳)
اردو ادب میں داستان گوئی سے چل کر کہانی نے افسانوی چولا پہنا وہاں تک اپنی شکل و صورت ، اپنا نظم و نسق ، اپنی سج دھج میں بے شمار تبدیلیاں کیں۔ ان تبدیلیوں کے لیے اردو کے افسانہ نگاروں نے مختلف تکنیکوں کا استعمال کیا ۔ابتدائی دور کے افسانہ نگار داستان اور کہانی کی طرح Narrative Technique یعنی بیانیہ تکنیک کا استعمال کیا۔
*بیانیہ تکنیک : Narrative Technique
اس تکنیک میں افسانہ نگار اپنی Wording یعنی کلمہ بندی ، اپنا Diction یعنی طرز بیان ، اپنا Statement یعنی اظہار بیان ، اپنا Interpretation یعنی اپنے خیال کی تعبیر ، اپنا Presentation یعنی اپنی پیش کش، اپنا Quotation یعنی ایراد ، اپنا Locution یعنی عبارت پردازی ، اپنا Averment یعنی اپنا ادعا،اور Display یعنی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے سیدھی سادی زبان استعمال کرتا ہے ۔مثال :افسانہ نگار رتن سنگھ کا افسانہ ’ زندگی زندگی ‘ سے ۔
* (مثال صغیۂ غائب یعنی Third person )
’’ حالات کی تلخیاں ، کالی دیواریں بن کر اُس کے چاروں طرف کھڑی ہوگئیں اور بد قسمتی کی ناگن نے اُسے پوری طرح جکڑ لیا ، تو اُس نے سوچا کی اِن سے نجات پانے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔
’’ خود کشی ‘‘ ‘‘ ۵؂
*( مثال صغیۂ متّکلم یعنی First person)
مصنفہ زاہدہ حنا افسانہ ’ زیتون کی ایک شاخ ‘ میں لکھتی ہیں کہ :
’’ میں اکثر سوچتی ہوں کہ آئیڈیل ، آدرش ۔ خواب ، یہ سب کتنے خوبصورت اور دل آویز الفاظ ہیں ۔ لیکن روپیہ جو کہ محض مایا ہے اور ہر عہد میں لعنت قرار دیا گیا ہے ، وہی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے ، خواب پیسے کے بغیر خریدے نہیں جاسکتے ، آدرش کی باتیں بھوکے پیٹ اور ننگے تن ، زیادہ دونوں تک نہیں چلتیں ۔ ‘‘ ۶؂
*مکالمہ تکنیک :Palaver Technique
افسانے کے بعض موضوع ایسے ہوتے ہے کہ اگر انھیں بیانیہ تکنیک سے پیش کیا جائے تو افسانہ نگار اپنے افسانے کو دلچسپ اور موئثر بنانے میں ناکام رہتا ہے لہٰذا ایسے موضوعات کو جن میں کرداروں کی صحبت ان کے درمیان ، گفتگو، کو نمایاں حیثیت حاصل ہو ،افسانہ نگار بجائے بیانیہ کے مکالمہ تکنیک کا استعمال کرتا ہے ۔وہ اپنے خیالات کو اپنے کرداروں کے مکالمات کے ذریعے بامحاورہ گفتگو کے انداز میں پیش کرتا ہے ۔ اس تکنیک سے کہانی یا افسانے کے کردار قارئین کے ذہنوں میں گھر کرجاتے ہیں۔کرداروں کے بہترین(ڈائلاگ) Dialogue بھی انھیں ازبر ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مجلسوں اور محفلوں میں برجستہ استعمال کرتے رہتے ہیں ۔
مثال : جدید افسانہ نگار دیپک بدکی کا افسانہ ’ اب میں وہاں نہیں رہتا ‘ سے صاحب (مصنف)اور ڈاکیہ کا مکالمہ یہ ہے ۔
’’ بھائی ، سچ مانو تو میں تمیں پہچان ہی نہ پایا ۔ تمہاری تو شکل و صورت ہی بدل چکی ہیں ۔ ‘‘
’’ صاحب ، کیسے پہچانتے اب تو میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور ریٹائر بھی ۔ اس سے بھی بڑھ کر میرے گلے میں کینسر ہوچکا تھا جس کے سبب آپریشن کرنا پڑا ۔ تب سے میرا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے ۔ اور پھر وقفہ بھی تو بہت ہوچکا ہے ۔ خیر یہ بتائے کہ آپ کہا رہتے ہیں آج کل ؟
’’ بھائی تم سے کیا چھُپانا ۔اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ میں کہیں بھی نہیں رہتا ۔ خانہ بدوش بن چکا ہوں ۔ اپنی زمین جب ٹھکراتی ہے اور مسکن جب کھو جاتا ہے تو آدمی خانہ بدوش ہوجاتا ہے ۔ وہ پھر کہیں کا نہیں کہلاتا ۔ ‘‘
’’ اتنے برسوں کے بعد یہاں آنے کی کیسے سوجھی صاحب ؟ ‘‘
’’ بس یاد ستانے لگی ۔ اپنی جڑوں کی یاد ….. ! سوچا چلو اپنی جڑوں کی کھوج میں نکل جاؤ ۔ مگر یہاں مویوسی ہاتھ لگی ۔ جڑیں تو سب کی سب اُکھڑ چکی ہیں ۔ ‘‘ ۷؂
*ڈراما تکنیک : Drama Technique
جب افسانہ نگار کو ایسا موضوع ہاتھ لگتا ہے جس میں کرداروں کی حیثیت اپنی جگہ ہوتی ہیں لیکن کہانی اور افسانے کے وقوع پذیر ہونے کی جگہ یعنی مقام کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ لہٰذا وہ کرداروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو یعنی ان کے درمیان ہونے والے مکالمات کو کہانی یا افسانہ کے وقوع ہونے کی جگہ کے پس منظر میں ڈرامائی انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہاں کہانی یا افسانہ کے وقوع ہونے کی جگہ بطور Stage (اسٹیج) افسانہ کا دلکش حصّہ ہوتی ہے ۔
مثال: ریسرچ اسکالر سفینہ بیگم ( AMU) علی گڑھ کے افسانہ ’ چابی والا کھلونا ‘ سے ۔
’’ اسٹیج ‘یعنی کہانی اور افسانہ کے وقوع پذیر ہونے کی جگہ یا مقام بازار ہے ‘‘
’’ حسب معمول اس نے اپنے تھیلے کے سارے کھلونے لکڑی کے تختے پر سجائے اور خود ایک چھوٹے اسٹول پر بیٹھ کر گاہکوں کا انتظار کرنے لگا ۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک چھوٹی بچی اپنے ابّا کا ہاتھ تھامے اس کی دکان کے پاس آکر رکی ۔
’’ کہیے صاحب کیا دکھاؤ ۔‘‘
’’ یہ برتنوں کا سیٹ دکھاؤ ۔‘‘
’’ ریاض نے ڈبّے میں موجود چھوٹے چھوٹے برتنوں کا ایک سیٹ ان کو تھما دیا ۔‘‘
’’ ہما بیٹا یہ لو ۔‘‘
’’ اب تم ان کھلونوں میں اچھے اچھے کھانے پکانہ اور ابّا کو کھلانا ۔‘‘
’’ لڑکی چند ثانیے تک اس پیکیٹ کو دیکھتی تہی اور پھر اُسے اٹھا کر واپس دکان دار کو دے دیا تو ریاض کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی ۔‘‘
’’ کیا ہوا ہما ..! آپ کو پسند نہیں آیا ؟ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
’’ پھر تم خود بتاؤ۔ کونسا کھلونا چاہیے ؟ ‘‘
’’ ہما نے غور سے سارے کھلونوں پر نظر ڈالی اور ڈاکٹر کے سیٹ پر نظر پڑتے ہی اُس نے لپک کو وہ سیٹ اُٹھا لیا ۔
’’ ابّا مجھے یہ چاہیے ۔ ‘‘
’’ ارے بیٹا یہ تو لڑکوں کے کھیلنے کی چیز ہے تم اس کا کیا کروگی ؟ ‘‘
’’ ابّا میں لوگوں کو دوا دیا کرونگی ۔‘‘ اُس نے مسکرا کر کہا ۔ ‘‘ ۸؂
*خط تکنیک :Letter Technique
جب افسانہ نگار کسی محّب اور محبوب کے ارد گرد کہانی بنتا ہے تو وہ خط نویسی یعنی مراسلہ نگاری کی تکنیک کو اپنا تاہے ۔ ایسی کہانیاں جن کو بالغ عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیاں دلچسپی سے چوری چھُپے پڑھنے پر آمادہ ہو ، اسی تکنیک میں تحریر کی جاتی ہے ۔ان کہانیوں میں انتظار اور فراق ،یادیں اور تمنّائیں ، آرزو اور اشتیاق ، وصل اور فصل ،جیسے موضوعات دلچسپی کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔
مثال : عصر حاضر کے مشہور افسانہ نگار دیپک بدکی کے تحریر کردہ افسانہ ’ ایک خط جو پوسٹ نہ ہوسکا ‘ سے۔
’’ رگ سِنگ ، تیسری منزل
مجنوں کا ٹیلہ ۔ دہلی ۔
31 18؍ اگست2000 ء
جانِ من ! خوش رہو!!
بہت دنوں سے تمہیں اپنے دل کا احوال لکھنے کے لئے بے قرار تھا ۔ کبھی ہمت جواب دیتی اور کبھی قلم ساتھ دینے سے انکار کرتا ۔ آج خیالات کا ہجوم نے ایسے گھیر لیا کہ بچ نکلنا مشکل ہوگیا ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم ۔ خیر کہیں سے تو اس الجھے ہوئے
خیالات ……! الجھی ہوئی زندگی …….! الجھنیں تو میرے وجود کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں ۔ ‘‘ ۹؂
*روزنامچہ تکنیک : Diary Technique
بعض انسان محتاط ذہن کے مالک ہوتے ہے ایسے لوگ روزانہ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر رات کو بستر پر جانے تک کے تمام کاموں کی بتدریج تفسیر اپنی کسی بیاض یعنی ڈائری میں لکھتے رہتے ہیں ان کے مرنے کے بعد ان کی ڈائریوں کے ذریعے ہی ان کی زندگی کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جو ان کی حیاتی میں اوجھل تھے ۔ افسانہ نگار جب کسی ایسے کردار کے ارد گرد کہانی بنتا ہے تو وہ اس روزنامچہ تکنیک کا استعمال کرتا ہے ۔ایسی کہانیوں میں Suspense اور Thrill یعنی تشویش اور سنسی کا پایا جانا لازمی ہے ۔
مثال : قاضی عبدلغفار صاحب کا لکھا ’ روزنامچہ یا مجنوں کی ڈائری ‘ سے ۔
’’ 18 فروری 1929ء ؁
’’ صبح ۵ بجے سویا ، دو بجے سہ پہر کو جاگا ، رات بھر ناچ دیکھتا رہا تھا ۔ اور تھوڑی تھوڑی پیتا بھی رہا تھا ۔ یاروں کی محفل میں اگر نہ پیئے تو عیش گونگا ،بہرا،لنگڑا ،اپاہج ہوجاتا ہے !…………….(الآخر) ۱۰؂ (الف)
’’ 25 فروری 1929 ء ؁
’’ میر صاحب کو لیلی کے کگر بھیجا تھا ۔ میں نے کہا ذرا خبر تو لائیں کہ رنگ کیا ہیں کتنے کتنے پانی میں ہیں ، منزل دور ہے یا قریب ! کتنا دوڑائیں گی،اور تھکائیں گی ……………………….(الآخر) ‘‘ ۱۰؂ (ب)
*سائنسی تکنیک :Scientific Technique
پہلے بھی مجّرد کہانیاں لکھی جاتی تھیں لیکن موجودہ دور میں سائنسی اصولوں کو مدد نظر رکھ کر کئی قسم کے تجرباتی افسانے لکھے جانے لگے ہیں ۔ جیسے علامتی افسانے ۔ اس قسم کے افسانے اور کہانیوں میں افسانہ نگار اپنے احساسات ،خیالات اور تجربات کو بلا کسی خوف کے پیش کردیتا ہے ۔ وہ کہانی یا افسانے کے مرکزی خیال کو سمجھنے کا کام قارئین کے سپرد کردیتا ہے پھر قارئین اپنی صلاحیت اپنے مراد و منشا ، اپنی پسند ناپسند ، ذوق و مذاق ، اپنی رغبت اور طبعی میلان کے مطابق اُسے مختلف انداز میں اخذ کرتے ہیں۔
مثال : انور قمر اردو افسانہ نگارکی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کا ایک افسانہ ’ ہاتھیوں کی قطار ‘Eco terrorism کے تناظر میں لکھا گیا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’ گزشتہ دس سالوں میں بیرام جی محسوس کررہے تھے کہ ان کے کھیل اور تفریح کے میدان ،وہ بنگلے ، وہ پہاڑیاں ،وہ بل کھاتتی سڑکیں رفتہ رفتہ غائب ہوتی جارہی ہیں اور ان کی جگہ دیو پیکر ، آہنی سنگلاخ کی سیدھی اور سپاٹ عمارتیں کھڑی ہوتی جارہی ہیں ۔ رفتہ رفتہ قدرتی حسن پامال ہورہا ہے ۔ اب نہ تو سبزہ ہے نہ درخت ، نہ پھول ہیں نہ پتے، نہ چڑیاں ہیں نہ گلہریاں ، نہ تتلیاں ہیں نہ بھنورے ، نہ گرگٹ ہیں نہ ٹذّے ، کچھ بھی تو نظر نہیں آتا ! اوگاڈ، وہ سب کہاں گئے ؟ کیا ہوئے ؟ انھیں زمیں کھاگئی یا آسمان نگل گیا ؟ کئی دنوں تک وہ بڑے فکر مند رہے کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟ کیوں ہورہا ہے ؟ کیسے ہورہا ہے ؟ کتنا ہوچکا ہے ؟ اور کتنا ہونا باقی ہے ؟ اس کی کوئی انتہا بھی ہے ؟ اس کا
کوئی خاتمہ بھی ہے ؟ یا یہ اسٹیل اور سمینٹ کا جنگل جو ہر لمحہ اور ہر پل اپنے پھیلاؤ میں بڑھتا ہی جارہا ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کی ہر سانس کا احاطہ کر لے اور اس کا جینا دوبھر کردے یہ تو اس کے ذہن، قلب اور روح پر ظلم کا پہاڑ بن کر ٹوٹ رہا ہے ؟ مجھے اس کی مخالفت کری ہی پڑے گی ۔ ‘‘ ۱۱؂
——-
حواشی :
(۱) ارسطو : بوطیقا ( اردو ترجمہ ) عزیز احمد ، اردو اکادمی لاہور ۔ 1965ء
بحوالہ : اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات از ڈاکٹر فوزیہ اسلم ، حوالہ نمبر :۱۳؂ ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ،
29 ۲۰۰۹ ء ص ۔ ۱۵
(۲) ناولٹ کی تکنیک از ڈاکٹر عبادت بریلوی ، مشمولہ : نقوش ، کراچی ، شمارہ نمبر ۱۹ ، ۲۰، اپریل 1952 ء
بحوالہ : بحوالہ : اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات از ڈاکٹر فوزیہ اسلم ، حوالہ نمبر :۲۳؂ ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ، ۲۰۰۹ ء ص ۔ ۱۷
(۳) ممتاز شیریں ’’ معیار ‘‘ نیا ادارہ لاہور طبع اوّل 1963ء
بحوالہ : اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات از ڈاکٹر فوزیہ اسلم ، حوالہ نمبر :۲۱؂ ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ،
31 ۲۰۰۹ ء ص ۔ ۱۶
(۴) اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات از ڈاکٹر فوزیہ اسلم ص ۔ ۱۶
(۵) افسانہ : زندگی زندگی از رتن سنگھ ، مشمولہ : ایوان اردو نئی دہلی ، جلد ۳۱ ، شمارہ ۴ اگست 2017ء
(۶) افسانہ : زیتون کی ایک شاخ از زاہدہ حنا ص ۔ ۱۰۲
بحوالہ : معاصر اردو افسانہ اور وِژن از قدوس جاوید ، مشمولہ : فکر و تحقیق سہ ماہی نئی دہلی جلد ۲۰ ، شمارہ ۳ ، جولائی اگست 2017ء
(۷) افسانہ : اب میں وہاں نہیں رہتا از دیپک بدکی مشمولہ : سہ ماہی رسالہ انتساب ( دیپک بدکی نمبر ) جلد ۴ ،شمارہ ۳ جولائی تا ستمبر ، 2016ء ص ۔ ۳۲۸ سے ۳۲۹
(۸) افسانہ : چابی والا کھلونا از سفینہ بیگم ، مشمولہ : ماہنامہ انشاء کلکتہ ، جلد ۳۲ ،شمورہ ۵،۶ ، مئی جون 2017ء
(۹)افسانہ : ایک خط جو پوسٹ نہ ہوسکا : چنار کے پنجے ( افسانوی مجموعہ ) از دیپک بدکی ، ص ۔ ۱۴۲
(۱۰۔ الف )روزنامچہ یا مجنوں کی ڈائری از قاضی عبدالغفار صاحب مصنف لیلیٰ کے خطوط ص ۔ ۱۵
(۱۰۔ب) روزنامچہ یا مجنوں کی ڈائری از قاضی عبدالغفار صاحب مصنف لیلیٰ کے خطوط ص ۔ ۱۶ سے ۱۷
(۱۱) جادوگر (انور قمر کے منتخب افسانے ) تکمیل پبلی کیشنز ، ممبئی نومبر 2015ء ص ۔ ۶۰ سے ۶۱
بحوالہ : اردو ادب میں سائنس کی شمولیت از توصیف خان ، مشمولہ : ماہنامہ اردو دنیا نئی دہلی ،جلد ۱۹ ،شمارہ ۵ مئی 2017ء
——
Dr. SufiyaBanu .A. Shaikh
C- Ground Floor Tajpalace, Kumbharwada
380001. ,Jamalpur Ahmedabad
Mob: 9824320676
Email :

Share
Share
Share