نظیر اکبر آبادی (یومِ وفات کے موقع پر) :- ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان

Share
ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان

نظیر اکبر آبادی
(یومِ وفات کے موقع پر)

ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان
سابق پرنسپل ‘ اورینٹل اردو پی جی کالج ‘ حیدرآباد

اُردو ادب کی تاریخ میں ایسے گوہر نایاب شاعر پیدا ہوئے ان کی شہرت آج بھی اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ ان میں نظیر اکبر آبادی بھی ایک ممتاز شاعر ہے ولی محمدنام اور نظیر اکبر آبادی سے شہرت حاصل کی ان کی پیدائش کی تاریخ پرمختلف تذکروں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

نظیر اکبر آبادی کی پیدائش کے بارے میں پروفیسر شہباز نے سب سے پہلے قلم اٹھایا اور ایک کتاب”زندگانی بے نظیر“لکھی اس کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد رضوان القاسمی نے ایک مضمون مقامی اخبار میں شائع کیا اور نظیرؔکی پیدائش 1725ء لکھا ہے دراصل پروفیسر شہباز نے اسی لکھنوئی کے مرتبہ کلیات نظیرؔ سے ان کی پیدائش نقل کی جو درست نہیں ہے۔ پروفیسر محمدعلی اثرؔ نے اپنی تالیف تحقیقی نقوش میں انھوں نے 8 تذکروں کی مدد سے نظیر کی پیدائش کا سن 1736ء درج کیا ہے جدید تحقیق کی رو سے یہ تاریخ درست معلوم ہوتی ہے۔
نظیر کے والد محمد فاروق سنی مسلمان تھے اور والدہ غالی اہل تشیع تھی فاروق صاحب معمولی پڑھے لکھے آدمی تھے نظیر کی والدہ سلطان خان قلعہ دار آگرہ کی صاحب زادی تھیں نظیر ؔکے والد کو بارہ اولادیں ہوئیں سوائے نظیر اکبر آبادی کے کوئی زندہ نہیں رہے ابتدائی زندگی کسماپرسی میں گذری دہلی پر احمد شاہ ابدالی کا پے در پے حملہ دہلی کو تباہ تاراج کررہا تھا دہلی سے نظیرؔ کاخاندان اکبر آباد منتقل ہوگیا اورنظیرؔ تاحیات وہیں رہے۔اکبر آباد میں ولی محمد سے صرف نظیرؔ اکبر آبادی ہوگئے معاشی تنگ دستی کی وجہہ سے دیر سے شادی ہوئی شادی کے وقت نظیر کی عمر چالیس سال تھی احمدشاہ ابدالی کے حملہ کے بعددہلی اور شمالی ہند کی حالت تمام مسلمانوں کی بربادی کا زمانہ تھا۔ نظیر کی بیگم تہور النساء سالارمحمد خان کی دختر تھی جن کے بطن سے ایک لڑکا گلزار علی اسیر اور ایک لڑکی امامی بیگم پیداہوئیں۔ امامی بیگم کا عقد میر نجف علی مرزا جان سے ہوا ان کے یہاں ایک لڑکی ولایتی بیگم پیدا ہوئی ان ہی کے اطلاع سے پروفیسر شہباز نے ”زندگانی بے نظیر“کتاب لکھی نظیرؔ اسکول میں مدرس تھے اکبر آباد سے نظیرؔ متھرا منتقل ہوئے وہاں انھوں نے نواب محمد علی خاں کے بچوں کو درس تدریس دیا کرتے تھے ان کے علاوہ راجہ بلاسی رائے کے بچوں کو بھی درس تدریس دیتے رہے۔ نظیر عوامی شاعر تھے شاعری کو تجارت نہیں بنایاتنگ دستی کے عالم میں تمام زندگی گذری کسی دربار یا مصاحب کے پاس نہیں گے۔ نواب واجد علی شاہ انھیں لکھنو آنے کی دعوت دی اور رقم بھی بھجوائی لیکن انھوں نے اکبر آبادنہیں چھوڑا نوجوانی میں نظیرؔ اکبر آبادی شوق مزاج اور رنگین طبیعت کے واقع ہوئے تھے۔ پروفیسر شہباز نے موتی نام کی ایک رقاصہ سے ان کے معاشقے کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کی مزاج کی رنگینی سے دوستوں کا بھی حلقہ وسیع تھا یار باش شاعر تھے۔ شاعری میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے عیدوں تہواروں کو اپنا موضوع سخن بنایا تھا۔مختلف تہواروں‘ جاتراوں‘عرسوں‘ میلوں ٹھیلوں کالطف اٹھایا کرتے تھے ان کی شاعری میں رنگ ونسل کا امتیاز نہیں تھا ہرانسان کو انسان کی حیثیت سے پیار کرتے تھے بقول ڈاکٹر محمد حسن۔
”نظیر ؔکی دنیا بے تکلف انسانوں کی دنیا ہے جس میں آدم کی اولاد اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ موجود ہے انہوں نے زندگی کو تنگ دلی بے رونق اورسنجیدہ مشغولیت کے بجائے جوش وخروش کا ذریعہ بنایا ہے وہ زندگی کو ہر حال میں ہنس کر گذار دینے کے قائل ہیں“۔
جوانی میں مزاج عاشقانہ تھا۔ شہرت ونام کا دارو مدار ان کی عوامی شاعری کی وجہہ سے ہے۔ وہ کسی شاہی دربار سے وابستہ نہیں تھے اور ناکسی اسکول سے منسلک تھے وہ آزاد شاعر تھے۔ وہ دربار سے علحد ہ رہ کرعوام سے رشتہ استوار کیا ہوا تھا۔ ان سے قبل یا ان کے بعد کوئی شاعر ایسا نہیں ملتا جس سے ہم ان کا مقابلہ کریں نظیرؔ کا اپنا ایک علحدہ دور تھا۔ جوزمانی حیثیت سے اردو شاعری کے کئی ادوارپر حاوی تھا۔ نظیرؔ اصل میں نظم کے شاعر ہیں غزل سے انھیں کوئی مطلب نہیں وہ کسی کی شاگردی قبول نہیں کئے۔نظیر کے ہاں موضوعات کی اپنی دنیا ہے نہایت وسیع انداز اپنا یا ہے اس کہ باوجود خیال میں ایک طرح کی مرکزیت ہے جو ہر طرح پھیلنے اور بڑھنے کے باوجود کسی خاص جگہ تک پہنچنے کی کوشش کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ نظیر سے پہلے کے شعرا عوامی نقطہ نظر سے سوچنا نہیں جانتے تھے۔ سوائے محمد قلی قطب شاہ کے جو عوامی موضوعات پربھی طبع آزمائی کیا تھا۔ نظیرؔ اپنے عوامی رابطے کی وجہہ سے برسات‘ عید’شب برات‘ ہولی‘ دیوالی‘ اندھیری رات‘گرونانک بنجارہ نامہ‘ آدمی نامہ‘ وغیرہ پر اپنے زور قلم کو آزمایہ ہے نظیرؔ عوام کو کبھی نظر انداز نہیں کیا ہر حال میں ان کی نظر اتنی وسیع رہی کہ اس میں ہندو‘ مسلمان‘سکھ‘عیسائی‘ امیر‘ غریب فقیر اور پیشہ ور سب برابر سما سکتے ہیں عوام کی زندگی ویسے تو دکھ درد کا مخزن ہوتی ہے لیکن اپنی بنیاد میں بڑی طاقت رکھتی ہے ان کی امنگوں کے چشمے کبھی نہیں سوکھتے۔ سلطنتیں تباہ ہوتی ہیں خاندان بدلتے ہیں لیکن عوام اپنی راہ چلتے رہتے ہیں۔وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوتے نظیر نے انھیں کی امید سے اپنی شاعری کا چراغ روشن کیا ہے یہی وجہہ ہے کہ نظیر کی شاعری میں ایک طرح کابھدا پن ہے باوجود شاعرانہ سادگی اور بیان میں وہ معصومانہ زور ہے جومعیاری شاعری سے الگ ہوکر تازہ زندگی پیدا کرتا ہے۔ اپنے عوامی موضوعات سے قریب ترآتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظیر نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی توعوام ہی نے نظیرؔ کو زندہ رکھا ورنہ اُردو شاعری کی معیار پرستی نے نظیر کو ختم ہی کردیا تھا اگر فقیروں اور گداگروں نے اورمعمولی پڑھے لکھے لوگوں نے ان کی بنجارہ نامہ اور دوسرے عوامی نظمیں تو یاد رکھی ہیں۔ ان کے موضوعات کی فہرست میں ہرایک نظیر سے خوش ہے نظیر عوام کی معمولی چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔بڑے بڑے شعرا انھیں دیکھکر بھی ان کی غریبی کا احساس اپنی شاعرانہ تخلیق میں استعمال نہیں کرتے تھے۔نظیر کے یہاں آٹا‘ دال‘ کوڑی‘ جھوپڑی تلاش زر‘ مفلسی‘ کی تعریف ایسی ہی نظمیں ہے جن کا راست تعلق عوام سے ہے۔ کیونکہ نظیر غریبوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے تھے۔ ان کی عمر ڈھلنے کے ساتھ ان کی شاعری میں صوفیانہ رنگ چھاگیا نظیر مولانا فخر الدین دہلوی کے معتقدتھے۔ طویل عمر پائی 94 سال بہ حیات رہکر 1246 ہجری مطابق/16 اگسٹ 1830 عیسوی آگرہ میں وفات پائی۔
چند اشعار ”آدمی نامہ“کے درج کئے جاتے ہیں ملاحظہ کیجئے۔
دنیا میں بادشاہ ہے سو وہ بھی آدمی
اورمفلس وگدا سو ہے وہ بھی آدمی
زردار ہے تو رہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھارہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

Share
Share
Share