تفہیمِ ادب میں قاری اور سماجی تبدیلیوں کی اہمیت :- محمدلطیف شاہ

Share
محمدلطیف شاہ
محمدلطیف شاہ

تفہیمِ ادب میں قاری اور سماجی تبدیلیوں کی اہمیت
(قاری اساس تنقید کے حوالے سے)

محمدلطیف شاہ
پی‘ایچ‘ڈی اسکالر – شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر
برقی پتہ:
فون نمبر:9797130907

ادب کی تفہیم و تجزیہ سے منسلک دورِ قدیم سے ہی ان گنت تنقیدی دبستان یا ڈسکورسز معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ جن میں کئی مصنف کو مرکز محور بنایا گیا تو کئی سماجی اور سیاسی حالات کو‘ کئی مصنف کی نفسیات کو تو کئی تاریخی تصورات کو‘ کئی جمالیاتی سروں کو پکڑنے کی کوشش کی گئی تو کئی تہذیب وتمدن او رثقافتی نظام کو وغیرہ غرض کسی نہ کسی پہلو کو مرکزیت کی اہمیت تفہیم ادب کے حوالے سے دی گئی۔

لیکن مابعد جدید تنقیدی دبستانوں میں یہ روش عام طور پر ہمارے سامنے آئی کہ یہ ہر طرح کے مرکز یا مقتدرہ (Authority) سے انکار کرتے ہیں اور ہر مرکز پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ یہاں پر جن امور کو اہمیت دے کر خاطر میں لایا گیا وہ زبان‘متن‘متن کی ساخت‘ قاری اورقرأت ہی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تفہیم ادب کے سلسلے میں ثقافتی نظام او رمعنی کی بوقلمونی کے رشتے کو ملحوظِ نظر رکھا گیا۔اس حوالے سے کئی دبستان ادب کے ڈسکورس میں شامل ہوئے جن میں روسی ہیئت پسندی(Russian Formalism)‘ ساختیات(Structuralism)‘ پس ساختیات (Post-Structuralism)‘ ردِ تشکیل(De-Construction)‘ نو آبادیات(Colonialism)‘ مابعد نو آبادیات(Post-Colonialism)‘ قاری اساس تنقید(Reader Response Criticism) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان ہی سے ایک ڈسکورس ”قاری اساس تنقید“ کے پیش نظر قاری او رسماجی تبدیلیوں کے اثرات تفہیم ادب کو پیش کرنے کی کوشش ا س مقالے میں کی گئی ہیں۔
قاری اساس تنقید(Reader Response Criticism)1970ء؁ کے آس پاس ایک تنقیدی قوت کے طور پر ابھرنا شروع ہوئی او ردیکھتے ہی دیکھتے تفہیم ادب کے حوالے سے بیش بہا انسلاکات اور رویوں کو دامن گیر کرنے لگی۔ جن تناظرات کو لے کر کے مذکورہ ڈسکورس آگے بڑھا ان کو بقول سوزن سلیمن مندرجہ ذیل چھ زمروں (Paradigms) میں منقسم کیا جاسکتا ہے:
۱۔ بدیعیاتی (Rhetorical)
۲۔ اشاریاتی‘ ساختیاتی (Semiotic, Structural)
۳۔ مظہریاتی (Phenomenological)
۴۔ تفہیمیاتی (Hermeneutics)
۵۔ موضوعی‘ نفسیاتی (Subjective Psychological)
۶۔ تاریخی‘ عمرانیاتی (Historical, Sociological)
مذکورہ تمام زمروں کے توسط سے قاری اساس تنقید نے تفہیم ادب کے سلسلے میں قاری اور قرأ ت کو اولیت کادرجہ شعوری طور پر دیا نیز سماجی تبدیلیوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھ کر متن‘مصنف اورقاری کی تکونی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔اخذ معنی کے سلسلے میں قاری اساس تنقید کے مبادیات کو ناصر عباس نیرؔ نے ان الفاظ میں پیش کیاہے:
”قاری اساس تنقید‘ قاری کو مرکز توجہ بناکر قاری کی اقسام‘ عمل قرأت‘ طریق ہائے قرأت‘ متن کی معنی یابی میں قاری اورقرأت کا تفاعل‘ قاری اور متن کا رشتہ اورعمل قرأت کے قاری پر اثرات‘ نیز قرأت کے بعد متن کی صورت حال جیسے نکات کو فلسفیانہ شکل دینے کی کوشش کرتی ہے“۔
(بحوالہ: ناصر عباس نیر‘ جدید او رمابعد جدید تنقید ص ۱۶۲)
اگرچہ ان چھ زمروں (Paradigms)کاتعلق قاری اساس تنقید سے ہے لیکن ان میں دو اہم نظریات مظہریت (Phenomenology)اور تعبیریت(Hermeneutics)نے قاری اساس تھیوری کے بنیادی تعلقات کی آبیاری میں اہم او رکلیدی رول ادا کیا ہے۔ اس لیے ان کی مختصر سی تعریف بھی ضروری بن جاتی ہے۔
مظہریت (Phenomenology):
فلسفیانہ طور پر ادب کے دائرے میں اس نظریہئ کو متعارف کرانے کا سہرا جرمنی کے ایک نقاد ایڈ منڈ ہسرل(Edmund Husserl)کے سر باندھ دیا جاتاہے۔جنہوں نے جرمنی زبان کے ایک کتابی سلسلہ جریدے”Jahrbuch Fur Philosophic and Phenomenon Forschung”کے مدیر رہ کر اس نظریہ کو متعارف کرایااور قاری اساس تھیوری کے دائرے میں اس نظریہ کو متعارف کرانے کاسہرا بھی جرمنی کے ایک نقاد ولف گینگ ایئزر(Wolf Gang Iser) کے سر باندھا جاتاہے۔جنہوں نے اپنے بیشتر نظریات کا پرچار مظہریت کے دائرے میں ہی کیا ہے۔
مظہریت دراصل ایک فلسفیانہ رویہ ہے جس کا بنیادی موقف یہ ہے کہ یہ ذہن کے موضوعی مطالعے کی مدد سے اصل میں ذہن کی ساخت تک پہنچنا چاہتی ہے اور اپنے مطالعاتی منہاج کومعروضی اور سائنسی رکھنا چاہتی ہے۔ جس کا اشارتی پہلو یہ ہے کہ یہ فرد کے ذہن کو معانی کا ماخذ سمجھتی ہے اور ہر شے کاشعور پہلے سے ہی ذہنی شعور میں ہونے کادعویٰ کرتی ہے۔بقول گوپی چند نارنگ:
”مظہریت(Phenomenology)ایک ایسا فلسفیانہ رویہ ہے جومعنی اخذ کرنے کے عمل میں دیکھنے والے (Perceiver)کے تفاعل پر زور دیتاہے۔ہوسرل کی رو سے فلسفیانہ جستجو کا معروض یہ ہے کہ ہمارے شعور میں کیا کچھ ہے۔نہ یہ کہ دنیا میں کیا کچھ ہے۔شعور ہمیشہ کسی نہ کسی شے کا ہوتاہے‘ یہی کسی نہ کسی شے کاشعور ہمیں اپنے شعور کے ذریعے حقیقت معلوم ہوتاہے“۔
(بحوالہ: ساختیات‘ پس ساختیات اور مشرقی شعریات ص ۲۹۳)
اب جب کہ ذہنِ انسانی کی بات آجاتی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ ذہن کی ساخت میں سماج کاعمل دخل ایک جزو لائنفک کے طورپر ہوتاہے۔شعور کے توسط سے اشیا کا ادراک کرنا‘ حقیقت کی تلاش کرنا اور مظہر و مظاہر کے درمیان ایک رشتہ قائم کرنا کچھ تو انسان کی اپنی صلاحیت ہے اور کچھ سماج کا عطیہ ہے۔ادب میں ان اشیا کاادراک زبان اور قرأت کے تفاعل سے ہی کیاجاسکتا ہے۔گویا مظہریت کے فلسفے میں بھی ذہنِ انسانی کے شعور کی مرکزیت کے حوالے سے سماج‘ قاری اور قرأت کی تکونی اہمیت بر قرار رہتی ہے۔ کیونکہ مظہریت میں جن انسلاکات مثلاً اشیا‘ شعور‘ ذہنِ انسانی کی ساخت‘ اخذِ معنی کاعمل‘ ادراک حقیقت اور ماورائے حقیقت وغیرہ سے واسطہ رہتا ہے ان کا بنیادی تعلق ہے ہی قاری‘ زبان‘ قرأت اور سماج سے ہے۔
تعبیریت (Hermeneutics):
تعبیریت سے مراد کسی بھی شے کی تفہیم و تعبیر ہے۔یہ تفہیم و تعبیر کے مسائل سے گذر کر ان مسائل کے حل کے لیے اصول و ضوابط و ضع کرنے سے بھی عبارت رکھتی ہے۔انسانی زندگی کاہر کوئی لمحہ معنی یابی کے عمل سے خالی نہیں ہے او رکائنات کے تمام مظاہر اپنے اندر مفہوم ومعنی کاایک سلسلہ بھی مخفف رکھتے ہیں۔انہی کے انکشاف کانام اصل میں تعبیریت ہے۔ Hermeneutics جرمن زبان کے لفظ Hermeneuein سے اخذ کیاگیاہے۔ جس کے معنی تشریحات کے ہیں۔ اصطلاحی ماخذ کے حوالے سے یہ لفظ (Hermeneutics) یونانی لفظ ہرمس(Hermes) سے وابستگی رکھتاہے جو ایک دیوتا او ردیوتاؤں کا پیمبر بھی ہے۔جو اصل میں ان کی تعلیمات کی تشریح اور ترسیل کرتے ہیں۔اس کی مزیدوضاحت کرتے ہوئے احمد سہیل لکھتے ہیں:
”تفہیمات تشریح اور شرح کا متنی نظریہ ہے جوکہ انجیلی شرحیات او رکسی حدتک لسانی متن کی تشریح سے متعلق قرار دیا جاتاہے……تفہیمات کا اصل مقصد پیغام پہنچانا ہے۔تفہیمات کی تنقید میں تاریخی تنقید کاگہرا اثر ہے تب ہی ان مطالعوں میں ثقافتی‘ تہذیبی‘ سیاسی‘ اخلاقی اثرات نمایاں ہیں جن کے افق کومتن ہی بیدار کرتی ہے“۔
(بحوالہ: ساختیات(تاریخ‘نظریہ اور تنقید) ص ۲۹۲)
قاری اساس تنقید کے زمرے میں فریڈرک شلائر ماخر(Friedrick Schleier Marcher) نے اپنا نظریہ”تعبیری دائرے“(Hermeneutical Circles) پیش کرکے فلسفہئ تعبیریت کو متعارف کرانے کا اولین درجہ حاصل کیا۔ انہوں نے کل اور جز کا تصور پیش کرکے تفہیم متن کے مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایاہے کہ تفہیمی عمل میں اصل اہمیت شے کے بارے میں بنیادی ذہنی تصور کو حاصل ہے۔ان کے نظریہ کی گہرائی میں اتر کر اگر غور سے دیکھا جائے تو سماج او رقاری کی اہمیت کا نہ کٹنے والے رشتے کی ایک کڑی سامنے آتی ہے۔کیونکہ ذہنی تصور کا سماجی تصور کے ساتھ ناقابلِ فراموش رشتہ ازل سے ہی رہا ہے۔انسانی ذہن او ر فکریات کو بنانے میں سماج کا بہت بڑا ہاتھ ہوتاہے اور انہی فکریات و نظریات کا پرچار تحریر میں بھی ہوتاہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سماج‘ تخلیق کار /قاری او رمتن کے درمیان گہر ا رشتہ ہوتاہے اور کسی بھی شے کی تعبیر و تفہیم میں اس رشتے کو ملحوظِ خاطر رکھنے کافلسفہ ہی تعبیریت کافلسفہ ہے۔
اس کے بعد ولہلم ڈلتھے (Wilhelm Dilthey) نے طبعی سائنسوں (Nature Wissen Schaften) اور انسانی سائنسوں (Geistes Wissen Schaften) کے درمیان فرق کا نظریہ پیش کرکے اس رشتے کو مزید تقویت پہنچائی۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں کے لیے مختلف طریقِ تحقیق اورمختلف طریقِ تفہیم ہوتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ طبعی سائنسوں کے برعکس انسانی علوم کا مدار جس خام مواد پر ہوتاہے وہ لازماً موضوع او رانسانی پہلو رکھتا ہے۔انسانی علوم اور ثقافتی مظاہر کی تفہیم و تعبیر میں یہ پہلو بطور خاص پیش نظر رہنا چاہیے۔ اس طرح ڈلتھے تفہیم و تعبیر کے سوال کوسماجی‘ ثقافتی اور تاریخی علوم کے سوال سے جوڑتاہے۔جہاں تفہیمِ متن کے سلسلے میں قاری‘ سماج اور زبان کی اہمیت کا دائرہ خود بخود مرتب ہوتاہے۔
قاری اساس تنقید کا بنیادی موقوف یہی ہے کہ متن تب تک کوئی وجود نہیں رکھتا ہے جب تک کہ اسے پڑھا نہ جائے اور متن کی معنوی تشکیل قاری کے بغیر مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے اور اخذِ معنی کے عمل میں قاری کا ذہن اورسماجی کوڈز(Codes)فعال اور متحرک رہتے ہیں۔ بقول گوپی چند نارنگ:
”متن میں معنی کا امکان تو ہے‘ متن میں معنی مضمر تو ہے‘ یعنی متن میں معنی بالقوۃ موجود ہیں۔لیکن وہ عامل قاری ہی ہے جو متن کے معنی کو موجود بناتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ متن بارود کی ٹکیہ ہے‘ قرأت کا عمل فتیلہ دکھاتاہے جو اشتعلک پیدا کرتاہے اوریوں وہ پھلجڑی روشن ہوتی ہے جس کو معنی کاچراغاں کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بارود کی طرح چراغاں کے بعد متن غائب نہیں ہوتا بلکہ جوں کاتوں موجود رہتا ہے اور ہر آنے والی قرأت قاری کے ذوق وظرف کے مطابق از سرنو معنی کاچراغاں پیدا کرتی ہے اور یہ عمل لامتناہی ہے“۔
(بحوالہ: ساختیات‘ پس ساختیات اور مشرقی شعریات ص۲۷۹)
مذکورہ اقتباس میں اخذِ معنی کے عمل میں متن‘ قاری او رقرأت کی اہمیت کو اجاگر کیاگیاہے لیکن اس امرکی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے کہ معنی کے عمل دخل میں سماجی تبدیلیوں کا بھی اہم اور کلیدی رول ابتداء سے ہی رہا ہے۔کیونکہ مصنف جب کسی متن کی تشکیل دیتاہے تو سماجی انسلاکات یاکو ڈز کو ذہن سے علیٰحدہ نہیں رکھتا ہے او رجس سماج میں ان کی پرورش ہوئی ہوتی ہے اس کی کارفرمائی ان کی تخلیق میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے اس طرح جب قاری اس متن کاتجزیہ کرتاہے تو وہ آزادانہ طور پر اور اپنے سماج کے اعتبار سے تفہیم کاسلسلہ شروع کرتاہے۔وجہ یہی ہے کہ ہر دور میں اور ہر عہد میں ایک ہی متن کی تفہیم مختلف النوع معنی کو ہمارے سامنے لاتی ہے کیونکہ سماجی افق اور توقعات ہر آن بدلتے رہتے ہیں جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ صاحب یوں لکھتے ہیں:
”قاری کا ذہن ہر حقیقت کو خواہ وہ مضمر ہو یا آشکار معنی خیزی کے عمل کے دوران اپنے رنگ میں رنگتا ضرور ہے۔ نہیں بھولنا چاہیے کہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بلکہ عہد کی ہر تبدیلی کے ساتھ ساتھ قاری اورقرأت کاعمل بھی تبدیلی سے گزرتا ہے۔اگرچہ متن وہی رہتا ہے لیکن معنی کے چراغاں کی نوعیت بدل جاتی ہے“۔
(بحوالہ: قاری اساس تنقید! مظہریت اور قاری کی واپسی ص۲۲)
قاری اساس تنقید کے موئیدین مثلاً فریڈرخ شلائر ماخر(Frieich Schleirmach) ہانس جارج گدامر(Hans Georg Gadamer)مارتن ہائیڈیگر‘ ایڈمنڈ ہوسرل (Edmund Husserl)(مظہریت)‘ ولف گینگ ائیزر(Wolfgang Iser) الزبتھ فرونڈ‘ اسٹینلے فش(Stanly Fiesh)ہانس روبرٹ ہاؤس(Hans Robert Javes) وغیرہ نے جتنے بھی تصورات و نظریات جن کی طرف پہلے ہی اشارہ کیا گیاہے کا ذکر کیا ہے ان میں کسی نہ کسی طرح کئی شعوری طور پر اورکئی لاشعوری طور پر اخذِ معنی کے سلسلے میں سماجی تبدیلیوں کی اہمیت کاپہلو بھی سامنے آیا ہے۔چاہیے ہم وولف گئینگ آئزر کی کتابThe Act of Reading (1978)کو دیکھے یا پھر راج ناتھ کی "The Text and the Reader”(1986)کو‘ چاہیے ہم سوزن سلیمن کی انتھالوجی”The Reader in the Text (1980)کا مطالعہ کرے یا پھر جاں پیجڑ ہاپکنزJean Piget Hopkains کی "Reader Response Criticism: From Formalism to Post Structuralism” (1980) کا مطالعہ کرے۔چاہے ہم الزبتھ فرونڈ کی کتاب”The Return of the Reader: Reader Response Criticism (1987)کو دیکھے یا پھر اسٹینلے فش کی کتاب”Self Consuming Artifacts”کو۔غرض ہر ایک کتاب میں سماجی تبدیلیوں کی اہمیت کو اجاگر کیاگیا ہے اب کچھ مثالیں ملاحظہ فرمایئے۔بقول ولف گینگ آئیزر:
"…….Implications, worked out by the reader’s imagination, set the given situation against the background which endows it with for greater significance than it might have seemed to passess on its own.”
(The Act of Reading, P. 51-52)
بقول اسٹینلے فش:
"The place where sense is made or not made is the reader’s mind rather than the printed pages or the space between the cover of a book”.
(Self Consuming Artifacts, P. 397)
بقول جانتھن کولر:
"Meaning is not an individual creation but the result of applying to the text operations and conventions which constitutes the institutions of literature.”
(The Pursuit of Signs, P. 127)
ہانس روبرٹ کے الفاظ میں کہ:
”متن قاری تک کبھی خالص او ربے لاگ حالت میں نہیں پہنچتا۔اس پر زمانے کارنگ ضرور چڑ ھ جاتا ہے اور یہ توقعات بدلتی رہتی ہے“۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوہی جاتی ہے کہ قاری‘مصنف اورمتن کے ساتھ ساتھ اخذ معنی کے عمل میں سماجی تبدیلیوں کابھی بڑا ہاتھ رہتا ہے۔کیونکہ نہ تو مصنف سماج سے پرے کسی خلا میں پیدا ہوا ہوتاہے نہ ہی قاری اورسب سے بڑھ کر یہ کہ متن کی تشکیل سماجی افق اور توقعات کے بغیر نا مکمل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔کیونکہ متن جن عناصر سے معرضِ وجودمیں آتاہے وہ سماج سے ہی ابھر کر سامنے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔مثلاً زبان‘ زبان کی ساخت‘ اشیاء کے نام‘ مصنف کی ذہنی ارتقاء‘ ثقافتی نظام وغیرہ مزید وضاحت کے لیے ڈاکٹر مولا بخش کا یہ قول ملاحظہ فرمائیے:
”متن کیا ہے؟ متن کو کون تشکیل دیتا ہے‘ مصنف؟ مصنف کہاں پیدا ہوتاہے‘ خلا میں؟ نہیں! مصنف کسی نہ کسی سماج او رتہذیب وثقافت کاپروردہ ہوتاہے۔مصنف نے جو متن خلق کیا اس کی صنف کس نے بنائی ہے؟ کیا مصنف نے؟نہیں‘ زبان جو وہ استعمال کرتاہے اس کا روزمرہ‘ اس کے محاورے‘ اس کی ترکیبیں‘علائم‘امثال‘جملوں کی ساخت وغیرہ کیا اسی مصنف نے بنائی ہیں جس نے متن خلق کیا ہے؟ نہیں…….“
(بحوالہ: جدید ادبی تھیوری اورگوپی چند نارنگ ص ۱۴۲)
غرض متن‘ مصنف‘ قاری‘ زبان‘ زبان کی ساخت‘ قرأت وغیرہ کی جڑیں سماج سے اس طرح پیوست ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے لیے جزولائنفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔قاری اب مصنف کو دیکھئے یا ثقافتی ریشوں او ردھاگوں کے سروں کو پکڑے‘ زبان کادامن تھام لیے یا پھر کسی اور جز کو معنی یابی کے عمل سے وابستہ کرے جنہوں نے اس متن کی تشکیل میں امدادی رول اداکیاہے۔ ہر سطح پر سماجی تبدیلیوں کی اہمیت ادبی ڈسکورس میں کارفرما رہے ہی رہے گی۔
بحیثیت مجموعی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قاری اساس تنقید ادب کا ایک ایسا ڈسکورس ہے جس میں دیگر ڈسکورسز کے برعکس ادبی تنقیدی رویوں کی زیادہ کشاکش اورتنوع دیکھنے کوملتا ہے۔اس ڈسکورس نے جہاں قاری کوغیر معمولی اہمیت دی ہے تو وہ متن‘ مصنف اور قرأت کے تکونی اہمیت کو بھی اجاگر کیاہے۔اس دبستان کے حوالے سے یہ بات بھی اظہر من الشمس عیاں ہوئی کہ متن خود مختار و خودکفیل نہیں ہوتاہے او ریہ بتایا گیا کہ ایک متن جب مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے یا ایک ہی عہد سے تعلق رکھنے والے قارئین کے سامنے باپتِ تشکیل معنی حاضر کیا جاتاہے تو اس عہد کے رنگ میں رنگ جاتاہے او رمعنی کالامتناہی تجربہ لے کر آگے بڑھتا ہے۔غرض نہ کبھی متن کی مکمل تشکیل ہوتی ہے اور نہ ہی قاری معنی کی مکمل تکمیل کرپاتاہے۔ اس طرح قاری اورقرأت کی ا ہمیت ہر دور میں برقرار رہتی ہے اور سماجی تبدیلیاں بھی اس میں اہم اور کلیدی رول ادا کرتی ہیں۔جس کی چند مثالیں مذکورہ بالا تحریر میں پیش کی جاچکی ہیں۔

Share
Share
Share