مظفر حنفی کی نظموں میں بچوں کے نفسیات کی عکاسی :- ڈاکٹر جاوید اختر

Share
مظفر حنفی

مظفر حنفی کی نظموں میں بچوں کے نفسیات کی عکاسی

ڈاکٹر جاوید اختر
کمہرولی، کمتول، دربھنگہ، بہار،

مظفر حنفی کا نام اردو نیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ آپ بہ یک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور بچوں کے ادیب ہیں۔ بچوں کے تعلق سے ان کی ساری تخلیقات نظم و نثر بچوں کے دلوں کو چھوتی ہیں۔ بچوں کی آپسی نوک جھونک، محبت و نفرت، شرارتیں، کھیل کود، تماشے اور ایک دوسرے سے تکرار وغیرہ مظفر حنفی کے موضوعات رہے ہیں۔

کم و بیش پچاس برسوں سے وہ بچوں کے لئے شعر وادب تخلیق کر رہے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں فطری شوخیاں، شرارتیں، نفسیاتی پیچیدگیاں، اور بچوں کے ذاتی مسائل بے حد خوبصورت انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ بچوں کے لئے لکھی جانے والی تحریر وں میں انہوں نے کبھی بڑا بننے کی کوشش نہیں کی۔ بچوں کی تحریروں میں بچوں کی ہلکی پھلکی اور سیدھی سادی زبان استعمال کرتے ہیں۔
فٹ بال، گھی شکر، ناچ میرے بندر، چنوں ماموں، مداری کا بندر، مزدور کا نغمہ، برابری کا گیت، چار پھول، گیند کھوگئی نالی میں، شرارتیں اور بھولا رام گئے بازار میں وغیرہ مظفر حنفی کی مختلف موضوعات پر لکھی گئی دلچسپ نظمیں ہیں جو ہند و پاک کے بچوں کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔
مظفر حنفی نے اپنی زیادہ تر نظموں میں بچوں کی نفسیات کا خاص خیال رکھا ہے۔ بچوں کی ضرورتوں اور ان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو مد نظر رکھ کر انہوں نے بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ بچے ایک ساتھ کھیلتے ہیں، آپس میں جھگڑتے ہیں لیکن پھر ایک ساتھ کھیلنے لگتے ہیں۔ ان کے دل میں نہ کسی طرح کی کدورت ہوتی ہے اور نہ کوئی انتقامی جذبہ۔ گڈے گڑیا کے کھیل میں بچوں کے درمیان اکثر تنازع پیدا ہوجاتا ہے اور ایک دوسرے سے تکرار ہوتی ہے۔ مظفر حنفی کے بچوں کے لئے لکھی گئی نظم ”ہائے اللہ“میں بچے کی شرارت اور بچی کا واویلا کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے:
ٹانگیں ٹوٹی گھوڑے کی
درگت گڑیا کے جوڑے کی
کھول کے میری الماری کو
کس نے اس پر بولہ ہلہ
کوئی دوڑو ہائے اللہ
بچوں کو کھیل بے حد پسند ہے۔ بچے کیا بڑے بھی کھیل کو پسند کرتے ہیں۔ کھیل بچے اور بڑے سب کی ذہنی اور جسمانی ورزش ہے۔ بچوں کی نشو ونما میں کھیل کود بڑے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی بچوں کو کھلاڑی بننے کے لئے ان کے گارجین بالکل آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے، دیکھئے اس بندوں میں:
ہم نے منع کیا تھا منے
مت کھیلو فٹ بال
کیسا چھل گیا سارا گال
اس میں ہے اپنی ہی بھلائی
کہنا بڑوں کا مانو بھائی
مرہم لگوالو اور جاکر
لیٹو اوڑھ کے شال
کیسا چھل گیا گال
اس نظم ”فٹ بال“ میں شاعر نے بچوں کی فطرت کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اکثر بچے کھیلتے کھیلتے تھک جاتے ہیں۔ جب ماں باپ اسے روکتے ہیں تو ان کی بات نہیں مانتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تھک کر گر جاتے ہیں اور زخمی ہوجاتے ہیں۔
مظفر حنفی نے ”تاک دھنا دِھن“ میں مداری کے تماشے کو اس طرح نظم کے پیرائے میں ڈھالا ہے کہ بندر کا تماشا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ بچے مداری کے تماشے کو دیکھ کر پسند ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ دور تک نکل جاتے ہیں۔ شاعر کی یہ نظم جدید شاعری کی بہترین نمونہ ہے:
پہن کر نیکر
لاٹھی لے کر
کاندھے پر رکھ کر
دلی جا
دلی جاکر
اپنے واسطے
ایک چاند سی بیوی لانا
تاک دِھنا دِھن دِھنک دھنا
چل میرے بندر ناچ دکھا
اس نظم میں مداری کے تماشے یعنی بندر سے مختلف طرح کے کام کی تکمیل کرواکر شاعر نے بچوں کے سامنے بندر کا تماشہ پیش کردیا ہے۔
بچوں کے نفسیات کو پیش نظر رکھ کر مظفر حنفی نے ان کے اندر آپسی بھائی چارہ، مساوات، مذہبی رواداری، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینے والی نظمیں بھی لکھیں ہیں۔ بچوں کے دلوں سے نفرت کا جذبہ دور کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ”سب انسان برابر ہیں“ ان کی ایک ایسی نظم ہے جس میں انہوں نے بچوں کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے سبھی فرقوں، ذاتوں، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی حیثیت برابر ہے:
کشمیری ہو یا سندھی
اردو بولے یا ہندی
دھوتی پہنے یا شلوار
پھول سجائے یا بنڈی
سب کا مان برابر ہے
ہر انسان برابر ہے
مسلماں ہو یا اندو ہو
احمد ہو اربندو ہو
وہ سکھ ہو یا عیسائی
مسلم ہو یا ہندو ہو
سب کا مان برابر ہے
ہر انسان برابر ہے
”سرزمین ہند“ ایک ایسی نظم ہے جس میں مظفر حنفی نے حب الوطنی کا درس دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ وطن کی محبت سب سے افضل واعلیٰ ہے۔ دیش کی خاطر لو گ اپنی جان قربان کردیتے ہیں۔ بچوں کو اس نظم کے ذریعہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ حب الوطنی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے:
حقیقتاً بہشت سے کئی گنا حسین ہے
جو اب اس کا روس ہے نہ مصر ہے نہ چین ہے
یہی ہمارا دھرم ہے یہی ہمارا دین ہے
کہ دو جہاں میں سر زمین ہند بہترین ہے
”ذمہ دار بنوں گا“ ان کی ایک ایسی نظم ہے جس میں انہوں نے ملک کے نونہالوں کو ہندوستان میں پھیلی رشوت خوری، بے راہ روی، جھگڑے، لڑائی، فسادات اور بے روزگاری جیسے مسائل سے آگاہ کراکر ان کے دل میں ذمہ داری کا جذبہ پیدا کرانے کی کوشش کی ہے:
آمدنی کم کنبہ بھاری
بچے بھوکے ماں دکھیاری
لاحق روز نئی بیماری
سب کا باعث ہے بیکاری
میری بھی ہے ذمہ داری
ہر شعبہ میں رشوت خوری
بازاروں میں سینہ زوری
دن میں جھگڑے رات میں چوری
سب کا باعث ہے بیکاری
میری بھی ہے ذمہ داری
اس نظم میں مظفر حنفی نے ان ساری خرافات کی جڑبیکاری کو قرار دیا ہے اور بچوں سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھے شہری بنیں اور کامیابی حاصل کریں۔
مظفر حنفی نے اپنی نظموں کے ذریعہ بچوں کے ادب میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ وہ صرف بچوں کے ادیب اور شاعر ہی نہیں بلکہ وہ بچوں کے ڈراما نگار، محقق اور نقاد کی حیثیت سے بھی اردو ادب میں بلند و بالا مقام حاصل کر چکے ہیں۔ وہ ہمیشہ ادب اطفال کے مسائل اور ان کی ضروریات پر غور کرتے رہے ہیں۔ بچوں کے ادیب و شاعر کی حیثیت سے وہ اردو ادب میں ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔
٭٭٭

جاوید اختر
Share
Share
Share