کورونا وائرس : غور و فکر کے چند پہلو :- عائشہ صدیقہ۔جے

Share

کورونا وائرس :غور و فکر کے چند پہلو

عائشہ صدیقہ۔جے
ریسرچ اسکالر، شعبہ عربی،فارسی واردو
مدراس یونیورسٹی، چینئی

کورونا وائرس کے متعلق بہت سے حقائق جاننا ہر ایک فردکیلئے انتہائی اہم ہے، کورونا وائرس کیا ہے؟ کیسے پھیلتا ہے؟ اس سے حفاظت کی کیا شکلیں ہیں؟ وائرس کس حد تک نقصان دہ ہے اس مضمون کے تحت معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

کورونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ کے ہوتے ہیں۔چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے یعنی کوروناکے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام "کورونا وائرس”رکھا گیا۔کورونا وائرس ایک بہت پرانا وائرس ہے جو 1930 میں مرغیوں میں دریافت ہوا، اور پھر 1940 میں چوہوں میں دریافت ہوا۔ انسانوں میں کورونا وائرس سب سے پہلے 1960 کی دہائی میں دریافت ہوا،یہ سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو انسانی کورونا وائرس E229 اور OC42 کا نام دیا گیا تھا اس کے بعد اس وائرس کی دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ذریعہ نامزد کردہ nCov-2019 نامی کورونا وائرس کی ایک نئی وبا 31 دسمبر 2019 سے چین میں عام ہوئی جو آہستہ آہستہ وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ 2019 میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کو SARS-CoV-2 یا COVID-19 کا نام دیا گیا، یہ وائرس اس لیے خطرناک ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وسطی چین میں واقع ووہان کے چار باشندے 26دسمبر 2019 کوبخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت لے کر ڈاکٹر ژھینگ جکسیان کے پاس پہنچے، ڈاکٹر ژھینگ نے ان مریضوں میں ایک پر اسرار قسم کے نمونیہ کی دریافت کی، ان ہی دنوں ووہان سنٹرل ہاسپٹل کے ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو ایک نئے وائرس سے خبردارکیا۔25 جنوری 2020 کو چین کے 13 شہروں میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ وائرس کی شناخت یوروپ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی ہوچکی ہے۔
کورونا وائرس کی عمومی علامت بخار، تھکاوٹ اور خشک کھانسی ہیں۔ کورونا وائرس کی عام علامت میں نظام تنفس کے مسائل(کھانسی، سانس پھولنا،سانس لینے میں دشواری)، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (اسہال اور الٹی) اورجسمانی تھکاوٹ اس میں شامل ہیں۔ شدیدنمونیہ کی انفیکشن کے سانس کی تکلیف جو بعد میں موت کا سبب بن جاتی ہے۔عموما اس وائرس کے اثرات معمولی اور خفیف ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات کسی غیر معمولی صورت حال میں مہلک بھی ہوجاتے ہیں، اس کے علاج یا روک تھام کے لیے اب تک کوئی تصدیق شدہ علاج یا دوا دریافت نہیں ہوسکی ہے۔
آج کورونا وائرس چین، امریکہ، اٹلی، اسپئین،آسٹریلیا و جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک سے ہوتا ہوا بالآخر ہندوستان کے کئی ریاستوں کو متاثر کرچکا ہے۔کورونا وائرس کا کیس رپورٹ درج ہونے کے بعد ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے، سماجی رابطہ کے ذریعہ آسانی سے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے، روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کردیا گیاہے،لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں 210ممالک کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہندوستان بھر میں تقریبا 9,635سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں،بالخصوص صوبہ تملناڈو میں آج تک 1,173 سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں 11 لوگ زندگی سے ہار بیٹھے۔اس وبا کو جہاں تک ممکن ہے روکنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔جہاں کورونا وائرس کے متعلق اس حد تک ڈر اور خوف پھیلا دیا گیا وہیں طبّی ماہرین کے نزدیک یہ بات بھی حقیقت مانی جاسکتی ہے کہ کرونا وائرس اس حد تک جان لیوا نہیں ہے جیسا کہ افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ کورونا وائرس کا کوئی خاص تصدیق شدہ علاج یا دوا نہیں البتہ چنداحتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں:
٭صابن یا سانیٹائزر سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں۔
٭گندے ہاتھوں سے ناک، آنکھ اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔
٭ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔
٭متاثرہ افراد سے براہ راست اور ان کی استعمالی چیزوں سے دور رہیں۔
٭کمرے و مکان کے اندر سورج کی روشنی پہنچنے دیں۔
٭کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو رومال سے ڈھکیں۔
٭متوازن اور مقوی غذا، صاف اور گرم پانی کا استعمال کریں۔
٭اگر طبیعت خراب محسوس ہوتو گھر میں رہیں۔ اگر بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہوتو فوری طبی مدد حاصل کریں، طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔
٭٭٭

Share

One thought on “کورونا وائرس : غور و فکر کے چند پہلو :- عائشہ صدیقہ۔جے”

Comments are closed.

Share
Share