کالم : بزمِ درویش – بابا فریدالدین ؒ :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش – بابا فریدالدین ؒ

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

شہنشاہ ہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے جس نوجوان طالب حق کے لیے کہا تھا کہ یہ ایسی شمع ہے جس کی روشنی درویشوں کے گھروں کو منور کر نے والی ہے یا یہ وہ شہباز ہے جس کی پرواز آسمانوں میں ہو گئی آپ کا نام حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ہے۔ آپ برصغیر پاک و ہند کے روحانی پیشواں میں اعلی مقام رکھتے ہیں

آپ چشتیہ سلسلہ کے ان عظیم بزرگوں میں سے ایک ہیں جن کی روحانی عظمت اور کردار و عمل سے بت کدہ ہند میں وحدانیت کا نور پھیلا آپ کی تعلیمات اور کشف و کرامات سے لاکھوں بت پرست شرک و بدعت کے اندھیرے سے نکل کر نور وحدانیت میں نہا گئے، ظالم بادشاہوں کے دور میں غریبوں مسکینوں کی آپ کی آخری پناہ گاہ تھے آپ کے مقام اور جلال کا یہ عالم تھا کہ سلاطین دہلی ننگے پاں دامن ِ مراد پھیلائے آپ کے در پر غلاموں کی طرح حاضر ہوئے تاریخ کے اوراق ایسے لاتعداد واقعات سے بھرے پڑے ہیں جب کسی مظلوم نے آخر مدد چاہی تو آپ نے شاہان وقت سے فوری انصاف لے کر دیا آپ نے دہلی شہر کو چھوڑ کر جنگل بیابان میں اِس لیے ڈیرے جمائے کہ غربت جہالت میں ڈوبی مخلوق کے لیے صراط ِ مستقیم کا سبب بن سکیں بابا فرید کابل کے بادشاہ فرح شاہ کی اولاد میں سے تھے جو حضرت عمر فاروق کی اولاد میں سے تھے بابا فرید کے والد محترم مولانا کمال الدین سلیمان ساتویں واسطے سے فرخ شاہ بادشاہ قابل کے فرزند اور بیسیویں واسطے سے جناب حضرت عمر فاروق کی اولاد میں سے تھے۔ کمال الدین کی والدہ محترم سلطان محمود غزنوی کے خاندان سے تھیں بابا فرید الدین گنج شکر کی ولادت 582ہجری میں قصبہ کو توال ضلع ملتان میں ہو ئی ابھی آپ زندگی کے صرف پانچویں سال میں تھے کہ والد کا شفیق سایہ سر سے اٹھ گیا اسطرح فرید الدین مسعود کی یتیمی کا دور شروع ہو گیا۔ آپ کی نیک عابدہ پارسا والدہ قرسم خاتون اللہ کی رضا میں خوش تھیں قرسم خاتون کے بطن سے تین بیٹے حضرت فرید الدین مسعود، حضرت اعزاز الدین محمود اور حضرت نجیب الدین متوکل پیدا ہو ئے آپ کی ایک بیٹی ہاجرہ بھی تھیں جس کی آغوش شفقت میں تاریخ تصوف کے پر جلال انوکھے بے نیاز حضرت صابر کلیری نے آنکھ کھولی، قرسم خاتون جی نیک عورت نے ان چاروں بچوں کی پرورش عبادت ریاضت اور توکل کی چھاں میں اِ س عظیم نیک خاتون کے بچے بڑے ہو کر اسلام کے روشن ستارے بنے فرید الدین مسعود کو بابا فرید شکر گنج بھی کہا جاتا ہے آپ کا لقب اسطرح آپ کے نام سے جڑ ا کہ نام کا حصہ بن کر رہ گیا اور آپ اِسی نام سے خاص و عام میں مشہور ہو ئے تذکروں گنج شکر کی وجہ تسمیہ اِسطرح بیان کی جاتی ہے کہ والدہ ماجدہ ننھے فرید الدین کو بچپن سے ہی نماز کی تلقین فرمایا کرتیں کہ فرید نماز پڑھا کرو اِس سے رب تعالی خوش ہو تا ہے پھر وہ اپنے عبادت گزار بندوں کو بہت سار ے انعامات سے نوازتا ہے فرید الدین بچے اور معصوم تھے اِس لیے والد ہ سے پو چھتے اللہ انعام میں کیا دیتا ہے تو والدہ فرماتیں اللہ تعالی بچپن میں نماز کا انعام شکر دیتا ہے لیکن جب بچے بڑے ہو جائیں تو پھر شکر کی جگہ اور بہت سارے انعامات عطا کر تا ہے ننھے فرید الدین مسعود اب دل لگا کر پابندی سے نماز پڑھتے اب جب وہ ادھر ادھر ہوتے تو والدہ ماجدہ مصلے کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیتیں تا کہ فرید شکر کو پاکر اور ذو ق شوق سے نماز پڑھا کریں حضرت بابا فرید نماز کے بعد مصلے کے نیچے سے شکر کی پڑیا پا کر بہت خوش ہو تے اللہ کا انعام سمجھ کر اٹھا کر کھاتے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کر تے یہ سلسلہ کا میابی سے کئی مہینوں تک چلتا رہا ایک دن زیادہ مصروفیت کی وجہ سے والدہ محترمہ بابا فرید کے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیا رکھنا بھول گئیں اگلے دن پریشانی میں ننھے فرید کو بلا کر پوچھا کیا تم کو کل مصلے کے نیچے سے شکر کی پڑیا ملی آ پ کے دل میں خوف تھا کہ شکر کی پڑیا نہ پا کر ننھا فرید کیا سوچ رہا ہو گا لیکن اس وقت خو شگوار حیرت ہو ئی جب ننھے فرید نے کہا ہاں مجھے مصلے کے نیچے سے ہمیشہ کی طرح شکر کی پڑیا ملی ہے ننھے فرید کے منہ سے یہ بات سن کر ماں کی آنکھوں میں شکر انے کے آنسو آگئے کہ کس طرح خدائے بزرگ و برتر نے ماں کی لاج رکھ لی میرے بھولنے پر خود وہاں پر شکر رکھ کر اس کی عزت بچا لی والہانہ انداز میں فرید الدین مسعود کو گلے سے لگا کر کہامیرا فرید تو گنج شکر ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ آپ ریاضت مجاہدے اور نفس کشی کے لیے اکثر روزے سے رہتے تھے متواتر روزے رکھتے تھے ایک بار اِسی طرح متواتر روزے جاری تھے ایک روز افطاری کے لیے کچھ بھی پاس نہ تھا تو آپ نے شدید پیاس اور بھوک کے عالم میں ایک پتھر کا ٹکڑا منہ میں رکھ لیا خدا کی قدرت اور کرم خاص سے پتھر کا ٹکڑا منہ میں جاتے ہیں شکر کی ڈلی میں بدل کر منہ میں شیرینی گھولنے لگا جب اِس واقعہ کا پتہ آپ کے مرشد کو ہوا تو وہ بے اختیار بو لے اٹھے فرید الدین واقعی گنج شکر ہے ایک اور روایت اِس طرح بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار آپ نے متواتر سات روزے رکھے مسلسل فاقہ کشی اور روزوں کی وجہ سے کمزوری اور نقاہت بہت بڑھ گئی تھی اِس حالت میں مرشد کی یاد بہت ستانے لگی تو آپ اپنے مرشد سے ملنے کے لیے ان کی طرف روانہ ہو ئے راستے میں شدید کمزوری فاقہ کشی کی وجہ سے لڑکھڑا کر کیچڑ میں گر پڑے گرنے کی وجہ سے کیچڑ کی مٹی منہ میں چلی گئی جو مٹی نہ رہی بلکہ شکر بن گئی پھر آپ نے جا کر مرشد کریم کو یہ واقعہ سنایا تو مرشد بہت خوش ہو ئے فرید تم عبادت و ریاضت مجاہدے کے بعد کثافت سے لطافت کا پیکر بن چکے ہواب تم حالت کن فیکون میں بارگاہ الہی میں مقبول بندوں میں شامل ہو گئے ہو اِسی وجہ سے جو مٹی تمہارے منہ میں گئی و ہ خدا کی قدرت سے شکر بن گئی آج سے تم گنج شکر ہو۔ ایک اور روایت اِسطرح ہے کہ ایک سوداگر اونٹوں پر شکر لاد کر ملتان سے دہلی جا رہا تھا جب وہ بابا جی کے پاس سے گزرا تو بابا فرید نے پو چھا اونٹوں پر کیا لے کر جار ہے ہو تو سوداگر نے یہ سوچ کر کہ کہیں آپ شکر مانگ ہی نہ لیں کہا اونٹوں پر نمک ہے تو بابا جی بو لے نمک ہی ہو گا جب وہ سوداگر منزل پر پہنچا تو سامان اتروا کر دیکھا تو ساری شکر نمک بن چکی تھی اب پریشان حال بابا جی کے پاس آیا اپنی غلطی کی معافی مانگی تو بابا فرید فرمانے لگے ٹھیک ہے اگر شکر تھی تو اب شکر ہی ہو گی آپ کے روحانی تصرف سے سارا نمک پھر شکر بن گیا بابا فرید دوران ریاضت پہاڑی غار میں چلہ کش تھے پیاس لگی تو کنویں پر جاکر دیکھا ڈول نہ پا کر مایوس ہو ئے اتنی دیر میں ہرن آیا جن کے آنے پر پانی کی سطح بلند ہو گئی ہرن نے پانی پیا چلا گیا تو پانی پھر نیچے چلا گیا یہ منظر دیکھ کر فریدا لدین سوچھنے لگے کہ آسمان سے آواز آئی اے فرید تم نے ڈول پر بھروسہ کیا جبکہ ہرن نے مجھ پر بھروسہ کیا اِ س لیے تم محروم اور ہر ن پانی پی گیا سخت پریشان شرمندہ ہو کر نفس کشی کی خاطر اسی کنویں میں چالیس روز تک چلہ معکوس کیا پانی کا قطرہ بھی منہ میں نہ ڈالا سخت و ریاضت کے بعد جب چلہ ختم ہو اتو منہ میں مٹی ڈال لی جو شکر بن گئی تو غیب سے ندا آئی اے فرید تیری عبادت ہم نے قبول کی تجھے اپنے لیے منتخب کیا اور میٹھے بولنے والوں میں تجھے مٹھاس کا خزانہ بنا دیا اِس طرح آپ گنج شکر کے نام سے قیامت تک کے لیے امر ہو گئے۔

Share
Share
Share