ناول ” اندھیرا پگ “ – ثقافتی وسماجی مطالعہ :- ڈاکٹرحکیم رئیس فاطمہ

Share

ناول ” اندھیرا پگ “ – ثقافتی وسماجی مطالعہ

ڈاکٹرحکیم رئیس فاطمہ
گچی باولی ۔ حیدرآباد

” اندھیرا پگ “ ا یک ایسا ناول ہے جو اکیسویں صدی میں لکھے گئے ناولوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مابعد جدیدیت مرکزیت کے بجائے مقامیت کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ ناول ایک مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ ناول کا موضوع نیا نہیں ہے لیکن موجودہ دور میں مرد غالب معاشرے میں عورت کی حیثیت پر روشنی ڈالتا ہے۔


” اندھیرا پگ “ ثروت خان کا پہلا ناول ہے جو 2005 ء میں دہلی سے شائع ہوا ہے۔ اس کا موضوع بیوہ کی زندگی ہے جو یقینا نیا نہیں ہے مگر ایک بیوہ کی بپتا کو جس خاص راجستھان کے تہذیبی تناظر میں موضوع سخن بنایا گیا ہے وہ پس منظر اسے معتبر و اچھوتا بنادیتا ہے۔ بقول پروفیسر وارث علوی ”ثروت خان نے اس پارینہ موضوع کو ایک ایسی تازہ کارتھیم میں بدل دیا ہے۔ جس میں بیوہ کی بپتا تانیثی بغاوت میں بدل جاتی ہے۔“ ۱؎
جو حقائق اس ناول میں بیان کیے گئے ہیں اور ہماری نظروں سے مخفی جس تہذیبی اقدار، کلچر اور ثقافتی نظام کو انتہائی کھلے بندھے اسلوب میں دکھایا گیا ہے، وہ نظام اور کلچر اس ناول کو اہم اور منفرد بناتا ہے۔
اس ناول میں مرد غالب معاشرے میں ہندوستانی بیوہ عورت کے ساتھ اچھوتوں جیسے سلوک کی داستان پیش کی گئی ہے۔ علاقائیت سے بھرپور یہ ناول بیوہ عورت کی بپتا ہے۔ دیش نوک کی عورتوں کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا بھی حق حاصل نہیں۔ یہ عورتیں اپنی زندگی کے بارے میں غور و فکر بھی نہیں کرسکتیں کیونکہ سماج نے ایسی آئیڈیولوجی اور قاعدے و قانون مرتب کر رکھے ہیں جو مذہبی اور سماجی بندھنوں کے نام پر اسے کنیزوں سے بدتر زندگی گزارنے پرمجبور کرتے ہیں۔
”اندھیرے پگ“ کے مطالعے سے قاری کو راجستھان کی زندگی کے مشاہدے کا موقع ملتا ہے، وہ یہاں کے قبائل ان کی پسماندگی، جہالت، غربت، ثقافت و تہذیب، طبقاتی کشاکش، پروہتوں و پنڈتوں کی ذہنیت، مسلمانوں کے برائے نام اسلام سے تعلق، میلے ٹھیلے، شادی بیاہ، رسم و رواج، پنچایت، عشق و عاشقی غرض سب کچھ پیش کرتی چلی جاتی ہیں اور قاری اس رنگیلی متنوع مگر کٹھور تہذیب و ثقافت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔
انہوں نے موضوع اور مرکزی کردار پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے سارے واقعات میں اختصار کو ملحوظ رکھا ہے اور اسی اختصار سے انہوں نے اپنی فنکارانہ چابک دستی کا ثبوت پیش کیا ہے۔
ناول ”اندھیرا پگ“ کا قصہ راجستھان کے ایک قصبہ جو بیکانیر سے کوئی پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک قصبہ ”دیش نوک“ کے حلقے میں بناگیا ہے۔ دوسرے قصبوں اور شہر کے مناظر وحالات اور کلچر بھی مستعار لیے ہیں۔
”دیش نوک“ قصبے میں دیوی کرنی ماتا کا مندر ہے جو چوہوں کے مندر کے نام سے مشہور ہے۔ چوہے کو ”کابا“ کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سیاحوں کی آمد کے باوجود فارغ البالی اور ترقی کا نام و نشان نہیں ہے۔ کوئی موٹر گاڑی نہیں، پکی سڑک نہیں، لوگ اونٹ گاڑ یوں سے کام چلاتے ہیں، ایک تالاب ہے، بارش بھی کم ہوتی ہے۔ اگر بارش ہوتی ہے تو تالاب فوراً لبالب ہوجاتا ہے۔ ورنہ سالوں سال سوکھا پڑا رہتا ہے۔ جہالت ایسی ہے کہ یہاں میٹرک پاس لڑکوں کا ملنا عنقا ہے۔ تعلیم نسواں کا تو سوال ہی نہیں۔ ہاں پروہتوں نے اپنے وراثتی علم یعنی تنتر منتر، کریا کرم کانڈ کو فروغ دے رکھا ہے۔ جو نسل در نسل چلا آرہا ہے۔ گھر کے مرد جہاں وید پران کے پنڈت ہیں وہیں خواتین ان پڑھ، حویلی کی اونچی دیواروں میں اسیر، جہالت کی لعنت سے لپٹی ہوئی۔ نسائیت کے پاس مرد کی چادر بننے کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں۔ نچلا طبقہ محنت مزدوری کرتا ہے اور پنڈت اُن کا استحصال۔ گاؤں کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ پرائمری اسکول، آنگن باڑی بس برائے نام ہیں۔ ڈسپنسری کا حالتِ زار میں تھی۔ بیماریوں میں لوگ جادو ٹونا، جھاڑ پھونک پر تکیہ کرتے ہیں، بچ جاتے تو ”دیوی کی کرپا“ مرجاتے تو ”بھاگیہ کا لکھا“ کہتے جس کا ثمرہ غریب بھیرو کی بیوی (ڈالی) جیسی عورتوں اور مریضوں کی موت ہے۔ بجلی پانی کا بھی یہی حال تھا۔ لوگ کنویں سے کام چلاتے تھے۔ دیش نوک راجستھان کا ایک ریگستانی علاقہ ہے، یہاں کی تہذیب و ثقافت صدیوں پرانی ہے۔ یہاں ریگستانوں میں صرف ریت کے مرغولے ہی نہیں ا ٹھتے بلکہ ان مرغولوں میں صدیوں کی داستانیں بھی ریت کے ذروں کی طرح ہر سو بکھر جاتی ہیں۔
اسی ”دیش نوک“ میں پنڈتوں و پروہتوں کی حویلی اس کہانی کی اختراع کرتی ہے جو اس ناول میں ڈھالا گیا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار روپ کنور (روپی) پنڈت رتن سنگھ کی بیٹی ہے۔ اعلیٰ ذات کے پروہت خاندان کی چشم و چراغ ہونے کے باوجود وہ چاق و چوبند، ذہین ہے جو نازوں سے پلی تھی۔ تعلیم کے ساتھ بہت ساری خوبیوں کی مالک روپی کی نہایت شائستہ، سلجھی ہوئی اعلیٰ ذ ہن کی مالک پھوپی راج کنور اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر لے جانا چاہتی ہے۔ مگر دیش نوک کی دوشیزاؤں پر ریت رواج کا پہرہ ہے۔ وہاں لڑکی کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ چنانچہ تمام احتجاجوں و مخالفتوں کے باوجود روپی اور راج کنور کے سارے خواب اور آرزوئیں زندگی کے حقیقی سانچے اور اس قبیح نظام کے جابر و ظالم اصولوں میں قید کردیئے جاتے ہیں، خوابوں کی تاریکی میں روشنی کی کرن کی طرح ابھرنا اور سپنوں کا خون آلودہ ہوکر محکوم ہوجانا اس ناول کے پہلے حصے کا مرکزی خیال ہے۔ اس شق میں جب روپی کی تمناؤں کے نرم و نازک پر کتر دیئے جاتے ہیں اور رسم و رواج کی نذر کر کے صرف سترہ برس کی عمر میں اس کو شادی کے بندھن میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ قصّہ جذباتی اور ذہنی کشاکش و مدو جزر کے لاوے میں کھولتا رہتا ہے۔ بلندیوں کو چھونے کی تمنا اور تحت الشریٰ میں دھنسنے کی مجبوری روپی کے ساتھ ساتھ قاری کو ذہنی اذیت سے دوچار کرتی ہے مگر وہ ناول نگار کے اشارے پر مرگ و زیست میں مبتلا ہے۔ یہ کرب و الم اس وقت پایہئ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے جب وواہ کے دو ماہ بعد ہی روپی بیوہ ہوجاتی ہے۔ یہاں سے قصّے کے اصل موضوع کا آغاز ہوتا ہے اور قاری کو رواجوں، رسموں، سماجی مجبوریوں، فرسودہ بندشوں اور ڈھکوسلوں میں جکڑے اس غلامانہ پابند نظام سے روشناس کراتا ہے، جب قدرت کے ایک سفاک فیصلے کو لوگ عورت کی نحوست سے تعبیر کرتے ہیں اور ناز و نعم میں پلی روپی شاندار حویلی کے ایک تنگ، تاریک، سیلن زدہ، بد بودار، چاروں طرف سے بند کوٹھری میں سرمنڈا کر بد رنگ ساڑی میں انسانیت سے گری ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور کردی جاتی ہے تاکہ اس کی آرزوئیں و خواہشات زندہ نہ ہونے پا ئیں۔ پھوپھی، ماں، باپ، بھائی، دادی، چاچا، چاچی، کوئی ا سے چھٹکارا دلانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھوپھی تو اسی وقت مجبور و لاچار اور بے بس ہوجاتی ہے جب وہ اپنی بھتیجی کو لانے سسرال جاتی ہے، جہاں روپی ایک کال کوٹھری میں مقید ہے اور پانی میں سوکھی روٹی ڈبو ڈبو کر کھاتی، ڈیڑھ روپے کی ٹائر کی چپل پہنتی، سر جھاڑ، منہ پہاڑ حالت میں بلک بلک کر جی رہی ہے۔ پھوپھی سعیئ بسیار کے باوجود اسے وہاں سے نکال کر نہیں لاپاتی کیونکہ بیوہ کو اس کال کوٹھری سے نکال کر لانے کے لیے اماوس کی شب کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ہاں اماوس کی تاریک شب میں تاکہ اس کا سایہ کسی جاندار پر نہ پڑسکے۔ اس سفر کو ”اندھیرا پگ“ سے موسوم کیا گیا ہے جو اس ناول کی سرخی ہے۔
”اندھیرا پگ“ کی رسم ڈیڑھ ماہ بعد ادا ہوتی ہے اور روپی کو اس کے گھر والے میکے واپس لے آتے ہیں مگر المیہ اس وقت تعجب خیز رخ اختیار کرلیتا ہے، جب اس کی دشا پر بلک اٹھنے والا گھر بھی چند ہی لمحوں کے بعد اسے ویسی ہی اذیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور کردیتا ہے جیسی زندگی وہ اپنی سسرال میں جی رہی تھی۔ سماجی مجبوریوں اور دقیانوسی رسم و رواج کی جکڑ بندیوں کے سبب اس کے اپنے بھی اس پر ظلم ڈھا رہے تھے کیونکہ نظام تو وہی ہے، ریت رواج تو وہی ہیں، ان کے خلاف علم بغاوت کی طاقت کون رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا توانا نظام ہے جسے تسخیر کرنا اچھے اچھوں کے بس کا نہیں۔
روپی بیوہ ہونے کے بعد جب اپنی زندگی میں آئی تبدیلی کو دیکھتی ہے تو چکرا کر رہ جاتی ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس میں اس کا کیا دوش ہے؟ وہ جانوروں کی طرح جینے پر کیوں مجبور کی جارہی ہے؟ اس کے اپنے اس پر ظلم کیوں ڈھا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں طرح طرح کے سوال پیدا ہوتے ہیں اور جب جواب نہیں ملتا تو اپنی ماں سے پوچھتی ہے:
”ماں، کیا جیوں کیول بیاہ تک سیمت ہے؟
”ماں، کیا استری اپ بھوگ کی وستو ماتر ہے؟
”ماں، کیا جیوں کا کوئی اور اُدیشے نہیں؟
”ماں، ہماری پرمپرائیں بلیدان ہی کیوں مانگا کرتی ہیں۔ ہماری سوتنترتا کو گرہنٹر کیوں لگا دیا جاتا ہے؟
”ماں، سماج کی پرمپرائیں، اچھائیں دبانے کے لیے ہی کیوں بنائی جاتی ہیں؟
”ماں، کیا تم نے سوچا ہے، دبائی ہوئی اچھاؤں کے برے پریڑام، پوری منشے جاتی کو بھگتنے پڑتے ہیں؟
”ماں، یہ سنسار میرا کیوں نہیں ہے؟ …… مجھے یہ سنسار دے دو ماں …… مجھے سلاؤمت ماں! مجھے جگاؤ۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ماں …… میں اس برہمانڈ کی دھری ہوں …… مجھے نئے سرے سے یہ سنسار رچنا ہے…… یہ سنسار میرا ہے ماں …… سارا کا سارا میرا ……“۔۲؎
انہیں سوالات پرٹکا ہے ناول کا تانا بانا اور ناول ان سوالوں کے درمیان سے ایک نئی کہانی، نئی منزل کا راستہ تلاش کرتا ہوا اپنے سفر پر چل پڑتا ہے۔ اس سفر میں روپی ایک مظلوم کردار کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اردو ناول میں پیغام آفاقی کے ناول ”مکان“ کی ہیروئین ”نیراؔ“ کے بعد دوسرا نسوانی کردار ایسا نظر آیا ہے جو زندگی کی جدوجہد میں اپنے ایقان، صداقت، موت سے بے خوفی اور استقامت کے ذریعہ اپنی راہ خود بناتا ہے۔ نسوانی کردار کو اتنی مضبوطی اور استقلال کے رنگ میں رنگ کر کم پیش کیا جاتا ہے۔ روپی احتجاج اور حالات سے لڑنے کی جرأت مندانہ کوشش کرتی ہے جو اس کردار کو نمایاں اور منفرد بنادیتی ہے۔

روپی کی حالت دیکھ کر اس کی پھوپی راج کنور شہر سے آکر ایک بار پھر گھر والوں سے ٹکر لیتی ہے اور اسے علاج کے بہانے شہر لاکر تعلیم و ترقی کی روشنی سے واقف کراتی ہے۔ روپی ذہین و فطین تھی۔ جلد ہی میڈیکل ٹسٹ میں کامیاب ہوکر ڈاکٹر بننے کی ڈگر پر گامزن ہونے لگتی ہے۔ مگر اس کے گاؤں کے صدیوں پرانے نظام یہاں بھی اس کا تعاقب کرنا نہیں چھوڑتا۔ روپی کی کامیابیوں کا راز گاؤں والوں پر کسی طرح کھل جاتا ہے۔ گاؤں والوں کو خبر ملتی ہے تو گاؤں کی پنچایت اس کے خلاف کمر کس لیتی ہے اور اس کے گھر والوں کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ اسے واپس گاؤں لایا جائے۔ جس گاؤں کی فلاح و بہبود کے لیے وہ پڑھ رہی تھی، وہی گاؤں اسے پھر بند کوٹھری میں اسیر کردیتا ہے۔ اسی دوران راج کنور وہاں پہنچ کر پنچایت کو چیلنج کرتی ہے کچھ دھینگا مستی کے بعد راج کنور اس صدمے کو دل پر لے لیتی ہے اور شہر میں اس کا انتقال ہوجاتا ہے۔ ادھر پنڈت رتن سنگھ گھر کی خادمہ رونی کا استحصال کرتے ہیں۔ روپ کنور کی ماں سبھدرا یہ سب دیکھ لیتی ہے اور اپنے شوہر سے بات چیت بند کردیتی ہے۔ خادمہ کی حالت سے سبھدرا رتن سنگھ سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتی ہے تو وہ میری عزت، حویلی کی مریادا کی بات کرتا ہے اور سبھدرا سے کہتا ہے کہ استری جات ہو، زیادہ پیر پسارنے کی ضرورت نہیں۔ روپی اپنے باپ دادا اور چاچا کی دوسری عورتوں کے ساتھ عیاشیوں، قتل اور نام نہاد لوک لاج بچانے کے جتن اور اس کے لیے اختیار کر دہ دہرے معیار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اب روپی کا عزم مستحکم ہوچکا تھا۔ اس کے احتجاج نے توانائی حاصل کرلی تھی، اس لیے جب اپنے باپ کے ظلم اور کالے کرتوتوں کا اسے علم ہوتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے بلکہ پولیس بلاکر سب کو گرفتار کروادیتی ہے۔ اسی وقت گاؤں کی پشتینی حویلی کی باؤلی سے اس فرسودہ نظام کی بھینٹ چڑھے کئی چہرے باہر آتے ہیں اور صدیوں سے اس نظام کے ہتھے چڑھنے والے معصوموں سے متعارف کراتے ہیں اور اس نظام کے پرخچے اڑانے کے بعد روپی کی ماں سبھدرا گھر کے زیور پولیس کے حوالے کردیتی ہے اور ”پولیس وہ لے گئی جو نہیں لے جانا تھا…… وہ چھوڑ گئی جو نہیں چھوڑنا تھا“ ۳؎جب روپی اس روشن، شفاف اور چمکتے راستے پر چل کر اپنی خادمہ دھونی کا ہاتھ پکڑے پورنما کی رات چاند ستاروں کی رہنمائی میں اجیارے پگ کی طرف چل پڑتی ہے۔ اس بات سے بھی وہ بے خبر تھی کہ اس کے پیچھے راجکمار بھی چلا آرہا ہے جو اسے اس کی منزل تک پہنچائے گا تو گھر کے لوگ بھی اسے روکنے کی ہمت نہیں کرپاتے۔
ناول کے کلائمکس کو ناول نگار نے ڈرامائی رنگ دے دیا ہے۔ دھونی رجواڑوں کے ہاتھوں استحصال شدہ طبقے کی ترجمان ہے جن کی زندگیوں کا مقصد رجواڑوں کی جا و بے جا جنسی خواہشوں کی تکمیل کرنا ہے۔ روپ کنور ذہین اور تعلیم سے آشنا ہے، ناول نویس یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ عورت پر صدیوں سے ہورہے ظلم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور مرد غالب معاشرے میں موجود خود ساختہ اصولوں اور کمزوریوں کو دور کر کے مساوات اور انصاف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دھونی کا ہاتھ پکڑ کر روپ کنور نے صرف ا پنے گھر کی دہلیز ہی نہیں الانگی بلکہ اس نے صدیوں پرانی ر وا یت اور ریت رواج کو توڑا اور ان کے خلاف بغاوت کی۔ دھونی خدمتگاروں کے طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور روپ کنور مالکن۔ ناول نگار نے یہ دکھایا ہے کہ تعلیم سے ساری فرسودہ رسمیں مٹ جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ طبقاتی فرق بھی:
”روپی وہ شہر جانے والی سڑک پر دھونی کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہی تھی۔ آج اماوسیہ کی اندھیری رات نہیں تھی بلکہ پورنما کا چمکتا چاند اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ دمک رہا تھا…… تاروں نے فضا میں خماری پیدا کردی تھی۔ روپ کنور انہیں چاند ستاروں کی رہنمائی میں اجیارے پگ کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھی…… اس بات سے بالکل بے خبر کہ چند قدموں کے فاصلے پر،اس کے پیچھے پیچھے راجکمار بھی چلا آرہا ہے ……!!!“ ۴؎
ثروت خان نے اپنے ناول ”اندھیرا پگ“ میں موضوع، تکنیک اور کردار کے ساتھ اسلوب بیان اور طرز اظہار پر بھی دسترس کے وسیلے سے فنکارانہ چابک دستی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ انھوں نے بڑی مہارت سے انسانی رشتوں کے قصے کو مخصوص لب و لہجے اور اسلوب میں کہانی بیان کی ہے۔
ناول کا قصہ مختصر ہے۔ اس کی بیشتر جزئیات خاصی پرکشش اور فطرت سے قریب ہیں اور اسلوب سادہ مگر دلنشین ہے۔ اس میں فلسفیانہ موشگافیاں نہیں ملتیں بس ایک وژن ہے جس میں یہ رمز پوشیدہ ہے کہ ایک کمزور و ناتواں لڑکی تھی اپنے استقلال اور عزم و حوصلہ سے کام لے کر صدیوں سے چلی آرہی فرسودہ رسموں اور استحصال کے خلاف بغاوت و احتجاج کرسکتی ہے۔ چھوٹے بڑے کردار اور دیش نوک کی زندگی، تہذیب اور نظام ہے یہ کردار صرف دیش نوک یا اس کے اطراف و اکناف ہی مل سکتے ہیں۔ روپی کے علاوہ راج کنور، سبھدرا، پنڈت رتن سنگھ، ماتیشوری (دادی)، پنڈت بش سنگھ، راج کمار، رمیا، رونی، دھونی اس کے اہم کردار ہیں۔ مگر سب سے مضبوط کردار روپی کا ہے جو ابتداء سے ہی احتجاج، بغاوت اور ترقی پسند ذہن کی علامت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ عام لڑکیوں کی طرح سب کچھ قسمت کے نام پر قبول کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے پر اپنی کوشش بھر ظلم کے خلاف احتجاج ضرور کرتی ہے اور دلائل ایسے دیتی ہے کہ سوائے ڈانٹ ڈپٹ کے مخاطب کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ وہ بڑی بے باکی سے اپنے باپ سے کہتی ہے:
”میں پوچھتی ہوں باپو، آخر کب تک ہم اس سسٹم کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔ یہ تو کمیونسٹوں سے بھی بدتر ہے، ذہن، مشن، وژن۔ سب کا ناش کرنے والا“ اب وہ باپ کے روبرو تھی۔ ”جیو کی مرتیو، تو یہیں ہوجاتی ہے باپو، ہاڑھ مانس کے لوتھڑے کو منشے نہیں کہتے۔ نہیں باپو …… میں لوتھڑا نہیں بننا چاہتی۔ مجھے ادھیکار چاہئیں۔ آپ نے تو شاستر پڑھے ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے…… کیا سماج نہیں جانتا۔ خود شاستروں کی رچنا استری نے کی ہے۔ پھر ہماری کرنی ماتا بھی تو استری ہی تھیں۔ باپو، میں استری کی اُسی کھوئی ہوئی استھتی کی تلاش میں ہوں۔“ ۵؎
ناول کا دوسرا اہم کردار راج کنور کا ہے جو روپ کنور کی پھوپھی یا بُوا کا ہے جو سمجھدار ہے، روشن خیال ہے، شہر میں رہتی ہے، اس لیے دنیا کی ترقی سے بخوبی واقف ہے اس کے شوہر اور بچے اس سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس کے ہر فیصلے میں ساتھ دیتے ہیں۔ راج کنور اپنی باصلاحیت بھتیجی کو بغرض اعلیٰ تعلیم اپنے ساتھ شہر لے جاتی ہے۔ روپی سے بیٹی کی طرح پیار کرتی ہے اور اس کے دکھوں سے اتنی پریشان رہتی ہے کہ دل کو روگ لگا بیٹھتی ہے۔ اسی کی کوششوں سے روپی شہر آ پاتی ہے۔ راج کنور کے لیے گھر اور خاندان سے ہی نہیں گا ؤں کی پنچایت سے بھی لڑ جاتی ہے اور اپنے جیتے جی ان کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں ہوتی۔ مختصر یہ کہ راج کنور مثبت اور تعمیری انداز فکر کی حامل ایک مثالی عورت کے روپ میں سامنے آتی ہے۔
ناول کا تیسرا اہم کردار روپی کی دادی کا ہے، یہ چونکہ اسی فرسودہ نظام میں پل بڑھ کر بوڑھی ہوئی ہے اس لیے حویلی کی روایتوں اور گاؤں کے سرد و گرم سے آشنا ہے۔ یہ ا پنی پوتی سے محبت کرتی ہے، اس کی کامیابی سے خوش بھی ہوتی ہے مگر چونکہ اس کے ذہن میں زندگی بھر عورت کا روایتی تصور رہا ہے اس لیے پوتی کی آزادی حلق سے نیچے نہیں اتار پاتی۔ اسے یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ کیا عورت بھی اتنی آزاد ہوسکتی ہے؟ کیا بیوہ بھی اتنی خوش اور مسرور ہوسکتی ہے؟ چنانچہ جب اسے شہر سے روپی کی کامیابی اور خوشی کی خبر ملتی ہے تو بے اختیار اس کا شعور جھنجھوڑنے لگتا ہے……
دادی کا کردار اس معنی میں علامتی بھی ہے کہ یہ اس نظام کی سختی، انسانوں کے دوغلے پن اور اہل خانہ کے فکر و عمل میں تضاد کی طرف اشارے کرتا ہے۔ مثلاً روپی جب سسرال میں مجبور و محبوس ہے تو گھر کے سبھی افراد اداس ہیں۔ یہاں تک کہ دادی بھی ریت رواج کے بندھنوں کو برا بھلا کہتی ہے:
”ہاں عجب ریت ہے، کوئی میکے والا خیر خبر نہیں لے سکتا۔ ا یک ایک دن نکالنا بھاری پڑ رہا ہے۔ نہ معلوم کیا بیتی ہوگی، بچی پر، اس ڈیڑھ ماہ میں“…… ایک طرف تھالی رکھ، اپنے پلّو سے آنسوؤں کو پونچھا…… ”تھالی اٹھالو بہو…… کھالیا…… جوان پوتی…… تو بھلا بوڑھی ہڈیوں کو سوستھ رکھنے کا کیا ادیشیہ ہے؟“۶؎
وہی روپی جب ”اندھیرا پگ“ کی رسم کے بعد گھر لوٹتی ہے تو دادی اس کا ا پنی ماں کے ساتھ ایک رات سونا بھی گوارا نہیں کرتی کیونکہ یہ صدیوں سے چلے آرہے رسم و رواج کے خلاف ہے۔ وہ روپی کو جھنجھوڑ کر اٹھا دیتی ہے۔
”اُٹھ روپی …… چل یہاں سے اپنے ٹھکانے۔ تیری ماں تو پاگل ہوئی ہے“ ۷؎
اور پھر روپی کی ماں سے کہتی ہے:
”تم ہوتی کون ہو، سماج کے نیم قاعدے توڑنے والی…… مامتا ہم بھی رکھتے ہیں …… پریوں انرتھ نہیں کرتے…… بیوہ کے ساتھ اتنی دیا ٹھیک نہیں ……“ ۸؎
اسی طرح روپی کو تھوڑا تیز چلتے ہوئے دیکھتی تو فوراً ٹوکتی ہے:
”بھاگتی کیوں ہے روپی! بھاگنے سے رکت کی گتی بڑھ جاتی ہے۔ سانسیں اوپر نیچے ہونے لگتی ہیں۔ پھر اچھائیں جاگنے کا ڈر رہتا ہے۔ یہ کیا الھڑ کنواریوں کی طرح بھاگا کرتی ہے۔“ ۹؎
ناول میں کئی اور نسائی کردار ہیں۔ مثلاً روپی کی ماں سبھدرا، روپی کی چاچی، سہیلی رمیا اور کھوسٹ بڑھیا۔ یہ کردار قصے کے ارتقا میں تو اہم ہیں ہی، اس معاشرے کے مختلف رخوں اور رواجوں سے واقف کرانے میں بھی ان سے مدد لی گئی ہے۔
ناول میں مرد کی صورت میں کوئی توانا کردار نہیں ہے۔ ٹھاکر رتن سنگھ کا کردار نسبتاً زیادہ دیر تک سامنے رہتا ہے مگر رسموں، رواجوں اور روایتی اصولوں سے اتنا بندھا ہوا ہے کہ جب راج کنور روپی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر لے جانا چاہتی ہے تو پنڈت رتن سنگھ جو بیٹی کی کامیابی پر خوش تو ہے لیکن وہ ا پنے علاقے کا کنور اور ٹھاکر ہونے کے ناتے آن بان شان، نمائش اور رسم و رواج میں غرق۔ اس لیے روپی کی آزادی میں وہ کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی کی وجہ سے روپی کی جلدی شادی ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے روپی شہر سے واپس لوٹنے پرمجبور ہوتی ہے۔ رتن سنگھ کا کردار اس معاشرے کے دوغلے پن اور دوہرے اصولوں کی علامت بھی ہے جہاں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ پیمانے مقرر ہیں،جہاں بے قصور عورتوں کو اچھائیں دبانے کے لیے جانور سے بدتر زندگی جینے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مردوں کو اچھاؤں کی پورتی کے لیے گھر کی ملازماؤں کے ساتھ دست درازی کی اجازت دی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ رونی کے مسئلہ پر گھر کے سارے افراد مل کر اسے اور بچے کو مار دیتے ہیں اور کسی کا ضمیر ملامت بھی نہیں کرتا۔ جبکہ بے قصور بیوہ کو اصولوں کے نام پر بند کوٹھری میں قید کیا جاتا ہے۔ فکر وعمل کا یہ تضاد ہی استحصال، ظلم اور سفاکی کی مختلف داستانیں رقم کرتا ہے۔

ناول کا دوسرا مرد کردار راجکمار ہے۔ یہ گاؤں کے غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور دور سے ہی ”روپی“ پر فدا ہے۔ یہ ایک بزدل، مجبور اور معاشرے کے قانون میں جکڑا ہوا عاشق ہے جو بغاوت اور بہادری کا کوئی خواب بھی دیکھنے سے ڈرتا ہے۔ اس کے سامنے روپی کی شادی ہوتی ہے، وہ بیوہ ہوتی ہے اور پھر شہر چلی جاتی ہے۔ اس کے دوست ا سے للکارتے ہیں مگر کبھی اظہار محبت کی ہمت نہیں کرپاتا۔ روپی کے دکھ پر دکھی ہوتا ہے اور اس کے شہر جانے پر خوش ہوتا ہے مگر عملی طور پر روپی کی مدد کے لیے ایک قدم بھی بڑھانے سے ڈرتا ہے۔ روپی جب اپنے باپ اور گھر والوں کے خلاف پولیس کو خط بھیجتی ہے تو راجکمار کا ہی سہارا لیتی ہے۔ یہاں پر قاری کو تھوڑی الجھن ہوتی ہے کہ جب راجکمار سے روپی کی کہیں ملاقات ہی نہیں ہوئی اور نہ، دونوں میں شناسائی ہے تو وہ راجکمار سے خط کیسے بھجواتی ہے؟ اور راجکمار پر ہی بھر وسہ کیوں کرتی ہے؟ ظاہر ہے یہ قصے کا ایک نازک موڑ ہے جہاں ناول نگار کو احتیاط برتنی تھی۔ بہر کیف راجکمار کا کردار اپنے اندر کوئی کشش نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ دل کا اچھا آدمی ہے اور حویلی والوں اور ان کے بنائے ہوئے اصولوں اور ڈھکوسلوں سے اسے شدید نفرت ہے۔ اسی لیے روپی اخیر میں جب گاؤں سے آزاد ہوکر شہر کی طرف قدم بڑھاتی ہے تو اس کے پیچھے پیچھے راجکمار بھی چل پڑتا ہے۔
ناول میں راجکمار کے دوست بھی ہیں جو راجکمار سے زیادہ ہمت رکھتے ہیں مگر عملی قدم اٹھانے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ا یک کردار اللہ رکھا ہے جو ہندو مسلم مشترکہ تہذیب کی عمدہ مثال ہے۔ یہ بھی استحصال کا شکار ہے کیونکہ ایک بڑے گھر کی بیٹی سے اس نے پیار کیا تھا نتیجہ میں اسے دیش نکالے کی سزا بھگتنی پڑی۔ روپیشور سنگھ ہے جو ایک الگ قسم کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور وہاں کی غلط رسموں کی وجہ سے HIV میں مبتلا ہوکر جی ر ہا ہے۔ گویا ناول میں مختلف قسم کے کردار ہیں۔ ہر کردار کے دامن میں کھونے، لٹ جانے، مرنے، مٹنے کی ان گنت داستانیں ہیں۔ اندھیرا پگ کا ہر قدم خون آشام ہے، ہر چہرہ الجھا ہوا، ہر کردار کا جگر جھلنی۔ یہ سب مل کر راجستھان کی مختلف ثقافتوں کی ان گنت زمینی حقیقتوں سے ہماری ملاقات کراتے ہیں۔ یہاں واقعات جس قدر زیادہ ہیں، اشارات ان سے بھی زیادہ۔ حقیقت نگاری کے شعلوں کے ساتھ ساتھ نازک اور لطیف جذبات کی شبنم اور گاہ گاہ ہلکی جذباتیت کی مہین دھند بھی نظر آتی ہے۔ پورا ناول جذباتی اور ذہنی کشمکش اور تذبذب کی بھٹی میں کھولتا رہتا ہے۔ بکھراؤ اور تعمیر، ظلم اور احتجاج دونوں مرحلوں میں یہ بھٹی کبھی بجھتی نہیں۔ اس لیے قاری ایک بے چین روح کی طرح ناول نگار کے اشارے پر جیتا مرتا رہتا ہے۔ یہ اضطراب، خواب، بے چینی، حقیقت کا، تصادم، آسما میں آزاد، اڑان کی آرزو اور بند کوٹھری میں قید ہونے کی مجبوری۔ یہی اس ناول کا اصل کرب ہے اور المناک حقیقت۔ ناول نگار اس حقیقت کی مختلف تصاویر ایک مصور کی طرح کھینچتی ہیں اور قاری تک پہنچاتی ہیں۔ اس تصویر کشی میں ان کے اندر کا فنکار تمام واقعے، حادثے اور المیے پر بہت خاموشی کے ساتھ اپنا احتجاج درج کراتا رہتا ہے۔
”معمہ بن کر رہ جانے والی نسائیت…… کہ جس کے سوالیہ وجود کے آگے تمام مفکر، تمام دانشور ہی کیا تمام خدائی چکرا جاتی ہے۔ آخر اس عورت کو چاہیے کیا۔ کیوں یہ بار بار معمہ بن کر، سب کو پریشان کرتی رہتی ہے…… کوئی ہے جو اسے سلجھا سکے…… لیکن سلجھنے سلجھانے کی نوبت تو جب آتی ہے نا جب الجھا یا جائے…… کون الجھاتا ہے اسے …… یہ نظام …… یہ رواج …… یہ روایتیں، یہ وراثتیں …… کہاں ہیں وہ اصلاحی تحریکیں …… کہاں ہیں وہ مساوات و اشتراکیت کے ڈھنڈورے، کہاں ہیں وہ سماجیات کے نمائندے ……؟ ہے کوئی جو آئے…… اور اس آلودہ فضا سے اُسے باہر نکال سکے؟“۱۰؎
احتجاج کا یہی رویہ ” اندھیرا پگ “ کو دوسرے ناولوں سے ممتاز بناتا ہے۔

حوالے و حواشی:
۱ پروفیسر وارث علوی، دائیں فلیپ مشمولہ ”اندھیرا پگ“، ثروت خان، دہلی، ۲۰۰۵
۲ ثروت خان، ناول ”اندھیرا پگ“، دہلی، ۲۰۰۵، ص: ۷۰۔۷۹
۳ ایضاً ص: ۱۵۴
۴ ایضاً ص: ۱۵۵
۵ ایضاً ص: ۱۵
۶ ایضاً ص: ۸۵ ۔ ۸۷

۷ ایضاً ص: ۷۲ ۸ ایضاً ص: ۷۱
۹ ایضاً ص: ۷۵
۱۰ ایضاً ص: ۵۵ ۔ ۵۶

 

ثروت خان
Share

۲ thoughts on “ناول ” اندھیرا پگ “ – ثقافتی وسماجی مطالعہ :- ڈاکٹرحکیم رئیس فاطمہ”

Comments are closed.

Share
Share