کالم : بزمِ درویش ۔ کے ٹو سے بلند :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share

کالم : بزمِ درویش ۔ کے ٹو سے بلند

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

میں حیرتوں کے سمندر میں غرق حیران نظروں سے بوڑھی عورت کو دیکھ رہا تھا جس نے مجھے حیران کر کے جھنجھوڑ دکر رکھ دیا تھا میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ مجھے انکار کر دے گی لیکن اُس کے انکار میں چٹانوں سی سختی تھی اور وہ اپنے انکار پر آہنی عزم کے ساتھ قائم تھی موجودہ کرونا کی لہر اور مہنگائی کے سیلاب سے بڑے بڑے سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آئے مہنگائی اور کرونا کی وبا نے لوگوں کی خود داری انا وقار کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں

امیر سفید پوش اور سفید پورش غربت کے سیلاب میں بے آسرا مدد مدد پکارتے نظر آرہے تھے اِس پر فتن مشکل دور میں مخیر حضرات نے آخر ت کا سماں کرتے ہوئے اپنی دولت کی تجوریوں کے منہ کھول دئیے خوب دل کھول کر ضرورت مندمیں اپنی دولت بانٹی اِس سلسلے میں چند مخیر دوستوں کے تعاون سے مُجھ فقیر حقیر کو بھی یہ سعادت سمیٹنے کا موقع ملا۔ ہم لوگوں کے ضرورت مند محتاجوں یتیموں مسکینوں کی لسٹیں بنائیں اور اپنی اوقات کے مطاق ضرورت مند وں تک جانا شروع کر دیا اِس دوران روح فرسا دل کو چیرنے والے مناظر اور واقعات سے واسطہ پڑا جب معاشرے کے سفید پوش لوگ جنہوں نے وضع داری خودی کے چولے پہنے ہوئے تھے مشکل حالات میں خودی انا کو اتار کر بھیک مانگتے نظر آئے کرونا و با اور حکمرانوں کی عوام کش پالیسیوں نے غریب عوام کو غربت کی چتا پر لا پھینکا جہاں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سلگ سلگ کر موت کی وادی میں اترتے جا رہے ہیں جب زندگی اور سانسوں کا رشتہ قائم رکھنے میں مشکل پیش آئی تو لوگ مدد مدد پکارتے نظر آئے سخاوت کے اِس عمل میں بہت سارے مجبور لاچار بے آسرا لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں لوگ چند روپوں کے منگتے نظر آئے رمضان سے پہلے اور رمضان کے دوران بہت سارے لاچار غربت کی چکی میں پسے لوگوں کے دل خراش حالات دیکھنے کو ملے اِس نیک عمل میں دوستوں کے تعاون سے ایسے ایسے سفید پوشوں تک پہنچے جو مدد کے حقیقی حق دار تھے اِسی دوران مجھے پتہ چلا ایک بوڑھی عورت جس کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے اُس کا میاں بیٹا بیٹی سب فوت ہو چکے ہیں وہ اِس بے رحم دنیا میں اکیلی زندگی کے دن پورے کر رہی ہے اِس کا ساتھ دینے والا اِس بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے میں اُس عورت کو تیس سالوں سے جانتا تھا جب میں کوچہ تصوف میں نہیں آیا تھا اُس وقت سے اُسے جانتا تھا آج سے تیس سال پہلے جب اُس کا اکلوتا بیٹا حادثے میں مارا گیا تو میں اِس سے ملنے گیا تووہ صبر کا پہاڑ بن کر لوگوں سے مل رہی تھی جوان بیٹے کی وفات پر مائیں زندہ لاش بن کر رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں لیکن خدا کی رضا میں ڈھلی ہر عورت سب سے یہی کہہ رہی تھی کہ خدا کامال تھا اُس کے پاس چلا گیا آپ اُس کی اگلی منزلوں کی دعا کریں تاکہ اُس کا دوسر اجہاں پر سکون ہو یہ اُس نیک عورت کا پہلا بھر پور تاثر تھا جس کا مُجھ پر بہت گہرا اثر ہوا پھر پندرہ سال بعد جب اِس کا خاوند بھی انتقال کرگیا تو میں پھر اِس سے ملنے گیا دل میں یہ خیال کہیں تھا کہ صبر و استقامت کا یہ پہاڑ اِسی جگہ پر قائم ہے یا لرز گیا ہے لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب خاوند کی موت پر بھی یہ اُسی وقار اور شان سے لوگوں سے مل رہی تھی کہ اللہ کا فیصلہ مجھے ہر حال میں قبول ہے کوئی چیخ و پکار آہ و بکا نہیں صبر سے سب سے مل رہی تھی ساتھ میں خاوند کی آخرت کے لیے دعا کی درخواست بھی کر رہی تھی جب خاوند مرا تو اُس وقت وہ گھر کے ساتھ ہی چھوٹے سے کمرے میں پرچون کی دوکا ن کر تا تھا جس سے دونوں میاں بیوی کا گزارا ہو جاتا تھا خاوند کے مرنے کے بعد اِس نے خود تھوڑی بہت دوکانداری شروع کر دی اتنا کچھ کمالیتی کہ زندگی کے سلسلے کو آگے بڑھا سکے میں اپنی زندگی میں غرق قافلہ شب و روز حرکت میں رہا کہ بہت سارے سال گزر گئے پھر کرونا کی وبا آئی ساتھ ہی رمضان تو بہت سارے لوگوں کی مدد کے لیے اُن تک راشن اور پیسے پہنچانے کا کام شروع کیا تو ایک دوست نے اِس باوقار صابر عورت کا بتایا تو مجھے تیس سال پہلے والی عورت یاد آگئی دوست نے بتایا اب وہ بڑھاپے کی وادی میں موت کا انتظار کر رہی ہے اس دنیا میں اُس کے جتنے رشتہ دار ماں باپ بہن بھائی اولاد جو بھی تھے اگلے جہاں کو سدھار چکے ہیں اب یہ اِس بھری دنیا میں بوڑھے آسمان کے نیچے اکیلی موت کا انتظار کررہی ہے تو میرا جگر کٹ کر رہ گیا کہ میں اتنے سال اِس ماں جیسی نیک عورت سے غافل کیوں رہا اِس کی خدمت کر کے آخرت کمائی کی جاسکتی تھی اب میں کئی سالوں بعد اِس کے گھر آیا تو اِس نے دھندلی بوڑھی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور پہچان لیا میں اِس کے بیٹے کو یاد کیا باتیں کیں میاں کی باتیں کیں پھر جیپ سے بہت سارے نوٹ نکال کر بوڑھی ماں جیسی عورت کے سامنے ڈھیر کر دئیے اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر معذرت خواہی لہجے میں عرق ندامت میں غرق ہو کر کہا میں بہت شرمندہ ہوں اتنا عرصہ آپ کے پاس نہ آسکا آپ یہ پیسے قبول فرمائیں اب ہر ماہ میں آپ کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کیا کروں گا تو بوڑھی ماں لرزتے لہجے میں بولی پُتر مجھے اتنے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے مجھے صبح شام محلے والوں سے کھانا آجاتا ہے میرا کام خدا کی عبادت اور آخرت کی تیاری ہے آپ یہ پیسے کسی ضرورت مند کو دو مجھے اِن کی ضرورت نہیں میں نے بہت کو شش کی لیکن ماں نے انکار کر دیا تو میں نے ماں جی کا پلو پکڑا اپنی آنسو برساتی آنکھوں سے لگایا اورکہاتوکل کے جس مقام پر آپ فائز ہیں میرے لیے بھی دعا کریں پھر میں نکل آیا یہ سوچ کر کہ یہ ماں کے ٹو سے بھی بلند کر دار کی مالک تھی جس کے سامنے مُجھ جیسے کیڑے مکوڑے تھے۔

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
Share
Share
Share