کالم : بزمِ درویش – کیسے کیسے لوگ :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

رات بھر موبائل فون آف رکھنے کے بعد صبح جب آفس جاتے ہوئے میں نے اپنا موبائل آن کیا تو موبائل فون پر فارن کال نظر آئی میں نے فون اٹھایا تو ایک پر جوش زند گی سے بھر پور مترنم نسوانی آواز میری سماعت سے ٹکرائی کہ یہ بھٹی صاحب کا نمبر ہے میرے ہاں کرنے پر وہ مزید خوشی سے بولی سر میں پاکستان آئی ہوئی تھی واپسی پر ائر پورٹ بک شاپ پر آپ کی بُک نظر آئی جو میں نے خرید لی اور آپ کو پہچان بھی لیا اُسی کتاب سے آپ کا موبائل نمبر بھی لیا میں پچھلے دو دن سے آپ کو کال کر رہی ہوں سر آپ یقینا مجھے بھول چکے ہونگے کیو نکہ میں پچھلے کئی سالوں سے پاکستان سے باہر ہوں لیکن سر آپ کے لیے ہر سانس سے دعا نکلتی ہے آپ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرے گھر آتے تھے آپ کی دعا ؤں اور رہنمائی سے میں آج نیک پاکباز زندگی گزار رہی ہوں

سر میرے دو بچے ہیں جو اچھے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ نہایت کامیاب خوشگوار زندگی گزار رہی ہوں اِس کے ساتھ ہی وہ مجھ عاجز کی بہت ساری تعریفیں اور دعائیں دینے لگی مجھے وہ یا د آگئی تھی جو مجھے ایک طوائف زادی کے گھر ملی تھی ماضی کے بادلوں سے ساری کہانی واقعات میرے سامنے تازہ ہوگئے اور میں خدا ئے عظیم کے سامنے شکر گزار کہ اُس کے خاص کرم سے یہ بیٹی گناہوں کی دلدل سے نکل کر نارمل شریف زندگی گزار رہی ہے اُس نے بہت ساری باتیں کیں اپنے پاس آنے کی دعوت اور یہ درخواست بھی کہ جب میں دوبارہ پاکستان آؤں گی تو ضرور ملنے آؤں گی اُس کا فون بند ہوا تو میں خدائے لازوال کی قدرت اور مہربانی پر رشک کرنے لگا کہ وہ کس طرح انسان کو شر برائی سے نکال کر نیکی کے رستے پر ڈالتا ہے میری اِس نیک لڑکی سے ملاقات بارہ سال پہلے اِس کی ماں کے گھر ہوئی تھی جو اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ جسم فروشی کا دھندہ ڈھٹائی سے کر ررہی تھی ان دنوں ڈاکٹر صاحب جو صرف نام کے ڈاکٹر تھے میرے پاس آیا کر تے تھے امیر جاگیر دار خاندان سے تعلق تھا روپے پیسے کی بے پناہ فراوانی زمینوں کی کمائی اِس قدر زیادہ کہ خوب عیاشی میں اُس کو خرچ کرتے تھے باپ وفات پا چکا تھا ماں کا اکلوتا بیٹاہونے کے ناطے زمینوں کی کمائی دونوں ہاتھوں سے لٹا رہے تھے عیاشی کے چکر میں اِس طوائف زادی کے گھر گئے جس کی پانچ بیٹیاں تھیں تین کو جسم فروشی کے دھندے پر لگا رکھا تھا آخری دو جوانی کی دہلیز کراس کر چکی تھی لیکن پڑھائی کی وجہ سے ابھی اُن کو اِس گھناؤنے دھندے پر نہیں لگا یا یا کسی قدر دان کے انتظار میں تھی تاکہ بڑی رقم حاصل کرسکے ڈاکٹر صاحب جب اِس گھر میں آنا جانا شروع ہوئے تو دولت لٹانے کے ساتھ ان کے روٹین کے کام بھی کرنے لگے ڈاکٹر صاحب بڑی بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ وقت گزارتے تھے ماں اور بیٹیوں کی خشنودی کے لیے دولت لٹانے کے ساتھ ان کے نخرے بھی اٹھاتے تھے ماں اور بیٹیوں کے منہ سے کوئی لفظ ڈیمانڈ جیسے ہی نکلتی ڈاکٹر صاحب اُس مطالبے کو پورا کرنے پر اُتر آتے اب کسی بنگالی عامل نے ماں کو یہ کہا کہ تمہارے گھر تم اور تمہاری بیٹیوں پر کسی نے جادو کر دیا ہے لہذا کسی بابے بزرگ سے اس جادو کا علاج کراؤ اب ماں نے ڈاکٹر صاحب کو حکم دیا کہ کسی اچھے بابے کا انتظام کرو میری ڈاکٹر صاحب سے اِس کی ماں کے ساتھ دو تین سر سری ملاقاتیں ہوچکی تھیں اب جب محبوبہ اور ماں کا مطالبہ آیا تو ڈاکٹر صاحب کو میری یاد آئی بہت سارا فروٹ اٹھا یا اور میرے دفتر آدھمکے آخر خوب میٹھی میٹھی باتیں کہ آپ کے روحانی علاج سے اماں اورمیں بلکل ٹھیک ہو گئے ہیں میں آپ کی روحانی طاقت کا قائل ہو گیا ہوں اب آپ کا باقاعدہ مرید ہونا چاہتا ہوں مجھے مستقل آپ کے ساتھ اٹیچ ہونا ہے بہت ساری تعریفیں کرنے کے بعد چلے گئے اگلے دن پھر آگئے اور خوشامد کر نے لگے آخر کار میں نے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں جھانکا اور پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ دو دن سے مُجھ فقیر کے پاس آرہے ہیں جبکہ آنے کی اصل بات ابھی تک نہیں بتائی سچ بتائیں مُجھ عاجز کے پاس کس لیے آرہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے سر گوشی میں کہا میں علیحدگی میں آپ سے بات کر نا چاہتا ہوں تو میں اُٹھ کر ڈاکٹر صاحب کی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور پوچھا جی جناب اب آپ پورے اعتماد اور تسلی سے بات کر سکتے ہیں بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب بولے جناب میری ایک آنٹی ہیں جو جادو ٹونے بد اثرات سے بہت بیمار اور پریشان ہیں ان کو روحانی علاج کی اشد ضرورت ہے میں تو ساری زندگی مداری جادوگروں کو ہی دیکھا ہے جو لوٹ مار کے اڈے بنا کر بیٹھے ہیں میری نظر میں تو آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہے اِس لیے آپ سے درخواست کر تاہوں کہ آپ میری آنٹی کا روحانی علاج کریں تو میں خوشدلی سے بولا ڈاکٹر صاحب میں حاضر ہوں آپ اُن کو لے آئیں میں ہر طرح سے کوشش کرو ں گا تو ڈاکٹر صاحب مشکور لہجے میں بولے آپ کا شکریہ لیکن اگر آپ ان کے گھر جاسکیں تو اچھا ہوگا کیونکہ آنٹی بیمار ہیں یہاں آ نہیں سکتیں اِس لیے میں آپ کو اُن کے گھر لے چلتا ہوں تاکہ آپ اُن کا علاج کر سکیں گھر جانے والی بات پر میں تھوڑا پریشان ہو اکیونکہ میں گھر کم ہی جاتا ہوں پھر کسی کے گھر جانے سے باقی آنے والے متاثر ہوتے ہیں میں جب دبے لفظوں میں کہا کہ آپ اُن کو لے آئیں تو ڈاکٹر صاحب بضد ہو ئے کہ آپ وقت نکالیں ہم ان کے گھر جاتے ہیں اب ڈاکٹر صاحب نے مجھے مختلف قسم کی ترغیبات دینی شروع کردیں جب بہت زیادہ منتیں ترلے کئے تو میں ان کے ساتھ آنٹی کے گھر جانے پر تیار ہو گیا اگلے دن میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ آنٹی کے گھر آیا تو صحت مند تندرست پچاس سال سے زیادہ عورت نے ہمارا استقبال کیا میں حیران تھا کہ ڈاکٹر صاحب تو اِن کو بہت بیمار قرار دے رہے تھے اب آنٹی اور اُس کی پانچ بیٹیاں سامنے آکر بیٹھ گئیں تو میں بولا جناب میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو آنٹی بولی جناب کسی نے ہم پر جادو کر دیا ہے اب ہمارے گھر کی دہلیز تو لوگ پار ہی نہیں کرتے کوئی گاہک نہیں آتا رزق روٹی بند ہے اِس طرح تو ہم بھوکے مر جائیں گے مجھے آنٹی کی بات بلکل بھی سمجھ نہ آئی کہ کس قسم کے گاہک یہاں آتے ہیں اب میں ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا تو وہ میرے کان میں بولے آنٹی کے پاس لوگ ناچ گانے کے لیے آتے ہیں باتوں کا سلسلہ دراز ہوا تو آنٹی نے کھل کر بتا دیا کہ کونسے لوگ آتے ہیں ساتھ ہی اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف اشارہ کر کے بولی یہ ہمارے گھر میں مولوی پیدا ہو گئی ہے اِس کو بھی درست کریں میں سمجھ گیا کہ طوائف زادی کے گھر ہوں جو جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہے۔ (جاری ہے)

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
Share
Share
Share